خبریں

39 فیصد نے کیا ووٹ پی ٹی آئی کو ڈالا, 25 فیصد نے کہا ن لیگ کو سربراہ پتن سرور باری نے ضمنی انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کو بے نقاب کردیا, سما نیوز کے پرگروام میں میزبان ندیم ملک کے ساتھ گفتگو میں سربراہ پتن سرور باری نے کہا فروری والا دن صاف ستھرا تھا پولنگ بہت بہتر تھی,ضمنی انتخابات میں تو انتہا ہو گئی، بہت ساری جگہ پر ہمارے نمائندوں نے بتایا کہ فارم 45 پر پہلے سے دستخط کروائے گئے اور کچھ جگہوں پر پولنگ اسٹیشنز ہی تبدیل کر دئیے گئے۔ ‎ سربراہ پتن سرور باری نے انکشاف کیا کہ39 فیصد نے کیا ووٹ پی ٹی آئی کو ڈالا, 25 فیصد نے کہا ن لیگ کو ووٹ ڈالا, جس پر میزبان ندیم ملک نے کہا نتائج الگ کیوں ہیں, ن لیگ ضمنی انتخابات میں جیتی ہے, جس پر سرور باری نے کہا کہ آپ کو پتا ہے نتائج کیسے تبدیل کردیئے جاتے ہیں. حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اب تک کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق قومی اسمبلی کی 2 نشستوں سمیت پنجاب اسمبلی کی 12 میں سے 10 سیٹیں حاصل کرلیں جبکہ اتحادی جماعتیں ق لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی بھی ایک ایک صوبائی نشست حاصل کرسکی ہیں۔ قومی اسمبلی کی 5 نشستوں پر ضمنی انتخابات میں ن لیگ 2، پیپلزپارٹی اور سنی اتحاد کونسل 1۔1 نشست پر کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئیں اور قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 8 باجوڑ کے ضمنی انتخابات میں آزاد امیدوار مبارک زیب کامیاب قرار پائے۔اب تک کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق ملک بھر سےصوبائی اسمبلیوں کی 16 نشستوں پر ضمنی انتخابات میں ن لیگ 10، سنی اتحاد کونسل 1، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم لیگ ق بھی 1-1 نشست پر کامیاب ہوئیں۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو زیر گردش ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک ٹول پلازہ پر موٹروے پولیس اہلکاروں نے ایک خاتون ڈرائیور کو روکا ہوا ہے اور اسے بتایا جا رہا ہے کہ آپ گاڑی اوور اسپیڈ پر چلا رہی تھیں، اس لیے آپ کا چلان ہو گا، خاتون اور پولیس اہلکار کے درمیان بحث کا آغاز ہوا اور بعد میں خاتون گاڑی کے سامنے کھڑے پولیس اہلکار کو روندتے ہوئے ٹول پلازہ سے بھاگ گئیں۔ یکم جنوری 2024 کو اسلام آباد ٹول پلازہ پر پیش آیا، واقعے کے بعد خاتون ڈرائیور کے خلاف تھانہ نصیرآباد میں مقدمہ درج کرا دیا گیا تھا، خاتون کی شناخت ابھی تک خفیہ رکھی گئی ہے تاہم پولیس نے بتایا کہ خاتون ڈرائیور ایک سینیئر ٹی وی اینکر کی سابقہ اہلیہ ہیں۔ موٹر وے پولیس سے واقعے کی تفصیلات سے متعلق استفسار کیا تو بتایا گیا کہ اس واقعے کی راولپنڈی کے تھانہ نصیرآباد میں ایف آئی آر درج کروا دی تھی، اب کیس کی پیروی راولپنڈی پولیس کر رہی ہے، موٹر وے پولیس کو اس وقت کیس سے متعلقہ موجودہ تفصیلات معلوم نہیں۔ راولپنڈی کے تھانہ نصیرآباد کے تفتیشی افسر نے کہا کہ اس وقت تک خاتون کی شناخت نہیں ہو سکی ہے جبکہ خاتون کا نام بھی ابھی پولیس کو معلوم نہیں، تاہم تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ خاتون ڈرائیور ایک ٹی وی اینکر کی سابقہ اہلیہ ہیں، پولیس کے مطابق ٹی وی اینکر نے بھی پولیس کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ خاتون ڈرائیور ان کی سابقہ اہلیہ ہیں تاہم اینکر نے خاتون کا نام نہیں بتایا۔ تفتیشی افسر کے مطابق خاتون کی شناخت کے لیے خاتون کی تصویر نادرا کو بھیجی جا چکی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ خاتون کا نام کیا ہے اور فیملی ٹری کیا ہے، اب نادرا کی رپورٹ آنے کے بعد کیس پر مزید پیشرفت ہوگی۔ سینئر سینکر طارق متین نے ایکس پر ٹوئٹ کیا جس میں انکا کہنا تھا کہ زیر بحث خاتون سینئر صحافی عامر متین صاحب کی سولہ سترہ برس پہلے اہلیہ تھیں۔ خاتون کی طبیعت ناساز ہے اور وقوعے کے وقت خاتون دوا کے زیر اثر تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس حکام اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں,خاتون اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور کئی ڈگریز رکھتی ہیں,پولیس حکام سے بات ہوئی ان کا کہنا ہے کہ عامر متین صاحب کا اس واقعے سے کوئی لینا دینا نہیں۔
بیٹے کو نیا کورس نا دینے پر ایک طالب علم کے والد نے اسکول ٹیچر کو بدترین تشدد کا نشانہ بناڈالا۔ تفصیلات کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ ضلع شانگہ میں پیش آیا جہاں کے گورنمنٹ پرائمری اسکول خٹک کوٹکے کے ایک استاد کو طالب علم کے والد نے مفت سرکاری کتب فراہم نا کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ تشدد کا نشانہ بننے والے سرکاری اسکول ٹیچر اعجاز احمد نے پولیس کو دیئے گئے بیان میں موقف اپنایا کہ میں اپنی کلاس میں موجود تھا کہ بچے کو مفت کتابیں نا دینے پر اس کے والد نے واویلا مچانا شروع کردیا اور تلخ کلامی شروع کردی ۔ اعجاز احمد کے مطابق میں نے بچے کے والد کو سمجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ سرکاری کورسز تاحال دستیاب نہیں ہیں تو بچے کو کہاں سے دیں، آپ کا بچہ فی الحال ساتھی طالب علم کے ساتھ کتابیں شیئر کرلے گا، جیسے ہی نئی کتابیں آئیں گی تو اس کو کورس دے دیدیا جائے گا ، مگر طالب علم کےوالد مشتعل ہوگئے اور انہوں نے مجھے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے اسکول ٹیچر کی درخواست پرفوری کارروائی کرتے ہوئے بچے کے والد نادر خان کو گرفتار کرکے واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا ہے ۔ دوسری جانب ڈائریکٹر ایجوکیشن کے پی کے نے واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام ڈسٹریکٹ ایجوکیشن آفیسرز کو ہدایات جاری کی ہیں کہ اسکولوں میں گارڈز کی موجودگی یقینی بنائی جائے اورساتھ ہی اسکول میں آنے والوں کی انٹری کو رجسٹرڈ کیا جائے تاکہ ایسے واقعات کو رونما ہونے سے روکا جاسکے۔
راولپنڈی سے اغوا ہونے والے وفاقی بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی لاش 10 روز بعد برآمد ہوگئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے تھانہ آر اے بازار سے 10 روز قبل اغوا ہونے والے ایف بی آر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر رحمت اللہ کی لاش سرائے خربوزہ سے برآمد ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق رحمت اللہ کےاغوا و قتل میں ملوث تمام چار ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ملزمان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی اور اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا ہے، ملزمان کی شناخت صادق، عبداللہ، وحید گل اور محمد بہادر کے ناموں سے ہوئی ہے، ملزمان مقتول کے دوست تھے جبکہ ملزم صادق رحمت اللہ کا مالک مکان تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی نشاندہی پر لاش کو تلاش کرلیا گیا ہے، رحمت اللہ عید کے تیسرے دن دوستوں سے ملنے کیلئے گھر سے نکلا اور واپس نہیں آیا ، ملزمان نے رحمت اللہ کو آر اے بازار کے علاقے کمال آباد سے اغوا کرکے لواحقین سے بھاری تاوان کا مطالبہ کیا۔ آر اے بازار تھانہ کی پولیس کے مطابق لواحقین کی درخواست پر 12 اپریل کو اس واقعہ کا مقدمہ درج کیا گیا، ملزمان نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو قتل کرکے اس کی لاش سرائے خربوزہ میں دفن کردی تھی، ملزمان کی نشاندہی پر مقتول کی لاش کو تلاش کرکے پوسٹ مارٹم کیلئے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
کراچی کے علاقے ڈیفنس قتل کی لرزہ خیز واردات ہوئی, دوست نے دوست کو گھر کے سامنے ایک درجن سے زائد گولیاں مار کر قتل کر دیا، قاتل نے پہلے ویگو گاڑی کی عقب سے رپیٹر اور نائن ایم ایم پستول سے گولیاں برسائیں پھر گاڑی سے گھسیٹ کر سڑک پر لٹا کر گولیاں ماریں اور فرار ہوگیا۔ درخشان کے علاقے ڈیفنس فیز 5 خیابان جانباز بنگلہ نمبر 23 کے سامنے فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا، مقتول کی لاش اور زخمی کو ابتدائی طور پر کلفٹن میں واقعے نجی اسپتال لے جایا گیا جہاں سے لاش اور زخمی کو ابتدائی طبی امداد کے بعد جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ ترجمان کراچی پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت 45 سالہ ہمایوں ولد علی محمد داؤد اور زخمی کی حمام کے نام سے کی گئی، مقتول کو ذاتی رنجش کے باعث اس کے دوست فہد خان عرف فدی نے اس کے گھر کے سامنے فائرنگ کر کے قتل کیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے علاقے کے متعدد بنگلوں کے چوکیداروں اور گارڈز کے سامنے ہمایوں کو گھسیٹ کر گاڑی سے نیچے سڑک پر گرایا اور جسم کے مختلف حصوں پر گولیاں مار کر قتل کر دیا اور موقع سے فرار ہوگیا۔ مقتول کے سر، چہرے، گردن اور جسم کے دیگر حصوں میں 15 سے زائد گولیاں اور چہرے لگے ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر درخشاں تھانے کی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے گولیوں کے 15 سے زائد خول ملے ہیں جو پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیے، مقتول کی گاڑی کے پچھلے حصے اور شیشے پر متعدد گولیوں اور چھروں کے نشانات ہیں۔ واقعے میں معمولی زخمی ہونے والے مقتول کے دوست حمام کو بیان لینے کے لیے تھانے منتقل کیا گیا، حمام واقعے کا عینی شاہد بھی ہے۔ واقعہ لڑائی جھگڑے کے بعد پیش آیا پولیس نے ملزم کی تلاش شروع کر دی۔ مقتول، اس کے بچوں اور گھر کی خواتین کو دینی تعلیم دینے والے مولانا کے بیٹے مولانا یونس نے بتایا کہ مقتول فہد دو بچوں کا باپ تھا، بیٹا 10 سال کا جبکہ بیٹی چھوٹی ہے، مقتول دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا، مقتول کے ویسے تو متعدد کاروبار ہیں تاہم اس کا صدر اکبر مارکیٹ میں موٹر سائیکل کا شو روم بھی ہے۔ قاتل کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ فہد ہمایوں کا خالہ زاد بھائی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے سے قبل مقتول ہمایوں سی ویو کے قریب اپارٹمنٹ میں اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا کہ وہاں فہد خان آیا اور ہمایوں سے کسی بات پر جھگڑا کیا تاہم دوستوں نے بیچ بچاؤ کرایا، ہمایوں اپنے دوست کے ساتھ گھر اپنی ویگو گاڑی نمبر LD-7772 میں گھر جانے کے لیے نکلا تو فہد خان اس کا پیچھا کرتے ہوئے اس کے گھر تک آیا اور جیسے ہی گاڑی گھر کے گیٹ کے سامنے رکی تو ملزم فہد نے پہلے ویگو گاڑی میں عقب سے نائن ایم ایم پستول اور رپیٹر سے فائرنگ کی جس سے ہمایوں سر میں گولیاں لگنے سے زخمی ہوگیا۔
وفاقی کابینہ نے اہم تعیناتیوں میں 65 سال تک عمر کی حد ختم کر دی جس کے بعد ماہانہ 20 لاکھ روپے تک کی تنخواہ پر نئی تعیناتیوں کی راہ ہموار ہوگئی,وفاقی کابینہ نےاہم تعیناتیوں میں پی ٹی آئی دورحکومت کی پالیسی میں ترامیم کی منظوری دیدی,65 سال عمر کی حد ختم کردی گئی، 20 لاکھ تک تنخواہ پر نئی تعیناتیوں کی راہ ہموار ہو گئی ،اس ضمن میں وفاقی کابینہ سے سرکولیشن کےذریعے سمری کی منظوری لی گئی ذرائع کے مطا بق کابینہ نےاسپیشل پروفیشنل پے اسکیلز پالیسی2019 میں ترامیم کی منظوری دی، تعیناتیوں کے لیے65 سال تک عمر کی شرط ختم کردی گئی ۔ اسپیشل پروفیشنل پےاسکیلزکے تحت تعیناتیوں کےلیےعمر کی بالائی حد نہیں ہوگی۔ اب65 سال کےبعد تعیناتی اور موجودہ تعیناتی میں65 سال کے بعدتوسیع ہوسکے گی۔ وزیرخزانہ محمد اورنگزیب زیب کی سربراہی میں قائم کمیٹی نےترامیم تجویز کی تھیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نےوزیر خزانہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی۔ ملک میں نئےٹیلنٹ کےفروغ کے لیے 2019کی پالیسی میں ترامیم ضروری تھیں۔ وفاقی حکومت نےوفاقی وزارتوں اورڈویژنزکی استعداد کاربڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، باصلاحیت پیشہ ورافراد،تکنیکی ماہرین اورکنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی جائیں گی، وفاقی حکومت عالمی معیارکا ٹیلنٹ پول بنانے پر کام کررہی ہے، وفاقی وزارتوں اورڈویژنز میں گورننس کے نظام میں جدت لا کر مذ یدمؤثر بنایاجائےگا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر خزانہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی، جس نے عمر کی حد میں ترامیم تجویز کی تھیں۔ یاد رہے کہ 4 روز قبل ہی وفاقی حکومت نے اہم تعیناتیوں کے لیے تحریک انصاف کے دور حکومت کی پالیسی میں ترامیم کرنےکافیصلہ کرتے ہوئے 65 سال تک کی عمر کی حد ختم کرنے کی سمری تیار کرلی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اہم عہدوں پر تعیناتیوں کے لیے عمر کی بالائی حد 65 سال کی شرط ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا,حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے باصلاحیت پیشہ وارانہ تکنیکی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی، نئی تعیناتیوں سے وفاقی وزارتوں اورڈویژنزکی استعداد کار میں بہتری لائی جاسکے گی، ملک میں نئے ٹیلنٹ کےفروغ کے لیے 2019 کی پالیسی میں ترامیم ضروری ہیں,وفاقی وزارتوں اورڈویژنز میں گورننس کے نظام میں جدت لا کر مزیرمؤثر بنایاجائےگا۔
جیکب آباد میں پولیس کی موبائل اور ڈبل کیبن گاڑی سے اسلحہ برآمد ہونےکا کیس 3 پولیس اہلکاروں سمیت 7 ملزمان کے خلاف درج کرلیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر بابل بھیو نے ڈبل کیبن گاڑی کی ملکیت سے انکار کردیا۔ پولیس موبائل اور ڈبل کیبن گاڑی سے اسلحہ ملنے کےکیس میں گرفتار اے ایس آئی اور دو پولیس اہلکاروں سمیت سات ملزمان کو 5 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالےکر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر بابل بھیو نے ڈبل کیبن گاڑی کی ملکیت سے انکار کرتے ہوئے کہا ہےکہ گاڑی پر ان کے انتخابی اسٹیکر لگنے سےگاڑی ان کی نہیں ہوجاتی، اس کیس میں ان کے خاندان کا کوئی تعلق نہیں۔بابل بھیو کے مطابق پولیس اسکارٹ بھی ان کا نہیں، واقعےکے وقت وہ کراچی اور بیٹا شکارپور میں تھا۔ دوسری جانب سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے صوبائی وزرا پر ڈاکوؤں کی سرپرستی کا الزام لگادیا,ان کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں کا اسلحہ صوبائی مشیر بابل بھیو کے بیٹے کے ساتھ پکڑا گیا ، ڈاکوؤں اور قاتلوں کو سندھ کابینہ میں بیٹھے لوگ پولیس پروٹوکول دیتے ہیں۔ گزشتہ شب جیکب آباد بائی پاس پر حساس اداروں اور پولیس کی مشترکہ کارروائی کے دوران اسلحہ بر آمد ہوا تھا، اسلحے میں چار سب مشین گنز،لائٹ مشین گن اورکلاشنکوف کی ڈھائی ہزار سے زیادہ گولیاں،لائٹ مشین گن کے چھ اورجی تھری رائفل کے 17 میگزین برآمد ہوئے تھے۔ جیکب آباد پولیس کے اے ایس آئی امتیاز علی بھیو اور دو پولیس کانسٹیبلز، ثنا اللہ مگنہار اور بقااللہ انڑ کوگرفتار کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق ملزمان اسلحہ بلوچستان سے شکارپور اسمگل کر رہے تھے۔
لاہور کے تھانہ ہڈیارہ کے ایس ایچ او خالد کا کہنا ہے کہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کرنے پر سی آئی اے کی جانب سے اپنےخلاف کارروائی کا خدشہ ہے، اعلیٰ افسرا ن سے تحقیقات کا مطالبہ بھی کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کے تھانہ ہڈیارہ کے ایس ایچ او خالد کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں کہا گیا ہے مجھے افسران کی جانب سے انسداد منشیات کے حوالے سے خصوصی ٹاسک دیا گیا، میں نے ٹاسک پر پورا اترتے ہوئے اتنے لوگوں کو ٹریس کیا اور مقدمات دیئے جتنے تھانہ ہڈیارہ کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان مقدمات کو درج کرتے ہوئے مجھے سیاسی اور دیگر حلقوں کی طرف سے دباؤ کا بھی سامنا کرنا پڑا،سی آئی اے لاہور اور دیگر اداروں کی جانب سے مجھے روکنے کی کوشش بھی کی گئی،سی آئی اے اور لاہور کے دیگر پولیس افسران کی جانب سے میرے خلاف یہ پراپیگنڈہ کرنا شروع کردیا ہے کہ ایس ایچ او ہڈیارہ منشیات فروشوں کے ساتھ ملوث ہے۔ ایس ایچ او ہڈیارہ نے ان الزامات کویکسر مسترد کرتے ہوئے اعلیٰ پولیس افسران سے تحقیقات کیلئے کمیٹی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے خود کو انکوائری کیلئے پیش کرنے کا اعلان کیا ۔ دوسری جانب سی آئی اے حکام کی جانب سے بھی اس معاملے پر موقف سامنے آگیا ہےجس میں سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او ہڈیارہ غلط بیانی کر رہا ہے، اور ا ن کی طرف سے عائد الزام جھوٹ پر مبنی ہیں۔ سی آئی اے حکام کے مطابق ایس ایچ او ہڈیارہ سرحد پار منشیات سپلائی کرتا ہے،ایس ایچ او خالد منشیات فروش بابر کیساتھ مل کر سپلائی کرتا، اس بابر نامی ٹاؤٹ کے بغیر کہیں بھی ریڈ نہیں ہوتا۔ سی آئی حکام کا مزید کہنا تھا کہ ایس ایچ او ہڈیارہ کی پہلی پوسٹنگ ہےان کے پاس اتنی قیمتی گاڑی کہاں سے آئی؟اس معاملے پر سی سی پی او صاحب خود انکوئری کر رہے، جیسے ہی ایس ایچ او ہڈیارہ اور منشیات فروش بابر کیخلاف انکوائری شروع ہوئی تو اسنے جھوٹا بیان جاری کیا۔
مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی نے ن لیگ کی ایک بڑی ناکامی کا اعتراف کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹر عرفان صدیقی نے سوشل میڈیا کے محاذ پر ن لیگ کی ناکامی کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ ن لیگ سوشل میڈیا پر نا ہی مخالف بیانیے کے سامنے دیوار بن سکی اور نا ہی اپنا بیانیہ عوام تک موثر انداز میں پہنچا سکی۔ عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ میں میڈیا اور سوشل میڈیا کے محاذ پر اپنی جماعت کی ناکامی کو تسلیم کرتا ہوں، مین اسٹریم میڈیا ہو یا سوشل میڈیا ، ہم نا تو مخالفین کے بیانیے کے سامنے دیوار بن سکے اور نا ہی اپنے بیانیے کو آگے لاسکے، میڈیا کے محاذ پر ہماری یہ کمزوری کئی برسوں سے چلی آرہی ہے اور اس کی ذمہ دار پوری جماعت ہے۔ ن لیگی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ پارٹی اپنا موقف پیش کرنے میں ناکام ہے، اگر ہم 24 گھنٹے کسی واقعہ پر ردعمل ہی نہیں دیں گے تو اس کا نقصان تو ہوگا، ہمیں موثر طریقے سے اپنا موقف پیش کرنا ہوگا۔ نواز شریف کے عملی سیاست میں کردار کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ پنجاب اور وفاق میں اس وقت نواز شریف کی حکومت ہے، اگر ملک میں کوئی بڑی پیش رفت ہونی ہے تو وہ نواز شریف کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتی۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے آج فیڈریشن آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانہ میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب میں گورنر سندھ نے دنیا کی امیر ترین شخصیات کی فہرست میں شامل معروف بھارتی تاجر مکیش امبانی کے خاندان جیسی شادی کی تقاریب پاکستان میں ہونے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی تقاریب پاکستان میں بھی ہونی چاہئیں اور ہمیں اس پر فخر کرنا چاہیے۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں نے کبھی بھی اختیارات نہ ہونے کا رونا نہیں رویا اور نہ ہی کبھی ایسا ہو گا کہ آپ مجھ سے اختیارات کے نہ ہونے کا شکوہ سنیں۔ کرونا کی وباء اور سیلاب کے دوران ریلیف کی کارروائیوں میں ملک کی تاجر برادری نے اہم کردار ادا کیا، ہمیں ایک دوسرے کیلئے دل سے حسد، بغض ختم کرنا ہو گا اور دوسروں کی ترقی میں خوشی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں مکیش امبانی کے بیٹے کی شادی کی تقریب کا دنیا بھر میں ذکر ہوا، میری خواہش ہے کہ امبانی خاندان میں ہونے والی شادی کی تقریب جیسے تقاریب پاکستان میں بھی تاجروں کے ہاں ہونی چاہئیں جس پر ہمیں فخر کرنا چاہیے۔ ہمارے یہاں ایسی کوئی شادی تقریب پاکستان میں ہوتی تو سب سے پہلی مبارکباد نیب کی طرف آنی تھی اور دوسری ایف بی آر نے دینی تھی۔ کامران خان ٹیسوری کا کہنا تھا کہ ہم اب تک غریبوں میں سوا ارب روپے مالیت کا راشن تقسیم کر چکے ہیں جو ایک مخیر شخص نے دیئے، اس شخص کی خواہش تھی کہ اس کا نام نہ لیا جائے اس لیے ان کے نام کا ذکر نہیں کروں گا۔ سپیشل انویسٹمنٹ فیسی لیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) میں صدر فیڈریشن آف چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کو شامل کرنے کے لیے خط لکھوں گا۔ گورنر سندھ نے کہا کہ میرا مقصد صرف ایک ہے کہ لوگوں کی خدمت کرنی ہے اور ملک کا نام روشن کرنا ہے اور یہ تبھی ممکن ہے جب سب مل جل کر کام کریں گے۔ انہوں نے اپنی گورنر شپ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شعر سنادیا کہ : تو میرا حوصلہ تو دیکھ، داد تو دے، اب مجھے خوف زوال بھی نہیں اور شوق کمال بھی نہیں۔
ملک بھر میں کچے کے ڈاکوئوں کی بڑھتی ہوئی کارروائی کے بعد آخرکار سندھ حکومت بھی حرکت میں آ ہی گئی! کچے کے علاقے میں ڈاکوئوں کو اسلحہ کون فراہم کر رہا ہے؟ صوبہ سندھ کی پولیس نے اس حوالے سے بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سندھ کی طاقتور ترین شخصیات بلوچستان سے اسلحہ خریدتی ہیں اور وہاں سے اسلحہ پولیس پروٹوکول میں سندھ پہنچتا ہے۔ شکارپور کے کچے کے ڈاکوئوں سمگل شدہ اسلحہ نصیر آباد اور ڈیرہ مراد جمالی سے دیا جاتا ہے۔ جیکب آباد کے علاقے سے طاقتور شخصیات کو گرفتار کیا گیا جن کے قبضے سے ایس ایم جی، ایل ایم جی، جی تھری اور اڑھائی ہزار سے زیادہ گولیاں برآمد ہوئی ہیں۔ جیکب آباد پولیس نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت غیرقانونی اسلحے کی ترسیل کا مقدمہ 19/2024 تھانہ مولاداد میں درج کر لیا ہے جس کے مطابق جیکب آباد پولیس نے سندھ بلوچستان بارڈر کے علاقے میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کی۔ مقدمے میں بتایا گیا ہے کہ پولیس کی کارروائی میں پولیس موبائل اور ایک ڈبل کیبن گاڑی تحویل میں لی گئی تھی جس میں اسلحے کی ترسیل پولیس پروٹوکول میں کی جا رہی تھی۔ کارروائی میں اسلحہ برآمدگی کے علاوہ 7ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں شکارپور سے تعلق رکھنے والے 3 پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ شکارپور جیکب آباد پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس موبائل SPN--375 کا ریکارڈ میں موجود ہے اور یہ مشیر وزیراعلیٰ سندھ بابل بھیو کے استعمال میں تھی۔ پولیس موبائل ملزموں کے پاس کیسے پہنچی اور اسے اسلحے کی ترسیل کیلئے کیسے استعمال کیا گیا اس بارے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) قائم کر دی گئی ہے۔ ایس ایس پی جیکب آباد سلیم شاہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ یہ اسلحہ شکارپور میں کچے کے ڈاکوئوں کو پہنچایا جا رہا تھا کہ صوبے میں بدامنی کو فروغ دیا جا سکے۔ اسلحے کی ترسیل کا ماسٹرمائنڈ اختیار لاشاری نامی اسلحہ ڈیلر کو قرار دیا گیا ہے جس کا کرمنل ریکارڈ موجود ہے اور اس کے خلاف ضلع شکارپور کے گرھی یٰسین تھانے میں 4 سے زیادہ مقدمے درج ہیں۔ سلیم شاہ کے مطابق پولیس موبائل اور 2 گاڑیوں میں شکارپور سے تعلق رکھنے والے 7 ملزم گرفتار ہوئے لیکن مشیر وزیراعلیٰ سندھ بابل بھیو کے صاحبزادے گاڑی میں موجود نہیں تھے۔ گرفتار ملزموں میں سندھ کی اہم سیاسی شخصیت کے رشتے دار نبیل بھیو، اختیار علی لاشاری، توفیق احمد گجر اور ذاکر بھیو شامل ہیں جبکہ پولیس موبائل انچارج امتیاز علی بھیو، بقاء اللہ اور ثناء اللہ بھی گرفتار کیے گئے۔ واضح رہے کہ جیکب آباد پولیس نے سندھ وبلوچستان بارڈر کے علاقے میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر کے استعمال ڈبل کیبن گاڑی قبضہ میں لی تھی جس میں سے بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد ہوا تھا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جیکب آباد پولیس نے اسلحے کی برآمدگی کے بعد پریس کانفرنس کرنی تھی مگر پولیس موبائل کی شناخت سامنے آنے اور سیاسی مداخلت کے بعد ملتوی کر دی گئی۔
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ 2018 سے بڑی دھاندلی 2024 میں کی گئی، اس الیکشن میں بلوچستان اسمبلی تو 70 سے 100ارب کے درمیان میں خریدی گئی۔ تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے یہ بیان پشین میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے دیا اور کہا کہ یہ لوگ بتائیں کہ سندھ اور خیبر پختونخواکی اسمبلیاں کتنے میں فروخت ہوئیں،ہم نے 2018 کے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف بھی تحریک چلائی تھی اس تحریک میں ہم نےکامیابیاں بھی حاصل کیں، ہم نے نا پہلے غلط کو مانا ہے نا آئندہ مانیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ہمیشہ ملک کے مفاد کو سامنے رکھا اور سنجیدہ سیاست کی، بزدلی کی سیاست کسی اور نے سیکھی ہوگی، میرے آباؤ اجداد نے مجھے جرآت کی سیاست سکھائی ہے، جس بات کو میں نے پہلے غلط کہا وہ اب بھی غلط ہے، نواز شریف سے ملاقات میں کہا کہ غلط راستے پر چل رہے ہیں، اپوزیشن میں آئیں اور عوام کی نمائندگی کریں۔ سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ جعلی الیکشن کے ذریعے نمائندوں کو اسمبلی میں بھیجا گیا، جعلی مینڈیٹ والوں کا حکومت میں بیٹھنا نہیں بنتا، ہم نے جو تحریک شروع کی ہے اس کو اب کوئی بھی نہیں روک سکتا، اس تحریک کے دوران کراچی اور پنجاب جائیں گے اور عوام کو اٹھائیں گے۔ مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو ایک غیر محفوظ ریاست بنانے کی کوشش ہورہی ہے، غلط پالیسیوں کے ذریعے ملک کو بدامنی کی طرف دھکیلا جارہا ہے، ملک میں اگر امن قائم ہے تو اس میں جے یو آئی کا کردار سب سے زیادہ ہے، ہم نے ملک کو اندرونی و بیرونی طور پر مستحکم کرنے کیلئے کردار ادا کیا اور عوام نے ملک کو بچانے کیلئے قربانی دی۔
صوبائی دارالحکومت کراچی کے علاقے عباس ٹائون سے کچھ عرصہ قبل لاپتہ ہونے والی اسما نامی 8ویں جماعت کی طالبہ کے رحیم یار خان کے علاقے میں نکاح کے معاملے میں نئی پیشرفت ہوئی ہے۔ عباس ٹائون سے لاپتہ ہونے والی اسما نامی 8ویں جماعت کی طالبہ کے کیس بارے پولیس نے بتایا ہے کہ اس نے رحیم یار خان میں ہونے والے نکاح کے کاغذات میں اپنی عمر 19 سال لکھوائی ہے جبکہ اس کی والدہ کا کہنا ہے کہ اسما کی عمر 14 سے 15 برس کے درمیان ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق محکمہ داخلہ سے اجازت لینے کے بعد ہی رحیم یار خان میں جاکر اسماء کو بازیاب کروائیں گے، لڑکی کا بیان سامنے آنے کے بعد ہی پتہ چل سکے گا کہ اس نے اپنی پسند سے شادی کی یا اس کا نکاح زبردستی کیا گیا۔ اسماء کی والدہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہماری اپنی بچی کے ساتھ فون پر بات کروائی جا رہی ہے نہ ہی اس سے ہمیں ملوایا جا رہا ہے۔ اسماء کے اہل خانہ نے سچل تھانے میں ایف آئی آر درج کرواتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ عیدالفطر کے دوسرے دن وہ اپنی سہیلی سے ملنے کیلئے گھر سے نکلی تھی مگر اب تک نہیں لوٹی۔ اہل خانہ کے مطابق ان کو علاقے میں پانی سپلائی کرنے والے آصف نامی لڑکے پر شک تھا تاہم پولیس نے لڑکی کو بازیاب کروانے کے لیے فوری طور پر اقدامات نہیں کیے۔ پولیس کی تفتیش کے دوران آصف کے بڑے بھائی غلام شبیر نے تسلیم کیا تھا کہ وہ اسے رحیم یار خان لے گیا تھاجسے پوچھ گچھ کے بعد ضمانت پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ اسما کے اہل خانہ نے بتایا کہ جس دن غلام شبیر کو پکڑا تھا اسی دن اسما سے فون پر رابطہ کر کے اس کے والد نے گفتگو کروائی۔ ہمیں خدشہ ہے کہ اب وہ محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہے اور یہ کم عمر میں نکاح کا کیس ہے، پولیس ہماری بیٹی بازیاب کروائے۔ سچل تھانے کی پولیس کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ رحیم یار خان کی پولیس کا کہنا ہے کہ اسماء نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے نکاح اپنی مرضی سے کیا ہے۔ سچل تھانے کی پولیس کا کہنا ہے کہ آصف کو گرفتار کرنے کیلئے پولیس پارٹی محکمہ داخلہ سے اجازت کے بعد رحیم یار خان بھیجی جائے گی، واضح رہے کہ سندھ میں 18 برس سے پہلے لڑکی کا نکاح قانون کے خلاف ہے۔
لاہور میں قائم ہونے والے نواز شریف آئی ٹی سٹی میں فوری کام شروع کرنے کیلئے چین کی 8 کمپنیوں نے رضامندی ظاہر کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق یہ پیش رفت وزیراعلیٰ پنجاب مریم ونوازشریف کی زیر صدارت ہونے والے ایک اجلاس میں سامنے آئی، اجلاس میں نواز شریف آئی ٹی سٹی پراجیکٹ کے حوالے سے معاملات زیر غور آئے، اس موقع پر سی ای او سی بی ڈی عمران امین نے وزیراعلیٰ کو چین میں روڈ شوز کے حوالے سے رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستا ن کے پہلے اور سب سے بڑے آئی ٹی پراجیکٹ میں مجموعی طور پر 16 چینی کمپنیوں نے سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی کا اظہار کیا ہے، ان میں سے 8 کمپنیاں ایسی ہیں جو فوری طور پر نواز شریف آئی ٹی سٹی منصوبے پر کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دوسرے مرحلے میں انگلینڈ، ابوظبی، سنگاپور سمیت دیگر ممالک میں بھی روڈ شوز منعقد کروائے جائیں گے،یہ روڈ شوز رواں ماہ سے شروع ہوں گے اور اگست تک جارہی رہیں گے۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب نے نواز شریف آئی ٹی سٹی منصوبے کیلئے دنیا کی بہترین آرکیٹکچرل کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے اور پراجیکٹ کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایات دیں اور کہا کہ لاہور سمیت پنجاب کے تمام بڑے شہروں کو عالمی سطح پر آئی ٹی حب بنانا چاہتے ہیں۔
پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سےمنسلک کمپنیوں پر پابندی کے امریکی فیصلے پر دفتر خارجہ پاکستان کا ردعمل بھی سامنے آگیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دنیا میں ہتھیاروں پر کنٹرول رکھنے کے دعوے دار بہت سے ملکوں کو ملٹری ٹیکنالوجی میں استثنیٰ دیا جا چکا ہے۔ پاکستان متعدد بار اس بات کی نشاندہی کر چکا ہے کہ ایسی اشیاء کا جائز تجارتی استعمال کیا جاتا ہے اور ان پر برآمدی کنٹرول کے من مانے اطلاق سے گریز کرنا چاہیے۔ ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے منسلک کمپنیوں پر ماضی میں بھی بنا کوئی ثبوت فراہم کیے پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔ ہمیں امریکہ کی طرف سے کیے گئے تازہ ترین اقدامات بارے کوئی علم نہیں، یہ اشیاء اس وقت بھی کسی کنٹرول لسٹ میں نہیں تھیں لیکن انہیں حساس ضرور سمجھا جاتا تھا۔ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان برآمدی کنٹرول کے سیاسی استعمال کو مسترد کرتا ہے کیونکہ ہتھیاروں پر کنٹرول رکھنے کے دعوے دار بہت سے ملکوں کو پہلے ہی جدید فوجی ٹیکنالوجی کے لائسنس میں استثنیٰ دیا جا چکا ہے جس سے بین الاقوامی وخطے کے امن وسلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوئے۔ ٹیکنالوجی تک رسائی کیلئے فریقین کے مابین بات چیت ضروری ہے اور پاکستان ہمیشہ استعمال واستعمال کنندہ کی تصدیق کے طریقہ کار پر بات چیت کی حمایت کرتا ہے۔ واضح رہے کہ ترجمان امریکہ محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل بنانے میں 3 چینی اور ایک بیلاروسی کمپنی نے مدد فراہم کی ہے اس لیے ان پر پابندی عائد کی جا رہی ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس اکتوبر 2023ء میں بھی امریکہ نے پاکستانی بیلسٹنگ میزائل پروگرام کے پرزے فراہم کرنے کے الزام میں 3 چینی کمپنیوں پر پابندیاں لگائی تھیں۔
پشاور کی عدالت نے اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے والے شوہر کو 3ماہ قید اور 5ہزار روپے جرمانے کی سزا سنادی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پشاور کی فیملی کورٹ نے پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے کے خلاف 2022 میں دائر کردہ درخواست پر فیصلہ سنادیا ہے۔ عدالت نے شہری کو پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرنے پر مجرم قرار دیتے ہوئے 3 ماہ قید اور 5ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ، فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ اگر مجرم نے جرمانہ ادا نا کیا تو مزید 15 روز کی قید کاٹنی ہوگی۔ عدالتی فیصلے کے بعد پولیس نے مجرم کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرکے پشاور کی سینٹرل جیل منتقل کردیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سینئر وکیل اور رہنما معظم بٹ نے بے بنیاد الزامات عائد کر کے ساکھ کو نقصان پہنچانے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی مشیر برائے سوشل ویلفیئر مشعال اعظم یوسفزئی کو ہتک عزت پر 3 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھیج دیا,معظم بٹ نے ہتک عزت کے نوٹس میں موقف اختیار کیا کہ مشعال نے میرے خلاف ہتک آمیز مواد سوشل میڈیا پر شیئر کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نادیہ صبوحی نے 1 کروڑ 73 لاکھ روپے کی گاڑی کی خریداری کی خبر پر آپ کا موقف لینا چاہا جس پر آپ نے نادیہ صبوحی پر ’بوائز‘ اور ’معظم بٹ‘ سے پیسے لینے کا الزام لگایا, مشعال یوسفزئی نے صحافی نادیہ صبوحی کے ٹیکسٹ میسیجز اسکرین شاٹس لے کر سوشل میڈیا پر شیئر کیے اور یہ ہتک آمیز مواد کروڑوں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا۔ سینئر وکیل نے کہا کہ مشعال کے الزامات سے ہم دونوں کی زندگیوں اور ساکھ کو نقصان پہنچا، آپ نے پیشہ ور افراد کی زندگی، شخصیت اور ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے,نوٹس میں مطالبہ کیا گیا کہ مشعال یوسفزئی لگائے گئے الزامات پر معافی مانگیں ورنہ ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ قانونی نوٹس میں مشعال اعظم یوسفزئی کو 14 دن کے اندر اپنا جواب جمع کرانے کا وقت دیا گیا اور کہا گیا کہ الزامات ثابت نہ کرنے کی صورت میں انہیں 3 کروڑ روپے بطور ہرجانہ ادا کرنا ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی مشیر برائے سوشل ویلفیئر مشعال یوسفزئی نے مہنگی گاڑیوں کی خریداری کی سمری سے متعلق خبر دینے پر خاتون رپورٹر نادیہ صبوحی پر پیسے مانگنے کا الزام لگایا تھا۔ مشعال یوسفزئی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر گزشتہ روز ایک پوسٹ میں پشاور میں جیو نیوز کی سینیئر رپورٹر نادیہ صبوحی پر الزام لگایا تھا کہ صحافی نے فارچونر خریدنے کی سمری کی خبر محض پروپیگنڈے کی نیت سے چلائی تھی,انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ ’نادیہ صبوحی نے پروپیگنڈہ اس لیے شروع کیا ہے کیونکہ انہوں نے پیسوں کا مطالبہ کیا تھا اور میری طرف سے انکار کیا گیا۔ مشعال یوسفزئی نے مزید لکھا تھا کہ صحافی نادیہ کی جانب سے پیسے ڈیمانڈ کیے گئے لیکن میں نے منع کر دیا کہ یہ عمران خان کی حکومت ہے اور یہاں لفافہ نہیں چلتا تو اس پر باقاعدہ پروپیگنڈہ شروع کردیا گیا,دوسری جانب پشاور کی صحافی برادری نے الزام کو بے بنیاد قراردے کر بیان واپس لینے تک صوبائی مشیر کے پشاور پریس کلب میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔ دوسری جانب مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے پشاور پریس کلب آکر نادیہ صبوحی اور صحافی برادری سے معذرت کرلی,بیرسٹر سیف نے مشیر مشعال یوسفزئی کے بے بنیاد الزام تراشی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہاکہ یہ الزام تراشی مشعال یوسفزئی کا ذاتی فعل تھا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس امر کو یقینی بنائے گی کہ مستقبل میں اس قسم کے افسوسناک واقعات نہ ہوں۔
باجوڑ میں خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے پولنگ عملے پر تشدد کیا جس پر احتجاج کرتے ہوئے عملے نے الیکشن ڈیوٹی کا بائیکاٹ کردیا,زبیر علی خان نے لکھا خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کے چار اہلکاروں نے دفتر میں آکر بدتمیزی کی اور پولنگ عملے کا ڈیٹا مانگا اور انہیں تبدیل کرنے کا حکم دیا، باجوڑ ریٹرنگ آفیسر کا ڈسٹرکٹ ریٹرنگ آفیسر کو خط میں خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کی مبینہ مداخلت پر احتجاج کے بعد باجوڑ ضلعی انتظامیہ نے دفاتر بند کردیے۔ باجوڑ کے ریٹنرنگ افسر نے ڈسٹرکٹ ریٹرنگ آفیسر کو خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کی مبینہ مداخلت سے متعلق خط میں لکھ کرآگاہ کردیا۔ زبیر علی خان نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق ایس کی مبینہ مداخلت کے باعث پولنگ عملے نے الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا,باجوڑ میں ریٹرنگ افیسر میں کلرک پر تشدد کرنے کے خلاف کلرک ایسوسی ایشن نے ایس کے اہلکاروں کے تبادلے کا مطالبہ کردیا,صدر کلرک ایسوسی ایشن نے کہا جب تک تشدد کرنے والے اہلکاروں کا تبادلہ نہیں کیا جاتا ہمارا الیکشن سے بائیکاٹ ہے، آئندہ ایجنسی کا کوئی بھی اہلکار بغیر تحریری آرڈر کے دفتر میں آیا تو زمہ دار خود ہوگا، ایجنسی کے اہلکاروں کام سیکیورٹی کرنا ہے اپنی حدود میں رہیں، شاکر اعوان نے ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا آج پھر یہ شعر بار بار سننے کو دل کر رہا ہے۔۔باجوڑ این اے آٹھ کے ریٹرننگ افسر نے آئی ایس آئی کے چار اہلکاروں کی طرف سے پولنگ اسٹاف میں تبدیلی کیلئے دباو اور بعد ازاں اسٹاف پر جسمانی تشدد کی تحریری درخواست دے دی. دوسری جانب خیبر پختونخوا حکومت نے باجوڑ واقعے کا نوٹس لے لیا, ترجمان خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق باجوڑ واقعے کی باقاعدہ تحقیقات کرکےملوث افراد کیخلاف ایکشن لیاجائےگا. خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ کے حلقہ ایم اے 8 کے ضمنی انتخابات کے لیے ریٹرنگ افسر پر الیکشن عملے کو تبدیل کرنے لئے خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے مبینہ دباو اور اسٹاف پر تشدد کے خلاف ضلعی انتظامیہ کے عملے نے ضمنی الیکشن ڈیوٹی کا بائیکاٹ اور احتجاجا دفاتر بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ریٹرنگ افسر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسر باجوڑ کو واقعے کی تحریری شکایت بھی کی جبکہ واقعے کے خلاف جمعے کی نماز کے بعد احتجاجی مظاہرہ بھی ہوا تھا۔ ریٹرنگ افسر کی جانب سے تحریری شکایت میں بتایا گیا کہ جمعے کی نماز سے پہلے باجوڑ میں تعنیات حساس ادارے کے چار اہلکار ان کے آفس ائے اور ضمنی الیکشن میں انتخابی عملے کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ جبکہ ان کی جانب سے انکار پر دباو بھی ڈالا گیا۔ ریٹرنگ افسر جمعے کی نماز کے لئے نکل گئے اور نماز کے بعد کھانے کے لئے گئے جس کے دوران حساس ادارے کے اہلکار دوبارہ ان کے آفس ائے اور اسٹاف پر تشدد کیا۔ جس سے انتخابی عملے میں شامل افسر زخمی ہو گیا جسے اسپتال منتقل کیا گیا۔ ریٹرنگ افسر نے مزید لکھا ہے کہ حساس ادارے کے اہلکاروں نے تشدد کے ساتھ بندوق بھی تانا۔ جبکہ بعد میں فرار ہو گئے۔ ڈپٹی کمشنر جو ریٹرنگ افسر بھی ہیں انہوں نے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ریٹرنگ افسر نے ڈسٹرکٹ ریٹرنگ افسر کو بتایا کہ واقعے کے خلاف ضلعی انتظامیہ کا عملہ سراپا احتجاج ہے۔ اور تمام دفاتر بند رہیں گے۔ اور الیکشن ڈیوٹی کا بھی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ ریٹرنگ افسر نے ڈی سی کو آگاہ کیا کہ 20 اپریل کو الیکشن میٹریل کی تقسیم ہو گی لیکن عملہ بائیکاٹ پر ہے۔ اور الیکشن ڈیوٹی نہیں دیں گے۔ واقعے کے خلاف ضلعی انتظامیہ کے اسٹاف نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ اور ملوث اہلکاروں کا باجوڑ سے تبادلے کا مطالبہ کیا۔ احتجاجی ملازمین کا موقف تھا کہ حساس ادارے کے اہلکار ان کے دفتر گھس کر تشدد کیا اور سرکاری امور میں مداخلت کی۔ خبردار کیا کہ اہلکاروں کے تبادلے تک وہ احتجاج جاری رکھیں گئے۔
اہل علاقہ نے تعاقب کر کے دونوں بھائیوں کو پکڑ کر ان کی درگت بنا دی: رپورٹ ملک میں جرائم میں کمی لانے کیلئے قائم کیے گئے پنجاب پولیس کے اہلکار خود ہی جرائم میں ملوث نکلے۔ ذرائع کے مطابق گوجرانوالہ پولیس کا ایک اہلکار اپنے بھائی کے ساتھ بکرا چوری کی واردات کرتے ہوئے موقع پر پکڑا گیا، دونوں بھائیوں کو پکڑ کر اہل علاقہ نے ڈنڈوں سے پیٹ پیٹ کر درگت بنا دیا۔ پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور اہل علاقہ کی طرف سے پکڑے گئے پولیس اہلکار اور اس کے بھائی کی مشتعل ہجوم سے جان چھڑوائی۔ پولیس نے دونوں بھائیوں کو گرفتار کرنے کے بعد ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، وقاص نامی پولیس اہلکار اور اس کا بھائی گوجرانوالہ کے علاقہ لوہیانوالہ کے رہائشی بتائے گئے ہیں۔ دونوں بھائی اڑوپ موڑ کے علاقے میں ایک ڈیرے سے بکرا چوری کرنے کے بعد موٹرسائیکل پر بیٹھ کر فرار ہو رہے تھے کہ اہل علاقہ نے تعاقب کر کے انہیں پکڑ لیا اور ڈندوں سے پٹائی کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وقاص نامی پولیس اہلکار گوجرانوالہ جیل میں اپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہا تھا، دونوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور ان کیخلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں نامعلوم چوروں نے کلرسیداں کے نواحی علاقے چوآ خالصہ میں ایک ہی دن میں 10 بکریاں چوری کرلیں۔ چوآخالصہ کے رہائشی بکری پال افراد کا کہنا ہے کہ ان کی بکریاں گھر کے قریب ہی کھیتوں میں تھیں کہ نامعلوم چوروں نے دن کے وقت 10 بکریاں چوری کرلیں۔ مالکان کے مطابق چوری ہونے والی بکریوں کی تعداد 10 ہے جن کی مالیت لاکھوں روپے ہے۔پولیس تھانہ کلرسیداں کی طرف سے واقعے کا مقدمہ درج کرکے ضابطے کی کاروائی شروع کردی گئی ہے۔
کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی لگانا وفاقی حکومت کا کام ہوتا ہے: شہبازشریف نجی ٹی وی چینل اے آر وائے نیوز کی رپورٹ کے مطابق 167 صفحات پر مشتمل فیض آباد دھرنا کمیشن کی انکوائری رپورٹ موصول ہو گئی ہے جس کے مطابق کمیشن میں اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے 10 سوالات کے جوابات دیئے۔ کمیشن نے سوال پوچھا کہ آئی بی کی رپورٹ کے مطابق نفرت پر مبنی بیانات سامنے آنے پر آپ نے اس وقت کیا کارروائی کی؟ جس پر شہبازشریف نے بتایا کہ پنجاب حکومت نے وزیر قانون کی سربراہی میں کابینہ سب کمیٹی تشکیل دی تھی۔ شہبازشریف نے بتایا کہ اہم وزراء، چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری، چیف سیکرٹری کے علاوہ آئی بی، سپیشل برانچ، سی ٹی ڈی اور آئی ایس آئی افسران بھی اس کمیٹی میں شامل تھے۔ کمیٹی کا باقاعدہ اجلاس بھی ہوتے رہے اور مجھے باخبر رکھا جاتا تھا، ایک سوال کے جواب میں شہبازشریف نے نوازشریف کیخلاف نفرت آمیز بیانات ودھمکیوں بارے انٹیلی جنس رپورٹ سے لاعلم ہونے کا اظہار کیا۔ شہبازشریف سے پوچھا گیا کہ آئی بی رپورٹ کے مطابق تحریک لبیک پاکستان نے خلاف قانون سرگرمیاں کیں، ایسی جماعت پر الیکشن کمیشن پابندی عائد کر سکتا ہے تو اس حوالے سے وفاقی کو آپ نے کوئی سفارش کی تھی؟ شہبازشریف نے کہا ایسی کسی رپورٹ کا علم نہیں اور کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی لگانا وفاقی حکومت کا کام ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کمیشن نے سوال کیا کہ ٹی وائی ایل آر اے اور ٹی ایل پی کی قیادت نے سوشل میڈیا پر دھمکیاں دیں، ان کیخلاف انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997ء کے تحت کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ شہبازشریف نے جواب میں کہا اس معاملے کو پیمرا و پی ٹی اے دیکھتے ہیں اور خطرات کے حوالے سے ایس او پی کے تحت رپورٹ پر سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔ ایک سوال یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا آپ نے راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کو اسلام آباد کی انتظامیہ سے تعاون نہ کرنے کا حکم جاری کیا؟ جس پر شہبازشریف نے کہا آر پی او، سی پی او، کمشنر ڈی سی کو ضلعی انتظامیہ اسلام آباد سے تعاون کے احکامات جاری کیے۔ شہبازشریف سے پوچھا گیا کہ سیکرٹری وزیراعطم نے بتایا کہ طاقت کا استعمال دھرنے کے شروع میں ممکن تھا؟ دھرنا 18 دن بعد ہٹانا ممکن نہیں تھا، کیا یہ بیان اسلام آباد، راولپنڈی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان نہیں ہے؟ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ جو بیان سیکرٹری نے دیا وہ ان کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے لیکن پنجاب حکومت پر ذمہ داریاں نہ ادا کرنے کا الزام درست نہیں۔ کمیشن نے سوال کیا کہ فیض آباد دھرنے سے کیا پنجاب حکومت نے طاقت سے نپٹنے کا فیصلہ کیا تھا؟ جس پر جواب میں کہا کہ حکومت دھرنے سے نپٹنے کیلئے پرامن طریقہ اختیار کرنا چاہتی تھی۔ سوال ہوا کہ کیا ٹی ایل پی رہنمائوں کے کیسز ختم ہو گئے ہیں؟ جس پر انہوں نے بتایا کہ دھرنا عمائدین اور وفاقی حکومت میں معاہدے کے تحت کیسز ختم کیے جا چکے ہیں۔ فیض آباد دھرنا کمیشن نے پوچھا کہ آپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے بطور وزیراعلیٰ پنجاب کیا کیا؟ جس پر شہبازشریف نے بتایا کہ 31 مئی 2018ء تک پنجاب حکومت رہی اور کیس کا فیصلہ 6 فروری 2019ء کو ہوا۔ یاد رہے کہ ٹی ایل پی کا دھرنا 2017ء میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران دیا گیا تھا جب شاہد خاقان عباسی وزیراعظم تھے اور نوازشریف معزول ہو چکے تھے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایات پر فیض آباد دھرنے کی تحقیقات کرنے کے لیے کمیشن قائم کیا گیا تھا جس نے طویل انکوائری کر کے چند دن پہلے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو کلین چٹ دی تھی۔ علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنا کمیشن کی رپورٹ منظرعام پر لائی جائے۔