خبریں

معاشرتی مسائل

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None

طنز و مزاح

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک ہفتے کے اندر کراچی میں واقعہ نسلہ ٹاور کو گرانے کا حکم جاری کردیا ہے۔خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نسلہ ٹاور کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت نے نسلہ ٹاور کو اب تک گرائے نہ جانے پر برہمی کا اظہار کیا اور عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجوہات کا استفسار کیا۔ عدالت نے کہا کہ کسی کو رعایت نہیں ملے گی بتایا جائے اب تک عمارت کیوں نہیں گرائی گئی؟ عمار ت کو ایک ہفتے کے اندر گرایا جائے اور کمشنر کراچی عمارت کے ملنے کو اٹھانے کا انتظام کریں۔ عدالت نے اپنے حکم میں نسلہ ٹاور کے بجلی ، پانی و گیس کے تمام کنکشنز کو 27 اکتوبر تک منقطع کرکے جدید ٹیکنالوجی کی مددسے ایک ہفتے کے اندر اندر عمارت گرانے کا حکم دیدیا ہے۔
نجی خبر رساں چینل پبلک نیوز کے مطابق ملتان کے علاقے حسین آگاہی میں عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلوس میں ایک خاتون کو حور بنا کر پیش کرنے کے خلاف تحریک التوا پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی گئی. تحریک التوا تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی سیمابیہ طاہر کی جانب سے جمع کرائی گئی۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ 12 ربیع الاول 1443 (19۔اکتوبر 2021) کو ملتان میں ایسا واقعہ ہوا ہے کہ مسلمانوں کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔ ملتان کے علاقہ حسین آگاہی میں عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلوس میں ایک خاتون کو حور بنا کر پیش کیا گیا عوام سے کہا گیا کہ اس کی زیارت کریں۔ اس وقوعے کو سوشل میڈیا پر بھی کھل کر دکھایا جا رہا ہے۔ عید میلادالنبی صلی اللہ علیم وآلہ وسلم کی نسبت سے تقریبات صدیوں سے اس خطے میں اسلام کی اقدار کے مطابق منعقد ہو رہی ہیں۔ ملتان میں ایک خاتون کو حور بنا کر پیش کرنے کے عمل کے پیچھے ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ یہ سازش اسلام اور اس کے شعائر کو بدنام کرنے کی ہے۔ اس واقعہ میں ملوث تمام افراد قرارواقعی سزا کے مستحق ہیں۔ دوسری جانب اس واقعے کے خلاف سوشل میڈیا پر بھی صارفین میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ صارفین اس واقعہ کے حوالے سے تنقید کر رہے ہیں۔
امریکا اور پاکستان فضائی حدود کے معاہدے میں کوئی صداقت نہیں،دفترخارجہ افغانستان میں فوجی آپریشن کے لیے فضائی حدود کے استعمال پر امریکا اور پاکستان معاہدے کے درمیان معاہدے کی خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی خبر کی تردید کردی،کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان کسی معاہدے پر بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں فوجی آپریشن کے لیے فضائی حدود کے استعمال پر امریکا اور پاکستان معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں، جبکہ بائیڈن انتظامیہ نے قانون سازوں کو معاہدے سے متعلق آگاہ کردیا ہے، سی این این نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ امریکا افغانستان تک رسائی کیلئے پاکستان کی فضائی حدود استعمال تو کررہا ہے،امریکی فوج افغانستان میں خفیہ معلومات کیلئے بغیرکسی معاہدے کے پاکستانی حدوداستعمال کر رہی ہے، لیکن فی الحال مسلسل رسائی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی باقاعدہ معاہدہ موجود نہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے نے مزید دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے بھی ایک ایم او یو پر دستخط کرنے کی خواہش کااظہارکیا ہے اور اس معاہدے کے بدلے میں امریکا سے انسداد دہشت گردی کیلئے اپنے اقدامات اور بھارت سے تعلقات میں بہتری کیلئے تعاون چاہتا ہے، سی این این نے ذرائع سے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر مذاکرات جاری ہیں تاہم معاہدے کی شرائط کوابھی حتمی شکل نہیں دی جاسکی، اس میں تبدیلی کے امکانات ہیں۔
میری فلموں نے 160کروڑ کا بزنس کیا،اسلئے تمغہ امتیاز ملا، مہوش حیات اداکارہ مہوش حیات کو جس دن سے صدارتی تمغہ امتیاز ملا اس دن سے ان پر تنقید کے نشتر چلتے ہی رہتے ہیں، ناقدین کہتے ہیں کہ وہ اس اعزاز کی مستحق نہیں تھیں،انہیں یہ ایوارڈ کیوں ملا،اداکارہ نے ناقدین کے اعتراضات کو مسترد کردیا ساتھ ہی بتادیا کیوں انہیں اس ایوارڈ کیلئے منتخب کیا گیا ہے،جیو نیوز کے پروگرام جشنِ کرکٹ میں مہوش حیات نے واضح کیا کہ انہیں ایوارڈ اس لیے ملا کیوں کہ ان کی فلم نے 160 کروڑ روپے کماکر فلم انڈسٹری کو دوبارہ کامیابیوں کی جانب گامزن کیا۔ اداکارہ نے بتایا کہ فلم انڈسٹری کی کامیابی پر خوش ہی اسی لئے پاکستان کو چھوڑ کر کہیں اور کام کرنے کو ترجیح نہیں دی،اداکارہ مہوش حیات کو 23 مارچ 2019 کو یوم پاکستان کے موقع پر صدر پاکستان عارف علوی کی جانب سے تمغہ امتیاز دیا گیا تھا،جس پرسوشل میڈیا صارفین کی جانب سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ انڈیپنڈیٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق مہوش حیات اب تک پانچ کے قریب پاکستانی فلموں میں کام کر چکی ہیں جو مجموعی طور 160 کروڑ روپے کی آمدنی دے چکی ہیں،فلم ڈسٹری بیوٹرز کے مطابق پاکستانی فلمی صنعت کی حالیہ تاریخ میں کسی دوسری ہیروئن کی فلمیں اب تک سو کروڑ کا ہندسہ عبور نہیں کرسکیں۔
ملک میں 500 ڈالر سے زائد کی خریداری مشکل۔۔ بائیو میٹرک تصدیق ضروری ملک میں ڈالر کی خریداری کرنے والے ہوجائیں تیار، ملک میں 500 ڈالر سے زیادہ کی خریداری مشکل ہوگئی ہے، بائیس اکتوبر سے ملک میں بائیومیٹرک تصدیق کے بعد زرمبادلہ کی خرید و فروخت کا قانون نافذ ہوچکا ہے،اسٹیٹ بینک کی جانب سے گزشتہ روزڈالر کی خرید و فروخت کے لیے بائیومیٹرک لازمی قرار دے دیا گیا ہے،اسٹیٹ بینک نے یہ اقدام ڈالر کی بلیک مارکیٹ میں فروخت اور مبینہ طور پر افغانستان اسمگلنگ کو روکنے کیلئے کیا ہے۔ دوسری جانب جیو نیوز کے مطابق ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ایکسچینج کمپنیز کا بائیو میٹرک تصدیق کا سسٹم نادرا سے منسلک نہیں ہوسکا،ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے کہا کہ منی چینجرز 500 ڈالر سے زیادہ فروخت نہیں کررہے،نادرا کے مطابق زرمبادلہ کی خرید و فروخت کی مانیٹرنگ کیلئے حل تیار کرلیا تھا اور 51 میں سے 24 کمپنیز کو حل اور تحریری معاہدہ بھیج دیا تھا۔ حکام کے مطابق 19 کمپنیز نے رابطہ کیا جس پر انہیں سسٹم سمجھایا گیا لیکن آئی ٹی انفراسٹرکچر اور صلاحیت نہ ہونےکی وجہ سے یہ 19 کمپنیز بھی واپس نہیں آئیں،نادرا نے کمپنیز کی مشکلات کے پیش نظر اب موبائل ایپ تیار کی ہے، اور چند کمپینز موبائل ایب کی ٹیسٹنگ کررہی ہیں،نادرا کے مطابق موبائل ایپ کے ساتھ بائیومیٹرک ڈیوائسز بھی ایکسچینج کمپنیز کو دیں گے، ایپ کے ذریعے کرنسی کی خریدوفروخت کا سارا عمل مانیٹر ہوسکے گا۔
چکوال میں درندگی کا واقعہ، ایک اور طالبہ ظلم کا شکار ہوگئی، رکشہ ڈرائیور اور اس کے ساتھی نے ساتویں جماعت کی طالبہ کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، اے آر وائی نیوز کے مطابق واقعہ چکوال کے علاقے چوآسیدن شاہ میں پیش آیا،پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ کے ساتھ رکشہ ڈرائیور اور اس کے ساتھی نے زیادتی کی، واقعے کا مقدمہ درج کرکے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا جبکہ دوسرے ملزم کی تلاش جاری ہے،دوسری جانب متاثرہ طالبہ کا کہنا ہے کہ ویڈیو بنا کر متعدد بار زیادتی کی گئی،طبیعت خراب ہونے پر اہل خانہ کو بتایا۔ متاثرہ طالبہ عائشہ ثنا نے تھانہ چوآسیدن شاہ میں درخواست میں موقف اختیار کیا کہ میں محلہ ڈھیری کی رہائشی ہوں اور گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول میں ساتویں جماعت کی طالبہ ہوں۔۔گھر والوں نے اسکول آنے جانے کے لئے رکشہ لگوایا ہوا ہے جس کو عادل مختار ولد مختار احمد سکنہ محلہ بھنڈر چوآسیدن شاہ چلاتا تھا، تقریباً دو ماہ پہلے جب مجھے اسکول سے چھٹی ہوئی تو عادل مختار رکشہ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ کر گھر جارہی تھی جب محلہ شیرازی اور محلہ ڈھیری کے درمیان پہنچے تو عادل مختار نے رکشہ جنگل کی طرف موڑ لیا اور کچھ آگے جاکر رکشہ ایک سائڈ پر کھڑا کرلیا جہاں پر پہلے سے اسکا دوست موجود تھا۔ جنہوں نے مجھے رکشہ سے زبردستی اتارا اور دھمکی دی کہ اگر شور مچایا تو جان سے مار دیں گے۔ متاثرہ طالبہ نے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ عادل مختار نے زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ فیصل عرف مانا میری ویڈیو بناتا رہا پھر زیادتی کرنے کے بعد مجھے ڈرانا دھمکانا شروع کردیا کہ اگر تم نے کسی کو بتایا تو ہم تمہاری ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کردیں گے اور تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو جان سے مار دیں گے، بیان میں لڑکی نے کہا کہ میں ڈر گئی اور گھر نہ بتایا عادل مختار نے اسکے بعد مجھے بلیک میل کرکے مختلف اوقات میں تین چار مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔ رواں سال اگست میں لاہور میں ایک رکشہ ڈرائیور نے ایل ڈی اے ایونیو کے قریب ساتھی کے ساتھ مبینہ طور پر ایک خاتون اور اس کی نابالغ بیٹی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی تھی۔
جیونیوز کے مطابق اینکرپرسن اور کالم نگار ڈاکٹر شاہد مسعود نے سات سال بعد اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا، شاہد مسعود نے سات سال کے بعدپاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین اور صحافی نجم سیٹھی سے 2013کے انتخابات میں’’ 35پنکچر‘‘ کے ذریعے دھاندلی کا الزام لگانے پر معافی مانگ لی ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے 2014کے وسط میں الزامات لگائے تھے کہ نجم سیٹھی 2013کے انتخابات میں دھاندلی میں حصہ دار تھےاور انہوں نے ’’ 35پنکچر‘‘ یا ’’پینٹی پنکچر‘‘ لگانے کے لئے کام کیا، کیونکہ نجم سیٹھی نگران وزیر اعلیٰ پنجاب تھے اور مبینہ طور پر 35 نشستوں پر دھاندلی کے نتائج کا الزام پاکستان مسلم لیگ کے حق میں دینا تھا۔ شاہد مسعود نے یہی الزام 2013 کے انتخابات کے خلاف مکمل مہم چلانے کے لیے استعمال کیا گیا اور جیو اور جنگ گروپ کو اسی الزام کی بنیادوں پر نشانہ بنایا گیا کہ جیو اور جنگ گروپ مبینہ طور پر اسی دھاندلی کی مشق کا حصہ تھے،نجم سیٹھی نے سخت تردید کردی تھی جبلکہ جنگ اور جیوکی جانب سے بھی جعلی خبروں کی مذمت کی گئی تھی، لیکن اس ہفتے ، ڈاکٹر شاہد مسعود نے ریکارڈ درست کیا اور اپنے ٹی وی شو میں قبول کیا کہ انہوں نے جھوٹے الزامات لگائے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے پروگرام میں اعتراف کیا کہ 35 پنکچر کی خبروں جعلی ذرائع سے ملی اور جس ذرائع نے جھوٹی خبری دی اور خبر دے کر غائب ہوگیا،مجھے احساس ہے کہ یہ الزام نجم سیٹھی کے لئے تکلیف دہ ہونگے، اسلئے میں نجم سیٹھی سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں، یہ خبر مجھے کسی ایسے شخص نے دی جس کے بارے میں میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ ایسا کرے گا،نجم سیٹھی دوست ہیں اور میں ان سے معافی چاہتا ہوں، میرے پاس ایک ذریعہ تھا جس نے 35 پنکچر کی غلط خبر دی۔ شاہد مسعود نے لکھا کہ اپنی غلطی پر میں دل کی گہرائیوں سے نجم سیٹھی سے معذرت خواہ ہوں،جب لاہور جاؤں گا تو میں ایک کپ چائے کے لیے ان کے گھر جاؤں گا،مجھے نجم سیٹھی سے کافی عرصہ قبل معافی مانگنی تھی۔ دی نیوز نے اس رپورٹر کی طرف سے 10 ستمبر 2014 کو ایک کہانی شائع کی تھی جس کا عنوان تھا35 پنکچر کے افسانے کے پیچھے حقیقت۔ دوسری جانب دی نیوز کی تحقیقات سے ثابت ہوگیا کہ پاکستان میں یہ افواہ برطانیہ میں مقیم ایک شخص ڈاکٹر اعجاز حسین شاہ نے پھیلا ئی، جو کہ 2014 میں اسلام آباد دھرنے میں ڈاکٹر طاہر القادری کے مشیر تھے،ڈاکٹر اعجاز حسین ڈاکٹر طاہر القادری کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اس وقت کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ان کے لیے کردار کا فیصلہ کیا تھا،انہون ںے جھوٹی خبر پھیلائی کے نجم سیٹھی نے مسلم لیگ ن کو اپنی حریف جماعتوں پر برتری دلانے کے لیے 35 نشستوں پر پنکچر لگائے ہیں۔ ڈاکٹر اعجاز حسین نے اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں پاکستان کی سائبر سیکیورٹی اور آؤٹر اسپیس چیلنجزکے عنوان سے اسی مسئلے پر گفتگو کی۔ ڈاکٹر اعجاز حسین نے کبھی بھی اپنی "تحقیق" کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا،انہوں نے ای میل میں دعویٰ کیا کہ درجنوں دلچسپ خبروں کے کلپس دیکھ چکا ہوں، ان کلپس کو سائبر حملے پر اپنی تحقیق میں استعمال کیا،ڈاکٹر اعجاز حسین نے اپنے دعوے کی حمایت کے لیے کبھی کوئی آڈیو یا ویڈیو ثبوت پیش نہیں کیا،انہوں نے اپنی سازشی ای میل میں کہا کہ نجم سیٹھی نے انتخابات میں شریف برادران کی انتخابی جیت کو یقینی بنانے میں مصروف تھے،لیکن انہوں نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی اپنا اقتدار بچانے کی کوششیں جاری ہیں، اور وہ اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے پراعتماد بھی ہیں، جیونیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ جب تک تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ نہ ہوجائے فیصلہ نہیں ہوتا، انہوں نے پروگرام میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کیخلاف بھی اکثریت نے عدم اعتماد کی حمایت کی تھی لیکن فیصلہ ان کے حق میں آیا تھا۔ جام کمال نے مزید کہا کہ مخالفین نے اپنے پینتیس ارکان ایک گھر میں بند کرکے پہرے لگادیئے ہیں، شکایات تو ہمیں ہونی چاہئے، کیونکہ مخالفین میں سے کوئی وزیراعلیٰ بننا چاہتا ہے تو کوئی اچھی وزات چاہتا ہے، لالچ مخالفین میں ہے،ہم میں ںہیں، ہار جیت سیاست کا حصہ ہے، جیت ہماری ہی ہوگی لیکن اگر ناکامی بھی ہوئی تو بہترین اپوزیشن ابھر کر سامنے آئیں گے،ہمارے اراکین تو کھلے عام گھوم رہے ہیں، ہمیں تو خطرہ ہے انہوں نے لوگوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے، جس کی وجہ سے بہت سارے لوگ پریشان بھی ہیں۔ دوسری جانب بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما ظہور بلیدی کہ چکے ہیں کہ چار اراکین نے جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر دستخط کیے ہیں، اس کے بعد معلوم نہیں کہ اُنھیں زمین کھا گئی یا آسمان؟ اب بھی 34 کے قریب ارکان ان کے ساتھ ہیں،مبینہ طور پر لاپتہ اراکین بلوچستان اسمبلی اکبر آسکانی، بشریٰ رند، لیلیٰ زرین اور مہ جبیں شیران نے اپنے حوالے سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر چلنے والی افواہوں کی تردید کر دی ہے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق اکبر آسکانی نے کہا وہ کام کے سلسلے میں اسلام آباد گئے تھے، اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کے ساتھ ہیں،مہ جبیں شیران نے کہا تحریک عدم اعتماد کے دن وہ اور ان کے ساتھی کچھ مصروفیات کے باعث اسمبلی نہیں پہنچ سکے تھے جبکہ بشریٰ رند نے کہا کہ وہ اپنے گروپ کے ساتھ تھیں اور رہیں گی،بلوچستان اسمبلی نے وزیراعلیٰ جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر رائے شماری کی کارروائی کا ایجنڈا جاری کر دیا ہے، رائے شماری 25 اکتوبر کو دن 11 بجے ہو گی۔
سادہ لوح عوام کو بینکوں کے نمائندے بن کر اکاؤنٹس کی تفصیلات پوچھنے والے جعل سازوں نے ڈی جی ایف آئی اے کو بھی نہ بخشا اور انہیں فون کرکے معلومات لینے کی کوشش کرتے رہے۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین محسن عزیز کی سربراہی میں ہوا جس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے حکام نے انکشاف کیا کہ ڈی جی ایف آئی اے کو بھی جعلسازوں کی جانب سے فون کال موصول ہوئی جس میں انہوں نے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات پوچھنے کی کوشش کی۔ جس پر کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے اور ذمہ داروں کی شناخت کرکے ان کو سزا دی جائے اور ان کے نام پبلک کیے جائیں ۔ اجلاس کے دوران سینیٹر اعظم نظیر تارڑ نے کہا کہ ملک میں صحافیوں کو ہراساں کیے جانے کی شکایات موصول ہورہی ہیں، صحافی ہمیں ملکی حالات و معاملات سے آگاہی دیتے ہیں، مگر یہاں صحافیوں کو نوٹس دے کر طلب کرلیا جاتا ہے ایف آئی اے صحافیوں کیلئے نرم گوشہ اپنائے ۔ جس پر جواب دیتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ قانون سب کیلئے برابر ہے، ایف آئی اے کا ادارہ شکایات پر تحقیقات کرتا ہے۔
خبررساں ادارے ایکسپریس کا دعویٰ ہے کہ مرکزی بینک کے مطابق غیر ملکی قرضوں اور پاکستان انٹرنیشنل سکوک کی ادائیگیوں سے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر 15 اکتوبر کو زرمبادلہ کے ذخائر میں بڑی کمی دیکھی گئی ہے۔ مرکزی بینک نے بتایا کہ کاروباری ہفتے کے اختتام پر زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ارب 64 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جس کے بعد سرکاری ذخائر 17 ارب 49 کروڑ 22 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک پاکستان نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتے ایک ارب ڈالر کے پاکستان انٹرنیشنل سکوک کی ادائیگی کی گئی، جس سے کمرشل بینکوں کے ذخائر ایک ہفتے میں 6 ارب 83 کروڑ 10 لاکھ سے بڑھ کر 6 ارب 83 کروڑ 52 لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئے۔ جب کہ اس سے قبل زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 19 ارب 13 کروڑ 82 لاکھ ڈالرز تھا۔ اس طرح خزانے میں اتنی تیزی سے کمی بڑے معاشی مسائل کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
وفاقی حکومت نے ملک میں بجلی کے ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کیلئے 111 ارب روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سرمایہ کاری کا اعلان وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کی جانب سے کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی کے ترسیلی نظام میں 111 ارب روپے کی بڑی سرمایہ کاری کرے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت آئندہ تین سالوں میں این ٹی ڈی سی کے ذریعے بجلی کے ترسیلی نظام میں سرمایہ کاری کرے گی جس کے بعد نیشنل گرڈ سے بجلی کی ترسیلی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہ ہماری حکومت آنے سے قبل 2018 میں بجلی کی ترسیلی صلاحیت 20 ہزار 811 میگاواٹ تھی جو اس سرمایہ کاری کے بعد 2023 میں بڑھ کر 28 ہزار 750 میگاواٹ اور 2024 میں31ہزار500 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی۔
پروپاکستانی کا دعویٰ ہے کہ خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمت، لاجسٹکس کے مسائل اور آٹو میٹک گاڑیوں کی چپ کی کمی کے باعث کار ساز کمپنیاں بہت جلد گاڑیوں کی قیمتیں بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ سپلائی چین میں پیدا ہونے والے بحران کے باوجود کمپنیاں صرف حکومت کی ہدایات کے باعث گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے سے رُکی ہوئی ہیں اور اس بار اگر قیمتیں بڑھیں تو ان میں 5 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ اضافہ یکم نومبر 2021 سے نافذ العمل ہو جائے گا۔ پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے چیئرمین اور ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) کے سی ای او علی اصغر جمالی نے کہا ہے کہ گاڑیوں کی قیمتیں "کسی بھی وقت" بڑھ سکتی ہیں کیونکہ کمپنیاں کچھ عرصے کے لیے گاڑیوں کی قیمتیں حکومت کی درخواست پر برقرار رکھنے کی پابند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ روپے کی حالیہ گراوٹ ہے جس سے کاریں بنانے والی کمپنیوں کے اخراجات کئی گنا تک بڑھ گئے ہیں۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے تجزیہ کار ارسلان حنیف نے وضاحت کی کہ کار مینوفیکچررز نے روپے کی قدر میں کمی کا 80 فیصد تک اثر مینوفیکچرنگ لاگت میں برقرار رکھا ، کیونکہ دوسرے ممالک سے درآمد کی جانے والے سی کے ڈی یونٹس پاکستان میں اسمبل ہوتے ہیں اس کے لیے بھی آٹو میٹک گاڑیوں کی چپ چاہیے ہوتی ہے جسے امپورٹ کیا جاتا ہے اور اس کی درآمد ڈالر کی قیمت کے ساتھ اتار چڑھاؤ کا شکار ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ مالی سال 22-2021 کے بجٹ میں کار ساز کمپنیوں کو ٹیکس اور ڈیوٹی میں چھوٹ اور ریلیف فراہم کرنے کے باوجود اس وقت روپے کی بے قدری اور آئے روز ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کے باعث کمپنیاں قیمتیں بڑھانے پر متفق بیٹھی ہیں مگر ابھی تک اس میں رکاوٹ حکومتی احکامات ہیں۔ لیکن صورتحال اسی طرح رہی تو یہ کار مینوفیکچرر کب تک قیمتیں مستحکم رکھ پائیں گے؟
آن لائن ڈیجیٹل پلیٹ فارم ڈیلی پاکستان کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی بلٹ پروف گاڑی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر ایف 10 میں آگ پکڑ لی۔ تفصیلات کےمطابق جمعیت علما اسلام کے اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی بلٹ پروف لگژری وی 8 کو آگ لگنے کا واقعہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف 10 میں پیش آیا۔ جس وقت گاڑی میں آگ لگی اس وقت مولانا اس میں سوار نہیں تھے۔ تاہم آگ لگنے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہوسکیں۔ ٹویٹر پر سرفراز راجہ کی جانب سے شئیر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد کے ایف 10 کی مارکیٹ میں گاڑی کو آگ لگی ہے لوگ وہاں سے گزر رہے ہیں۔ جب کہ مولانا کے ساتھی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صحت کارڈ دسمبر تک آجائے گا، عوام کو ریلیف ملے گا،فواد چوہدری ملک بھر میں بڑھتی مہنگائی پر عوام دے رہے ہیں دہائی، ایسے میں وزیراطلاعات فواد چوہدری نے خوشی کی نوید سنائی، کہا عوام کیلئے بڑا ریلیف لارہے ہیں، وزیراطلاعات فواد چوہدری نے ٹویٹ پر لکھا کہ صحت کارڈ دسمبر سے شروع ہوجائے گا، مارچ تک پورے پنجاب کو صحت کارڈ مل جائیں گے، اس کارڈ پر نجی ڈاکٹرز سے اور نجی اسپتالوں میں بھی علاج کرایا جاسکتا ہے، سرکاری اسپتال میں بھی علاج کی سہولت دستیاب ہوگی۔ ٹویٹ میں وزیر اطلاعات نے خوشخبری سناتے ہوئے لکھا کہ صحت کارڈ سے ایک خاندان ہر سال دس لاکھ روپے تک کا علاج کرا سکے گا، غریب ترین سے متوسط طبقے کو بھی بہترین علاج کی سہولت حاصل ہوگی، انہوں نے بتایا کہ حکومت صحت، تعلیم اور چار بنیادی اشیائے ضروریہ آٹا، چینی، دال اور گھی پر بھی بڑا ریلیف لا رہی ہے،ملکی ترقی کیلیے بنیادی سیاسی اصلاحات ضروری ہیں، میڈیا اور عدالتی اصلاحات لازمی ہیں۔ دوسری جانب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں،سندھ ہو یا پنجاب یاپھر خیبرپختونخوا اور بلوچستان اشیائے خورونوش عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں،کوئٹہ میں سبزیوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، ٹماٹر سو روپے، لہسن ساڑھے تین سو روپے فی کلو ہوگیا، آلو بھی مہنگا ہوگیا،پشاورمیں آلو کی فی کلو قیمت 50 روپے سے بڑھ کر 90 روپے تک پہنچ گئی،ٹماٹر بھی فی کلو 80 روپے فروخت ہونے لگا،اسی طرح ہر سبزی کی قیمت میں 20 سے 30 روپے فی کلو اضافہ کردیا گیا۔
بلوچستان کے ضلع کوہلو میں گیس کے نئے ذخائر دریافت ملک بھر میں موسم سرما شروع ہونے سے قبل ہی گیس کے بحران نے زور پکڑ لیا، گھروں میں خواتین کیلئے کھانا پکانا مشکل ہوگیا، ایسے میں پاکستانیوں کیلئے خوشی کی خبرسامنے آگئی، ملک بھر میں گیس کے نئے ذخائر دریافت ہوگئے ہیں،آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) کے مطابق بلوچستان کے ضلع کوہلو میں گیس کے نئے ‏ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ او جی ڈی سی ایل کے مطابق جندران ایکس۔ ون کنویں سے یومیہ 2.391 ملین مکعب کیوبک فٹ گیس ‏دریافت ہوئی،کنواں 1627 میٹر گہرائی تک کھودا گیا تھا، او جی سی ایل نے 19 مئی 2021 کو جندران کنواں ‏ایکس۔ون کی کھدائی شروع کی تھی۔ ‏ ‏ او جی ڈی سی ایل کے مطابق ملک میں تیل و گیس کے ذخائر کی مزید تلاش کیلئے اقدامات تیز کردیئے گئے ہیں،جندران ‏ویسٹ ایکس۔ ون کنواں کی دریافت سے ملک میں گیس کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد گار ‏ثابت ہوگی،جبکہ او جی ڈی سی ایل جندران ویسٹ ایکس ۔ ون بلاک میں 100 فیصد حصہ کی مالک ہے، جو ہائیڈرو کاربن ریزرو بیس میں بھی اضافے کا باعث بنے گی۔ دوسری جانب وفاقی وزیر حماد اظہر نے گیس سے متعلق سوالات پر جیونیوز کے پروگرام میں جوابات دینے سے گریز کیا، پروگروام میں سوال کیا گیا کہ وفاقی حکومت نے سردیوں کے موسم کے لیے ایل این جی کا بندوبست کیا یا نہیں؟ کیا اس سال سردیوں میں بھی پاکستان میں ایل این جی کا بحران آئے گا؟ جس پر حماد اظہر میں بعد میں بات کرنے کا کہہ ڈالا، اس سے قبل لیگی رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پورا ملک معاشی و اقتصادی بد حالی کا شکارہے ، دسمبر میں ملک کی تاریخ کا بدترین گیس بحران آ رہا ہے ،فیصلہ کن تحریک چلا کر حکمرانوں کو گھر بھیجیں گے۔
ملک بھر میں کورونا کے حملے کم ہونے لگے، جس کی وجہ عوام کی جانب سے احتیاط اور ویکسین لگوانے کا عمل جاری رکھنا ہے، اور اب حکومت نے کورونا کے خاتمے کیلئے گھرگھر ویکسی نیشن مہم کا اعلان کردیا ہے، مہم کا آغاز پچیس اکتوبر سے ہوگا، اور یہ مہم بارہ نومبر تک جاری رہے گی، مہم کے حوالے سے حکومت نے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا، جس کے مطابق مہم کے لیے فوکل پرسن تعینات کیا گیا ہے اور یہ پنجاب کے 36 اضلاع میں جاری رہے گی،اور اس مہم کا مقصد 100 فیصد افراد کی ویکسینیشن کا ہدف پورا کرنا ہے۔ ملک میں کورونا کیسز میں کمی جاری ہے،گزشتہ روز مثبت کیسز کی شرح ایک اعشاریہ چار چار فیصد ریکارڈ کی گئی ، جبکہ گزشتہ چوبیس گھنٹے میں انتالیس ہزار دو سو ٹیسٹ کیے گیے جس میں پانچ سو سڑسٹھہ میں وائرس کی تصدیق ہوئی، مزید سولا افراد زندگی کی بازی ہار گیے ، مجموعی اموات اٹھائیس ہزار تین سو چوالیس تک پہنچ گئی، چوبیس ہزار تین سو چھیاسی فعال کیسز ہیں،ملک کورونا متاثرین کی مرتب فہرست میں 33 ویں نمبر پر آ گیا۔
گوجرہ میں موٹروے پر زیادتی کا نشانہ بننے والی خاتون کو مختلف نمبرز سے ہراساں کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق گوجرہ میں زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون نے انکشاف کیا ہے کہ اُسے مختلف نمبروں سے کال کر کے ہراساں کیا جا رہا ہے جبکہ کیس واپس لینے کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ متاثرہ خاتون نے علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو پیش ہوکر بیان دیا اور ایف آئی آر میں درج واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے پولیس کی تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔متاثرہ لڑکی نے مجسٹریٹ کو بتایا کہ وہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کی تحقیقات سے مطمئن نہیں ہے، لڑکی نے تحقیقات کے غیر شفاف ہونے کا بھی دعویٰ کیا۔ متاثرہ خاتون نے بیان میں مزید کہا کہمختلف نمبروں سے کال کر کے ہراساں کیا جا رہا ہے، ملزمان بااثر ہیں، دھمکیاں دی جا رہی ‏ہیں، کیس واپس لینے کے لئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔مجسٹریٹ نے خاتون کے بیان کو سن کر تفتیشی افسر کو آئندہ سماعت پر پیشرفت سے آگاہ کرنے اور چالان جمع کرانے کی ہدایت کی۔ عدالت نے پولیس کی استدعا پر گرفتار ملزمان حماد اور رحمان کا مزید 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ واضح رہے کہ گوجرہ میں نوکری کا جھانسہ دے کر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیاتھا، تفصیلات کے مطابق متاثرہ خاتون اپنے شوہر کے ساتھ جارہی تھی جب مسلح افراد نے اغوا کیا اور جنگل میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے واقعے کی ایف آئی آر درج کر کے ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا تھا۔
وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان زینب مزاری نے حکمران جماعت پر ایک بار پھر کڑی تنقید کردی، لیگی نائب صٖدر مریم نواز کی جانب سے عمران خان پر جادو ٹونا کرانے کا الزام عائد کیا گیا،جس پر ٹویٹ میں ایمان زینب مزاری نے لکھا کہ اگر ملک کو جادو ٹونے سے ہی چلانا تھا تو پھر اس قوم کا پیسہ اتنی بڑی کابینہ پر کیوں ضائع ہو رہا ہے،انہوں نے مزید لکھا کہ ملک کا مذاق جادو ٹونے سے اڑایا جا رہا ہے اور آپ چاہتے ہیں کے جادو کرنے والوں پر بات بھی نا ہو، ایسا تو ہر گز نہیں ہوگا۔ بیٹی کے تنقیدی ٹویٹ پر شیریں مزاری نے جوابی ٹویٹ داغ دیا، اپنی جماعت اور عمران خان کو سپورٹ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ میں شرمندہ ہوں کہ آپ اس طرح کے غیر مستند حملوں کا سہارا لے رہی ہیں،ایک وکیل کی حیثیت سے آپ کو بغیر کسی ثبوت کے اس طرح کے الزامات لگانا زیب نہیں دیتا،جب انسان ناکام ہوجاتا ہے تو وہ تنقید کا سہارا لیتے ہوئے ذاتی سطح پر حملہ کرتا ہے جو شرمناک ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ شیریں مزاری اور ان کی بیٹی کے درمیان سوشل میڈیا پر لفظی جنگ جاری رہی ہو، اس سے قبل بھی دونوں کے درمیان سیاسی بیانات پر اختلافات ابھر کر سامنے آچکے ہیں۔ مریم نواز نے الزام عائد کیا تھا کہ عمران خان آئینی وزیراعظم نہیں ہیں، یہ اہم تقرریاں جادو ٹونے سے کرتے ہیں، جادو ٹونا اتنا ہی کامیاب ہے تو عوام کی بھلائی کے لیے استعمال کیوں نہیں کرتے؟ جنتر منتر اتنا کامیاب ہے تو پیٹرول، ڈیزل، آٹا، سستا کریں، جب آپ جنات کے ذریعے یہ سب کریں تو یہ ہی ہو گا، جنات کچھ اور کہہ رہے ہیں اور آپ کا حساب کچھ اور، ایسے لوگوں پر ہنسی آتی ہے، اگریہی طریقہ رہا تو ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔
پاکستان ایک بار پھر ایف اے ٹی ایف کی گرےلسٹ سے نکلنے میں ناکام ، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق تین روزہ اجلاس کے بعد ایف اے ٹی ایف کے صدر ڈاکٹر مارکوس پلییئر نے ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور کہا کہ پاکستان نے مالی معاملات کی شفافیت کے حوالے سے بہتری دکھائی ہے تاہم پاکستان کو ابھی بدستور نگرانی میں رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے دیئے گئے 34 نکات میں سے 30 میں بہتری دکھائی ہے ، پاکستان مجموعی طور پر نئے ایکشن پلان پر بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے گھانا اور موریشس کو گرے لسٹ سے نکلنے میں کامیاب ہونے کا اعلان کیا اور ان ممالک کو مبارکباد بھی دی۔ واضح رہے کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف نے 2018 میں اپنی گرے لسٹ میں شامل کیا تھا جس کے بعد سے اب تک متعدد بار ایف اے ٹی ایف پاکستان کو منی لانڈرنگ، دہشت گردی کیلئے فنڈنگ جیسے معاملات کے باعث اس فہرست میں برقرار رکھے ہوئے ہے۔
دنیا کے 43 ممالک میں مہنگائی کی شرح کے حوالے سے جاری فہرست میں پاکستان چوتھے نمبر پر آگیا ہے۔ خبررساں ادارے جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی جریدے دی اکانومسٹ نے گزشتہ ماہ کے دوران دنیا کے 43 ممالک میں مہنگائی کی شرح کے حوالے سے ایک رپورٹ مرتب کی ہے جس میں مہنگائی کے اعدادوشمار اور اعشاریے پیش کیے گئے ہیں۔ اس فہرست میں پاکستان کو چوتھے نمبر پر رکھا گیا ہے جہاں مہنگائی کی شرح 9 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ فہرست میں سب سے زیادہ مہنگائی والا ملک ارجنٹائن کو قرار دیا گیا جہاں 51اعشاریہ4 فیصد شرح مہنگائی ہے، دوسرے نمبر پر ترکی ہے جہاں مہنگائی کی شرح 19اعشاریہ6 فیصدریکارڈ کی گئی ہے۔ تیسرے نمبر پر برازیل ہے جہاں مہنگائی کی شرح10اعشاریہ2 فیصد ہے، پاکستان کا پڑوسی ملک بھارت 4اعشاریہ 3 فیصد شرح مہنگائی کے ساتھ 43 ممالک کی اس فہرست میں 16ویں نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان 43 ممالک میں سب سے کم مہنگائی جاپان میں ریکارڈ کی گئی جہاں مہنگائی کی شرح منفی صفراعشاریہ 4 فیصد ہے۔