خبریں

پاکستان نے ٹیکسٹائل ایکسپورٹس کے شعبے میں بھارت اور بنگلہ دیش کو پچھاڑنے کا سنہری موقع گنوادیا ہے، یہ موقع پاکستان کو کورونا بحران کے دوران دنیا بھر میں لگنے والے لاک ڈاؤن کےدوران پاکستان کو میسر آیا تھا جب پاکستان میں اس وقت کی حکومت نے سمارٹ لاک ڈاؤن کی موثر پالیسی اپنائی۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت کورونا بحران کے دوران جب بیشتر دنیا نے لاک ڈاؤنز لگاکر اپنے ملکوں میں ہرقسم کی سرگرمیاں معطل کردی تھیں تب پاکستان سمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت اپنی معاشی و صنعتی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھا، اس موقع پر امریکہ اور یورپ میں ہوم ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے برآمدی آرڈرز پاکستان کو ملنے لگے۔ پاکستان میں ٹیکسٹائل کے شعبے سے وابستہ افراد نے آرڈرز کی بھرمار دیکھتے ہوئے نا صرف پیداوار میں اضافہ کیا بلکہ اضافی اجرت پر ورکرز کی تعداد بڑھا کر دن رات فیکٹریاں چلائیں ، پیداوار میں اضافہ ہوا تو ایکسپورٹس بھی بڑھتی چلی گئیں، گزشتہ سال تک ٹیکسٹائل شعبے کی برآمدات کی ماہانہ اوسط ڈیڑھ ارب ڈالر سے زائد تھیں، ایکسپورٹس شعبے میں آنے والے اس عروج کو سیاسی و معاشی بے یقینی کی دیمک لگ گئی اور رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ایکسپورٹس شعبے کی برآمدات کی ماہانہ اوسط ایک ارب ڈالر تک محدود ہوگئیں، برآمدات میں کمی ڈالر کی قدر میں اضافے، توانائی کے بحران و مہنگائی سمیت مختلف عوامل کی وجہ سے ہوئی۔ بی بی سی کے مطابق کورونا کے بحران کے دوران جو آرڈرز پاکستان آئے وہ اب بھارت اور بنگلہ دیش جارہےہیں، یورپ اور امریکہ کے آرڈرز سب سے پہلے بنگلہ دیش کا رخ کرتے ہیں کیونکہ وہاں سے آرڈرز مکمل ہونے کی رفتار سب سے تیز ہے،پاکستان سے آرڈرز کے دیگر ممالک جانے کی ایک وجہ یہاں کے ٹیکسٹائل شعبے کو درپیش مسائل ہیں جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری بیرون ملک سے آنےو الے آرڈرز کو بروقت مکمل کرنے سے قاصر ہیں۔ ٹیکسٹائل شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق پاکستان میں خام مال کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، قیمتوں میں اضافہ شائد اتنی بڑی وجہ نا ہو تاہم امپورٹس پر حکومتی پابندیوں کے بعد ملک میں خام مال دستیاب ہی نہیں ہے، بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے، شپمنٹ چارجز اور بڑھتی ہوئی کاروباری لاگت کے باعث بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں پاکستان میں تیار کردہ مصنوعات کی مہنگی بن رہی ہیں جس کی وجہ سے یورپ اور امریکہ کا گاہک پاکستان سے ان ملکوں کا رخ کررہا ہے۔
لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے میں نجی اسکول میں طالبہ پر تشدد کے معاملے کی انکوائری کے بعد اسکول کی رجسٹریشن معطل کرنے کی سفارش کردی گئی ہے۔ خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 4 میں واقع نجی اسکول میں چار طالبات کی جانب سے ساتھی طالبہ پر تشدد کے واقعے پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی لاہور نے انکوائری رپورٹ تیار کرلی ہے،ڈی او زنانہ ایلیمنٹری ایجوکیشن لاہور، ڈپٹی ڈی او کینٹ اور ڈپٹی ڈی او ماڈل ٹاؤن پرمشتمل انکوائری کمیٹی کی تیار کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افسوسناک واقعہ نجی اسکول کے کیفے ٹیریا میں پیش آیا۔ رپورٹ میں اسکول کے نظم و ضبط کے نظام کو ناقص قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اسکول کے کیفے ٹیریا کی طرف جانے والے راستوں پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب نہیں ہیں، جن طالبات میں لڑائی ہوئی وہ آپس میں سہیلیاں تھیں جن میں اسکول کے باہر کی ایک پارٹی کی تصاویر والدین کے ساتھ شیئر کرنے پر تنازعہ کھڑا ہوا۔ انکوائری رپورٹ میں نجی اسکول کو 6 لاکھ روپے جرمانے اور اسکول کی رجسٹریشن منسوخ کرنے سمیت ساتھی طالبہ پر تشدد کرنے والی چاروں طالبات کو اسکول سے نکالنے کی سفارشات پیش کی گئی ہیں، سفارشات کی پر ڈی سی لاہور محمد علی کل حتمی فیصلہ کریں گے۔ دوسری جانب لاہور کے علاقے ڈیفنس میں واقع نجی سکول انتظامیہ نے تشدد کا نشانہ بننے والی لڑکی سمیت 5 طالبات کو سکول سے نکال دیا ہے۔ خیال رہے کہ چند روز قبل لاہور کے ایک نجی اسکول میں ایک طالبہ پر ساتھی طالبات کے تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس پر ڈی سی لاہور نے نوٹس لیتے ہوئے سی ای او ایجوکیشن انکوائری کی ہدایات جاری کی تھیں۔
اسکواش کے سابق عالمی چیمپئن جان شیر خان کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو جھوٹ پر مبنی نکلی، اسکواش لیجنڈ کے قریبی دوست احسان اللہ نے خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سابق عالمی چیمپئن کسی ایسی بیماری یا پریشانی میں مبتلا نہیں۔ تفصیلات کے مطابق سابق عالمی چیمپیئن جان شیر خان کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو کے سبب اسکواش لیجنڈ کے عزیز و اقارب اور لاکھوں چاہنے والے مداح شدید کوفت اور ذہنی اذیت کا شکار ہوگئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ جان شیر خان پارکنسن نامی جسمانی بیماری میں مبتلا ہو گئے ہیں جس کے باعث وہ مسجد میں بیٹھے غیر معمولی جسمانی حرکات کرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں حالانکہ وہ بالکل تندرست ہیں اور گھٹنوں کی معمولی بیماری کا شکار ہیں۔ سابق ورلد چیمپئن جان شیر خان کے دوست احسان اللہ نے کہا ہے کہ جس نے بھی ان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کی کوشش کی ہے اس نے یہ بہت غلط حرکت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جان شیر خان بالکل ٹھیک ٹھاک اور میرے لولی برادر ہیں۔ وہ میرے ساتھی اور بچپن کے دوست ہیں، انہوں نے بتایا کہ جان شیر خان ہشاش بشاش ہیں وہ صبح کے وقت چہل قدمی کرتے ہیں اور اس کے بعد انڈر 19 اور چھوٹے لڑکوں کو ٹریننگ کراتے ہیں۔ احسان اللہ نے کہا ہے کہ جس نے یہ کیا ہے اس نے بہت غلط کیا ہے حکومت کو چاہیے اس کے کرداروں کو سزا دے۔
ایل این جی ریفرنس میں نیب ایک بار پھر ڈٹ گیا ہے اور احتساب بیورو نے واضح کیا ہے کہ اس کے پاس سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ نیب نے عدالت میں بتایا کہ اس کے پاس شاہدخاقان کے خلاف ایسے شواہد ہیں جنہیں ٹھکرایا نہیں جا سکتا۔ ان شواہد سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ شاہد خان ایل این جی ریفرنس میں قصور وار ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ اگر اس عدالت کا اختیار نہیں تو کسی اور فورم پر بھیجا جائے جہاں شاہد خاقان کے خلاف یہ ریفرنس چلایا جا سکے۔ تاہم مسلم لیگ ن کی حکومت کی موجودگی میں اہم پارٹی رہنما کے خلاف نیب کی دیدہ دلیری دیکھ کر صارفین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ نیب ڈٹ گیا ہے یا کوئی اور ڈٹ گیا ہے؟ محمد زمان نے کہا اس بے چارے کو ایک بار پھر نواز شریف اور مریم نواز کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرنا ہو گا۔ ارم زعیم نے کہا شاہد خاقان نے مزید جمہوریت اور اصول پسندی کی باتیں کی تو نیب کے ساتھ ساتھ ایف آئی اے بھی ڈٹ جائے گا۔ صحافی احمد نورانی نے کہا یہ شریفوں کی کُل اوقات ہے۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ مجھے ان کے اس حد تک گِر جانے کی توقع کبھی بھی نہ تھی۔ حماد احمد نے کہا یعنی اب سیاست دانوں کو ناراض ہونے کا بھی حق نہیں۔ سعید بلوچ نے کہا پہلے مفتاح اسماعیل کے خلاف پارٹی نے کارروائی کا فیصلہ کیا اب شاہد خاقان عباسی کے خلاف نیب کیس چلانے کا کہہ رہا ہے، اس وقت نیب ن لیگ کے ڈائریکٹ کنٹرول میں ہے، اگر نیب پراسیکیوٹر یہ بیان دے رہا ہے تو اس کا مطلب ہے شریف خاندان نے اختلاف رائے کرنے والوں کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
گاڑیوں کے معروف برینڈ ہنڈا اٹلس نے اپنے ماڈلز کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ ویب سائٹ پاک ویلز کے مطابق کاروں کی نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جنوری سے ہو چکا۔ ہنڈا سٹی 1.2 ایل ایم ٹی کی قیمت میں تین لاکھ روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی قیمت 37 لاکھ 76 ہزار سے بڑھ کر 40 لاکھ 69 ہزار ہو گئی ہے۔ اس کے بعد ہنڈا سٹی سی وی ٹی 1.2 ایل کی قیمت میں بھی تین لاکھ کا اضافہ ہوا ہے اور اس کی نئی قیمت 41 لاکھ 99 ہزار ہو گئی ہے۔ سٹی سی وی ٹی 1.5 ایل کی قیمت میں تین لاکھ 10 ہزار روپے کا اضافہ ہونے کے بعد اس کی نئی قیمت 41 لاکھ 39 ہزار سے بڑھ سے 44 لاکھ 49 ہزار پر پہنچ گئی ہے۔ ہنڈا کے برینڈ ایسپائر ایم ٹی 1.5 ایل کی قیمت بھی تین لاکھ 30 ہزار روپے بڑھنے کے بعد 46 لاکھ 29 ہزار ہ وگئی ہے جبکہ سٹی ایسپائر سی وی ٹی 1.5 ایل کی قیمت 3 لاکھ 20 ہزار کے اضافے کے بعد 47 لاکھ 99 ہزار پر جا پہنچی ہے۔ اسی طرح بی آر وی سی وی ٹی ایس کار میں تین لاکھ 60 ہزار کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے بعد اس کی قیمت تقریباً 53 لاکھ روپے ہو گئی ہے۔ ایچ آر وی وی ٹی آئی کی قیمت میں بھی چار لاکھ کا غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس کار کی قیمت 59 لاکھ 99 ہزار سے بڑھ کر 63 لاکھ 99 ہزار ہو گئی ہے۔ جبکہ اس کے ماڈل ایس میں بھی چار لاکھ کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس کی قیمت 65 لاکھ 99 ہزار پر جا پہنچی ہے۔ اسی طرح سوِک 1.5 ایل ایم سی وی ٹی کی قیمت میں پانچ لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں اس کی نئی قیمت 68 لاکھ ہو گئی ہے۔ ہنڈا کے برینڈ سوِک 1.5 ایل اوریئل ایم سی وی ٹی کی قیمت میں پانچ لاکھ کا اضافہ ہونے بعد اس کی قیمت 65 لاکھ 99 ہزار سے بڑھ کر 70 لاکھ 99 ہزار ہو گئی ہے۔ سیوک آر ایس 1.5 ایل ایل سی وی ٹی کی نئی قیمت اب ساڑھے پانچ لاکھ کے اضافے کے بعد 80 لاکھ 99 ہزار پر پہنچ گئی ہے۔
حامد میر نے نجی اخبار میں ناقابل معافی کے عنوان سے ایک کالم لکھا ہے جس میں عمران خان کے عدالت میں دیئے گئے ایک جواب پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی شوکت خانم اسپتال کے پیسوں سے نجی کاروبار میں سرمایہ کاری غلط عمل اور ناقابل معافی ہے۔ حامد میر کی جانب سے کی گئی اس طرح کی تنقید سوشل میڈیا صارفین کو کچھ بھائی نہیں اور انہوں نے اعتراض کرتے ہوئے خوب لتے لیے ہیں کیونکہ حامد میر عمران خان کے علاوہ کسی دوسری سیاسی جماعت کے سربراہ سے متعلق بڑے کرپشن کیسز ہونے کے باوجود بھی کسی کے جرم کو ناقابل معافی نہیں کہتے اور نہ ہیں اس طرح تنقید کرتے ہیں۔ افضال نامی صارف نے حامد میر کے کالم کے جواب میں کہا کہ دنیا بھر میں فلاحی ادارے چندے کی آمدنی انویسٹ کرتے ہیں تاکہ چندہ کم ہو تو کام چلتا رہے۔ ایسی دانشوری کرنے کے بعد جب گالیاں پڑتی ہیں تو پھر روتے ہیں۔ بھائی خدا کے لئے اس عمر میں تو صحافت کر لو۔ ایک صارف نے کہا کہ یہ بندہ عرصہ دراز سے ایک دانشور اور محب وطن کے روپ میں ایک بہروپیا ہے۔ یہ ساری دنیا پر تنقید کرے گا۔ اپنے آپ کو بھی گالیاں دے لے گا مگر یہ کرپشن کی یونیورسٹی پیپلز پارٹی کے پے رول پر ایک تھرڈ گریڈ دانشور ہے جو اپنے آقا کے حکم پر کینسر جیسے مرض پر بھی بولنے کے لیے حاضر ہے۔ زمان بھٹی نے لکھا کہ پہلے توشہ خانہ والا ڈرامہ کیا گیا اور اب اپنی سیاست بچانے کیلئے شوکت خانم اسپتال کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عبداللہ راجا کا کہنا ہے کہ شوکت خانم اسپتال کو سیاست سے دور رکھنے کے لیے میر صاحب کا 'غیر سیاسی' کالم۔ ندیم اسلم نے ردعمل میں کہا کہ بس اس کی کمی تھی۔ نعمان احمد نے کہا توشہ خانے کا سکینڈل زیادہ عرصہ چلا نہیں، رہی بات شوکت خانم کی تو دنیا کی ہر نان پرافٹ کی اپنی انویسٹمنٹ ہوتی ہیں تاکہ اس کے منافع سے وہ اپنا مشن چلا سکیں۔ آپ یہ باتیں کر کے عمران خان کو بدنام نہیں کر سکتے، پچھلے دنوں میں لوگ ایک خطیر رقم شوکت خانم کو ویسے ہی عطیہ کر چکے ہیں۔
وفاقی وزیر صحت قادر پٹیل نے کہا ہے کہ سابق وزیر مملکت آصف علی زرداری عمران خان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کا صفایا ہوجائے گا،پی ٹی آئی والوں کا کام صرف "چولیں " مارنا ہے، جن کا کراچی سے کوئی رکن اسمبلی بھی نہیں ہے وہ ہمارے مینڈیٹ کو چیلنج کررہے ہیں۔ رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ لوگ کہتے تھے کہ لیاری سے پیپلزپارٹی ختم ہوگئی، بلدیاتی انتخابات میں لیاری نے بتادیا کہ وہ بھٹو کا ہے، کراچی کے جیالوں نے شہریوں کے دل جیت کر مینڈیٹ حاصل کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ آصف علی زرداری صاحب ہی کریں گے، کراچی سے عام انتخابات ہوں گے تو مخالفین کو اس میں بھی سرپرائز ملے گا، بلاول بھٹو کی قیادت اور آصف علی زرداری کی رہنمائی میں عوام کی فتح ہوگی۔
مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو نارووال سے الیکشن لڑنے کا چیلنج دیدیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نےنارووال اسپورٹس اسٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کو نارووال سے الیکشن لڑنے کا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان یہاں سے خود الیکشن لڑیں، یہاں سے ملنے والی عبرت ناک شکست کے بعد وہ سیاست بھول جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاہے 90 روز میں الیکشن ہوں یااکتوبر 2023 میں ہم اس کیلئے بالکل تیار ہیں، کونسل آف کامن انٹرسٹ میں عمران خان نے خو د فیصلہ کیا تھا کہ اگلے الیکشن کیلئے نئی مردم شماری کروائی جائیں گی، نئی مردم شماری کے بعد 30 اپریل 2023 تک نتائج آئیں گے،مالی وآئینی طور پر اکتوبر 2023 الیکشن کیلئے فطری مہینہ بنتا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان کراچی کی طرح پنجاب میں بھی بڑا سرپرائز ملے گا، پنجاب کے عوام پی ٹی آئی کو عبرت ناک شکست دیں گے، نواز شریف کے ساتھ عدالتی ناانصافی ہوئی جو جلد عدالتی انصاف میں بدل جائے گی،مریم نواز جلد پاکستان آکر پارٹی کی تنظیم نو کیلئے اپنا کردا ر ادا کریں گی۔ رہنما ن لیگ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں نارووال اسپورٹس سٹی اسٹیڈیم کو اس طرح بدترین انتقام کا نشانہ بنایا گیا کہ یہ اسٹیڈیم آج بھوت بنگلہ بن چکا ہے۔
وزیرآباد میں عمران خان پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی تحقیقا ت کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تبدیل کردی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ داخلہ نے جے آئی ٹی کے چار ارکان کی جانب سے انحراف کے بعد پراسیکیوٹر جنرل کی تحقیقات کے نتیجے میں جے آئی ٹی تبدیل کردی گئی ہے۔ سی سی پی او لاہور غلام ڈوگر کی سربراہی میں اعلی سطحی اجلاس میں عمران خان پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کیلئے قائم کردہ جے آئی ٹی کی تبدیلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق جے آئی ٹی میں نئے ارکان شامل کیے گئے ہیں۔ نئے ارکان پر مشتمل جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن14 جنوری کو جاری کیا گیا جس کے مطابق کمیٹی میں ڈی پی او ڈی جی خان محمد اکمل، ڈی ایس پی سی آئی اے جھنگ ناصر نواز، ایس پی انجم اکمل شامل ہیں، چوتھے ارکان کی تقرری کا فیصلہ جے آئی ٹی کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے۔ واضح رہے کہ عمران خان پر حملہ کس کی تحققاات کرنے والی جے آئی ٹی کے 4 ارکان کے انحراف کے معاملے پرتحققائت کے بعد پراسیکیوٹر ل جنرل پنجاب خلق الزمان نے انکوائری کے بعد کارروائی کی سفارش کی تھی۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے اپنی رپورٹ مںا جے آئی ٹی ارکان کی جانب سے اپنے کنوینئر کے خلاف خط کو حقائق سے منافی قرار دیا تھا اور کہا تھاکہ کنوینئر غلام محمد ڈوگر کی تاتر کردہ رپورٹ مںئ متعدد پوائنٹس صححپ ہںر، تاہم جے آئی ٹی کے چاروں ارکان نے شواہد کو ضائع کرنے کی کوشش کی، یہ ایک طرح سے مس کنڈکٹ اور جرم ہے، ان جے آئی ٹی ارکان کا یہ کہنا کہ حملے مں کوئی سازش نہںز ہوئی اور نا ہی کوئی سارسی شخصت ملوث ہے بالکل غلط ہے، عمران خان کے خلاف نفرت آمزک باکنات کی انکوائری تاحال مکمل نہںو ہوئی۔
قائم مقام وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ اور ان کے صاحبزادے مونس الہیٰ نے ممکنہ طور پر محسن نقوی کو نگراں وزیراعلی بنائے جانے کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق قائم مقام وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ نے اپنے ایک بیان میں محسن نقوی کو نگراں وزیراعلی پنجاب ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ متنازعہ شخص ہے، اس معاملے میں سپریم کورٹ جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محسن نقوی ہمارے حریف بھی ہیں اورا ن پر کرپشن کے الزامات بھی ہیں، انہوں نے پلی بارگین بھی کی ہے، ہم عدالت عالیہ کو آگاہ کریں گے کہ ایسا شخص کیسے غیر جانبدار رہ سکتا ہے، لہذا عدالت اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرے۔ چوہدری پرویز الہیٰ کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیر مونس الہیٰ نے ٹویٹر پر جاری اپنے بیان 15 جنوری کی اپنی ہی ایک ٹویٹ شیئر کی اور کہا کہ میں نے چند روز پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ یہ امپورٹڈ حکومت اپنے ایک اہم کھلاڑی کو اہم پوزیشن پر تعینات کررہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محسن نقوی کو دو نکاتی ایجنڈے کے تحت لایا جارہا ہے، پہلا نگراں سیٹ اپ کو ایک سال تک گھسیٹنا، اور دوسرا اس عرصے میں پی ٹی آئی، چوہدری پرویز الہیٰ و چوہدری وجاہت کے خاندانوں کو سیاسی طور پر نقصان پہنچانا ہے۔
مسلم لیگ ن نے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے خلاف پارٹی لائن کی خلاف ورزی پر کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ خبررساں ادارے اے آر وائی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کی زیر صدارت لندن میں ہونے والے اہم پارٹی اجلاس میں مفتاح اسماعیل کی جانب سے پارٹی پالیسیوں کے خلاف حالیہ بیانات کا معاملہ زیر غور آیا جس کے بعد پارٹی قیادت نے مفتاح اسماعیل کو پارٹی سے فارغ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ن لیگ کا کہنا ہے کہ مفتاح اسماعیل ن لیگ کا حصہ تھے ہی نہیں بلکہ شاہد خاقان عباسی کے وزیراعظم بننے کے بعد اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے مفتاح اسماعیل کی سفارش کی تھی جس پر انہیں وزیر خزانہ بنایا گیا تھا، ن لیگ کی قیادت انہیں جنرل ر قمر جاوید باجوہ کے زیر اثر سمجھتی ہے۔ ن لیگ کے لندن میں ہونے والے اجلاس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے پارٹی کے اندر اعتراضات کا معاملہ بھی زیر غور آیا،ن لیگی قیادت نے شاہد خاقان عباسی کے شکووں کو جائز قرار ڈیتے ہوئے ان تحفظات کو دور کرنے کا اعادہ کیا ہے۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی اراکین کے استعفے منظور ہونے کے جوابی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی پاکستان تحریک انصاف کے ارکین کو ڈی سی کے منظور ہونے کے بعد چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے جوابی حکمت عملی تیار کرلی ہے، جس مے تحت پارٹی رہنماؤں کو اہم ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں۔ عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کو انتخابی مہم تیز کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے ملک گیر جلسوں کے انعقاد کا شیڈول تیار کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں اور کہا ہے کہ ڈاکٹرز کی اجازت ملتے ہی خود حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے میدان میں اتروں گا۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق تحریک انصاف اپنی انتخابی مہم میں رجیم چینج سازش اور موجودہ حکومت کے دور میں آنے والے مہنگائی کے طوفان کو ایشو بنایا جائے گا، پی ٹی آئی چیئرمین عوام کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے روڈ میپ بھی دیں گے، عمران خان نے پی ٹی آئی کی معاشی اور سوشل میڈیا ٹیم کو بھی خصوصی ہدایات جاری کردی ہیں۔
نیا دور ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے صحافی خرم حسین نے کہا کہ پاکستان میں معیشت کے حالات اب سری لنکا کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں، ایک سال قبل سری لنکا میں بھی ڈیفالٹ سے پہلے اسی طرح کے حالات پیدا ہو گئے تھے،پاکستان اب وہیں کھڑا ہے،اب ہمارے پاس مہینے نہیں بلکہ کچھ ہی دن اور ہفتے باقی رہ گئے ہیں۔ خرم حسین نے مزید کہا کہ سری لنکا میں بھی ایسا ہی ہوا تھا تمام ایسپورٹ بند تھی، ایندھن ختم ہوگیا تھا، پاور پلانٹس سارے بند ہوگئے تھے، آٹھ دس دنوں کے لئے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے،سری لنکا میں ڈیفالٹ سے پہلے ایسا ہی حال ہوا تھا، اور اب پاکستان میں بھی ایسا ہی ہورہاہے۔ خرم حسین نے کہا کہ حکومت اگر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو آئی ایم ایف کو بھی بتایا جاسکتا ہے کہ وہ پروگرام میں جلدی کریں،دوست ممالک بھی اس صورتحال پر قرضوں کی ادائیگی مؤخر کرچکے ہیں،اسحاق ڈار چار مہینے ضائع کرچکے ہیں،معیشت تباہ ہوسکتی ہ
وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا کہ کیا نواز شریف بار بار قربانی دیتے رہیں گے، انہوں نے ذات کی تکلیفیں بھلا کر آگے بڑھنے کی بات کی ہے،نواز شریف کو بار بار احتساب اور میڈیا ٹرائل سے گزارا گیا، 2017 میں ہم کہتے تھے ٹرتھ کمیشن بنایا جائے، جب اقبالِ جرم کر لیا تو ٹرتھ کمیشن کیسا اور کیا دیکھنا ہے۔ وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا دو ہزار سترہ سے تئیس نومبر تک جنھوں نےملک کو لوٹا ان کو کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے،نواز شریف کو بار بار احتساب کی چکی، میڈیا ٹرائل اورطاقت ورحلقوں کی خواہشات سے گزارا گیا۔ انہوں نے کہا اگر نواز شریف کی بار بار قربانی سے یہ ملک سنبھل سکتا ہے تو ہم تیار ہیں۔ جس دن دو صوبوں کا الیکشن کا اعلان ہوگا نواز شریف واپسی کا اعلان کریں گے۔ اداروں پر اعتماد تھا، ہے اور رہے گا، اداروں میں بیٹھے لوگوں پر جو غیر آئینی کام کرتے ہیں صرف ان پر اعتراض ہے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما کا نام لیے بغیر کہنا ہے کہ 2022 تک کھلے عام سرپرستی کی جاتی رہی، سرپرستی کرنے والوں نے نورا کشتی شروع کی،کیا سازشی خط کا اس وقت کے اسٹیبلشمنٹ چیف کو پتہ نہیں تھا کہ وہ جھوٹا ہے،کیا پنکی اور فرح گوگی کی کرپشن کا پتہ نہیں تھا؟ وفاقی وزیر نے کہا کہ 20 ضمنی نشستوں پر بھی سہولت کاری ہو رہی تھی، روز ساڑھے 3 گھنٹے جھوٹ بولے، کیا اسے سہولت کاری نہیں کہیں گے؟اس شخص کو آج بھی مقبول رکھنا کس کی ضرورت ہے؟ ریاست کو نقصان پہنچانے والوں کو عبرت کا نشان بنا کر نواز شریف کو لانا ہو گا، ان سے معافی مانگ کر انہیں واپس لانا ہوگا۔
جو مشکل فیصلے لینے ضروری ہیں وہ اب نہ لیے گئے تو اس کی بھاری قیمت ملک کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی ادا کرنی پڑے گی! سینئر صحافی وتجزیہ نگار نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان ود شہزاد اقبال میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی وتجزیہ نگار مجیب الرحمن شامی کا کہنا تھا کہ انتخابات آئین وقانون کے مطابق ہونے ہیں اور سابق وزیراعظم عمران خان کے صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کے باعث انتخابی عمل کا آغاز ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے جبکہ آئین میں بھی ایسی کوئی گنجائش نہیں کہ آئی ایم ایف کے تقاضے پر آپ کوئی سخت فیصلے کر رہے ہوں تو انتخابات ملتوی ہو جائیں! انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہمیں حکومت کا حوصلہ بڑھانا چاہیے اور اس کو ڈرانا نہیں چاہیے کہ وہ ملک کیلئے مشکل فیصلے نہ کر سکیں! حکومت کو مشکل فیصلے لینے کے ساتھ ساتھ انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لینا چاہیے اور عوام کو اپنا نقطہ نظر سمجھانا چاہیے! جو مشکل فیصلے لینے ضروری ہیں وہ اب نہ لیے گئے تو اس کی بھاری قیمت ملک کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی ادا کرنی پڑے گی! انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ شترمرغ کی طرح اپنا سر ریت میں چھپا لیں گے تو معاملات رک جائیں گے! اور آپ کا سر بھی محفوظ نہیں ہو گا! میرے خیال میں اگر حکومت مشکل فیصلے کرنے پر آمادہ ہو چکی ہے تو اسے یہ فیصلے کرنے دینے چاہئیں اور ان کو حوصلہ بڑھانا چاہیے، تھپکی دینی چاہیے خوفزدہ نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اگر انتخابات میں تاخیر چاہتی ہے تو اعلان کر دے اور الیکشن کمیشن کو اعتماد میں لینا چاہیے تا کہ اس سارے معاملے میں شفافیت پیدا ہو اور کوئی اسے عدالت میں چیلنج نہ کر سکے! میرے خیال میں انتخابات سے راہ فرار اختیار کرنے سے حکومت مزید کمزور ہو گی! اور یہ راستہ حکومت کو اختیار بھی نہیں کرنا چاہیے! بہادر بن کر انتخابات لڑنا چاہئیں، ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے!
نوازشریف نے جب یہ بیانیہ بنایا تھا اور 2020ء میں گوجرانوالہ میں تقریر کے دوران مزید جارحانہ انداز اختیار کیا تھا تو عوام ان کی طرف مائل ہو گئے تھے: تجزیہ نگار نجی ٹی وی چینل جیوز نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں ایک سوال "کیا عوام شخصیات مخالف بیانیے پر مائل ہونگے؟" کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ نگار حفیظ اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے جب یہ بیانیہ بنایا تھا اور 2020ء میں گوجرانوالہ میں تقریر کے دوران مزید جارحانہ انداز اختیار کیا تھا تو عوام ان کی طرف مائل ہو گئے تھے اور جب عمران خان نے بھی یہی بیانیہ اختیار کیا تو وہ عوام ان کی طرف مائل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی سیاست کا مقبول ترین دور جو اب بھی جاری ہے سب اس بات پر متفق ہیں کہ پاپولر ووٹ عمران خان کے پاس موجود ہے جبکہ مسلم لیگ ن بھی شخصیت مخالف بیانیے پر لوٹ رہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ جس کسی نے سٹیبلشمنٹ کو آڑے ہاتھوں لیا اس کو عزت ملی ہے خاص طور پر پنجاب میں تاریخ بھری پڑی ہے ! انہوں نے کہا کہ ان کے سٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے "ووٹ کو عزت دو" کے بعد سٹیبلشمنٹ نے نوازشریف کو مثال بنا دیا،میاں محمد نوازشریف نے "ووٹ کو عزت دو" کے نعرے پر اپنی بیٹی کے ساتھ جیل جا کر قربانی دی جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی طرف سے 17 جولائی کو "خدمت کو عزت دو" کا بیانیہ دیا گیا جبکہ نوازشریف کے بیانیے کو مسلم لیگ ن کا کوئی شخص اپنانے کو تیار نہیں تھا۔ حفیظ اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے بیانیے میں جو کمی رہ گئی تھی اس کے باوجود عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دی جبکہ 2022ء میں پھر سے مسلم لیگ ن نے اقتدار حاصل کر لیا اور آپ کو معاملات طے کرنے کی قیمت سلمان شہباز کے کیس میں بری ہونے کی صورت میں مل چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میاں محمد نوازشریف نے اپنے بیانیے سے عوام کو مائل کر لیا تھا لیکن وہ اپنی پارٹی کو اس حوالے سے مطمئن نہیں کر سکے لیکن عمران خان کی بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے اپنے سٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کو عوام میں منتقل کرنے کے علاوہ اپنے پارٹی قائدین میں بھی منتقل کر دیا ہے۔
تحریک انصاف کی پالیسیوں کے باعث ملک اس حال کو پہنچا، ان کی خرابیوں کو درست کر رہے ہیں جس میں وقت لگتا ہے : شہباز شریف ہمیں اپنی عوام کو احساس ہے، ہم نہیں چاہتے کہ ان پر مہنگائی کا بوجھ بڑھایا جائے، ہماری کوشش ہو گی کہ جو بھی قدم اٹھایا جائے اس عوام کو کم سے کم نقصان ہو۔ وزیراعظم شہباز شریف و صدر مسلم لیگ ن میاں محمد شہبازشریف کی زیرصدارت پنجاب میں نگران حکومت کے قیام اور انتخابات کے لیے پارٹی امیدواروں کو ٹکٹوں کی تقسیم پر مشاورت کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں موجودہ ملکی معاشی وسیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو متحرک کرنے کیلئے پارٹی کے سینئر قائدین کو ٹاسک دے دیئے گئے ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جب بھی انتخاب ہونگے مسلم لیگ ن بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن ملک کی بڑی اور مضبوط سیاسی جماعت ہے اس کو اب تک کوئی ختم نہیں کر سکا، سابق وزیراعظم عمران خان نے ملک کو انتہائی خطرناک صورتحال پر پہنچا دیا لیکن ہم نے اقتدار میں آکر ملک کو سنبھالا۔ہمیں اپنی عوام کو احساس ہے، نہیں چاہتے کہ ان پر مہنگائی کا بوجھ بڑھایا جائے، ہماری کوشش ہو گی کہ جو بھی قدم اٹھایا جائے اس عوام کو کم سے کم نقصان ہو۔ وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی پالیسیوں کے باعث ملک اس حال کو پہنچا، ان کی خرابیوں کو درست کر رہے ہیں جس میں وقت لگتا ہے لیکن سب کچھ کنٹرول میں ہے، فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے ـ(آئی ایم ایف) سے معاملات کو جلد حل کر لیا جائے گا جس کے بعد ہم جلد ملک میں جاری معاشی بحران سے نکل آئیں گے۔ ہمارے پاس معاشی بحران سے نپٹنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے ، مہنگائی پر بہت جلد قابو پا لیں گے۔ دوسری طرف ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن لاہور کی صدارت کے حوالے سے پارٹی میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے ہیں جہاں ابھی تک کوئی صدر نامزد نہیں کیا گیا۔ لاہور میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹوں پر حتمی فیصلہ میاں محمد نوازشریف اور میاں شہبازشریف کے درمیان ون ٹو ون مشاورت میں کیا جائے گا جبکہ لاہور کے ایک اہم وزیر نے اگلے انتخابات میں حصہ لینے سے معذرت کر لی ہے۔ مریم نوازشریف ناراض اراکین اسمبلی اور وزراء کے تحفظات کو دور کریں گی۔
سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات کیلئے ٹکٹوں کا فیصلہ میں خود کروں گا،اس معاملے میں میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد پاکستان تحریک انصا ف نے انتخابات کیلئے کمر کس لی ہے، انتخابات میں حصہ لینے ، امیدواروں کے انتخاب اور پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق معاملات پر مشاورت بھی شروع کردی گئی ہے۔ لاہور زمان پارک میں اسی سلسلے میں پی ٹی آئی کے مرکزی رہنمااور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے عمران خان سے ملاقات کی، اس موقع پر دونوں صوبوں کی مجموعی سیاسی صورتحال اور انتخابات سے متعلق معاملات زیر غور آئے، ملاقات میں اسد قیصر نے عمران خان سے خیبر پختونخوا میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کیلئے پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق لائحہ عمل کے حوالے سے بھی مشاورت کی۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے صوبائی تنظیمی عہدیداران کو شارٹ لسٹ کرنے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عام انتخابات کیلئے ٹکٹوں کا فیصلہ میں خود کروں گا، صرف ان امیدواروں کو ٹکٹ دیں گے جو پارٹی کے ساتھ مخلص ہوں گے، پارٹی ٹکٹس کی تقسیم میں میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
وفاقی حکومت نے 9 ماہ کی معاشی تباہی کےبعد عمران حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قومی سطح پر بچت کیلئے خصوصی کمیٹی قائم کردی ہے۔ خبررساں ادارے اے آروائی نیوز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث کی کنوینئر شپ میں قائم کردہ 15 رکنی کمیٹی بنتے ہی بکھرنا شروع ہوگئی ہے، ممتاز ماہر معیشت ڈاکٹر زبیر خان نے وفاقی حکومت کی دعوت پر کمیٹی کا حصہ بننے سے معذرت کرلی ہے۔ ڈاکٹر زبیر خان نے موقف اپنایا کہ کمیٹی کا حصہ بنانے سے قبل میری رضامندی نہیں لی گئی، میں پہلے دن سے ہی اس حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتا رہا ہوں، مجھےپوچھے بغیر اس کمیٹی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا ہے میں ایسی ٹیم کا کسی صورت حصہ نہیں بن سکتا،کمیٹی اوراس کےغلط فیصلوں کاکسی بھی صورت حصہ نہیں بن سکتا، اس حکومت نےجتنا بگاڑ پیدا کردیا ہے وہ افسوسناک ہے۔ واضح رہے کہ 15 رکنی کمیٹ میں وزیر مملکت خزانہ، وزیراعظم کے معاونین خصوصی اور کابینہ، خزانہ، مشیران، پاور اور ہائوسنگ کے سیکرٹری کے علاوہ چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور صوبائی چیف سیکرٹری کے علاوہ ماہرین معیشت فرخ سلیم، قیصر بنگالی، نوید افتخار اور زبیر خان کو ایگزیکٹو کارکن مقرر کیا گیا تھا۔
بہاولپورمیں ایک دوکاندارنے مبینہ طور پر تین ہزار روپے کی چوری کے الزام میں نوجوان کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کا منہ کالا کرکے بجلی کے کھمبے سے باندھ دیا۔ تفصیلات کے مطابق انسانیت سوز واقعہ پنجاب کے شہر بہاولپور میں پیش آیا جہاں ایک دوکاندار نے 3ہزار روپے چوری کا الزام لگاکر نوجوان کو ناصرف بدترین تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس کی تذلیل کرنے کیلئے منہ پر سیاہ رنگ لگاکر اسےبجلی کے کھمبے سے باندھ دیا۔ پولیس نے واقعہ کی اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ کر نوجوان کودوکاندار کے چنگل سے آزاد کروایا اور دوکاندار سمیت 2 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکےدوکاندار کو حراست میں لےلیا۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے علاقےڈیرہ اسماعیل خان میں ٹک ٹاک کا جنون ایک نوجوان کی جان لے گیا، واقعہ اس وقت پیش آیا جب نوجوان بندوق اٹھاکر اپنی ویڈیو بنارہا تھا کہ بندوق سےگولی چل گئی جو نوجوان کو لگی اوراس کی جان لے گئی۔

Sponsored Link