خبریں

معاشرتی مسائل

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None

طنز و مزاح

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None

رائے

Threads
52
Messages
564
Threads
52
Messages
564
عوام کو بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں گے اور صحت کی مفت سہولیات پر کام کیا جائیگا: پارلیمانی پارٹی اجلاس سے خطاب پاکستان مسلم لیگ ن کی طرف سے نامزد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے آج پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بڑے اعلانات کر دیئے۔ ذرائع کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں مسلم لیگ ن پنجاب کی پارلیمانی پارلیمانی پارٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں خطاب کرتے ہوئے مریم نوازشریف نے کہا کہ پاکستان خاص کر پنجاب کی عوام کا شکریہ جنہوں نے نوازشریف کو مینڈیٹ دیا، پارلیمانی ممبرز کو کامیابی پر مبارکباد پیش کرتی ہوں اور عوام کا شکریہ جنہوں نے ہمیں منتخب کیا۔ مریم نوازشریف نے اجلاس میں صوبہ پنجاب کیلئے 5 سالہ منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ میاں محمد نوازشریف نے پنجاب میں خدمت کی بنیاد رکھی جسے شہبازشریف نے برقرار رکھا اسے ہم اس ترقی کے سفر کو آگے بڑھائیں گے۔ صوبہ پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہونا میرے لیے بہت اعزاز کی بات ہے، عوام کو بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں گے اور صحت کی مفت سہولیات پر کام کیا جائیگا۔ انہوں نے کرپشن کو ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماڈل پولیس سٹیشنز بنانے ہیں اور صوبہ کی خواتین کے لیے تھانوں کے نظام میں بہتری لانی ہے، ٹریفک مینجمنٹ کے مسائل کو دیکھتے ہوئے بہترین نظام متعارف کروائیں گے۔ صوبہ کی غریب عوام کیلئے ایک لاکھ گھر بنانے کے ساتھ ساتھ کڈنی، لیور، ہارٹ اور کینسر کے ہسپتال بنائیں گے۔ مریم نوازشریف کا کہنا تھا کہ 2015-16ء میں میاں محمد نوازشریف نے ہیلتھ کارڈ متعارف کرویا لیکن گزشتہ دوراقتدار میں اسے پیسہ کمانے کا ذریعہ بنا دیا گیا تھا،جلد ہی پنجاب کے دیہی علاقوں کیلئے بھی جامع پروگرام متعارف کروئیں گے۔ محفوظ پنجاب کے پراجیکٹ پر کام کیا جائے گا اور سیف سٹی پراجیکٹ کا دائرہ کار پنجاب کے تمام شہروں تک پھیلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات میں بہت بڑی تعداد میں نوجوان ایم پی ایز اسمبلی میں پہنچے ہیں، انتخابات کے نتائج آنے کے بعد ایک بھی دن آرام سے نہیں بیٹھے، انشاء اللہ پنجاب میں خدمت کے نئے ریکارڈ قائم کریں گے۔ اگلے 5 سال پنجاب کے تمام حلقوں میں ایسے کام کریں گے کہ عوام کے تمام مسائل حل کر دیں اور کوئی خامی نہ رہے۔ مریم نوازشریف کا کہنا تھا کہ دنیا بنگلہ دیش اور بھارت سمیت ساری دنیا ڈیجیٹلائزیشن کی طرف چلے گئی لیکن افسوس ہے کہ پورے پاکستان میں صرف ایک آئی ٹی سٹی ہے، کوشش ہے کہ 5 سال میں 5 آئی ٹی سٹی بنائے جائیں۔ پنجاب میں غیرملکی سرمایہ لانے پر کام شروع کر دیا، ہیلتھ کارڈ کرپشن فری بنا کر گریڈ16 کے سرکاری ملازمین سے نیچے کے لوگوں تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے ہسپتالوں پر اگلے 5 سالوں میں بھرپور توجہ دی جائے گی، جہاں بھی آلات کی کمی ہے اسے دور کیا جائے گا۔ ہسپتالوں میں نرسز کے لیے ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ قائم کیے جائیں گے اور انہیں بیرون ملک بھی بھیجا جائے گا، پنجاب میں ایئرایمبولینس سروس شروع کرنے کا بھی اعلان کر دیا۔
سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے جو بڑے بڑے انکشافات اور دعووں سے خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے حوالے سے بڑا انکشاف کردیا,انہوں نے کہا سب کو جمہوری مزہ لینا تھا۔ آئین کے ٹھیکیدار، چوکیدار اور پہریداروں کو آئین اور قانون کے تحت جمہوریت کا بھی شوق تھا۔ ایکسپائرڈ لیڈروں کا تو آپ نے مزہ لے لیا ہے۔ قوم نے آپ کو بتادیا ہے کہ آپ کدھر کھڑے ہیں اور آپ کی اوقات کیا ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا آپ (ن) لیگ کےلئے بار بار چلا رہے ہیں کہ کانٹوں کا تاج ان کے سر پر پہنا دیا ہے۔ کانٹوں کا تاج ان کے سر پر نہیں، ان کی کرسی پر رکھا اور کہا کہ اس پر بیٹھو، تو جھٹکا بھی آیا ہے اور چیخ بھی نکلی ہے، یہ اصل صورتحال ہے۔ سب نے اپنا فیصلہ جمہوری طریقے سے محفوظ کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہرروز ایک لفافہ کھولتے ہیں لیکن انہیں لگتا ہے کہ چھ، سات دن کے اندر اندر، زیادہ سے زیادہ آٹھ دن میں مخلوط حکومت بن جائے گی۔ سیاسی اور جمہوری طور پر یہ ڈیڈ ہیں۔ حالات اور واقعات کی وجہ سے لاکڈ بھی ہیں۔ حکومت بنائیں گے اقتدار کے مزے بھی لیں گے۔ اقتدار کو نوچیں گے اور دبوچیں گے۔ فیصل واؤڈا نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا سر اور ساری انگلیاں، پورا جسم کڑاہی میں ہیں۔ انہوں نے کہا وزیر اعلیٰ بلوچستان کی بڑی انٹرسٹنگ پوزیشن ہو گی۔ ویسے تو ہمارا دوست بگٹی بائی فار لیڈ کر رہا تھا، دوسرا بھی ہمارا دوست ہے۔ لیکن آج زہری صاحب کا ایک قدم آگے ہیں۔ ایک گھنٹے بعد ایک آگے ہوجاتا ہے، دوسرے گھنٹے بعد دوسرا آگے ہو جاتا ہے۔ لیکن ابھی تک لگ یہ رہا ہے کہ زہری صاحب کا ایک قدم آگے ہی ہے۔ سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ میرے تو سارے ہی دوست ہیں، جام کمال بھی دوست ہیں۔ جہاں کنگ میکر آزاد ہیں، وہاں یہ بھی ہیں، اسے بلیک ملینگ تو نہیں کہوں گا، ان کی اچھی سیاست ہے۔ انہوں نے تاج والے، کانٹوں والے جو لوگ ہیں، (ن) لیگ کو گرا دیا ہے۔ اب تو شارٹ فارم ہونا چاہئے، پنجاب کی ایم کیو ایم ٹو۔ (ن) لیگ کا اگر آپ یہ ٹائٹل چلائیں ۔ اس سیاق و سباق میں کہ (ن) لیگ کا یہ آخری اقتدار ہے۔ یہ پنجاب میں ایم کیو ایم ہو جائیں گے۔ یہ ہر پرزے کے ساتھ لگیں گے، وہ تھوڑی دیر چلے گا، پھربیٹھ جائے گا۔ (ن) لیگ کا تو یہ فیوچر ہے۔ فیصل واؤڈا نے کہا اقتدار کی ریس سے پہلے فیز میں (ن) لیگ گئی ہے۔ پھر پی ٹی آئی ہے پھر پیپلزپارٹی ہے۔ یہ تین پارٹیاں ہیں یہ تین فزل آﺅٹ فیزز میں ہیں۔ پہلے فیز میں فزل آﺅٹ ہو گئی (ن) لیگ۔ دوسرا فیز ان کا ہے۔ تیسرا فیز پی ٹی آئی کا ہے۔ پی ٹی آئی تو ویسے ہی چانس پر بنانے جا رہی ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم یہاں بھی بنائیں گے، وہاں بھی بنائیں گے۔ ان کے نمبر پورے ہو نہیں رہے۔ وہ کسی جمہوری نظام کے اندر نہیں ہے۔ مولاجٹ کی سیاست نہیں چل سکتی۔ ان کے جھوٹے خواب، آئی لو یو ، آئی لو یو ٹو والا نہیں چل سکتا۔ ان کا روٹی، کپڑا، مکان والا نہیں چل سکتا۔ پاکستان میں یہ سیاست چل نہیں سکتی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر میری سوچ رانجھا صاحب سے نہیں ملتی تو اس کا یہ مطلب نہں کہ میں ڈنڈا اٹھاﺅں، پتھر اٹھاﺅں اور لڑنا شروع کردوں۔ بیٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ جمہوری طریقے سے بیٹھیں۔ سب سے اہم اور سنجیدہ مسائل جو چل رہا ہے وہ یہ کہ بیس ارب ڈالر ہم نے بھرنے ہیں، اس کا کسی کے پاس کوئی پلان نہیں ہے۔ آئی ایم ایف ری اسٹرکچرنگ پلان کوئی نہیں ہے۔ سوئی گیس کے نرخ بڑھنا شروع ہو گئے ہیں، پہلے ہی نگراں حکومت کے سر پر یہ تھوپ کر نکل گئے ہیں، پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہے۔ ڈالر ہاتھ سے نکل جائے گا۔ غربت بڑھے گی، یہ ڈرانے کی بات نہیں ہے مگر سچ بولیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا پرابلم یہ ہے کہ یہ کیا سب بیٹھ کر سوچ رہے ہیں، نیا فارمولا سب کے دماغ میں چلنا شروع ہو جائے گا کہ ہم صوبے لے لیں گے۔ فیڈرل گورنمنٹ بیٹھ گئی تو بیٹھ جائےگی۔ پھر ایک نوٹیفائی کریں گے۔ صوبے چلاتے رہیں گے۔ ایک کونوٹیشن یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کے پی پی ٹی آئی کو مل گیا۔ ان کو پنجاب، ان کو بلوچستان اور سندھ ان کو مل گیا۔ صوبے ہم رکھ لیں گے۔ فیڈرل گورنمنٹ اگر کسی اسٹیج پر گر گئی۔ تو ہم ربڑ اسٹیمپ پارلیمنٹ کی طرح جس طرح پہلی دفعہ ہوا تھا۔ ایک نوٹیفائی کریں گے، کورٹ میں بھیج دیں گے۔ کہیں نہ کہیں آئین اور قانون کی شق نکل آئے گی۔ بغیر دھڑ کے بھی سر چلتا رہے گا۔ وہ بھی سسٹم ہم نے پاکستان میں دیکھا ہے، چلتا رہے گا۔ سابق سینیٹر فیصل واوڈا نے دعویٰ کیا ہے کہ چھے سے سات دن میں حکومت سازی کا معاملہ طے ہو جائے گا۔پہلے دن سے کہتا آیا ہوں آج پھر کہہ رہا ہوں نتیجہ تباہی نکلے گا,پیپلزپارٹی کی اب بلے بلے ہے، زرداری صاحب اسمارٹ کھلاڑی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تمام اہم عہدے پیپلزپارٹی کے پاس ہیں، صدارت کسی اعلی شہرت والے کو ملے گی۔ سندھ اور بلوچستان کی وزارت اعلی پیپلزپارٹی لے گئی.
مسلم لیگ ن کی جانب سے نامزد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے عہدے سنبھالنے سے پہلے ہی پی ٹی آئی منصوبوں کو دوبارہ سے اپنے نام سے شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کی رہنما اور نامزد وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں پنجاب کیلئے مختلف منصوبوں کا اعلان کیا جن میں ایئرریسکیو سروس، بلدیہ ایپ سمیت ایسے منصوبے شامل ہیں جنہیں پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ حکومت نے شروع کیا تھا۔ مریم نواز نے اپنے بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ صحت کارڈ کا منصوبہ سب سے پہلے نواز شریف نے شروع کیا تھا۔ ان دعوؤں اور وعدوں پر سوشل میڈیا صارفین نےمریم نواز شریف کو آئینہ دکھاتے ہوئے منصوبوں کی حقیقت بتائی اور یہ بھی بتایا کہ یہ سارے منصوبے کس نے شروع کیے تھے۔ پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گل نے مریم نواز کے بیان پرردعمل دیتے ہوئے مریم نواز کو پی ٹی آئی کے منصوبے دوبارہ سے ایجاد کرنے والے باجی قرار دیا۔ https://x.com/SHABAZGIL/status/1760325059460145453?t=VmDRauRWc6PK7l_-FeIugw&s=08 محمد عمیر نامی صحافی نے مریم نواز کے اعلان کردہ منصوبوں کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے کہا کہ ایئر ریسکیو سروس کا اعلان پی ٹی آئی حکومت نے کیا اور 2021 میں اس کی ورکنگ بھی مکمل ہوئی، یہ منصوبہ پی ٹی آئی کی جانب سے 2021-22 کے ترقیاتی منصوبوں میں شامل کیا گیا تھا۔ انہوں نے دوسری ٹویٹ میں کہا کہ پی ٹی آئی حکومت میں میاں محمودالرشید نے اپنی وزارت میں بلدیہ ایپ تیار کروائی تھی جس میں میرج اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ سمیت دیگر سہولیات میسر تھی۔ https://x.com/MashwaniAzhar/status/1760321236049998323?t=GRf5_H70ouMj_a3c4zMYPA&s=08 احمد وڑائچ نے لکھا کہ صحت کارڈ سے متعلق مریم نواز کا دعویٰ غلط ہے، جنوری 2015 میں پی ٹی آئی نے کے پی کے میں صحت کارڈ کا منصوبہ شروع کیا،دسمبر 2015 میں نواز شریف نے وفاق میں اس منصوبے کا پائلٹ پراجیکٹ لانچ کیا، پی ٹی آئی نے 2018 میں پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہر کسی کو صحت کارڈ کی سہولت دی جبکہ ن لیگ نے اس منصوبے کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے منسلک کیا ہوا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی حکومت جانے کے بعد صحت کارڈ بند کردیا گیا اور اس حوالے سے مریم نواز کی ایک آڈیو بھی لیک ہوئی تھی۔ زبیر علی خان نے کہا کہ اگر یہ منصوبہ ن لیگ کا تھا تو مریم پھر انکل شہباز سے کیوں کہتی تھیں کہ عمران خان کے واحد منصوبے صحت کارڈ کو ختم کریں۔
نگراں حکومت نے جان بچانے والی 146 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دیدی ہے۔ تفصیلات کے مطابق نگراں حکومت نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری کو منظور کرتے ہوئے 146 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جن ادویات کی قیتوں میں اضافہ کیا گیا ان میں اینٹی بائیوٹیک، کینسر اور ویکسینز شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے حکومت کو 262 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز دی تھی، حکومت نے 146 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی، حکام کا کہنا ہے کہ فہرست میں شامل 116 ادویات کی قیمتوں فارماسیوٹیکل خود بڑھائیں گی۔ حکومت نے گزشتہ روز ادوایات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرکے کمپنیوں کو از خود قیمتیں بڑھانے کی اجازت دی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت صرف نیشنل اسینشل میڈیسنز لسٹ میں شامل 464 ادویات کی قیمتیں ہی کنٹرول کرے گی
مریم نواز وزیر اعلی پنخاب بننے کے لئے تیار, مریم نواز حلف برداری کی تقریب میں کس ڈیزائنر کا کیسا ڈریس پہنیں گی؟ پارٹی کے اندر دلچسپ بحث تبصرے جاری ہیں,مسلم لیگ ن کے مطابق ان کے پنجاب میں نمبرز سادہ اکثریت سے بھی زیادہ ہوگئے، اب وہ کسی بھی پارٹی کے بغیر پنجاب میں حکومت آرام سے بنا لیں گے۔ نامزد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی بھی یہی خواہش تھی کہ وہ جب وزرات اعلی کا حلف لیں تو ان کے پاس سادہ اکثریت ہونی چاہیے۔ حلف اٹھانے کی تقریب کب ہوگی، اس کا اعلان جلد ہوجائے گا لیکن حلف اٹھانے والے دن نامزد وزیر اعلیٰ پنجاب کون سا ڈریس پہنیں گی، اس حوالے سے پارٹی کے اندر خواتین میں کافی بحث و مباحثہ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق اس وقت 2 لیگی خواتین مریم نواز شریف کا ڈریس ڈیزائن کرنے کے حوالے سے مختلف آپشنز دیکھ رہی ہیں۔ حنا پرویز بٹ پہلے بھی مختلف ایونٹس کے حوالے سے مریم نواز کے ڈریسز ڈیزائن کر چکی ہیں لیکن اس بار مریم نواز کے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب ڈریسز کے حوالے سے مریم اورنگزیب بھی کافی متحرک ہیں۔ مختلف ڈیزائنرز سے سوٹس منگوائے جا رہے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق مریم نواز کے ڈریسز کے حوالے سے ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی ہے کہ بطور وزیراعظم بے نظیربھٹو جس طرح کی ڈریسنگ کرتی تھیں، ویسے ہی مریم نواز کے مختلف رنگوں کے کپڑے سلوائے جائیں۔ واضح رہے کہ بے نظیر بھٹو نے دوپٹہ اور اسلامی روایات کو دیکھتے ہوئے اپنے ملبوسات پہنے۔ دوسری تجویز سادہ ڈریسز کی بھی سامنے آئی ہے کہ مریم نواز سادہ ڈریسز کا انتخاب کریں تاکہ وہ ایک عوامی لیڈر لگ سکیں۔ تیسری تجویز پیش کرنے والے کہتے ہیں کہ مہنگے ڈریسز کو نظر انداز کیا جائے اور سادہ ملبوسات ہی کو اجاگر کیا جائے جیسے عمران خان نے شلوار قمیض یعنی پاکستانی ڈریس کو ہر جگہ پہن کر پاکستان کی نمائندگی کی۔ ذرائع کے مطابق مریم نواز بے نظر بھٹو کے ڈریسز کو پسند کرتی ہیں جو انہوں نے بطور وزیر اعظم زیب تن کیے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس طرح بے نظیر بھٹو کپڑے پہنتی تھیں، اس طرح کے ڈریسز بھی تیار ہو رہے ہیں اور سادہ ملبوسات بھی حلف کی تقریب کے لیے تیار کروائے جارہے ہیں۔ اب یہ نامزد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز پر منحصر ہے کہ وہ کون سا ڈریس حلف اٹھانے والے دن پہنیں گی۔ ذرائع کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ حنا پرویز بٹ اور مریم اورنگزیب دونوں میں مقابلہ ہے کہ مریم نواز ان کا ڈیزائن کیا ہوا ڈریس پہنتیں۔ یہ بھی غور کیا جارہا ہے حلف اٹھانے والے دن کون سے رنگے کے کپڑے پہن جائیں، رنگوں کے حسین امتزاج کے حوالے سے مریم نواز کی اپنی چوائس بہت اچھی ہے، اس لیے کس رنگ کے کپڑے اس تقریب میں پہنے جائیں، اسسکا انتخاب مریم نواز خود کریں گی۔ جبکہ جوتوں کے حوالے سے بھی مشورے جاری ہیں کہ میچنگ برانڈڈ جوتے ہوں یا عام روایتی شوز ہونے چاہئیں۔ مریم نواز نے پنجاب کے عوام کو ریلیف دینے کی جامع حکمت عملی تیار کرلی۔لاہور میں پنجاب اسمبلی کے 2 مزید ارکان نے نامزد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ملاقات کی ہے۔مریم نواز سے ملاقات میں دونوں نو منتخب آزاد ایم پی ایز نے ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا۔ پی پی 180 قصور کے احسن رضا خان اور پی پی 128 جھنگ کے کرنل (ر) غضنفر قریشی نے کہا کہ انہوں نے اپنے حلقوں کی عوام سے مشاورت کے بعد ن لیگ میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ آپ کی حمایت ملک کو تباہی سے ترقی کی طرف واپس لائے گی, انتشار ختم کرکے پاکستان کو استحکام کی طرف لے جانا چاہتے ہیں، ہم نے صوبے کی ترقی اور عوام کو ریلیف دینے کی جامع حکمت عملی تیار کرلی ہے, ن لیگ کی ترقی، تعمیر، عوام کی خوش حالی کی روایت کو نئے جذبے سے آگے بڑھائیں گے۔
پاکستان میں عام انتخابات سے پہلے اور بعد میں انٹرنیٹ سروس کی بارہا بندش کے باعث ٹیلی کام کمپنیوں کو 94 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ملک میں بارہا انٹرنیٹ سروس کی معطل کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی، دوران سماعت چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں چلے گا، یہ تماشہ بہت ہوگیا۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے الیکشن کے روز انٹرنیٹ سروس بند ہونے کے حوالے سے وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا اور سوش میڈیا پلیٹ فارمز کی فوری بحالی کا حکم دیتے ہوئے پی ٹی اے حکام کو ہدایات دیں کہ انٹرنیٹ سروس بند کرکے دنیا میں تماشہ نا بنایا جائے اور انٹرنیٹ سروس فوری بحال کی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ سروس کی بار بار بندش کے باعث ٹیلی کام کمپنیوں کو 94 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا ہے، اس دوران قومی خزانے پر 33 کروڑ کا بوجھ پڑا، آن لائن کیب سروس کا کام97 فیصد متاثر ہوا جبکہ آن لائن فوڈ انڈسٹری کا کام 75 فیصد متاثر ہوا اور انہیں15 کروڑ روپے کا خسارہ اٹھانا پڑا۔
پراپیگنڈا مہم سے سرکاری افسروں کو دبائو میں لاکر بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی: ذرائع ذرائع کے مطابق نگران وفاقی کابینہ کی طرف سے انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن اور سرکاری افسران کے خلاف سوشل میڈیا ویب سائٹس پر مذموم مہم چلانے والے افراد کے خلاف 5 رکنی اعلیٰ سطحی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ جے آئی ٹی تشکیل دینے کے لیے باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) 5 اراکین پر مشتمل ہو گی جو معاملے پر انکوائری کر کے ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔ ذرائع کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی سربراہی کریں گے، جے آئی ٹی میں میں ان کے ساتھ آئی ایس آئی اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی ) افسران بھی شامل ہوں گے۔ جے آئی ٹی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی آئی) اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے افسران کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی منظوری نگران وفاقی کابینہ سے وزارت داخلہ کی سمری پر سرکولیشن کے ذریعے لی گئی اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ جعلی بیلٹ پیپرز چھاپنے کے پراپیگنڈے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ کابینہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پراپیگنڈا مہم کے ذریعے سرکاری افسروں کو دبائو میں لاکر وفاداریاں تبدیل کرنے اور بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری افسروں کے خلاف پراپیگنڈا کرنا آئین پاکستان کے آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی ہے، جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم ذمہ دارافراد کا تعین کر کے ان کے خلاف مقدمات کے اندراج کی سفارشات اور مستقبل میں ایسے پراپیگنڈے کے سدباب کیلئے بھی تجویز کرے گی۔ جے آئی ٹی کی طرف سے معاملے کی تحقیقات کے دوران آئی ماہرین کی خدمات لینے کی منظوری بھی دیدی گئی ہے۔
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو پیچھے ہٹ جانے کا کہا گیا، انہوں نے کبھی باہر جانے کا ذکر نہیں کیا,نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کسی متحد حکومت کا حصہ نہیں بنے گی، نہ اس کا حمایت کر رہی ہے۔ متحد حکومت کی ضرورت اس وقت پڑتی ہے جب ہمارے پاس مینڈیٹ نہ ہو۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہمارا حکومت سازی کے حوالے سے دو ٹوک مؤقف ہے، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس عوام کا مینڈیٹ ہے۔ پی ٹی آئی کو اس وقت قومی اسمبلی میں 180 سیٹوں کی برتری حاصل ہے,انہوں نے کہا کہ 82 کامیاب آزاد اراکین سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوچکے ہیں، باقی 10 اراکین بھی شامل ہوجائیں گے۔ ہم 29 فروری کو پارلیمنٹ جائیں گے، وہاں بیٹھیں گے، اپنی اکثریت کیلئے کوشش کریں گے۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ‘اگر ہماری سیٹیں بحال نہیں ہوتیں تو ہم اپوزیشن میں بیٹھیں گے لیکن ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مذاکرات کے موڈ میں نہیں ہیں۔ جے یو آئی کے ساتھ بھی ہمارا کوئی اتحاد نہیں ہے، نہ الائنس پہلے تھا نہ اب ہے۔’ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عدالت میں میڈیا کے سامنے خان صاحب کے سامنے یہ بات ہوئی کہ آپ کے پاس آفر آئی ہے؟ جس پر انہوں نے کہا کہ ‘ایک آواز جو ہمارے پاس آئی ہے وہ یہ کہ آپ تین سال کیلئے انتظار کرلیں۔ انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا مطلب تھا کہ آپ پیچھے ہٹ جائیں اور کسی اور کو ٹیک اوور کرنے دیں، آپ جیل میں رہیں یا باہر آئیں لیکن پالیٹکس نہ کریں,بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ اکا دکا لوگ جو دوسری پارٹیوں میں جانے والے تھے وہ چلے گئے، باقی لوگ پابند ہیں، مشکل وقت گزر گیا۔ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کا شیڈول ایک دو دن میں آجائے گا، مارچ کے پہلے ہفتے تک پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کراچکی ہوگی۔ عمران خان نے کہا ہے کہ مدر آف آل ریگنگ یہ تھی کہ پارٹی کو ختم کرنا، بیٹ کا نشان لینا، انتخابی جلسوں تک کی اجازت نہ دینا، مدر آف آل ریگنگ بند ہونی چاہیے، دنیا کے سامنے مزید تماشا نہ بنائیں جس کا مینڈیٹ ہے اس کو دے کر عوام کی رائے کا احترام کیا جائے۔ یہ بات عمران خان نے اپنی بہنوں علیمہ خان اور عظمی خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات میں کہی۔ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے عمران خان کی گفتگو میڈیا کے سامنے پیش کی اور بتایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا ہے کہ مدر آف آل یوٹرنز نے ووٹ کو عزت دو کے بجائے بوٹ کو عزت دے دی، مدر آف آل سلیکشن یہ تھا کہ کرمنلز کے کیسز ختم کرکے بانی پی ٹی آئی پر ڈال دیئے اور 32 سال کی سزا دے دی اور پری پول ریگنگ اور الیکشن ڈے ریگنگ یہ تھا کہ عوام اور ووٹرز کو اپنے نمائندے چننے کی اجازت نہ دی جائے۔ علیمہ خان نے بتایا کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ ووٹنگ ڈے پر انٹرنیٹ بند کر دیا گیا، لوگ ووٹ کے لیے ادھر ادھر بھٹکتے رہے، عوام کو پورا دن ذلیل کیا گیا، رات کو خواہشات کے مطابق نتائج نہ ملے تو دوبارہ انٹرنیٹ بند کر دیا گیا، رات کو مدر آف پوسٹ پول ریگنگ کی گئی۔ علمیہ خان کے مطابق عمران خان کا کہنا تھا کہ فارم 45 کو نظر انداز کرکے رزلٹ بدلا گیا، یہاں ایک کمشنر نہیں بہت لوگ ہیں جو بہت ثبوت دے چکے ہیں، اندر کے ثبوت بھی موجود ہیں اور جنھوں نے ثبوت دیئے انہیں مار دیا جائے گا، ہمیں فکر ہے کہ اب کمشنر پنڈی پر تشدد کیا جائے گا آج کمشنر کھڑا ہوا ہے، انھوں نے جو کہا وہ ثبوت کے بغیر نہیں کہا ہوگا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سائفر اور توشہ خانہ کیس میں سزاؤں کے خلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر اعتراض دائر کردیا,اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے اپیلوں پر اعتراض دائر کیے جانے کے بعد عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلا نے اعتراضات دورکرنے کے لیے اپیلیں واپس لیں۔ پی ٹی آئی وکلا کے مطابق اعتراضات دورکرکے آج ہی دوبارہ اپیلیں دائر کردیں گے۔
قومی اسمبلی میں کون سی جماعت کو کتنی مخصوص نشستیں ملیں گی ؟ اس حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی دوڑ سے تیرہ جماعتیں باہر ہوگئی ہیں جبکہ ن لیگ کو 20 ، پیپلزپارٹی کو 13 جبکہ ایم کیو ایم کو 5 مخصوص نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کو 27 مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں تاہم یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہے جبکہ جماعت اسلامی، اے این پی، جے یو آئی ف ، تحریک لبیک، آئی پی پی، جی ڈی اے،مسلم لیگ ضیا ء اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی مخصوص نشستوں کی دوڑ سے باہر ہوگئی ہیں۔ مسلم لیگ ق کو مخصوص نشستوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے جبکہ بی اے پی، بی این پی، پی ٹی آئی پی اور مرکزی مسلم لیگ کے ارمانوں پر بھی پانی پڑگیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کو مجموعی طور پر 20 مخصوص نشستیں مل سکتی ہیں جن میں خواتین کی 16 اور اقلیتوں کی 4 نشستیں ہیں، پیپلزپارٹی کو 11 نشستیں خواتین کی جبکہ2 اقلیتوں کی نشستیں ملنے کا امکان ہے جبکہ ایم کیو ایم کو 4 خواتین اور ایک اقلیت کی نشست مل سکتی ہے۔ فارمولے کے اعتبار سے پی ٹی آئی کو 27 مخصوص نشستیں ملنی چاہیے تاہم یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہے کہ آیا خواتین کی 23 اور 4 اقلیتی نشستیں پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کی جماعت سنی اتحاد کو دی جاتی ہیں یا نہیں۔
سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی کا سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے جہانگیر ترین کے حوالے سے ماضی میں کیا گیا ایک دعویٰ سامنےآیا ہےجس میں ان کا کہنا تھا کہ 60 سے 70 فیصد پی ٹی آئی جہانگیر ترین کے پاس چلی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق سلیم صافی کی ماضی میں کی گئی گفتگو کا ایک کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین عقل کے لحاظ سے عمران خان سے بہت آگے ہیں، جہانگیر ترین چینیوں کی طرح بولتے کم ہیں مگر عمل زیادہ کرتے ہیں، پی ٹی آئی کو بنانے میں اور اس میں شامل اکثریت کو لانے میں جہانگیر ترین کا اہم کردار تھا۔ سلیم صافی نے مزید کہا کہ جہانگیرترین نے سب سے زیادہ وسائل عمران خان پر خرچ کیے، اگر وہ نا ہوتے تو شائد عمران خان کبھی بھی وزیراعظم نہیں بن سکتے تھے۔ سینئر صحافی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہے، جہانگیر ترین خود ہی پی ٹی آئی کو ختم کردے گا کیونکہ 60 سے 70فیصد پی ٹی آئی کے اراکین تو جہانگیر ترین کے پاس چلے جائیں گے۔ خیال رہے کہ سلیم صافی کا یہ تجزیہ 9 مئی کے بعد اور موجودہ انتخابات سے پہلے کا تھا اور یہ وہ تجزیے یا نقطہ نظر تھے جس کی وجہ سے شائد خود جہانگیر ترین بھی کسی خوش فہمی کا شکار ہوگئے تھے مگر عام انتخابات کے نتائج نے ان کی خوش فہمی اور سلیم صافی جیسےسیاسی پنڈتوں کی رائے کو یکسر بدل کررکھ دیا کیونکہ جہانگیر ترین لودھراں اور ملتان سے الیکشن ہارنے کے بعد نا صرف اپنی پارٹی بلکہ سیاست سے بھی مستعفیٰ ہوگئے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے منحرف رہنما اور سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ اگر شاہد خاقان پارٹی نا چھوڑتے تو مریم انہیں نکال دیتیں۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ایک انٹرویو کے دوران شاہد خاقان عباسی کی پارٹی سے دوری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاہد خاقان عباسی پہلے ہی نواز شریف کو بتا چکے تھے کہ جیسے ہی پارٹی مریم نواز کے حوالے ہوگی وہ پیچھے ہٹ جائیں گے، جب بینظیر بھٹو نے پارٹی کو سنبھالا تھا تو پارٹی میں موجود تمام انکلز کو ہٹادیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاہد خاقان عباسی نے اسی لیے پارٹی چھوڑدی کہ اس سے پہلے مریم انہیں ہٹاتیں وہ خود ہی سائیڈ ہوگئے،شاہد خاقان عباسی کا موقف یہ تھا کہ عدم اعتماد کے بعد الیکشن کروایا جائے حکومت نا لی جائے، اگر حکومت لے لی ہے تو خالی نا بیٹھو اور کام کرو اور کسی مقصد کے تحت الیکشن میں اترو کیونکہ بنا مقصد کےالیکشن میں اترنے کا نتیجہ سب نے دیکھا ہے۔ مفتاح اسماعیل نے مزید کہا کہ میری اور شاہد خاقان کی سوچ ایک جیسی ہے، ن لیگ سے وہ تمام لوگ چلے گئے جن کو معیشت کے حوالےسے چیزوں کا ادراک تھا، جو بھی حکومت آئے گی اسے سب سے پہلے آئی ایم ایف کے پاس جانا ہوگا۔ حکومت کے سامنے کئی راستے ہیں اور غلط راستہ پکڑنا، صراط مستقیم ایک ہی ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا جائے اور مہنگائی کم کی جائے، اگر آج سے اس فارمولے پر عمل کیا جائے تو اگلے 10 سے 15 سال بعد نتائج ملیں گے۔
انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق ایک باخبر ذریعے نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ریٹائرڈ کو 26مارچ 2022ء کو دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ اگر ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اس وقت کی اپوزیشن پر دباؤ ڈالا کہ عمران خان کی حکومت کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک واپس لی جائے تو وہ یہ بات عوام کو بتا دیں گے۔ کئی سیاست دان اس ملاقات میں شریک ہوئے تھے جو مولانا فضل الرحمان کے اس الزام کی وجہ سے تنازع کا مرکز بن گئی تھی کہ اُس وقت کی اپوزیشن نے عمران خان کی حکومت کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک جنرل باجوہ کی ایماء پر پیش کی تھی,اس ملاقات میں شامل کچھ سیاست دانوں نے پہلے ہی مولانا کے بیان کی تردید کی تھی لیکن معلوم ہوا ہے کہ بلاول بھٹو نے عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے اُس وقت کے آرمی چیف سے صاف الفاظ میں بات کی تھی۔ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن والوں سے ملاقات کیلئے بھیجا تھا کہ اپوزیشن والوں کو عدم اعتماد کی تحریک واپس لینے پر قائل کریں۔ جنرل باجوہ نے موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی تھی۔ جب باجوہ نے اس وقت کے اپوزیشن رہنماؤں سے کہا کہ عدم اعتماد کی تحریک واپس لیں اور بدلے میں عمران خان مڈٹرم الیکشن کرائیں گے، مولانا کے ساتھ بلاول نے اس خیال کو سختی سے مسترد کر دیا۔ ایک ذریعے کے مطابق، بلاول بھٹو نے آرمی چیف سے کہا تھا کہ عمران خان کی حکومت کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنا اپوزیشن والوں کا جمہوری حق ہے اور وزیراعظم کو ہٹانے کیلئے یہ آئینی طریقہ ہے۔ ذریعے نے کہا کہ بلاول بھٹو نے اس کے بعد باجوہ کو واضح الفاظ میں کہا کہ اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اپوزیشن پر تحریک واپس لینے کیلئے دباؤ ڈالا تو وہ اس بارے میں عوام کو بتا دیں گے.,26مارچ 2022ء کو ہونے والی اس ملاقات میں شہباز شریف، آصف علی زرداری، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان، خالد مگسی، شاہ زین بگٹی، اختر مینگل، خالد مقبول، فیصل سبزواری، ملک احمد خان اور دیگر نے شرکت کی تھی۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہےکہ (ن) لیگ کو ووٹ اپنی شرائط پر دیں گے اور حکومت سازی کے لیے اپنے مؤقف پر قائم ہیں اس لیے کسی اور نے اپنا مؤقف تبدیل کرنا ہے تو پیشرفت ہوسکتی ہے, میں اپنی مہم کے مطابق چل رہا ہوں، اگر میں الیکشن جیت جاتا اور اکثریتی جماعت ہوتا تو کہہ سکتا تھا کہ یہ میرا مینڈیٹ ہے لیکن عوام کی دانشمندی اور شعور دیکھیں کہ کسی ایک جماعت کو اکثریت ہی نہیں دی کہ وہ اپنے طور پر حکومت کرے، عوام نے پیغام دیا ہےکہ ملک ایک جماعت نہیں چلاسکتی، آپس میں بیٹھ کر فیصلہ سازی کریں، عوام کہہ رہے ہیں جسے حکومت کرنا ہے دوسرے لوگوں کے ساتھ ملنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ عوام نے ایسا فیصلہ دیا ہے جس پر اب مجبوراً تمام اسٹیک ہولڈرز سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر اتفاق کرنا پڑے گا تاکہ ہم نہ صرف اپنی جمہوریت بلکہ پارلیمانی نظام، معیشت اور وفاق کو بچاسکیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد اراکین نے صوبائی کابینہ میں شمولیت کیلئے سی وی تیار کرنا شروع کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب خیبر پختونخوا اسمبلی میں اکثریت حاصل ہونے کے بعد علی امین گنڈاپور کو وزیراعلی کیلئے نامزد کردیا گیا ہے، پی ٹی آئی اور علی امین گنڈا پور نے خیبر پختونخوا کابینہ کی تشکیل پر کام شروع کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے نومنتخب اراکین اسمبلی نے اپنی سی وی تیار کرنا شروع کردی ہیں اور نامزد وزیراعلی علی امین گنڈاپور حتمی منظوری کیلئے یہ اراکین کی سی وی عمران خان کو پیش کریں گے۔ علی امین گنڈاپور وزیراعلی نامزد ہونے کے بعد اپنے آبائی علاقے ڈی آئی خان سے پشاور منتقل ہوگئے ہیں اور دن رات نئی کابینہ کی تشکیل کیلئے اجلاسوں اور اراکین سے ملاقاتوں میں مصروف ہیں۔ تحریک انصاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی کابینہ میں تمام ڈویژن سے نمائندگی دی جائے گی اور تمام نام مشاورت کے بعد عمران خان کے سامنے رکھے جائیں گے ، اس حوالے سے نومنتخب اراکین کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ وہ اپنی سی وی تیار رکھیں، اسی سی وی کی بنیاد پر ہی اراکین کو وزارت دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس حوالے سے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نامزد وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ کابینہ ارکان کے حوالے سے مشاورت جاری ہے تاہم حتمی فیصلہ عمران خان ہی کریں گے۔
سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈانے کہا ہے کہ لنگڑی لولی حکومت بنتی نظر آرہی ہے جو 6 ماہ سے زیادہ نہیں چل سکے گی۔ تفصیلات کے مطابق فیصل واوڈا نے آج نیوز کے پروگرام روبرو میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو چاہیے کہ مولا جٹ کی سیاست چھوڑ دے اور جمہوری طریقے سے حکومت بنائے یا پھر جمہوریت کیلئے ن لیگ اور پیپلزپارٹی سے اتحاد کرلے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملاقاتوں کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا، عمران خان کو اگر سیاست میں رہنا ہے تو انہیں دو قدم پیچھے ہٹنا ہوگا، پی ٹی آئی اورجے یو آئی ف کا اتحاد قیامت کی نشانی ہے، پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں نہیں ملیں گی، پی ٹی آئی میں فصلی بٹیرے شامل ہیں، مرکز اور پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت نہیں بنا سکے گی، چاند پر جاکر بناسکتی ہے تو بنالے۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے حکومت بنانے کے دعوے کیے ، لنگڑی اور لولی حکومت بنتی ہوئی نظر آرہی ہے، مجھے نہیں لگتا کہ یہ حکومت چھ ماہ بھی چل سکے گی، آنے والے الیکشن میں یہ سب جماعتیں نہیں ہوں گی، سسٹم کو سسٹم کے تحت لے کر چلنا چاہیے۔ سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ زرداری صاحب سمارٹ کھلاڑی ہیں اور اس وقت پیپلزپارٹی کی بلے بلے ہے، تمام اہم عہدے پیپلزپارٹی کے پاس ہیں، سندھ و بلوچستان کی وزارت اعلیٰ بھی پیپلزپارٹی کو ملیں گی، صدارت کسی اعلیٰ شہرت والے شخص کو ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پٹاری میں کمشنر چٹھہ جیسی چیزیں موجود ہوتی ہیں، ان کا ضمیر ریٹائر منٹ سے 10 دن پہلے کیوں جاگتا ہے؟ سوشل میڈیا کو دھندے پر لگادیا گیا ہے، انجوائے کریں۔
نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے خفیہ ادارے انٹیلی جنس بیورو کی حیثیت تبدیل کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے سویلین خفیہ ادارے آئی بی کی حیثیت تبدیل کرتے ہوئےا سے بیورو سے ڈویژن کا اسٹیٹس دیدیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نگراں وزیراعظم نے یہ فیصلہ انتظامی اور مالی معاملات بہتر بنانے کیلئے کیا ہے، آئی بی ی حیثیت میں تبدیلی کی منظوری ڈائریکٹر جنرل آئی بی فواد اسداللہ کی خصوصی کاوشوں کے بعد دی گئی۔ نگراں وزیراعظم نے آئی بی کی حیثیت میں تبدیلی کی باضابطہ منظوری بھی دیدی ہے جس کےبعد کابینہ ڈویژن نے اس حوالے سے احکامات بھی جاری کردیئے ہیں، جس کے مطابق اسٹیٹس میں تبدیلی کا فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا، ڈی جی آئی بی ڈویژن کے ایکس آفیشو سیکرٹری کے طور پر فرائض سرانجام دیں گے۔
مسلم لیگ ن کی جانب سے ایک جعلی خبر کا حوالہ دے کر کہا گیا ہے کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں ن لیگ جیت رہی ہے، ٹویٹر پر نشاندہی کردی گئی۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے جیو نیوز اردو کی ایک پوسٹ شیئر کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ پی کے 40 مانسہرہ میں دوبارہ گنتی میں بھی ن لیگی امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں۔ ن لیگ کی جانب سے یہ پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ن لیگ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کےد وران وہ نشستیں بھی جیت رہی ہے جہاں سے پہلے پی ٹی آئی کو جتوایا گیا تھا، اگر کہیں دھاندلی ہوئی بھی تھی تو اس کا سب سے بڑا فائدہ پی ٹی آئی کو پہنچا تھا۔ اس ٹویٹ کے بعد پی ٹی آئی رہنما اظہر مشہوانی نے ن لیگ کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ جعلی خبر ہے، مانسہر ہ پی کے 40 سے پہلے بھی ن لیگ کو فاتح قرار دیا گیا تھا، پہلے لیڈ332 ووٹوں کی تھی جو دوبارہ گنتی کے دوران صرف96 ووٹوں تک محدود رہ گئی، یہ بھی پی ٹی آئی کو ڈالے گئے ووٹوں کو مسترد کرنے کے بعد ممکن ہوا۔ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ورک شاہزیب نے بھی اس حلقے کی تفصیل شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیٹ ن لیگ ہی جیتی تھی مگر مارجن بہت کم تھا جس کے بعد پی ٹی آئی امیدوار نے نتائج کو چیلنج کیا تھا۔ احمد وڑائچ نے بھی یہی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جیو کی جس خبر کا لنک شیئر کیا اگر اس خبر کو ہی پڑھ لیا جاتا تو حقیقت واضح ہوجاتی۔
پاکستان سپر لیگ 2024 اس بار شائقین کرکٹ کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام ہے،خبروں میں بھی پی ایس ایل کھیل کے بجائے دیگر چیزوں کی وجہ سے نظر آرہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پی ایس ایل کے سیزن 2024 کی رنگارنگ افتتاحی تقریب اور ہائی اسکورنگ ابتدائی میچز بھی ایونٹ میں جان ڈالنے سے قاصر ہیں، ملک میں جاری حالیہ سیاسی عدم استحکام یا تقسیم کے باعث لوگوں کی پی ایس ایل میں دلچسپی نا ہونے کے برابر ہے۔ ایونٹ کو اگر میڈیا میں بھی کوریج مل رہی ہے تو اس کی وجہ بھی کھیل سے زیادہ دیگر سرگرمیاں ہیں، جیسا کے افتتاحی تقریب میں عمران خان کے نعرے ہوں یا سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر "بائیکاٹ پی ایس ایل کا ہیش ٹیگ" آف دی فیلڈ باتیں کرکٹ پر حاوی ہورہی ہیں۔ سب سے پہلے مشہورفوڈ چین کے ایف سی کے ساتھ اشتراک پر فیس بک اور ٹویٹر پر بائیکاٹ پی ایس ایل کی مہم شروع ہوئی جس کی بنیاد فلسطین میں اسرائیلی مظالم کی وجہ سے اسرائیلی برانڈ کے ایف سی کے خلاف مسلم ممالک میں چلائی جانے والی مہم تھی۔ ایونٹ شروع ہو ا تو افتتاحی تقریب کی چند ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں اسٹیڈیم میں موجود کچھ نوجوانوں کو عمران خان اور پی ٹی آئی ک کی چند ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جن میں اسٹیڈیم میں موجود کچھ نوجوانوں کو عمران خان اور پی ٹی آئی کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، یہ معاملہ بھی پی ایس ایل کے خبروں کی زینت بننے کی وجہ بنا۔ سوشل میڈیا پر پی ایس ایل کی افتتاحی تقریب کے بارے میں بھی ملے جلے تبصرے دیکھنے کو ملے، کچھ صارفین نے کئی سالوں بعد علی ظفر کی پی ایس ایل واپسی کو سراہا اور افتتاحی تقریب کی تعریف کی جبکہ کچھ صارفین نے تقریب کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
عام انتخابات 2024 میں دھاندلی کے حوالے سے گوجرانوالہ کے ایک پولنگ افسر کا اعترافی بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گوجرانوالہ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے79 میں تعینات پولنگ افسر طاہر ابرار نے انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے اعتراف کیا ہے، ان کے اعترافی بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوگئی ہے۔ اپنے اعترافی بیان میں طاہر ابرار کا کہنا ہے کہ جو کچھ میں نے کیا اور جو کچھ مجھ سےکروایا گیا اس کے باوجود اللہ نے جس کے مقدر میں عزت لکھی تھی اس کو مل گئی،اس کے بعد اللہ ایسا موقع کبھی نا لائے میں انتخابات میں ڈیوٹی نا کرنا منظو ر کرلوں گا مگر ایسا کام دوبارہ نہیں کروں گا، میں نے جان اللہ کو دینی ہے میری کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے میں صرف ایک سرکاری افسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر کسی امیدوار یا انتظامیہ نے دباؤ نہیں ڈالا، بلکہ ہم پر دباؤ ان کی طرف سے ڈالا گیا جن کا آج کل زور چل رہا ہے، ہم ان ہی کی منشاء کے مطابق ہی انہیں نتائج دے کر آئے ہیں، میں نے ایک دیہی علاقے کے پولنگ اسٹیشن میں ڈیوٹی دی اس کو مجبوری کہہ لیں یا کوئی اور رنگ دیدیں۔ خیال رہے کہ اعترافی بیان دینے کے بعد سے پولنگ افسرطاہر ابرار لاپتہ ہے اور ڈیوٹی پر بھی نہیں آیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ طاہر ابرار نے این اے79گوجرانوالہ کے پولنگ اسٹیشن نمبر226 گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول چھٹہ میں ڈیوٹی سرانجام دی تھی اور وہ گورنمنٹ فقیر محمد ڈگری کالج میں بطور لائبریرین کام کرتا ہے۔ متعلقہ حلقہ کے آر اومختار بھنگو نے واقعہ پرردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں نے بھی دیکھی ہے مگر میں نے انکوائری نہیں کروائی، تحقیقات ہوں گی تو سب کچھ سامنے آجائے گا۔
پاکستان تحریک انصاف کو سوشل میڈیا کی جماعت کا طعنہ دینے والی سیاسی جماعتیں سوشل میڈیا پر ہی پی ٹی آئی سے شکست سے دوچار ہوگئیں۔ تفصیلات کے مطابق عام انتخابات 2024 میں دیگر سیاسی جماعتوں کے برعکس پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ اکثریت میں کامیاب ہوئے، پی ٹی آئی کو دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح زمینی سطح پر کھلے عام انتخابی مہم چلانے کی بھی اجازت نہیں تھی بلکہ پی ٹی آئی نے اپنی انتخابی مہم چلانے کیلئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا سہارا لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل تک مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی کو 'سوشل میڈیا کی جماعت' کا طعنہ دیتی دکھائی دیتی تھیں، مگر جیسے جیسے پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ مہم مضبوط ہوتی دکھائی دی تو ان سیاسی جماعتوں کے لیڈران نے بھی مجبورا پی ٹی آئی کے نقش قدم پر چلنا شروع کردیا۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ٹک ٹاک جوائن کرنے پر انہیں ٹک ٹاک کا وزیراعظم قرار دینے والوں کو اس وقت یہ اندازہ بھی نہیں تھا کہ آنے والے انتخابات میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر چلائی جانے والی رابطہ مہم موثر کردار ادا کرے گی۔ پی ٹی آئی کو سوشل میڈیا کی جماعت قرار دینے والی سیاسی جماعتیں بعد میں پی ٹی آئی کے نقش قدم پر بھی چلتی ہوئی دکھائی دیں، مریم نواز نے 2022 میں ٹک ٹاکرز کے وفد سے ملاقات بھی کی اور بلاول بھٹو نے عوامی مارچ کے دوران ٹک ٹاک کا استعمال بھی کیا۔ مگر عام انتخابات میں پاکستان بھر کے تمام حلقوں میں اپنے ووٹرز تک رسائی، انہیں پی ٹی آئی حمایت یافتہ امیدوار کے نام اور انتخابی نشان کی تفصیلات سے آگاہی میں پی ٹی آئی نے تمام جماعتوں کو پیچھے چھوڑ دیا اور کروڑوں روپے کی انتخابی مہم کو اپنی ڈیجیٹل مہم سے پچھاڑدیا۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے عندیہ دے دیا کہ مسلم لیگ ن وفاق میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنائے گی,سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا وفاق میں ن لیگ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مل کر حکومت بنانے جا رہے ہیں، شہباز شریف کو اتحادیوں سے معاملات طے کرنے کا تجربہ ہے، اس لیے انھہیں وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار بنایا گیا۔ انہوں نے کہا ملک میں بڑے چور اسمبلیوں اور سینیٹ میں بیٹھے ہوئے ہیں، یہ لوگ سیٹیں خریدتے ہیں، سیاسی استحکام کے لیے ہمیں چاہے اپوزیشن میں بیٹھنا پڑے، ہم تیار ہیں، ہماری معیشت کی بحالی کا بہت آسان نسخہ ہے، یہاں ٹیکس، گیس اور بجلی کی چوری ہے، اس کو روکا جائے تو معیشت بہتر ہو سکتی ہے۔ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ریٹیل سیکٹر ٹیکس نہیں دیتا، اسمگلنگ ہوتی ہے، ایف بی آر کے افسران ارب پتی ہیں، سب کو پتہ ہے بیماری کیا ہے، یہاں 87 فیصد بجلی چوری ہوتی ہے جو 9 سو ارب روپے کی ہے، بجلی کی مد میں آج سے چند ماہ پہلے کچھ ریکوری ہوئی، نگراں حکومت نے اچھا کام کیا لیکن تسلسل جاری رہنا چاہیے, اب تو فارم 45 ملے ہیں لیکن 2018ء میں ہمیں تو ملے ہی نہیں تھے، سفید کاغذوں پر ملے تھے جو میں نے جنرل باجوہ کو بھیجے اور کہا کہ ہمارے ساتھ یہ ہو رہا ہے۔ ن لیگی رہنما کا کہنا ہے کہ سابق کمشنر کی پریس کانفرنس کی حقیقت سامنے آ چکی، الیکشن کمیشن نے سابق کمشنر کی پریس کانفرنس پر کمیٹی بنا دی ہے، کل ہوئے واقعے کی حقیقت شام تک سامنے آ چکی تھی، کمشنر راولپنڈی کا بیک گراؤنڈ بھی سامنے آ چکا ہے، دو چار گھنٹے کمشنر راولپنڈی کا بیان چلا، الیکشن کمیشن نے یہ مسئلہ ٹیک اپ کر لیا, ماضی میں پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے ساتھ شراکت داری رہی ہے، کل شام مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، پنجاب میں مسلم لیگ ن کو سادہ اکثریت حاصل ہے۔ خواجہ آصف نے کہا سیاسی لیڈروں کے رویوں سے عوام مایوس ہوں گے، مولانا فضل الرحمٰن سے دوریاں پیدا نہیں ہوئیں، انہوں نے کے پی میں پی ٹی آئی سے تعاون کا سلسلہ شروع کیا ہے، جن پر دھاندلی کا الزام ہے ان کے ساتھ اتحاد اور احتجاج میری سمجھ میں نہیں آتا,سیاسی برادری کو مفادات سے بالا ہو کر اگر کہیں قربانی بھی دینی پڑے تو دینی چاہیے، سیاسی استحکام کے لیے ہمیں چاہے اپوزیشن میں بیٹھنا پڑے، ہم تیار ہیں۔ سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کراچی میں ایم کیو ایم کو اکثریت ملی ہے، ایم کیو ایم سے مثبت بات ہوئی ہے، وہ حکومت میں شامل ہونا چاہتے ہیں، پیپلز پارٹی کابینہ کا حصہ نہیں بنے گی، یہ باتیں میں نے بھی سنی ہیں۔مسلم لیگ کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا پر سرکاری عہدیداروں کی تصاویر اور فیملی تفصیلات پھیلائی جا رہی ہیں، سوشل میڈیا پر تشدد کا رجحان پھیلایا جا رہا ہے، اس کی مذمت کرتا ہوں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل میں کمشنر کا کوئی کردار نہیں ہوتا، کمشنر صاحب نے جو بات کی اس کی حقیقت شام تک سب کے سامنے تھی، پہلے دو چار گھنٹے بعد ہی ان کے مقاصد سامنے آگئے تھے, الیکشن کمیشن نے اس کیس کا نوٹس لیتے ہوئے کمیٹی بنا لی ہے اور 3 دن میں رپورٹ آجائے گی تو اس پر بات کرنا غیر مناسب ہوگا، الیکشن پروسس کا سارا کنٹرول ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر اور ریٹرننگ افسر کے ذمے ہوتا ہے، کمشنر کا بالواسطہ تعلق ہوسکتا ہے لیکن براہ راست ان کا الیکشن کے عمل سے کوئی تعلق نہیں۔ لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ کمشنر راولپنڈی کا بیک گراؤنڈ بھی سامنے آچکا ہے، لیاقت چٹھہ کو 9 دن بعد کیوں یاد آیا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔

Sponsored Link