خبریں

معاشرتی مسائل

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None

طنز و مزاح

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None
ملک بھر میں جرائم کی بڑھتی وارداتوں کے ساتھ ساتھ لوٹ مار کی وارداتیں بھی بڑھتی جا رہی ہیں جو کہ پولیس وانتظامیہ کی اہلیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ڈاکوئوں کی دیدہ دلیری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ دن دیہاڑے لوٹ مار کی وارداتیں کرنے کے دوران بچوں کو اغوا بھی کرنے لگے ہیں۔ گھوٹکی، شکارپور اور سکھر سے ملحقہ دیگر علاقوں میں بھی لوٹ مار کی وارداتیں عروج پر پہنچ چکی ہیں جن میں اب بچے بھی اغوا کیے جانے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنوعاقل کے علاقے میں 3 دن پہلے ڈکیتی کی ایک واردات کے دوران ڈاکوئوں نے 7 سال کے معصوم بچے محمد حسن ارائیں کو اغوا کر لیا تھا، کمسن بچے محمد حسین کے اغوا پر اس کے والدین غم سے نڈھال ہیں اور شہریوں نے اس پر احتجاج بھی کیا۔ سول سوسائٹی نے کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کمسن بچے کو جلد سے جلد رہائی دلوا کر حکومت ریاستی عملداری بحال کرے۔ کمسن بچے کے اغوا پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ دوبارہ کسی کو ایسا کرنے کی جرات نہ ہو سکے۔ ایک طرف تو انتظامیہ کی نااہلی ہے تو دوسری طرف ڈاکو لوٹ مار کی وارداتوں کے دوران انتہائی سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میت لے جانے والے افراد کو لوٹنے سے بھی گریز نہیں کر رہے۔ پاکپتن کے علاقے میں لوٹ مار کرنے والے ڈاکوئوں نے ایک میت لے کر جانے والی ایمبولینس میں بیٹھے ہوئے افراد کو لوٹنے کی کوشش کی، لوٹ مار کی واردات کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ایک ڈاکو تنویر جاں بحق ہو گیا۔ تنویر کا تعلق تاندلیانوالہ سے بتایا جا رہا ہے جو 11 سے زیادہ مقدموں میں پولیس کو مطلوب تھا، پولیس مرنے والے ڈاکو تنویر کے ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں کر رہی ہے۔
ملک میں انسدادِ بدعنوانی کے باعث بڑے ادارے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین نے ادارے کی جانب سے ماضی میں کیے گئے غلط اقدامات پر نیب کے ستائے ہوئے افراد سے معافی مانگنے کیلئے ملاقاتیں کرنا شروع کر دیا، اُن کا یہ اقدام خوشگوار حیرت کا باعث ہے۔ باخبر کے مطابق جس طرح نیب احتساب کے نام پر ماضی میں سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور تاجروں سمیت بہت سے لوگوں کے ساتھ ناروا سلوک رکھتا آیا ہے, اس پر چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر بٹ نے نیب کے متاثرین سے ذاتی حیثیت میں ملاقات کرکے ان کے زخموں پر مرہم رکھنے اور ان سے معذرت کا اظہار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین نیب نے حال ہی میں نیب کے متاثرہ ایک شخص کے اہل خانہ سے ملاقات کی ہے جو چند سال قبل نیب حکام کی ہراسانی کے باعث انتقال کر گیا تھا۔نیب کی نئی پالیسی دو دہائیوں سے سرکاری افسران، تاجروں اور دیگر کے ساتھ جو کچھ کر رہی ہے اس سے مکمل طور پر الگ ہے۔ نیب اختیارات کے ناجائز استعمال کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ ان تمام برسوں کے دوران، بیورو کئی معصوم افراد اور ان کے اہل خانہ کیلئے رسوائی کا باعث بنا، انہیں مہینوں اور برسوں تک ٹھوس ثبوت کے بغیر جیلوں میں ڈالا، حتیٰ کہ کچھ کی موت بھی واقع ہوئی، سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے اور سیاسی جوڑ توڑ کیلئے بیورو کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ موجودہ چیئرمین ادارے کو ظلم و جبر کے کلچر سے دور کر رہے ہیں وہ بیوروکریٹس اور تاجروں کو نیب کی ماضی جیسی بے جا ہراسگی سے بچانے کیلئے پہلے ہی نئے ایس او پیز متعارف کرا چکے ہیں۔ چیئرمین نیب ارکان پارلیمنٹ اور عوامی عہدے رکھنے والے دیگر افراد کو بیورو کی من مانی گرفتاری سے بچانے کیلئے ایس او پیز کے اجراء پر بھی نظر ثانی کر رہے ہیں۔ چند برس قبل نیب کا ایک متاثرہ شخص اسلام آباد کی رہائش گاہ پر مردہ پایا گیا تھا۔ لاش کے قریب ہاتھ سے تحریر شدہ ایک نوٹس ملا تھا جس پر لکھا تھا کہ ’’میری آپ معزز چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ وہ نیب کے اہلکاروں کے طرز عمل کا نوٹس لیں تاکہ دوسرے سرکاری افسران کو نہ کردہ جرائم کی سزا نہ ملے۔ نوٹ میں یہ بھی لکھا تھا کہ ’’اپریل 2017 سے نیب نے میری زندگی ’’اجیرن‘‘ بنا رکھی ہے، میں اس امید پر اپنی جان دے رہا ہوں کہ آپ معزز چیف جسٹس اس نظام میں مثبت تبدیلیاں لائیں گے جہاں نااہل لوگ احتساب کے نام پر شہریوں کی جان اور عزت سے کھیل رہے ہیں۔ 2018ء میں سوشل میڈیا صارفین سرگودھا یونیورسٹی کے لاہور سب کیمپس کے پروفیسر اور سابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر کی بے عزتی پر برہم تھے۔ ان کی ایک تصویر سامنے آئی تھی جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ نیب کی حراست کے دوران وہ دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے جاں بحق ہوگئے اور ان کی لاش کو ہتھکڑیاں لگی تھیں۔ نیب کے ہاتھوں بدعنوانی کے الزام کے تحت گرفتار ہو کر جیل جانے والے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ایک سابق سینئر بیوروکریٹ نے بھی 2004ء میں شدید ڈپریشن کے بعد خودکشی کر لی تھی تاہم نیب اور اس کی بے حسی جاوید اقبال کی رخصتی تک برقرار رہی۔عدلیہ نیب کی انصاف پسندی پر سنگین سوالات اٹھاتی رہی ہے حتیٰ کہ یہ تک نوٹ کیا گیا کہ بیورو کو متعدد مرتبہ سیاسی جوڑ توڑ کیلئے استعمال کیا جاتا رہا ہے لیکن کسی نے اسے بے گناہوں کو ہراساں کرنے اور ان کا شکار کرنے سے نہیں روکا۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے ایم پی اے عون جہانگیر نے پاسکو ملازمین سے بدتمیزی کی,بدتمیزی کی ویڈیو وائرل ہوگئی,جس میں لیگی ایم پی اےعون جہانگیر کے ساتھی کو پاسکو ملازم کو تھپڑ مارتےبھی دیکھا جا سکتا ہے۔ عون جہانگیرنے کہا کہ میرا ایک بندہ بھی باردانہ سےرہ گیا تو چھوڑوں گا نہیں۔دوسری جانب انچارچ پاسکو سینٹر نے لیگی ایم پی اے پر الزام لگایا ہے کہ بار دانہ میرٹ پردیا جارہا ہے تاہم عون جہانگیر نےگالیاں دیں اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ پنجاب میں کسانوں سے گندم کی خریداری اب تک شروع نہ ہوسکی، جس پر کسان سراپا احتجاج ہیں، جب کہ پاکپتن میں پاسکو عملے کا سرکاری باردانہ وہاڑی میں بیچنے کا انکشاف ہوا ہے۔پنجاب کے کسان سرکار کی جانب سے گندم نہ خریدنے پر سراپا احتجاج ہیں، اور دوسری طرف پاکپتن میں پاسکو عملے کی جانب سے سرکاری باردانہ وہاڑی میں بیچنے کا انکشاف ہوا ہے۔ جس کے بعد انتظامیہ نے پاسکو سینٹر انچارج کیخلاف مقدمہ درج کرلیا۔ اسسٹنٹ کمشنر پاکپتن نعیم بشیر نے پاسکو سینٹر چک نور محمد پر چھاپہ مارا تو یہ بات سامنے آئی کہ پاسکو عملہ سرکاری باردانہ وہاڑی میں فروخت کررہا ہے۔چھاپے کے وقت پروجیکٹ منیجر ممتاز باجوہ اور سینٹر انچارج مدثر نواز موقع سے فرار ہوگئے,اسسٹنٹ کمشنر نے وہاڑی سے لائی گئی گندم کے 5 ٹرالر برآمد کرکے سرکاری تحویل میں لے لیے۔ واقعہ کا مقدمہ پاسکو سینٹر انچارج مدثر نواز کیخلاف درج کیا گیا۔ سینٹر انچارج باردانہ کسانوں کو دینے کی بجائے مڈل مین کو فروخت کررہا تھا۔ گندم خریداری بحران کے معاملے پر گزشتہ روز پنجاب کے وزیر خوراک بلال یاسین کا کہنا تھا کہ گندم کی امپورٹ کے معاملے پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جس کی رپورٹ کو پبلک کیا جائے گا۔
بیوٹی پارلر کی رخسانہ نامی مالکن نے لڑکیوں کی سکن پالش کرتے ہوئے نازیبا تصاویر بنا لیں: ذرائع حکومت نے سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے پیکا ایکٹ 2016ء کی بہت سی سیکشنز اور شقیں تبدیل کرتے ہوئے مختلف جرائم کی سزائوں میں اضافہ تجویز کرتے ہوئے ترامیم کے مسودہ کو حتمی شکل دے دی ہے۔ دوسری طرف صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے میں پریونشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، مقدمہ درج کرنے کی وجہ بیوٹی پارلر کی مالک خاتون کی طرف سے اپنی خواتین کسٹمرز کی نازیبا تصویریں شیئر کرنا بتایا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور کے علاقے نواب ٹائون میں واقع ایک بیوٹی پارلر کی مالکن کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت 2 خواتین کسٹمرز کی نازیبا تصویریں بنانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ خاتون کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اریبہ شفیق نامی بیوٹی پارلر میں دونوں لڑکیاں سکن پالش کروانے کے لیے گئی تھیں۔ اریبہ شفیق بیوٹی پارلر کی رخسانہ نامی مالکن نے لڑکیوں کی سکن پالش کرتے ہوئے نازیبا تصاویر بنا لیں، ایف آئی آر کے بعد رخسانہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ بیوٹی پارلر کی مالکن کے موبائل فون سے بہت سی خواتین کسٹمرز کی نیم برہنہ تصاویر بھی برآمد ہوئی ہیں جنہیں ملزمہ رخسانہ نے مختلف وٹس ایپ گروپوں میں بھی شیئر کیا ہوا تھا۔ ملزمہ کے فون سے خواتین کی نازیبا تصاویر برآمد ہونے اور واقعہ کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سائبر کرائم یونٹ لاہور کی طرف سے تھانہ نواب ٹائون میں مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر ملزمہ کے خلاف مقدمہ پیکا ایکٹ کے تحت درج کیا گیا تاہم بعد میں پولیس نے مذکورہ دفعات حذف کر کے ملزمہ کیخلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات کے تحت انویسٹی گیشن کی کارروائی یکسو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کو کہا کہ دبئی میں اپنی بیوی کے نام پر خریدی گئی جائیداد متعلقہ حکام کے ساتھ ظاہر کی گئی تھی، جب ایک دھماکہ خیز رپورٹ نے انکشاف کیا کہ کئی نمایاں پاکستانیوں کے پاس گلف امارت میں اثاثے ہیں۔ "میرے بیوی کے نام پر خریدی گئی جائیداد ظاہر کی گئی ہے۔ یہ جائیداد بھی ٹیکس ریٹرنز میں دکھائی گئی تھی جو [متعلقہ حکام] کے ساتھ دائر کی گئی تھیں،" نقوی، جو پنجاب کے نگراں وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں، نے ایک بیان میں کہا۔ سیکورٹی چیف نے کہا کہ ان کی بیوی نے یہ جائیداد 2017 میں خریدی تھی لیکن ایک سال پہلے اسے فروخت کر دیا تھا۔ "فروخت کے پیسے کچھ ہفتے پہلے ایک اور جائیداد خریدنے کے لیے استعمال کیے گئے تھے،" انہوں نے مزید کہا۔ 'اس میں کچھ نیا نہیں': خواجہ آصف دبئی لیکس پر ردعمل دیتے ہوئے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے لیک شدہ جائیداد کے ریکارڈ پر تنقید کی، کہا کہ اس میں "کچھ نیا نہیں" اور اسے "ایک ناکام پرانی فلم کا ری میک" قرار دیا۔ ایک پوسٹ میں ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر، سینئر سیاستدان نے دعویٰ کیا کہ ان نمایاں شخصیات — پرویز مشرف، شوکت عزیز، فیصل واوڈا اور دیگر بہت سے لوگ جو تازہ جائیداد لیکس میں نامزد ہوئے ہیں — ان کا نام بھی پاناما لیکس میں آیا تھا جو انہوں نے رد نہیں کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا باوجود اس کے کہ ان کا پاناما پیپرز سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ایک اور ٹویٹ میں، آصف نے مزید الزام لگایا کہ "ناکام قسط" بظاہر ایک منصوبہ بند کوشش تھی تاکہ "اصل مجرموں" سے توجہ ہٹائی جا سکے، جو شاید دبئی لیکس کی فنڈنگ کے پیچھے تھے۔ انہوں نے پیش گوئی کی کہ "مزید بڑی خبریں" میڈیا میں آئیں گی جب وہ اپنے نتیجے پر پہنچیں گے۔ یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے جب ایک عالمی مشترکہ تحقیقاتی صحافت منصوبے نے دبئی میں عالمی اشرافیہ کی جائیدادوں کی ملکیت کا انکشاف کیا۔ فہرست میں سیاسی شخصیات، عالمی طور پر پابندی شدہ افراد، مبینہ منی لانڈررز اور مجرم شامل ہیں۔ پاکستانیوں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے اور ان کے مجموعی اثاثوں کی قیمت کا تخمینہ تقریباً 11 بلین ڈالر ہے۔ درآمد کردہ ڈیٹا کے مطابق، ریٹائرڈ فوجی حکام اور ان کے خاندان، بینکار اور بیوروکریٹس دبئی کے مہنگے علاقوں میں جائیدادوں کے مالک ہیں، جو منظم جرائم اور کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) کے دبئی ان لاکڈ پروجیکٹ نے ظاہر کیا ہے۔ پروجیکٹ — 'دبئی ان لاکڈ' — جو ڈیٹا پر مبنی ہے جو دبئی میں ہزاروں جائیدادوں کی تفصیلی جائزہ فراہم کرتا ہے اور ان کی ملکیت یا استعمال کے بارے میں معلومات، زیادہ تر 2020 اور 2022 سے، منگل کو سامنے آیا۔ کمپنیوں کے نام پر خریدی گئی جائیدادیں اور وہ جو تجارتی علاقوں میں ہیں، اس تجزیے کا حصہ نہیں ہیں۔
فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس بین السطور سنیں تو وہ اعلیٰ عدلیہ کو دھمکیاں دینے کے مترادف ہے: سینئر صحافی وتجزیہ کار سینئر صحافی وتجزیہ کار اعزاز سید نے جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دراصل سٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کی لڑائی کی ایکسٹینشن ہی ہے جس میں ہر روز ایک نئی صورتحال سامنے آ رہی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک جج کے بیڈروم سے کیمرے برآمد ہوئے ہیں، ایک جج کے بہنوئی اغوا ہوئے ہیں تو عدلیہ بطور ادارہ اپنے آپ کو غیرمحفوظ تصور کرتے ہوئے حکومت اور سٹیبلشمنٹ کے خلاف مزاحمت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل واوڈا نے جو پریس کانفرنس کی انہوں نے نام لے کر سپریم وہائیکورٹ کے دو ججز کا ذکر کیا، ان کی پریس کانفرنس بین السطور سنیں تو وہ اعلیٰ عدلیہ کو دھمکیاں دینے کے مترادف ہے۔ فیصل واوڈا کون ہیں؟ ان سے پوچھا جائے تو کہتے میں کسی جماعت میں نہیں حالانکہ تمام سیاسی جماعتوں نے انہیں ووٹ دیا، وہ سٹیبلشمنٹ کی زبان بول رہے ہوتے ہیں اور خود کو ان کا نمائندہ کہتے نہیں کتراتے۔ انہوں نے کہا کہ اس لڑائی میں سٹیبلشمنٹ کا نمائندہ عدلیہ کو دھمکیاں دے رہا ہے، اسی دن عمران خان کی ضمانت کی تاریخ لگی ہے جو ہو جاتی ہے جس کے بعد ن لیگ کے لوگ پریس کانفرنس کرتے ہیں۔ ایک طرف عدلیہ ہے اور دوسری طرف حکومت اور سکیورٹی سٹیبلشمنٹ ایک ساتھ کھڑی ہے اور یہ لائن ہم ماضی میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف معاملات پر وہ سٹیبلشمنٹ کے ساتھ ایک پیج کے اوپر تھے۔ اگلے مہینے تک عدلیہ کیسز کو جلد نپٹانے کی کوشش کرے گی تاہم سٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی زیادہ دیر تک جیل میں رہیں جس کے لیے عمران خان کے خلاف نیب نے ایک نیا کیس بھی تیار کر لیا ہے جسے جلد داخل کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سٹیبلشمنٹ کے ارادے کے خلاف عدلیہ مزاحمت کرتی نظر آرہی ہے، میری اطلاعات کے مطابق عمران خان کے خلاف توشہ خانہ سے متعلقہ ہی ایک نیا کیس تیار کیا گیا ہے۔ عمران خان سے 21 اپریل کو بھی اس حوالے سے پوچھ گچھ کی گئی تھی، جتنی تیزی سے عدلیہ متحرک ہے، لگتا ہے جلد یہ کیس بھی دائر کر دیا جائے گا۔ سینئر صحافی شہزاد اقبال نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس ٹرائل کورٹ میں جس کا ممکنہ طور پر جلد فیصلہ آ جائے گا کیونکہ 30 کے قریب گواہوں کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے ہیں، نیب اسی لیے چاہتا تھا کہ ضمانت نہ ملے کیونکہ کیس کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ احسن اقبال، سعد رفیق کے کیس میں بھی نیب عدالت میں جاری ٹرائل مکمل ہونے سے پہلے سپریم کورٹ سے انہیں ضمانتیں مل گئی تھیں۔ نیب اگر کہہ رہا ہے کہ یہ سیکرٹ معاہدہ ہے تو انہیں یہ ثابت بھی کرنا پڑے گا، عدالت میں معاملہ دستاویزی ثبوت کی روشنی میں دیکھا جاتا ہے، نیب نے اب جو بھی کیس ہے وہ اکائونٹیبلٹی کورٹس میں ثابت کرنا ہے۔ سائفر کیس، عدت کیس کے باعث عمران خان کی رہائی میں تو ابھی وقت لگے گا، نیب عدالت نے اگر انہیں 190 ملین پائونڈ کیس میں سزا دے دی تو ان کی رہائی نہیں ہو پائے گی۔ میرا تجزیہ ہے کہ حکومت کوشش کرے گی کہ عمران خان رہا نہ ہو سکیں کیونکہ حکومت سمجھتی ہے کہ جب تک عمران خان جیل میں رہیں گے، پی ٹی آئی اقتدار سے باہر رہے گی تو ملک کو استحکام کی طرف لایا جا سکتا ہے۔ حکومت کی خواہش یہی ہو گی کہ جتنی دیر تک عمران خان کو جیل میں رکھا جا سکتا ہے رکھا جائے، ابھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کب واپس آئیں گے، باہر آنے پر شاید ان کی سیاست میں مزید تلخی آ جائے اور وہ اپنے آپ کو مزید طاقتور سمجھیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب نے کہا ہے کہ امن و امان کے حوالے سے دعوے کرنے والے وزیر داخلہ بیرون ملک سرمایہ کاری کیوں کررہے ہیں؟ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈرعمر ایوب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی ک کیے گئے دعوے درست ثابت ہوئے ہیں، امن امان پر بڑے دعوے کرنے والے وزیر داخلہ دبئی میں سرمایہ کاری کیوں کررہے ہیں؟ انہوں نے دبئی پراپرٹی لیکس کے حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ رقوم اسٹیٹ بینک کی اجازت سےبیرون ملک منتقل ہوئیں؟ سورس چیک کیا جائے کہ رقوم دبئی کیسے منتقل ہوئیں؟اس سے پتا چل جائے گاکہ دبئی میں جائیداد ڈکلیئرڈ ہیں یا نہیں ہیں۔ اس موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جس نے پیسا چھپایا اور منی لانڈرنگ ہوئی اس کی تحقیقات ہونی چاہیے، اس پر غور کیا جانا چاہیے کہ پاکستان سے باہر جاکر سرمایہ کاری کیوں کی جارہی ہے؟
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر پنجاب حکومت نے لاہور میں جاری ترقیاتی کام روک دیئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور میں جاری 36 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کام روکنے کی ہدایات دیدی ہیں، مریم نواز شریف نے یہ احکامات لاہور کے مسائل سے متعلق اجلاس میں کیا،اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے سرکاری محکموں کے افسران سے استفسار کیا کہ اتنی رقم خرچ کرنے سے لاہور شہر کے مسائل مستقل طو پر حل ہوجائیں گے؟ اجلاس میں مریم نواز شریف نے لاہور شہر میں 36 ارب روپے کے ترقیاتی روکنے کا حکم دیتے ہوئے ٹینڈر جاری کرنے سے منع کیا اور کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کا از سر نو جائزہ لینے کی ہدایات بھی دیدیں۔ مریم نواز نے اجلاس کے دوران بلدیہ عظمیٰ لاہور کیلئے22 واسا کیلئے 12ارب کی منظوری دی۔
مغوی کو جلد بازیاب نہ کروایا گیا تو تو مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے: سعید اختر ملک بھر میں جرائم کی شرح میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس سے شہری انجانے خوف کا شکار ہو چکے ہیں، صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے محکمہ تعلیم کے 17 ویں گریڈ کے افسر کو اس کے ساتھی سمیت اغوا کیے جانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت کے مصروف ترین علاقے لاری اڈہ سے محکمہ تعلیم میں 17 ویں سکیل کے سپرنٹنڈنٹ عارف اللہ کو اس کے ساتھ سمیت اغوا کر لیا گیا ہے ۔ خیبرپختونخوا پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عارف اللہ کو اغوا کرنے والے افرادکا تعلق بظاہر فیڈرل انویسٹی گیشن بیورو سائبر کرائم سے لگتا ہے، واقعے کی تحقیقات جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کر رہے ہیں جلد ہی حقیقت سامنے آ جائے گی۔ محکمہ تعلیم کے سپرنٹنڈنٹ کے اغوا کا واقعہ پیش آنے پر سرکاری ملازمین کی طرف سے شدید برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آل کوآرڈی نیشن کونسل کے صدر سعید اختر نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مغوی کو جلد بازیاب نہ کروایا گیا تو اس صورت میں سخت لائحہ عمل اختیار کریں گے۔ عارف اللہ کا دن دیہاڑے اغوا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی ناکامی ہے، محکمہ تعلیم کے سپرنٹنڈنٹ کی بازیابی جلد نہ ہوئی تو مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائےگا۔ علاوہ ازیں 2 دن پہلے لکی مروت کے مختلف علاقوں میں پولیس وسکیورٹی اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کالعدم ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے 2 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ دہشت گرد دھماکوں، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلن اور پولیس اہلکاروں پر حملے کے مقدمات میں بنوں اور لکی مروت کے اضلاع میں مطلوب تھے۔
فیملی وی لاگنگ کے نام پر سوشل میڈیا پر فحش مواد کی بھرمار کے خلاف درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے پی ٹی اے سے جواب طلب کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں فیملی وی لاگنگ کے نام فحش مواد کی بھرمار کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس سندھ ہائی ورٹ جسٹس عقیل احمد عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی، اس موقع پر پی ٹی اے کے وکیل اور دیگر فریقین عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ دوران سماعت پی ٹی اے کے وکیل نے عدالت کو پیش رفت رپورٹ سے آگاہ کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ 2 لاکھ سے زائد مواد کوسوشل میڈیا سے ختم کیا گیا ہے جبکہ دیگر ویب سائٹس کو بلاک کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے، پی ٹی اے کے پاس کوئی ایسا نظام نہیں ہے کہ غیر قانونی اور فحش مواد خود بخود ڈیلیٹ ہوجائے،عدالت مکمل رپورٹ جمع کروانے کیلئے مہلت دے۔ عدالت نے پی ٹی اے کے موقف پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نظام بنایا جائے جس سے غیر قانونی اور فحاشی پر مبنی مواد خود بہ خود ڈیلیٹ ہوجائے۔ درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ یہ کسی ایک فرد کا مسئلہ نہیں ہے کہ پوری سوسائٹی کا مسئلہ ہے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمزپر نوجوان نسل کو غلط سبق دیا جارہا ہے، سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی و فحش مواد کو پروموٹ کیا جارہا ہے، ایسے مواد کو ختم کیا جائے۔ عدالت نے پی ٹی اے سے اس معاملے پر رپورٹ طلب کرکے پی ٹی اے کو فحاشی پر مبنی مواد براہ راست ہٹانے کی ہدایات دیتے ہوئے سماعت 29 مئی تک ملتوی کردی ہے۔
سابق بھارتی کپتان و کمنٹیٹر سنیل گواسکر نے پاکستان ک خلاف ٹی 20 سیرز کیلئے انڈین پریمیئر لیگ کو ادھورا چھوڑنے کیلئے برطانوی کھلاڑیوں پر جرمانے اور تنخواہوں میں کٹوتی کا مطالبہ کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سابق بھارتی کپتان نے اپنے تازہ ترین کالم میں انگلش کرکٹرز کے آئی پی ایل کو ادھورا چھوڑنے والے برطانوی کھلاڑیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ فرنچائز کو معاہدے کرنے سے پہلے نظر ثانی کی ضرورت ہے، جو کرکٹرز لیگز کو ادھورا چھوڑ رہے ہیں ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں اور ان کے معاہدوں کو ختم کرکے ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جائے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ آئی پی ایل کی وجہ سے دیگر بورڈز کو 10 فیصد کمیشن ملتا ہے ایسا کوئی اور لیگ نہیں کرتی، اگر کھلاڑی سیریز کیلئے آئی پی ایل چھوڑتے ہیں تو بورڈز اور کھلاڑیوں پر جرمانہ کیا جانا چاہیے، بی سی سی آئی بورڈز کو خطیر رقم دا کرتا ہے مگر بدلے میں ہمیں کیا ملتا ہے؟ خیال رہے کہ آئی پی ایل میں شامل برطانوی کرکٹرز نے پاکستان کیخلاف سیریز کے باعث آئی پی ایل چھوڑ کر اپنے ملک کی نمائندگی کیلئے واپس چلے گئے ہیں۔
آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کردی گئی,حکومت نے آئی ایم ایف کو بجلی مزید مہنگی کرنے کی یقین دہانی کرادی,بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جائزہ مشن کے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا تیسرا دور جاری ہے، جس میں وزارت توانائی کی جانب سے بجلی مزید 7 روپے فی یونٹ تک مہنگی کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بجلی کی بنیادی قیمت میں 7 روپے فی یونٹ تک اضافے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں نیپرا کی جانب سے ملٹی ائیر ٹیرف میں اضافے کے بعد بنیادی ٹیرف بڑھے گا، جس کے تحت کم سے کم قومی اوسط ٹیرف 29 روپے سے بڑھا کر 36 روپے کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کےمطابق لائف لائن صارفین کے سوا باقی تمام سلیبز کے لیے بجلی مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس وقت 50 یونٹ والے لائف لائن صارفین کے لیے بجلی کی بنیادی قیمت 3 روپے 95 پیسے فی یونٹ ہے۔ 51 سے 100 یونٹ والے صارفین کا بنیادی ٹیرف 7 روپے 74 پیسے فی یونٹ ہے۔ بجلی کی بنیادی قیمت میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی سے متوقع ہے, تیسرے روز جاری مذاکرات میں ایف بی آر ریفارمز،ایکسچینج مارکیٹ ریفارمز سمیت دیگر امور زیر غور ہیں۔ اس دوران آئی ایم ایف حکام کو بی کیٹیگری ایکسچینج کمپنیوں کو سبسڈریز کی ایکسچینج کمپنیوں میں انضمام کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کو اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کیے گئے حکومتی اقدامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس قوانین میں ترامیم کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا,اجلاس میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں نئے ویلیو ایشن متعارف کروانے اور ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے سمیت پوائنٹ آف سیل کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ پاکستان 6 ارب ڈالرز سے زائد کے بیل آؤٹ پیکج کیلیے پُرامید ہے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان سے ٹیکس مراعات دینے کے صوابدیدی اختیارات منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس میں انکم ٹیکس آرڈیننس میں تمام ٹیکس مراعات ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری متوقع ہے؛ ایسے وقت میں یہ لیکس سامنے آئی ہیں،" انہوں نے کہا۔ آزاد سینیٹر فیصل واوڈا نے منگل کو کہا کہ 'دبئی لیکس' پروپیگنڈا کا حصہ ہے، دعویٰ کیا کہ انہیں رپورٹ کے جاری ہونے کے وقت پر اعتراض ہے کیونکہ پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ پروجیکٹ — 'دبئی ان لاکڈ' — نے انکشاف کیا کہ پاکستانی، درجن سے زائد ریٹائرڈ فوجی حکام اور ان کے خاندان، بینکار اور بیوروکریٹس کے ساتھ، گلف امارت میں تقریباً 11 بلین ڈالر کی جائیدادوں کے مالک ہیں۔ سیاستدان — پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رہنما — نے سوال اٹھایا کہ "سابق حکمران پارٹی کا ایک بھی نام" لیکس میں کیوں شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چند "ایماندار شخصیات" بھی فہرست میں شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے ردعمل ایک نجی نیوز چینل کے کرنٹ افیئرز شو میں دیے۔ سینیٹر نے مزید کہا کہ ایک "ڈوزیئر" جاری کیا جا رہا ہے جس میں سے "ایک مخصوص طبقہ" ہٹایا گیا ہے۔ واوڈا نے مزید دعویٰ کیا کہ جائیداد لیکس کے بنانے والوں نے تمام جائیدادوں پر "غیر قانونی کا لیبل" لگا دیا ہے، بغیر دبئی میں "قانونی" ملکیتوں کو الگ کیے۔ انہوں نے عوامی طور پر اس بات کی تصدیق کرنے سے انکار کیا کہ آیا ان کی ملکیت والی جائیدادیں دبئی میں ظاہر کی گئی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جائیداد لیکس کا وقت سوالیہ نشان ہے کیونکہ نام نہاد انکشافات اس وقت کیے گئے جب پاکستان اور اس کی اتحادی ریاست — دبئی — عالمی سرمایہ کاری کی توقع کر رہے تھے۔ سینیٹر نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کے فوراً بعد خفیہ جائیداد کے ریکارڈز کیوں جاری کیے گئے۔ منظم جرائم اور کرپشن رپورٹنگ پروجیکٹ (او سی سی آر پی) کے دبئی ان لاکڈ پروجیکٹ کے انکشاف کردہ ڈیٹا کے مطابق، درجن سے زائد ریٹائرڈ فوجی حکام اور ان کے خاندان، بینکار اور بیوروکریٹس دبئی کے مہنگے علاقوں میں جائیدادوں کے مالک ہیں۔ ان ہزاروں پاکستانیوں میں جو ان جائیدادوں کے مالک ہیں، تقریباً درجن بھر ریٹائرڈ فوجی جنرل، پاکستان ایئر فورس کے دو ریٹائرڈ ایئر وائس مارشل، ایک موجودہ انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی)، نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کے ریٹائرڈ صدر، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی ایل) کے سابق چیئرمین، اور پاکستان کونسل فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے موجودہ چیئرمین شامل ہیں۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ پراپرٹی لیکس ایک پراپیگنڈہ مہم ہے، اس میں پی ٹی آئی کے کسی فرد کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹر فیصل واوڈا نے نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پراپرٹی لیکس کی ٹائمنگ پر اعتراض ہے، اس میں ایک مخصوص طبقے کو نتھی کیا جارہا ہے، سب کو پراپرٹی لیکس میں نتھی کرکے ایک ڈوزیئر جاری کیا جارہا ہے، یہ ایک پراپیگنڈہ مہم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کی فہرست میں ایسے لوگوں کا نام بھی شامل ہے جو بہت ایماندار ہیں، دبئی میں پراپرٹی بنانا جائز ہے یا ناجائز؟ ان لیکس میں سب پر ناجائز کا ٹھپہ لگادیا گیا ہے، دبئی لیکس میں میرا نام بھی شامل ہے تو میں یہ کیوں بتاؤں کہ میری جائیداد ڈکلیئرڈ ہیں یا نہیں۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ کھیل تو ابھی شروع ہو اہے میں پہلے سے بتا کر مزاہ خراب کیوں کروں؟ اس معاملے کی ٹائمنگ بہت اہم ہے، کسی پی ٹی آئی کے فرد کا ان لیکس میں ذکر نہیں ہے، آزاد کشمیر کا ایشو کھڑاہوتا ہے اور اچانک یہ لیکس سامنے آجاتی ہیں، دبئی ہمارا دوست ملک ہے وہاں سرمایہ کاری متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان میں عالمی سرمایہ کاری کا امکان پیدا ہوتا ہے ایسی لیکس آجاتی ہیں۔ خیال رہے کہ دبئی میں تقریبا400 ارب ڈالرز کی غیر ملکیوں کی جائیدادوں کاانکشاف ہوا ہے،جن میں سے پاکستانیوں کی جائیدادوں کی مالیت 11ارب ڈالر بتائی جارہی ہے، اس رپورٹ کو پراپرٹی لیکس کا نام دیا جارہا ہےجس میں دنیا بھر کی کئی سیاسی شخصیات، سرکاری افسران و کاروباری شخصیات شامل ہیں، دبئی میں جائیدادیں خریدنے والوں میں پاکستانی دوسرے نمبر پر ہیں، جن میں آصف علی زرداری، پرویز مشرف، شوکت عزیز سمیت سرکاری افسران، سفارتکار اور سائنسدانوں کے نام بھی شامل ہیں۔
وفاقی حکومت نے سائبر کرائم سے نمٹنے کیلئے سخت فیصلے کرتے ہوئے سزائیں بڑھادی ہیں، پیکاایکٹ 2016 کی کئی شقوں میں تبدیلی کا بھی فیصلہ، وفاقی کابینہ نے پیکا ایکٹ 2024 کی منظوری پہلےہی دیدی ہے۔ خبررساں ادارے ہم نیوز کی رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت ے پیکا ایکٹ 2016 میں ترمیم کے مسودے کو حتمی شکل دیدی ہے،ایکٹ کے کئی سیکشنز اور شقوں میں تبدیلی کی گئی ہے،پیکا ایکٹ 2024 میں 4 نئے سیکشنز اور درجن بھر سے زائد شقوں کا اضافہ کیا گیا ہے، پیکا ایکٹ 2024 میں پیکا ایکٹ 2016 کے مقابلے میں مختلف جرائم کی سزاؤں میں کئی گنا اضافہ کردیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پیکاایکٹ 2024 میں مختلف جرائم کو ناقابل ضمانت قرار دیا گیا ہے ، قانون میں سائبر ٹیررازم سے متعلق ایک خصوصی سیکشن مختص کیا گیا ہے، اور سائبر ٹیررازم کی تعریف کو بھی تبدیل کردیا گیا ہے، قانون کے مطابق معاشرے میں خوف یا عدم تحفظ کا احساس پیدا کرنا بھی سائبر ٹیررازم تصور کیا گیا جائےگا۔ نئے پیکا ایکٹ کے مطابق کالعدم تنظیموں، افراد یا گروہوں کے مقاصد کو آگے بڑھانا بھی سائبر دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے۔ پیکا ایکٹ کے تحت سزاؤں میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے اور سیکشن 8 کے تحت تین سال کی سزا کو 7 سال کردیا گیا ہے، یہ سیکشن کسی کی ذاتی معلومات میں مداخلت کے متعلق ہے۔ وفاقی کابینہ نے پہلے ہی پیکا ایکٹ 2024 کی منظوری دیدی ہے ،حکومت پیکا ایکٹ 2024 کو منظوری کیلئے جلد پارلیمان کے سامنے پیش کرے گی۔
اسلام آباد پولیس نے شہریوں کیلئے نئے منصوبوں کا اعلان کردیا ہے ، ان سافٹ منصوبوں کے اعلان پر سوشل میڈیا صارفین نے اسلام آباد پولیس کو آڑے ہاتھوں لے لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد پولیس کی اے ایس پی شہر بانو نقوی کی جانب سے ایک ویڈیو بیان جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس نا صرف شہریوں بلکہ بے زبان جانوروں کے تحفظ کیلئے نئے پروگرامز شروع کررہی ہے،ان پروگرامز میں اینیمل ریسکیو پروگرام، یتیم بچوں کیلئے چائدہولڈنگ سینٹرز اور ٹرانس جینڈرز کیلئے تحفظ شروع کیا گیا پروگرام شامل ہے۔ شہر بانو نقوی کی جانب سے ویڈیو بیان میں ان منصوبوں کی تفصیلات بتانے اور عوام سے پروگرامز کی کامیابی کیلئے ساتھ دینے کی اپیل کرنے سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ردعمل آے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ پولیس افسر کی زیادتی تر گفتگو انگریزی میں ہےجس سے واضح ہوتا ہے کہ سامعین عوام نہیں بلکہ اشرافیہ طبقہ ہے، پولیس کا پہلا فرض قانون کا نفاذ اور قانون کے اندر رہ کر کام کرنا ہے، بغیر وارنٹ لوگوں کے گھروں میں گھسنا، لوگوں کو گھسیٹنا اور تشدد کانشانہ بنانا اور لوگوں کے مال کو چراناعام بات ہے، پولیس کو شہریوں کی حفاظت اور تحفظ کا ذریعہ بننا چاہیے عوام کیلئے خطرے اور عدم تحفظ کا نہیں۔ سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے اس بیان پرردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پولیس ایک مذاق بن چکی ہے جو اپنی خواتین پولیس افسران کو بطور ماڈلز استعمال کرتی ہے، بربریت ، بداخلاقی اور بدعنوانی پولیس کیلئےمعمول بن چکا ہے۔ ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ پولیس نے اب باقاعدہ طور پر ڈرامے تیار کرنا شروع کردیئے ہیں، انہیں سمجھ نہیں آتی کہ لوگ انہیں کتنا ناپسند کرتے ہیں، ان کی بیوقوفی پر حیرت ہے۔ صحافی عمرا ن افضل راجا نے کہا کہ منافقت اور دو نمبری اس قدر روح میں سرائیت کر چکی ہے کہ جانوروں کے ریسکیو کی بات کرنے والے خود بےگناہ انسانوں اور خواتین کو ناصرف مار پڑوارہے ہیں بلکہ غیرقانونی آرڈرز پر بغیر وارنٹ ان گنت گرفتاریاں بھی ان کے کھاتے میں ہیں۔ انیق ناجی نے کہا کہ انگریزی میں کہیں کہیں اردو بولنے والی افسر کس سے مخاطب ہیں، کیا وہ کسی فلم کیلئے آڈیشن دے رہی ہیں، جب پولیس کام کرتی ہے تو کام بولتا ہے اور افسران کو ماڈلنگ کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ لوگ گواہی دیتے ہیں، ایسے ہی چلتا رہا تو جلد یہ افسران اشتہارات میں کام کرتے دکھائی دیں گے۔ احتشام علی عباسی نے کہا کہ پنجاب کے سارے ٹک ٹاکر ز اسلام آباد پولیس میں بھرتی ہوگئے ہی، مریم نواز اب اکیلے ٹک ٹاک بنایا کریں گی۔ موہب وزیرنے اے ایس پی شہر بانو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بہتر ہوگا آپ اس ڈیپارٹمنٹ پر فوکس کریں جہاں آپ کو اسلام آباد کے ایف سی جوانوں کی مشکلات کو دور کرنے کیلئے تعینات کیا گیا ہے، ایف سی جوانوں کا کہنا ہے کہ ان کے کیمپوں میں 200سے زائد اہلکاروں کیلئے صرف ایک واش روم دستیاب ہے۔
جنوبی وزیرستان کی تحصیل لدھا تنگی بدین زئی میں ڈرون حملہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے جس میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے متعدد فراد شہید ہونے کی اطلاعات ہیں جس پر سیاسی، صحافی وسماجی رہنماﺅں کی طرف سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں لکھا: مقامی ذرائع کے مطابق جنوبی وزیرستان اپر تحصیل لدھا تنگی بدین زئی میں ڈرون حملہ ہوا ہے جس میں ایک ہی خاندان کے کئی افراد ،جن میں بچے بھی شامل ہیں شہید ہو گئے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ: حکومت کا موقف ہے کہ یہ گھر میں موجود باردود کا دھماکہ تھا جبکہ پشاور کے صحافی اور مقامی لوگوں کا موقف ہے کہ یہ ڈرون حملہ ہے! حکومت اگر یہ چیلنج کرتی ہے کہ یہ ڈرون حملہ نہیں ہے تو پشاور اسلام آباد کے صحافیوں کو اس مقام کا دورہ کروا دیں۔ حکومت بتائے کہ یہ ڈرون حملے کون اور کس کی اجازت سے کر رہا ہے؟ جنوبی شمالی وزیرستان بالخصوص اور خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع بالعموم بدترین بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ انہوں نے لکھا: سیاسی، سماجی لیڈر، عوام، خواتین بچے کوئی بھی محفوظ نہیں! پولیس ، ایف سی، فوج انٹیلی جنس ایجنسیوں، وفاقی و صوبائی حکومتوں کی موجودگی کے باوجود یہ سب کچھ ہو رہا ہے جو ان کی مکمل ناکامی ہے، بے گناہ معصوم عوام کا خون مسلسل بہایا جارہا ہے۔ خیبرپختونخوا کی عوام اپنی سرزمین پر بہنے والے اس خون اور اس بدترین قتل و غارت گری کے خلاف خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما آصف خان نے ایوان میں ڈرون حملے کے حوالے سے ایوان میں اظہار خیال بھی کیا۔ سینئر صحافی محمد فہیم نے آصف خان کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: وزیرستان میں آج صبح ڈرون حملہ ہوا، پانچ افراد شہید ہوئے، اس ڈرون حملے کی تحقیقات ہوں کہ کس نے یہ حملہ کیا؟ انہوں نے لکھا: یہ ڈرون افغانستان سے ہوا؟ یہ ہمارے سکیورٹی اداروں نے کیا؟ یا کروز میزائل کہیں سے آگیا؟ اس کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دی جائے! ہمیں بتایا جائے کون بناتا ہے یہ دہشتگرد؟ کیا ہم پاکستانی نہیں ہیں؟ پی ٹی آئی کے آصف خان کا ایوان میں اظہار خیال! جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے صحافی کاشف کوکی خیل نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر خبر دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں مبینہ ڈرون حملے کی پولیس کی طرف سے تصدیق کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہریوں نے بھی بتایا ہے کہ رات کے 4 یا 5 بجے کے قریب ڈرون حملہ ہوا لیکن یہ پتا نہیں چل سکا کہ یہ کس نے کیا؟ مشاہد داور نامی سوشل میڈیا صارف نے ڈرون کا ملبہ دکھاتے ہوئے شہریوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: جنوبی وزیرستان ڈرون حملے کا ملبہ میڈیاوالے دیکھ لیں، واضح رہے کہ گزشتہ رات علاقہ تنگی بدین زئی میں ڈرون حملہ میں گھر کے سارے خواتین اور بچوں کو شہید کر دیا گیا! ظلم کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، اگر اس گھر میں دہشتگرد تھے تو گھر کو مسمار کر دیتے یا اسی دہشتگرد کو مار دیتے، خواتین اور بچوں کا کیا قصور۔۔۔؟ روئیداللہ فیض نے ڈرون حملے میں شہید ہونے والے بچے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: گزشتہ رات اپر جنوبی وزیرستان تحصیل لدھاگاوں تنگی بودین زائ.میں ڈرون حملہ ہوا ہے حملے میں دو خواتین سمیت ایک ہی خاندان کے سارے افراد شہید ہو چکے ہیں! یاد رہے کہ یہ لوگ گرمیاں گزارنے کے لئے کچھ ہی دن پہلے شہری علاقے سے اپنے گاﺅں منتقل ہوگئے تھے، شہیدہونے والوں میں شعیب نامی یہ بچہ بھی شامل ہے۔ معراج خالد وزیر نامی صحافی نے ڈرون حملے میں تباہ ہونے والے گھر کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: اپر جنوبی وزیرستان تنگی بدین زئی میں ڈرون حملہ ہوا ہے جس میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد شہید ہوئے ہیں، شہید ہونے والے میں بانوت خان، ان کی اہلیہ، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں!
ملک بھر کے ساتھ ساتھ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں بھی آئے روز ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، کراچی کے علاقے فیروزآباد کی پولیس نے میڈیکل سٹورز اور فوڈ چینز میں ڈکیتی کی وارداتیں کرنے والے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا تھا جس نے حیران کن انکشافات کیے ہیں۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں 18 سے زیادہ ڈکیتی کی وارداتیں کرنے والے ملزم نے بتایا کہ وہ 3 سے 4 وارداتیں کرنے کے بعد لاہور چلا جاتا تھا۔ پولیس کی تفتیش کے دوران مختلف میڈیکل سٹورز اور فوڈ چینز پر ڈکیتی کی وارداتیں کرنے والے ملزم کی شناخت شہریار کے نام سے ہوئی ہے جس کی بیٹی کراچی میں ڈاکٹر اور بیٹا امریکہ میں رہائش پذیر ہے۔ ملزم کے مطابق اس نے ایک پولیس اہلکار کی پینٹ چوری کر کے پشاور سے پستول خریدا اور پولیس ناکوں سے بچنے کیلئے پولیس اہلکاروں کے حلیے میں گھومتا پھرتا تھا۔ شہریار نامی ملزم نے پولیس کو بتایا کہ وہ دن میں صرف ایک واردات کرتا تھا اور لاہور چلا جاتا تھا، پیسے ختم ہونے پر واپس کراچی جاتا اور لوٹ مار کی واردات کرتا، ملزم کو ہوٹل آئی سافٹ ویئر کی مدد سے گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزم شہریار ایک پولیس اہلکار کو شہید کرنے کے واقعے میں بھی ملوث تھا جس کی وہ عمرقید کی سزا بھی کاٹ چکا ہے۔ پولیس نے اس سے پہلے مارچ کے مہینے میں سٹریٹ کرائم کی درجنوں وارداتوں میں ملوث 2 ملزموں کو بھی گرفتار کیا تھا جن کے بارے میں انکشاف ہوا تھا کہ وہ زیادہ تر وارداتیں شام کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کے اوقات میں کرتے تھے۔ ملزمان کی شناخت عدنان عرف ڈان اور ذیشان عرف ساغر کے نام سے ہوئی تھی جن سے اسلحہ سمیت 14 موبائل فون برآمد کیے گئے تھے۔ ایس ایس پی امجد حیات نے بتایا کہ ملزموں نے تفتیش کے دوران اہم انکشافات کرتے ہوے بتایا کہ 4 رکنی ڈکیت گینگ شہریوں سے چھینے گئے موبائل فون احمد نیازی نامی شخص کو فروخت کرتے تھے اور لوٹ مار کی وارداتوں میں گولیاں چلانے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔ ملزمان نے بتایا کہ کچھ دن پہلے بغدادی کے علاقے میں ڈکیتی مزاحمت پر ایک شہری پر فائرنگ کی، لوٹ مار میں ملنے والے موبائل فون کے آئی ایم ای حسین افغانی نامی شخص 5 سے 8 ہزار روپے میں تبدیل کردیتا تھا۔ ملزمان نے انکشاف کیا کہ ان وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ وہ راشد نامی شخص سے خریدتے تھے۔
بجلی کی غیر اعلانیہ وطویل ترین لوڈشیڈنگ کے خلاف بلوچستان میں ہونے والا احتجاج چھٹے روز میں داخل ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق بلوچستان میں بجلی کی غیراعلانیہ وطویل ترین لوڈشیڈنگ کے خلاف زمیندار ایکشن کمیٹی کی طرف سے صوبائی اسمبلی کے سامنے ہونے والا احتجاج چھٹے روز میں داخل ہو چکا ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تمام ٹیوب ویلوں کو سولر سسٹم پر منتقل کیا جائے اور کھاد و بجلی کی مد میں زمینداروں کو سبسڈی فراہم کی جائے۔ ذرائع کے مطابق زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کے رہنماﺅں نے بتایا ہے کہ زرعی فیڈرز کو کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کی طرف سے دن کے 24 گھنٹوں کے دوران مشکل سے 3 گھنٹے کے لیے بجلی فراہم کی جا رہی ہے حالانکہ کیسکو حکام نے وعدہ کیا تھا کہ انہیں کم سے کم 6 گھنٹے تک بجلی فراہم کی جائے گی۔ زمیندار ایکشن کمیٹی کے ایک عہدیدار نے کہا کہ اخبارات کے ذریعے پتا چلا ہے کہ حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے، مگر جب تک وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی خود یہاں آ کر ہم سے ملاقات نہیں کر لیتے اور ہمیں کاغذ پر لکھ کر نہیں دے دیتے تب تک ہم اپنا احتجاجی دھرنا جاری رکھیں گے۔ زمیندار ایکشن کمیٹی بلوچستان کا کہنا تھا کہ ہمارا احتجاجی دھرنا صرف 2 نکاتی ایجنڈے پر مشتمل ہے، ٹیوب ویلز سولر سسٹم پر منتقل کرنے، زمینداروں کو کھادوبجلی کی مد میں سبسڈی دینے کے مطالبات حکومت کے سامنے رکھتے ہوئے تنبیہہ کی ہے کہ اگر ہمارے مطالبات کو تسلیم نہ کیا گئے تو بلوچستان کی تمام قومی شاہراہیں بند کر دی جائیں گی۔ زمیندار ایکشن کمیٹی کا احتجاجی کیمپ زرغون روڈ پر واقع صوبائی اسمبلی کے مرکزی دروازے کے سامنے لگایا گیا ہے جہاں وہ اپنے مطالبات کے حق میں بینرز آویزاں کیے بیٹھے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث زراعت کا شعبہ جو پہلے ہی سیلاب سے متاثر ہے مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا، ٹیوب ویلز مکمل طور پر شمسی توانائی پر منتقل کیے جائیں۔ یاد رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف کی صدارت میں گزشتہ روز بلوچستان کے امور پر اہم اجلاس بھی منعقد ہوا تھا جس میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی قیادت میں بلوچستان حکومت کا وفد بھی شریک ہوا تھا۔ وزیراعظم نے بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا عمل تیز کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حوالے سے وفاقی حکومت ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔
ڈیپارٹمنٹس کی بندش کے حوالے سے مسائل حل کر کے دوبارہ سے کھولنے کے لیے اقدامات کیے جائیں: وزیراعظم سے اپیل پاکستان قومی ہاکی ٹیم 30ویں سلطان اذلان شاہ ہاکی کپ کے فائنل میں جاپان کو شکست دینے میں ناکام رہی تاہم سلور میڈل جیت کر قوم کے دل جیتنے میں کامیاب ہو گئی۔ پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم کے کپتان عماد شکیل بٹ نے ایک انٹرویو میں ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کے لیے سہولیات کے فقدان پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قومی اور بین الاقوامی ہاکی ٹیم کے پاس نوکریاں ہی نہیں ہیں جس کے باعث وہ اپنے گھر چلانے سے بھی قاصر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قومی ہاکی ٹیم کی طرف سے پاکستان کی نمائندگیکرنے والے بہت سے کھلاڑی اس وقت بھی اپنا گھر چلانے کے لیے اوبر ڈرائیور کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈیپارٹمنٹس کی بندش کے حوالے سے مسائل حل کریں اور انہیں دوبارہ سے کھولنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ عماد شکیل بٹ کا کہنا تھا کہ سلطان اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے بعد جب ہم اپنے ملک کے ایئرپورٹ پر پہنچے تو ہمیں لگا کہ پائلٹ ہمیں کسی اور ملک میں لے آیا ہے۔ پاکستان کے شہریوں کی طرف سے قومی ہاکی ٹیم کے پرتپاک استقبال پر ہمیں بہت خوشی ہوئی۔ واضح رہے کہ قومی ہاکی ٹیم 13 برس بعد سلطان اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچی تھی جہاں جاپان نے سخت مقابلے کے بعد اسے شکست دی۔ علاوہ ازیں 30ویں سلطان اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں سلور میڈل حاصل کرنے والی قومی ہاکی ٹیم سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے ملاقات کی اور کہا کہ ہمارے ہیروز ہمارا اثاثہ ہیں اور ہم ہر طرح سے ان کی سپورٹ کریں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے قومی ہاکی ٹیم سے ملاقات کے موقع پر ان کی شاندار کارکردگی کو سراہا اور نقدانعام کی رقم 20 لاکھ روپے سے بڑھا کر 3 کروڑ روپے کرنے کا اعلان کر دیا۔ کپتان قومی ہاکی ٹیم عماد شکیل بٹ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ وزیراعظم پنجاب کی طرف سے ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنے پر ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں، ہماری ٹیم کی عالمی رینکنگ میں تنزلی کی وجہ فنڈز نہ ہونے کے باعث عدم شرکت ہے۔ ہماری درخواست ہے کہ حکومت اپنے ڈیپارٹمنٹس بحال کرنے کے اعلان کو عملہ جامہ پہنائے تاکہ کھلاڑیوں کے معاشی مسائل حل ہوں۔