سیاسی

سائفر سیدھی سیدھی دھمکی تھی ، عمران خان کو وزیر اعظم کی کرسی سے نہ ہٹایا تو تعلقات خراب ہوں گے، سابق سفیر اشرف قاضی سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی نے کہا ہے کہ سائفر کوئی سازش نہیں تھی بلکہ سیدھی سیدھی دھمکی تھی کہ عمران خان کو کرسی سے نا ہٹایا گیا تو تعلقات خراب ہوجائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق سابق سفیر اشرف جہانگیر قاضی نے ایک تہلکہ خیز انٹرویو کے دوران انکشاف کیا ہے کہ میں اپنے سفارتی تجربے سے بتارہا ہوں کہ سائفر ایک بہت بڑا معاملہ تھا اس میں مجھے کوئی شک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائفر میں امریکہ میں واضح انداز میں پاکستان کو یہ پیغام دیا تھا کہ ہم اس شخص سے خوش نہیں ہیں، جب تک یہ شخص حکومت میں رہے گا امریکہ اور پاکستان کے درمیان مسائل رہیں گے، بلکہ آگے جاکر پاکستان کیلئے مسائل مزید بڑھیں گے، امریکہ نے پاکستان کو وارننگ دی کہ اگر عمران خان کو ہٹایا نہیں گیا تو تعلقات پر برا اثر پڑے گا۔ اشرف جہانگیر قاضی نے کہا کہ سائفر کو سازش کہنے یا نا کہنے کی بحث ہے ہی نہیں، یہ تو سیدھی سیدھی وارننگ تھی، پاکستان کو خبردار کیا گیا تھا کہ اگر یہ شخص جائے تو سب کچھ معاف کردیا جائے گا۔
نگراں سیٹ اپ میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات رہنے والے مرتضیٰ سولنگی اپنےد ور میں ایکس( ٹویٹر) بند کروانے کے حکم دینے والے سے لاعلم نکلے۔ تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں سابق نگراں وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی سے جب ان کے دور میں ایکس کی بندش کا حکم دینے والے سے متعلق سوال پوچھا گیا تو مرتضیٰ سولنگی اس سے لاعلم نظر آئے۔ مرتضیٰ سولنگی نے سوال کے جواب میں کہا کہ نگراں وفاقی کابینہ میں کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی بندش کے حوالے سے کوئی بات زیر غور آئی نا ہی کوئی فیصلہ ہوا، ایکس کو ہم نے بند نہیں کیا تھا، یہ کیوں بند کیا گیا اس کیلئے بہتر ہے چیئرمین پی ٹی اے سے سوال کیا جائے۔ ٹویٹر بند کرنے کا حکم دینے والے شخص کے حوالے سے سوال کے جواب میں مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ عین ممکن ہے کہ ایکس کو تکنیکی وجوہات کی بنا پر بند کیا گیا ہو، اسی لیے کہہ رہا ہوں بہتر ہوگا کہ ان سے سوال کیا جائے جو اس معاملے کے متعلقہ ہیں۔ اینکر نے سوال کیا کہ پاکستان میں ایکس کی بندش ہضم ہونے والی بات نہیں ہے، کیا وزارت اطلاعات ونشریات نے اس حوالے سے کوئی انکوائری نہیں کی؟ نگراں وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ نگراں وزارت اطلاعات نے اس حوالے سے کوئی انکوائری کنڈکٹ نہیں کی، کسی کو بات ہضم نہیں ہورہی تو بہتر ہے وہ ہاضمے کیلئے بہتر انتظامات کرے۔ خیال رہے کہ پاکستان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس(ٹویٹر) گزشتہ کئی روز سے بند ہے، اس حوالے سے سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ایکس اور انٹرنیٹ سروس کی بحالی کے حوالے سے احکامات بھی کام نہیں آئے اور ملک میں آج تک ایکس کی سروس معطل ہے۔
جہانگیر ترین 60 سے 70 فیصد پی ٹی آئی کو اپنی جماعت میں شامل کرسکتے ہیں، سلیم صافی کا جہانگیر ترین سے متعلق پرانا دعویٰ جہانگیرترین جن کے ذریعے ایک سیاسی جماعت استحکام پاکستان پارٹی بنائی گئی اور اس میں تحریک انصاف کے رہنماؤں سے پارٹی چھڑوا کر شامل کروایا گیا۔۔ تحریک انصاف کے کئی درجن مضبوط ترین رہنما جہانگیرترین کی جماعت کا حصہ بن چکے تھے ، خیال تھا کہ جہانگیرترین تحریک انصاف کا خاتمہ کردیں گے لیکن الیکشن 2018 میں پیشنگوئی غلط ثابت ہوئی اور جہانگیرترین اپنی سیٹیں بھی ہارگئے اور سیاست سے آؤٹ ہوگئے جبکہ انکی جماعت کے منتخب ارکان عون چوہدری، علیم خان اور گل اصغر خان کی جیت بھی سوالیہ نشان ہے۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی کا سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے جہانگیر ترین کے حوالے سے ماضی میں کیا گیا ایک دعویٰ سامنےآیا ہےجس میں ان کا کہنا تھا کہ 60 سے 70 فیصد پی ٹی آئی جہانگیر ترین کے پاس چلی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق سلیم صافی کی ماضی میں کی گئی گفتگو کا ایک کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین عقل کے لحاظ سے عمران خان سے بہت آگے ہیں، جہانگیر ترین چینیوں کی طرح بولتے کم ہیں مگر عمل زیادہ کرتے ہیں، پی ٹی آئی کو بنانے میں اور اس میں شامل اکثریت کو لانے میں جہانگیر ترین کا اہم کردار تھا۔ سلیم صافی نے مزید کہا کہ جہانگیرترین نے سب سے زیادہ وسائل عمران خان پر خرچ کیے، اگر وہ نا ہوتے تو شائد عمران خان کبھی بھی وزیراعظم نہیں بن سکتے تھے۔ سینئر صحافی نے کہا کہ پی ٹی آئی کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہے، جہانگیر ترین خود ہی پی ٹی آئی کو ختم کردے گا کیونکہ 60 سے 70فیصد پی ٹی آئی کے اراکین تو جہانگیر ترین کے پاس چلے جائیں گے۔ خیال رہے کہ سلیم صافی کا یہ تجزیہ 9 مئی کے بعد اور موجودہ انتخابات سے پہلے کا تھا اور یہ وہ تجزیے یا نقطہ نظر تھے جس کی وجہ سے شائد خود جہانگیر ترین بھی کسی خوش فہمی کا شکار ہوگئے تھے مگر عام انتخابات کے نتائج نے ان کی خوش فہمی اور سلیم صافی جیسےسیاسی پنڈتوں کی رائے کو یکسر بدل کررکھ دیا کیونکہ جہانگیر ترین لودھراں اور ملتان سے الیکشن ہارنے کے بعد نا صرف اپنی پارٹی بلکہ سیاست سے بھی مستعفیٰ ہوگئے ہیں۔
تحریک انصاف کی 93 کے قریب قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کی 117 کے قریب نشستوں پر اب تک 7 ارکان نے وفاداریاں بدلیں ، ان میں ایک رکن قومی اسمبلی جبکہ 6 صوبائی ممبرز شامل ہیں۔ جن ممبران نے تحریک انصاف کیساتھ ہاتھ کیا، ان میں لاہور سے منتخب ہونیوالے رکن قومی اسمبلی وسیم قادر جبکہ پنجاب اسمبلی سے ساجد منان مظفرگڑھ ، علی اصغر گرمانی لیہ، غضنفر قریشی جھنگ ، سلطان باجوہ ننکانہ صاحب اور شازیہ ترین لودھراں شامل ہیں۔ خیال یہ تھا کہ تحریک انصاف کے ارکان بڑی تعداد میں ن لیگ یا پیپلزپارٹی میں شامل ہوجائیں گے مگر ایسا نہ ہوسکا، کچھ ارکان کو اغوا بھی کیا گیا مگر انہوں نے بھی وفاداریاں تبدیل کرنے سے انکار کردیا۔ حماداظہر نے اپنے تفصیلی ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ تحریک انصاف کی 94 قومی + پنجاب میں 117 صوبائی (211 ٹوٹل) نشستوں میں تمام ریاستی جبر اور رشوت کے باوجود اب تک 1 قومی اور 6 صوبائی کے ممبران لوٹے بنے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس لئے رجیم کا تمام تر انحصار بھونڈی ترین فارم 47 کی جعل سازی پر ہے۔ تقریباً 80 نشستیں قومی اور 100 صوبائی پر یہ جعل سازی ہوئی جا کے تمام ثبوت موجود اور اکثریت کیس عدالتوں میں درج ہو چکے ہیں۔ حماداظہر کا کہنا تھا کہ وزیراعلی پنجاب کے لیے پی ٹی آئی کے امیدوار میاں اسلم اقبال ہیں اور انھوں نے آج پنجاب اسمبلی کےحوالے سےتفصیلی پریس کانفرنس کی ہے۔ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جلد بلایا جائے گا۔ میں ، میاں اسلم اقبال اور تمام ریجنل صدور ممبران سے رابطے میں ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ یہ فارم 47 میں جعل سازی کے تمام نمونے جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے اور یہ ملک اور ریاست عوام کے پاس واپس آئے گی۔
سانحہ ماڈل ٹاؤن کو گزرے 10 سال ہوگئے ہیں۔اس سانحہ میں 14 افراد جاں بحق اور 79 کے قریب زخمی ہوئے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دوران پولیس اہلکاروں نے بے گناہ اور حاملہ خواتین کے منہ پر گولیاں ماریں۔ اگرچہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں اہم کردار اس وقت کی شہبازشریف کی پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس کا ہے لیکن بدنامی گلو بٹ کے حصے میں آئی جو اس سانحے کے دوران لوگوں کی گاڑیاں توڑرہا تھا۔ گلو بٹ کی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں وہ انتہائی تشویشناک حالت میں ہے اور انتہائی اذیت کا شکار ہے۔ خاندان کے مطابق گلو بٹ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، گلو بٹ تین ماہ سے نہایا نہیں، واش روم بھی نہیں گئے، پیمپر لگا ہوا ہے، 2 بار برین ہیمرج ہو چکا، شوگر کا بھی مریض ہے، مقدس فاروق اعوان کا کہنا تھا کہ ان کی گاڑیاں توڑنے کی ویڈیو پر سوشل میڈیا انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے اصل ملزمان گلو بٹ کی ویڈیو کے پیچھے چھپ گئے، ان کی وجہ سے جس جس کی دل آزاری ہوئی پلیز وہ انہیں معاف کر دےکیا پتہ ان کی تکلیف کم ہو جائے صحافی شاکر محمود نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاون کو 10 سال ہوچکے ہیں دنیا کی عدالت نے فیصلہ نہیں کیا،، اللہ کی عدالت نے فیصلے سنانا شروع کردئیے ہیں،،ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ گلو بٹ کو نہلانا نہیں،، پانی سے دور رکھنا ہے نہیں تو موت واقع ہوسکتی ہے،، 3 ماہ سے گلو بٹ نہایا نہیں۔۔ ارم رائے نے کہا کہ آج یہ گلو بٹ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے، جانے کتنے مظالم اس نے کس کس کے کہنے پر غریبوں پے ڈھائے ہونگے۔ اب کون ہے اسکا ہمدرد کون ہے اسکا ولی وارث۔۔ ابھی زیر زمین کا حساب باقی ہے۔۔۔ نئے بننے والے گلو بٹ بھی سوچ لیں اپنا انجام۔۔
استحکام پاکستان پارٹی کی تشکیل کے بعد جو رہنما سب زیادہ متحرک تھے اور بڑے بڑے دعوے کررہے تھے ان میں محمودمولوی اور خرم حمید روکھڑی شامل تھے دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں امیدوار الیکشن میں بری طرح ہارگئے۔۔ محمودمولوی نے این اے 238 کراچی سے حصہ لیا اور محض 191 ووٹ لے پائے اور 13 ویں نمبر پر براجمان ہوئے۔ یہ وہ حلقہ ہے جہاں حلیم عادل شیخ کھڑے تھے اور انہیں ایم کیوایم کے ہاتھوں دھاندلی کے ذریعے ہروادیا گیا۔ محمودمولوی گزشتہ سال اگست میں عامرلیاقت کی وفات کے بعد انکی نشست پر تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑے تھے اور انہون نے 29 ہزار 475 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ الیکشن 2018 میں بھی وہ چند ہزار ووٹوں کے معمولی مارجن سے ہارگئے تھے۔ اس طرح خرم حمید روکھڑی نے عمران خان کے آبائی حلقے این اے 89 میانوالی سے الیکشن لڑا مگر استحکام پاکستان پارٹی کی مقبولیت نہ ہونیکی وجہ سے آزادالیکشن لڑنے پر مجبور ہوئے اور انہوں نے 12444 ووٹ حاصل کئے اور چوتھے نمبر پر رہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی حلقے سے تحریک انصاف کے جمال احسن خان کھڑے تھے اور انہوں نے 2 لاکھ17 ہزار 427 ووٹ حاصل کئے تھے، اس طرح خرم حمید روکھڑی 2 لاکھ 5 ہزار ووٹوں سے ہارے
پاکستان پیپلزپارٹی کے تحریک انصاف سے بیک ڈور رابطے، کیا بات ہوئی؟ پارٹی کے تمام سیاسی فیصلے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رضامندی سے ہی ہوتے ہیں: تحریک انصاف آٹھ فروری 2024ء کو ہونے والے عام انتخابات میں ملک بھر کی عوام اپنی اپنی پسندیدہ جماعتوں کے حق میں ووٹ کاسٹ کر کے اپنے نمائندے منتخب کر چکی ہے۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں میں مرکزی و صوبائی حکومتیں قائم کرنے کیلئےجوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔ ن لیگ کی طرف سے شہبازشریف اور پی ٹی آئی کی طرف سے عمر ایوب کو وزیراعظم کا امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔ دوسری طرف پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کی طرف سے پی ٹی آئی سے بیک ڈور رابطوں میں مل کر حکومت بنانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنمائوں کی طرف سے پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنمائوں سے بیک ڈور رابطے کر کے مل کر حکومت بنانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے تاہم اب تک ڈیڈلاک برقرار ہے جس کی وجہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی طرف سے مثبت جواب نہ ملنا بتایا جا رہا ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی سابق وزیراعظم شہبازشریف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد بھی تحریک انصاف کے سینئر رہنمائوں کو اس حوالے سے پیغامات بھجوائے گئے ہیں لیکن ڈیڈلاک برقرار ہے۔ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان دوریاں ختم کرنے کیلئے سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور نومنتخب رکن قومی اسمبلی سردار لطیف کھوسہ کے ذریعے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے پیپلزپارٹی کو پیغام دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں بااختیار نہیں ہیں کیونکہ حتمی طور پر پارٹی کے تمام سیاسی فیصلے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رضامندی سے ہی ہوتے ہیں۔ رہنما تحریک انصاف اسد قیصر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو پیپلزپارٹی کی طرف سے رابطہ کاری بارے آگاہ کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل راولپنڈی میں تحریک انصاف کے رہنمائوں کی سابق وزیراعظم عمران خان سے جمعرات کو ہونے والی ملاقات میں عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ ایسی تمام سیاسی جماعتوں سے رابطہ کیا جائے جو ان انتخابات کے نتائج تسلیم نہیں کر رہیں تاہم پاکستان پیپلزپارٹی کے حوالے سے ڈیڈلاک برقرار ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما ومرکزی سیکرٹری اطلاعات رئوف حسن نے 2 دن پہلے اپنی پریس کانفرنس میں میڈیا سے گفتگو میں بتایا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان نے واضح طور پر کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی، متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم لیگ ن کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کیے جائیں۔
پرویز خٹک جو عمران خان کی حکومت میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا رہے، انہوں نے عمران خان کا ساتھ چھوڑ کر اپنی جماعت بنائی تو انکے لہجے میں سختی آگئی اور عمران خان کو فرعون، ذہنی بیمار کے القابات سے نوازتے رہے۔ اپنی الیکشن کمپین اور بیانات میں وہ بڑے بڑے بول بولتے رہے کہ کسی کا باپ بھی مجھے وزیراعلیٰ پنجاب بننے سے نہیں روک سکتا۔ میری ہی حکومت بنے گی۔ لیکن 8 فروری کو جب الیکشن ہوئے تو پرویز خٹک نے وزیراعلیٰ پنجاب کیا بننا تھا وہ اپنی بھی سیٹ نہ جیت پائے اور نہ صرف وہ بلکہ انکے داماد،بیٹے اور دیگر رشتہ دار بھی ہارگئے۔ پرویز خٹک نے 16 جنوری کو بیان دیا کہ اب پی ٹی آئی کا ذکر ماضی کی کہانیوں میں ہوگا۔عمران خان اپنے کرتوتوں کی وجہ سے انجام کو پہنچا، پوری پارٹی انتخابی دوڑ سے باہر ہوگئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبائی کی 70 اور قومی اسمبلی کی نشستوں پر 26 امیدوار میدان میں اتار دیے ہیں، بغیر کسی اتحاد اور سیٹ ایڈجسمنٹ کے صوبے میں حکومت بنائیں گے۔ پرویز خٹک نے 23 جنوری کو بیان دیا کہ فروری کو خیبر پختونخوا میں بڑی تبدیلی آئے گی، اندازہ ہے کہ صوبے میں میر ی حکومت بنے گی۔ان کا کہنا تھا کہ میں جب بھی مقابلے میں آتا ہوں آگے جانے کا سوچتا ہوں اسی جلسے میں پرویز خٹک نے بانی پی ٹی آئی کو ذہنی بیمار کہہ دیا اور کہا کہ اسے کسی چیز کا پتہ تک نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں ان کی حکومت آرہی ہے، کسی کا باپ بھی نہیں روک سکتا۔ دسمبر میں پرویز خٹک نے نوشہرہ کے دو قومی اور پانچ صوبائی اسمبلی کی سیٹوں سے خود، اپنے بیٹوں اور داماد کو کھڑا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ الیکشن جیت کر دوبارہ خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ بنوں گا۔ انکا کہنا تھا کہ میری چالس سالہ خدمات ہیں، نوشہرہ میں اکیلا الیکشن میں کھڑا ہورہا ہوں دیکھتا ہوں میرا کون مقابلہ کرے گا، سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ورکروں کو تمیز نہیں سکھائی، میں نظام ٹھیک کرنے آیا ہوں۔ سابق وزیر اعظم نے فرعون کا کردار ادا کیا اور تمام پارٹی رہنماؤں نے ہر حال میں سختی سے ان کی پیروی کی۔پی ٹی آئی کی حکومت دراصل عمران خان کا ’ون مین شو‘ تھی جو بادشاہ بننا چاہتے تھے۔
وزارت اعلیٰ پنجاب ساتویں بار اور وزارت اعظمیٰ پانچویں بار شریف خاندان کے ہی گھر میں شریف خاندان 1985 سے سیاست کررہا ہے مگر وزارت اعلیٰ پنجاب ساتویں بار اور وزارت اعظمیٰ پانچویں بار ن لیگ کے اپنے گھر میں پہنچ گئی۔ گزشتہ روز شہبازشریف کو ایک بار پھر وزیراعظم اور مریم نواز کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کا اعلان کیا گیا ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ شریف خاندان کے گھر کا چوتھا فرد وزیراعلیٰ پنجاب بنے گا۔ شریف خاندان میں سے پہلی بار نوازشریف 1985 میں وزیراعلیٰ پنجاب بنے وہ 1985 سے 1988 کے بعد ضیاء الحق دور میں وزیراعلیٰ بنے، اسکے بعد 1988 کے عام انتخابات کے بعد نوازشریف ایک بار پھر وزیراعلیٰ پنجاب بن گئے۔ اگر 1990 میں غلام حیدروائیں وزیراعلیٰ پنجاب تھے مگر وہ نوازشریف اور شہبازشریف کے احکامات پر ہی صوبے کے معاملات چلاتے تھے۔ اسکے بعد 1997 میں شہبازشریف وزیراعلیٰ پنجاب بنے مگر انکی وزارت اعلیٰ کااختتام مشرف کے مارشل لاء 12 اکتوبر 1999 کو اختتام پذیر ہوا ۔ الیکشن 2008 کے بعد شہازشریف دوبارہ وزیراعلیٰ پنجاب بنے اور 2013 تک وزیراعلیٰ رہے، 2013 کے عام انتخابات کے بعد شہبازشریف دوبارہ وزیراعلیٰ پنجاب بنے اور 2018 تک براجمان رہے۔ سال 2022 میں رجیم چینج آپریشن ہوا تو حمزہ شہباز تحریک انصاف کے منحرف اراکین کی وفاداریاں تبدیل کرواکر وزیراعلیٰ پنجاب بن گئےمگر 18 جولائی کا الیکشن ہونے کے بعد ان سے وزارت اعظمیٰ تحریک انصاف نے چھین لی۔ جب حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو انکے والد وزیراعظم پاکستان تھے۔ اب مریم نواز شریف وزیراعلیٰ پنجاب بننے جارہی ہیں اور شریف خاندان کا چوتھا فرد ہوگا وہ وزیراعلیٰ کے عہدے پر راج کرے گا۔ اسی طرح وزارت اعظمیٰ بھی شریف خاندان کے پاس رہی ، نوازشریف پہلی بار 1993 اور دوسری بار 1997 میں وزیراعظم بنےاسکے بعد نوازشریف جلاوطن ہوئے مگر الیکشن 2013 میں دوبارہ وزیراعظم بنے ۔ اسکے بعد نوازشریف انتخابی سیاست سے آؤٹ ہوگئے اور شاہد خاقان عباسی وزیراعظم بن گئے۔اسکی وجہ شہبازشریف کا پنجاب میں ہونا بنی وگرنہ شہبازشریف وزارت اعظمیٰ کے مضبوط امیدوار تھے۔ اسکے بعد عمران خان کو اقتدار ملا مگر رجیم چینج آپریشن کے بعد شہبازشریف وزیراعظم بن گئے اور وہ 16 ماہ وزیراعظم بنے۔ اگر چہ تحریک انصاف اکثریت میں ہے مگر شہبازشریف پیپلزپارٹی اور دیگر جماعتوں کی مدد سے دوبارہ وزیراعظم بننے جارہے ہیں۔
سابق وفاقی وزیر ورہنما مسلم لیگ ن خواجہ محمد آصف نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں انتخابات کے حوالے سے ایک سوال "نوازشریف تو ووٹ کو عزت دو کی بات کرتے تھے تو کیا یہ ایسے ہونا تھا کہ تحریک انصاف سے ووٹ حاصل کرنے والوں کو اپنی پارٹی میں شامل کرنا تھا" کا جواب دیتے ہوئے کہا ٹیکنیکلی دیکھا جائے تو مسلم لیگ ن ووٹ کو عزت ہی دے رہی ہے کیونکہ ن لیگ میں شامل ہونے والے لوگ آزاد حیثیت میں انتخابات میں کامیاب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلے کا نشان نہ ملنے پر آزاد حیثیت میں عام انتخابات میں کامیاب ہونے والے امیدوار اگر اپنی مرضی سے مسلم لیگ ن میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو آ سکتے ہیں ہم تو کسی کو لے اوور نہیں کر رہے نہ ہی کسی کے پاس گئے ہیں۔ پروگرام کے میزبان شاہزیب خانزادہ کے سوال "لوگ جب عمران خان کے پاس جا رہے تھے تو مریم نوازشریف کہتی تھیں کہ لوٹوں کی جگہ باتھ روم میں ہے، اب وہ ن لیگ میں شامل ہو رہے ہیں" پر جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آپ جو بات کر رہے ہیں میں اس سے بطور ایک سیاسی ورکر تو اختلاف نہیں کر سکتا! انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کے اس وقت بلکہ کئی دہائیوں سے جو حالات ہیں ان کی بہتری کے لیے تو ہمیں اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں لیکن بعض دفعہ ایسے حالات ہو جاتے ہیں کہ ان کے اندر رہتے ہوئے ہمیں کام کرنا پڑتا ہے۔ مجھے اس بات پر افسوس ہے لیکن میں آپ کی اس بات پر زیادہ بحث نہیں کروں گا۔
سابقہ صدر پاکستان زرداری نے حامد میر کو فون کر کے بلایا حامد میر پہنچے تو صدر زرداری ایک گن ہاتھ میں پکڑ کر سٹیل کے بنکر میں چھپے بیٹھے تھے۔ اس وقت انکا ہاتھ ٹریگر پر تھا۔ حامدمیر کے مطابق آصف زرداری جس وقت صدر پاکستان تھے تو انہوں نے فون کرکے حامدمیر کوبلایا،وہ ایک کمرے سے دوسرے کمرے اور پھر تیسرے کمرے اور اس سے بیڈروم پہنچے جہاں سٹیل کے بنکر میں آصف زرداری چھپے ہوئے تھے اور نکے ہاتھ میں رائفل تھی اور انگلی ٹریگر پر تھی۔ حامدمیر کا کہنا تھا کہ آصف زرداری نے کہا کہ یہ مجھے ماردیں گے اور کہیں گے کہ اس نے خودکشی کرلی تم گواہ رہنا میں لڑتے لڑتے شہید ہوجاؤں گا۔ حامدمیر کے مطابق یہ وہ دن تھے جب میڈیا پر خبریں چل رہی تھیں کہ آصف زرداری کی زبان بندی کردی گئی ہے اور اسکے بعد جنرل کیانی نے مداخلت کرکے انہیں دبئی بھجوایا۔
پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما چوہدری منظور احمد نے کہا ہے کہ جنرل قمر باجوہ نے پیپلزپارٹی کے وفد سے کہا تھا کہ 18ویں ترمیم کا خمازہ آپ کو بھگتنا پڑے گا جسے ہم بھگت رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق جیو نیوز کی الیکشن کے حوالے سے خصوصی ٹرانسمیشن میں گفتگو کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے رہنما چوہدری منظور احمد نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا ایک وفد جی ایچ کیو گیا تھا جہاں جنرل باجوہ نے سب کے سامنے کہا تھا کہ" آپ لوگوں نے جو 18ویں ترمیم منظور کی ہے یہ شیخ مجیب کے 6 نکات سے بھی زیادہ خطرناک ہیں اس کا خمیازہ آپ کو بھگتنا پڑے گا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم تو آج تک بھگت رہے ہیں، یہاں آئی جے آئی بن رہی ہے،ملک کو آگے بڑھنے دیں، پی ٹی آئی کو الیکشن لڑنے دیں، بلے کا نشان ان کا حق ہے، میں ہارتا ہوں ہارنے دیں، یہ صرف پی ٹی آئی کے ساتھ ظلم نہیں ہورہا، اسی الیکشن میں ہمارے ساتھ بھی یہی سب کچھ ہورہا ہے۔ چوہدری منظور احمد نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے چاہتی ہے کہ جمہوریت آگے بڑھے،ہمیں ایسی جمہوریت نہیں چاہیے جس میں میں یا میرے جیسے لوگ الیکشن نہیں لڑ سکیں گے کیونکہ اب یہ صرف پیسے والوں کا کام رہ گیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے پروگرام فیصلہ آپ کا میں نوازشریف کی الیکشن سے پہلے نااہلی بارے سوال کے جواب میں کہا کہ نوازشریف کے ساتھ بھی اگر زیادتی ہوئی ہے تو وہ نہیں ہونی چاہیے لیکن اس کا میں ایسے جواب دوں گا کہ نوازشریف نے کبھی کسی عدالت میں یہ شکوہ نہیں کیا کہ قانون کے مطابق کارروائی نہیں ہو رہی، ان کے کسی گواہ کا کراس ایگزامینیشن کا رائٹ ختم نہیں کیا گیا، 342 کی سٹیٹمنٹ دینے کیلئے یہ نہیں کہہ سکتے کہ انہیں وقت نہیں ملا۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے نوازشریف کو سزا دینے سے پہلے 6 ہفتے کا وقت دیا تھا کہ آپ کے پاس جو اربوں کی پراپرٹی ہے اس کے ثبوت جمع کروا دیں جس میں وہ ناکام ہو گئے۔ دوسری طرف ٹرائل کورٹ میں انہی جج صاحب نے فیصلہ کیا لیکن نوازشریف کو وقت دیا گیا تھا جس میں کراس ایگزامینیشن ہوا، ان کی 342 کی سٹیٹ ریکارڈ ہوئی ، کلوزنگ بھی ہوئے لیکن نوازشریف گواہ پیش نہیں کر سکے ۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے ان کے کیس میں قانون کے مطابق عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ ہوا اور فیصلہ آنے کے بعد وہ جیل میں چلے گئے لیکن ہمارے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ میں نوازشریف کا کیس یہ تھا کہ وہ نااہل ہوئے یا نہیں تاہم ریفرنس نیب نے خود فائل کیا جس پر عدالت نے مانیٹرنگ جج کو اپوائنٹ کیا۔ نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کی طرف سے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر کے بیان کو تروڑ مروڑ پیش کرتے ہوئے اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لکھا کہ: بیرسٹر گوہر خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نوازشریف کے ساتھ زیادتی ہوئی جو کہ نہیں ہونی چاہیے تھی۔ بیرسٹر گوہر کا بیان غلط انداز میں پیش کرنے پر تحریک انصاف کی طرف سے شدید تنقید کی گئی۔ سربراہ پی ٹی آئی مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ صبغت اللہ ورک نے بیرسٹر گوہر کا بیان شیئر کرتے ہوئے اپنے پیغام میں لکھا: چیئرمین تحریک انصاف نے اپنی گفتگو میں یہ جملہ کہاں بولا ہے جسے نکال کر ہم نیوز ڈیجیٹل میں بیٹھے سائنسدانوں نے عوام کو بیچنے کی نہایت سستی سی کوشش کی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ :ہم نیوز انتظامیہ سے پہلے بھی التماس کی کہ اپنی صفوں میں موجود ان سائنسدانوں سےانکے عزائم و اہداف کے بارے میں پوچھ لیجئے اور اگر ان کی سماعتوں میں کسی قسم کا نقص ہے تو اس کا بندوبست کریں! بصورت دیگر اگر صحافت پیشِ نظر ہے تو وہی کچھ بیان کیجئے جو کہا جاتا ہے! صبغت اللہ نے لکھا: جب جب آپ نے خود سے انجینئرنگ کرنے کی کوشش کی ہے، آپ پکڑے بھی گئے ہیں اور ادارے کا نام بھی خراب ہوا ہے۔یہ حرکت بہرحال نہایت بھونڈی اور قابلِ مذمت ہے! ہم آپ سے شفاف صحافت سے بڑھ کر کچھ بھی توقع نہیں رکھتے، یہ تو نری کِذب فروشی ہے، احساس کیجئے!
تحریک انصاف کے سابق ایم این اے فیض الحسن شاہ نے الیکشن کے دوران ہی تحریک انصاف چھوڑدی تھی، پہلے انکے بھائی کو لاپتہ کیا گیا تھا اور بعدازاں انہیں بھی گرفتار کرکے پارٹی چھڑوادی گئی۔ فیض الحسن شاہ کے پی ٹی آئی چھوڑنے کے بعد انکے بھتیجے سید وجاہت حسنین شاہ نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنیکا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد ایک بار پھر گجرات کی سادات فیملی پر برا وقت آگیا انکے خاندان کے مزید افراد لاپتہ ہوگئے۔ سابق ایم این اے اور حلقہ این اے 65 کے امیدوار سید فیض الحسن شاہ کے بیٹے سید مہدی شاہ کھاریاں سے لاپتہ ،خاندانی ذرائع نے سید مہدی شاہ کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کر دی ۔ یاد رہے کہ فیض الحسن شاہ 2018 کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کی ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھےجبکہ 9 مئی واقعات کے بعد انہوں نے پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔ان کے بھتیجے وجاہت حسنین اسی حلقے سے پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امید وار ہیں اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ماجد نظامی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے امیدوار وجاہت حسنین شاہ کے کزن اور سابق ایم این اے فیض الحسن شاہ کے بھتیجے سید علی رضا شاہ کو بھی نامعلوم افراد نے اٹھا لیا۔ علی رضا کو آنکھوں کی بیماری ہے اور وہ دیکھ بھی نہیں سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بے شک ائیر چیف مارشل ظہیر سدھو کے بھائی اور مسلم لیگ ن کے امیدوار نصیر سدھو کی جیت کو ہر صورت ممکن بنایا جائے۔ لیکن اگر بات کسی نابینا کو اغوا کرنے تک آ گئی ہے تو پھر آنکھوں والوں کو ویسے ہی ان کی جیت کا نوٹیفکیشن جاری کر دینا چاہئے
سابق رکن قومی اسمبلی اور این اے30 سے انتخابات میں حصہ لینے والی پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شاندانہ گلزار نے عمران خان کی حکومت کے خلاف غیر ملکی سازش کے حوالے سے ہوشربا انکشاف کردیئے ہیں۔ سینئر صحافی واینکر پرسن معید پیرزادہ نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شاندانہ گلزار کا انٹرویو کیا اور دوران انٹرویو ان سے غیر ملکی سفیر کی ملاقات سے متعلق سوال کیا۔ شاندانہ گلزار نے کہا مجھے ٹریڈ اینڈ کامرس پر بات کرنے کے لیے ایک سفیر کی رہائش گاہ پر بلایا گیا اور مجھے گاڑی اندر لے جانے سے روک دیا گیا، ملاقات میں مجھ سے عمران خان سے حوالے سے پوچھا گیاجس پر میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرا باس ہے، پالیسیوں پر ہمارا اختلاف بھی ہوجاتا ہے مگر اچھا آدمی ہے بات سنتا ہے۔ شاندانہ گلزار نے کہا کہ مجھ سے پاکستان کے معاشی حالات کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے کہا کہ مستقبل بہت روشن ہے، ہماری ایکسپورٹس میں کورونا کے باوجود اضافہ ہوا ہے، ہم 6 فیصد کی شرح سے ترقی کررہے ہیں۔ رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ اس دوران مجھ سے عمران خان کے متبادل کے بارے پوچھا گیا اور کہا گیا کہ کچھ طاقتو ر حلقے یہ چاہتے ہیں کہ آپ پارٹی چھوڑ کر بلاول یا مریم کی پارٹی جوائن کرلیں،میرے لئے یہ جملہ حیران کن تھا ۔ مجھے غصہ بھی آیا کہ کسی ملک کا سفیر ایسے کیسے بات کرسکتا ہے، میں نے کہا کہ ایسی گفتگو سے پرہیز کریں، تو مجھے دو حساس نام لے کر کہا گیا تھا کہ یہ لوگ بھی عمران خان سے خفا ہیں، میں نے جواب دیا کہ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ شاندانہ گلزار نے کہا کہ میں نے جواب دیا کہ مریم کی تعلیم مجھ سے کم ہے اور بلاول کا تجربہ مجھ سے کہیں زیادہ کم ہے، میں کبھی ان کی پارٹی میں نہیں جاؤں گی، جس کے بعد مجھ سے مولانا فضل الرحمان کے بارے میں پوچھا گیا اور کہا گیا کہ وہ بھی پٹھان ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ مں نے اس بارے عمران خان،اسد قیصر اور اسد عمر کو بتایا،غیر ملکی افراد کی میٹنگز صرف میرے ساتھ نہیں بہت سارے لوگوں کے ساتھ ہوئیں۔ ان لوگوں کے ساتھ ڈائریکٹ ایمبسی نے رابطہ کیا تھا۔
سینئر تجزیہ کار کامران خان نے کہا ہے کہ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ عام انتخابات میں ن لیگ کا اکثریتی جماعت بن کر سامنے آنا مشکل ہے اسی لیے نواز شریف نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ آنے والی مخلوط حکومت کے وزیراعظم شہباز شریف ہوں گے۔ اپنے تازہ ترین وی لاگ میں کامران خان نے کہا کہ کسی کو شبہ نہیں ہے کہ انتخابات 2024 فکسڈ ہیں، چند روز قبل تک یہ امکان تھا کہ میاں نواز شریف چوتھی بار ملک کے وزیراعظم بنیں گے، مگر اس دوران ہونے والی پیش رفتوں کے بعد تیزی سے کچھ تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ انتخابات کے بعد وفاقی میں حکومت بنانے کیلئے ن لیگ کو ہر صورت ایم کیو ایم، آئی پی پی اور آزاد امیدواروں کی کمزور بے ساکھیوں پر کھڑا ہونا پڑے گا، نواز شریف اس کمزور اور ایس آئی ایف سی کے سہارے پر کھڑی حکومت کو اپنے کاندھے پر سوار کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ کامران خان نے کہا کہ نواز شریف کا ذہن بن گیا ہے کہ ایسی کمزور حکومت کی سربراہی شہباز شریف کو سونپ دی جائے، اس فیصلے کو اسٹیبلشمنٹ اور ایس آئی ایف سی کی جانب سے بھی بخوشی قبول کیا جائے گا۔ سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ نواز شریف اتنی بڑی قربانی کی ایک سیاسی قیمت بھی وصو ل کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی سیاسی وارث مریم نواز شریف کے پنجاب کی وزیراعلی بننے کی راہ ہموار کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف کے وزیراعظم بننے میں پیپلزپارٹی کی خاموش حمایت بھی کلیدی کردار ادا کرے گی کیونکہ پیپلزپارٹی نے نواز شریف کو چوتھی بار وزیراعظم قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے شہباز شریف کے ساتھ کام کرنے پر مشروط آمادگی ظاہر کی ہے اور اس کے بدلے صدر مملکت کے عہدے کا مطالبہ کردیا ہے، صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی یہ جوڑی اسٹیبلشمنٹ کیلئے قابل قبول ہوگی۔
سابق وفاقی وزیر وسربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید احمد کی طرف سے این اے 56 کے امیدوار پر بانی پی ٹی آئی سے 3 کروڑ روپے میں ٹکٹ خریدنے کے الزام پر پی ٹی آئی رہنما شہریار ریاض نے شدید ردعمل دے دیا۔ شیخ رشید احمد نے الزام عائد کیا تھا کہ راولپنڈی کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے -56 سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار شہریار ریاض کو عمران خان نے 3 کروڑ روپے میں ٹکٹ فروخت کیا ہے۔ شہریار ریاض نے نجی ٹی وی چینل کیپیٹل ٹی وی سے تعلق رکھنے والے صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ: میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان نے شیخ رشید احمد کو ایک سیٹ کے بدلے اتنی بڑی بڑی وزارتیں دیئے رکھیں اور ہزاروں نوکریاں بھی ان کو ملیں لیکن وہ کہاں گئیں یہ الگ سوال ہے لیکن اپنے محسن پر 3 کروڑ روپے کا الزام لگانا انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیخ رشید احمد کے بیان کے بعد پارٹی کارکنوں کی طرف سے متعدد فون آ چکے ہیں، وہ انتہائی غم وغصے میں ہیں کہ عمران خان پر یہ مضحکہ خیز الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس نے 3 کروڑ روپے لے کر مجھے ٹکٹ جاری کیا ہے۔ شیخ رشید احمد کی عمر کا تقاضا ہے کہ وہ ایسے بیانات دے رہے ہیں اور ایسی باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان پر لگائے جانے والے الزام پر فیصلہ ہمارے کارکن اور عوام 8 فروری 2024ء کو اپنے ووٹ کے ذریعے دیں گے۔ شیخ رشید سے کہوں گا کہ تحریک انصاف کے کارکن اور ووٹ بینک کو تقسیم کرنے کی سازش نہ کریں، یہ کامیاب نہیں ہو گی۔ آپ جس کے ایجنڈے پر یہ کام کر رہے ہیں یہ اپنے محسن کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔ واضح رہے کہ شیخ رشید احمد نے انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی راولپنڈی میں طبی معائنے کے بعد ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان نے این اے -56 سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار شہریار ریاض کو ٹکٹ 3 کروڑ روپے میں فروخت کیا۔ ویڈیو بیان میں کہا "خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں، شہریار نے عمران خان سے 3 کروڑ روپے میں ٹکٹ خریدا ہے لیکن انہیں قلم دوست سے مار پڑے گی۔
چیف الیکشن کمشنر پاکستان تحریک انصاف رؤف حسن نے نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے پروگرام اپ فرنٹ ود مونا عالممیں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اکبر ایس بابر ہماری سیاسی جماعت کے ممبر نہیں ہیں۔ ہماری سیاسی جماعت کا جو بھی ممبر ہے رابطہ کے اوپر اس کا نام اور نمبر موجود ہے، پارٹی ممبر کے لیے ہماری جماعت نے ایک سائنٹیفک میکنزم تیار کر کھا ہے۔اکبر ایس بابر صرف اور صرف پاکستان تحریک انصاف کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رؤف حسن کا کہنا تھا کہ انہیں کون پروموٹ کر رہا ہے وہ سب بھی کھل کر سامنے آتے جا رہے ہیں۔ ہماری جماعت کا جو بھی ممبر ہے اس کا نام رابطہ پر موجود ہے، وہ ہمارے پاس آئیں اور رابطہ پر اپنا پارٹی نمبر دکھا دیں تو انٹراپارٹی انتخابات کے لیے میں خود انہیں نامینیشن پیپرز دے دوں گا اور وہ انٹراپارٹی الیکشن میں حصہ لے لیں۔ ہماری جماعت سے غیرقانونی طور پر بلے کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس وقت ہماری جماعت میں کوئی عہدہ نہیں ہے ، پارٹی عہدے دینے کے لیے دوبارہ سے انٹراپارٹی انتخابات کروانا ہوں گے۔ ہم نے جنرل باڈی بنا دی ہے جس کے فیصلوں کے تناظر میں انٹراپارٹی انتخابات کروائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت 5 فروری 2024ء کو دوبارہ سے انٹراپارٹی انتخابات منعقد کرے گی تاکہ پارٹی دوبارہ سے فنکشنل ہوئے اور اس صورت میں شائد الیکشن کمیشن ہمیں ہمارا انتخابی نشان بلا واپس کر دے۔ انٹراپارٹی انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن کو ہمیں انتخابی نشان واپس دینا چاہیے کیونکہ ریزور نشستوں پر ہمارا حق اسی وقت ہو گا جب انتخابی نشان واپس ملے گا۔ چیف الیکشن کمشنر پی ٹی آئی نے کہا کہ 2012ء میں اکبر ایس بابر کو تحریک انصاف سے نکال دیا گیا تھا جس کی باقاعدہ دستاویز بھی ہم جاری کر چکے ہیں۔ اکبر ایس بابر تحریک انصاف کے ممبر نہیں ان کا مقصد صرف پارٹی کو بدنام کرنا ہے، اگر وہ انٹراپارٹی انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو رابطہ پر اپنا پارٹی نمبر دکھائیں تو میں خود انہیں نامینیشن پیپرز دوں گا۔
عام انتخابات 2024: پی ٹی آئی خواتین کوسب سے زیادہ ٹکٹ جاری کرنےوالی جماعت بن گئی عام انتخابات 2024 میں پاکستان تحریک انصاف جنرل نشستوں پر خواتین کوسب سے زیادہ ٹکٹیں جاری کرنے والی جماعت بن گئی ہے، اس معاملے میں ن لیگ سب سے آخر میں نظر آرہی ہے۔ خبررساں ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق عام انتخابات 2024 میں خواتین ووٹرز کی تعدادچھ کروڑ کے لگ بھگ ہے ، عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی تعداد پانچ ہزار سے زائد ہےجن میں خواتین امیدواروں کی تعداد صرف محض تین سو کے قریب ہے۔ رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی میں انتخابات لڑنے والی خواتین کی تعداد355 جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن لڑنے والی خواتین کی تعدادصرف 672 ہے ۔ اس تعداد کو دیکھ کر یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے مرد امیدواروں کےمقابلے میں خواتین کو کم مواقع دیئے، بڑی سیاسی جماعتوں کا موقف ہےکہ انہوں نے پانچ فیصد خواتین کوٹے پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے خواتین کو جاری کردہ ٹکٹوں کےمعاملے پر نظر ڈالی جائے تو خواتین کو سب سے زیادہ ٹکٹیں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جاری کی گئی، صرف قومی اسمبلی کیلئے پی ٹی آئی کی جانب سے 20 خواتین امیدوار میدان میں اتاری گئی ہیں، تاہم اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی کہ متعدد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوچکے کردیئے گئے تھے۔ جبکہ بڑی جماعتوں میں سے جنرل نشستوں میں سے خواتین کو سب سےکم ٹکٹیں مسلم لیگ ن کی جانب سے جاری کی گئی ہیں۔ خیال رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے متعدد خواتین الیکشن لڑرہی ہیں، خیبرپختونخواہ سے شاندانہ گلزار، مومنہ باسط نمایاں ہیں اسی طرح پنجاب سے تحریک انصاف نے ڈیرہ غازی خان سے زرتاج گل، بہاولپور سے کنول شوذب، لودھراں سے عفت طاہرہ سومرو، راولپنڈی سے سیمابیہ طاہرستی کو امیدوار نامزد کیا ہے اسی طرح لاہور سے ڈاکٹر یاسمین راشد، عالیہ حمزہ، اٹک سے ایمان طاہر،سیالکوٹ سے ریحانہ امتیاز ڈار، قصور سے سدرہ فیصل،ملتان سے مہربانو قریشی، وہاڑی سے عائشہ نذیر جٹ، عارفہ نذیر جٹ، لیہ سے عنبرین مجید نیازی میدان میں ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف نے خیرپور سے عنبرین ملک، سانگھڑ سے حمیدہ مسعود شاہ، تھرپارکر سے مہرالنسا بلوچ، مٹیاری سے نازش فاطمہ بھٹی، ٹنڈو الہ یار سے روزینہ بھٹو کو ٹکٹ جاری کیا ہے۔ دادو سے شبانہ نواب بجارانی کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ جاری کیا ہے مسلم لیگ ن کی جانب سے مریم نواز، سائرہ افضل تارڑ، نوشین افتخار، شذرہ منصب،تہمینہ دولتانہ، شہربانو بخاری الیکشن کیلئے میدان میں ہیں، خیبر پختونخوا میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے این اے 29 اور این اے 31 سے صوبیہ شاہد اور این اے خیبر 24 سے فرح خان امیدوار ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے قومی اسمبلی کی جنرل نشستوں پر سندھ سے نفیسہ شاہ اور شازیہ مری کو میدان میں ہیں ہے۔ خیبرپختونخوا میں این اے 4 چارسدہ سے شازیہ طہماس، این اے 38 کرک سے مہر سلطانہ اور این اے 39 بنوں سے فرزانہ شیریں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں۔
سائفر کیس کے تفصیلی فیصلے میں آئین، قانون، دفعات کی بات کم ہے جبکہ الزامات زیادہ ہیں کہ شاہ محمودقریشی اور عمران خان نے یہ کیا وہ کیا، یہ چالاکیاں کیں۔اس میں کہیں یہ ذکر نہیں کہ عمران خان نے سیاست کی تو اس پر کونسی دفعہ لگتی ہے، امریکہ سے تعلقات خراب ہوئے تو کونسی دفعہ لگتی ہے، تاخیری حربے استعمال کئے تو کونسے قانون کی کونسی شق لگتی ہے۔ یہ تفصیلی فیصلہ کم اور الزامات زیادہ ہیں کہ عمران خان اور شاہ محمودقریشی نے سیاست کی، ملک کو نقنصان پہنچایا، ملک دشمن قوتوں کو فائدہ دیا، معیشت کو نقصان پہنچایا، فوج پر الزامات لگائے۔ اپنی حکومت بچانے کیلئے فلاں فلاں حربے استعمال کئے۔ تفصیلی فیصلے میں سب سے زیادہ فوکس اس بات پر ہے کہ پاکستان اورامریکہ کے تعلقات خراب ہوئے ۔ سائفر کیس کے تفصیلی فیصلے کے اہم نکات دونوں مجرمان نے خود ساختہ پریشانیاں بنائیں، ہمدردیاں لینے کے لیے بےیار و مددگار بننے کی کوشش کی۔ سائفر بہت حساس دستاویز ہے جس سے امریکا پاکستان کا ایک دوسرے پر بھروسا بھی جڑا ہے پاک امریکہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کے بعد عمران خان نے پاکستان کی عسکری قیادت پر انہیں اقتدار سے ہٹانے کی سازش کا جھوٹا الزام لگانا شروع کر دیا بین الاقوامی اداروں میں پاکستان کا مؤقف بری طرح متاثر ہوا، عمران خان نے غیر ملکی طاقتوں کو فائدہ پہنچایا، جو ضروری نہیں کہ پاکستان کے ساتھ دوست ہو پراسیکیوشن کے گواہوں پر جرح بھی کی گئی لیکن وہ بغیر کسی مبالغہ آرائی اور کوئی کہانی گھڑے مطمئن، متاثر کُن پُراعتماد اور اپنے موقف پر قائم رہے عمران خان نے ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے سرکاری وکیل کے ساتھ بدتمیزی کی اور فائلیں پھینکیں عمران خان،شاہ محمود کے وکلاء نے قانون کا مذاق بنایا، ان کا رویہ عدالت کے سامنے تھا، نقول فراہمی اور فرد جرم پر دونوں نے دستخط نہیں کیے جس سے نامناسب رویہ ثابت ہوا مجرمان کو جرح کا مکمل موقع دیا گیا لیکن جان بوجھ پرجرح نہیں کی۔ عمران خان نےغیر متعلقہ افراد کے سامنے سائفر کاپی ظاہر کر کے لہرایا جس سے ملک کو نقصان پہنچا عمران خان نے کہا جو کاغذ جلسے میں لہرایا وہ سائفر کی کاپی تھا،عمران خان کا جلسے میں سائفر کاپی ظاہر کر کے لہرانا غیر قانونی قدم تھا عمران خان، شاہ محمود قریشی ہمدردی نہ نرمی کے مستحق ہیں گواہان کے مطابق شاہ محمود قریشی نے جلسوں میں سائفر کے معاملے پر لوگوں کو اکسایا سائفر سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو نقصان پہنچایا گیا سائفر معاملے سے ملک دشمنوں کو فائدہ پہنچا مران خان اور شاہ محمود قریشی نے کیس میں تاخیر کے لئے چھپن چھپائی کا کھیل کھیل عمران خان، شاہ محمود قریشی نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے سائفر کو استعمال کیا، سائفر کو جلسے میں لہرانے سے ملک کے سائفر سسٹم کی سالمیت کو نقصان پہنچا مارچ کو انہوں نے کہا امریکا نے دھمکی دی، اس سے پاک امریکا تعلقات کو نقصان پہنچا، امریکا نے ردعمل میں تین بار کہا کہ عمران خان کا بیان حقیقت پر مبنی نہیں امریکا کے بعد عمران خان نے جھوٹ بولا کہ سازش کے تحت حکومت ختم کی گئی اور افواج پاکستان کو نشانہ بنایا۔ جب بھی عدالتی فیصلے پڑھے تو ہائیکورٹس، سپریم کورٹ کے فیصلوں کے حوالے ملے، کہ فلاں فلاں کیس میں فلاں فلاں فیصلہ تھا یا قانون کے حوالے ہوتے ہیں کہ فلاں شق یہ کہتی ہے، فلاں شق یہ کہتی ہے۔ سائفر فیصلہ سارا پڑھا، ایسا کچھ نہ ملا، لگتا ہے ن لیگ الزامات کو تحریری شکل میں لکھا گیا ہے۔
مفرور اور اشتہاری کو الیکشن لڑنے سے روکنے کی کوئی پابندی آئین میں ہے نہ قانون میں۔ عدالتیں اور ریٹرننگ افسران اپنے طور پر اضافی پابندیاں نہیں لگا سکتے، جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ کا طاہر صادق کیس میں فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ اپنے فیصلے میں لکھتے ہیں کہ اپنی پسند کے امیدوار کو ووٹ دینے کے حق پر کسی بھی قسم کی پابندی نمائندہ حکومت کے دل پر حملہ کرنے کے مترادف ہے میجر طاہر صادق کو الیکشن لڑنے کی اجازت دیتے ہوئے جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا ہے کہ امیدواروں کی اہلیت / نااہلیت کے متعلق اگر آئین یا قانون میں کوئی ابہام ہو تو پھر انتخابی قوانین کی تشریح امیدوار کے حق میں ہی کی جائے گی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اپنی پسند کے امیدوار کو آزادی سے ووٹ دینے کا حق جمہوری معاشرے کی روح ہے، ووٹ دینے کے حق پر کسی بھی قسم کی پابندی منتخب حکومت کے دل پر حملہ کرنے کے مترادف ہے، جمہوریت کا انحصار اس پر ہے کہ عوام منتخب حکومت کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہوں، عوام کے انتخاب پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، عوام کا مینڈیٹ حکومت کی تقدیر بدل سکتا ہے، سپریم کورٹ عوام انتخابی عمل اور ووٹ کے ذریعے جمہوریت اور ملک کے عوامی معاملات میں حصہ لیتے ہیں، اس طرح شہری ووٹ دے کر اپنی پسند کی حکومت کی تشکیل کا انتخاب کرنے کے اپنے حق سے لطف اندوز ہوتے ہیں فیصلے میں سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ایک آزاد ملک میں ووٹ کا حق استعمال کرنے سے زیادہ قیمتی حق اور کوئی نہیں، اگر ووٹ کا حق مجروح ہو رہا ہو تو دیگر تمام حقوق محض خیالی ہیں سپریم کورٹ نے آرٹیکل 17 کی تشریح کرتے ہوئے کہا آرٹیکل 17(2) کے تحت سیاسی جماعت بنانا یا اس کا ممبر منتخب ہونا ہی الیکشن لڑنے کا حق نہیں بلکہ اپنی پسند کے امیدوار کو ووٹ دینا بھی حق ہے، اگر سیاسی انصاف کی آئینی اہمیت کے تحت شہریوں کی اپنی پسند کے نمائندوں کا آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا حق تسلیم نہ کیا جائے تو آرٹیکل 17(2) کھوکھلا ہے، شہریوں کا بطور ووٹر انتخابات میں حصہ لینا جمہوری حکومت کی بنیاد ہے سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ ووٹ کے حق کا استعمال شہریوں کی پسند کا اظہار ہے جس کو آئین کے آرٹیکل 19 سے بھی سپورٹ حاصل ہے، اپنے بنیادی حقوق کا استعمال کر کے شہری اپنی تقدیر کا فیصلہ اپنی پسند کی حکومت بنا کر کرتے ہیں فیصلے کے مطابق امیدوار کا الیکشن لڑنا اور ووٹر کا ووٹ دینا امیدوار کی اہلیت اور نااہلی کو طے کرتا ہے، امیدواروں کی اہلیت اور نااہلی کا تعین کرنے کا مقصد الیکشن لڑنے والے امیدواروں کی دیانتداری اور انتخابی عمل کی افادیت برقرار رکھنا ہے، یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ عوامی عہدہ رکھنے والے کچھ معیارات پر پورا اترتے ہوں، ایک مضبوط جمہوری معاشرے میں اہلیت اور نااہلی کا معیار کی واضح تشریح کی جاتی ہے جس کے بارے عوام کو آگاہی ہوتی ہے اور اس کا یکساں اطلاق کیا جاتا ہے، اہلیت اور نااہلی کا آئین میں واضح طور پر لکھا جانا چاہیے فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ انتخابی قوانین حق رائے دہی کے حق میں بنائے جانے چاہیے تاکہ ووٹرز کے پاس اپنے مستقبل کی قیادت کے انتخاب کے لیے زیادہ سے زیادہ چوائس ہو، ان تمام باتوں کو مدنظر رکھ کر عدالتوں کو کاغذات نامزدگی منظور یا مسترد کرنے کے معاملات کو دیکھنا چاہیے شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ درخواست گزار کے خلاف اعتراض کنندہ اشتہاری مجرم کا الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا، ریکارڈ سے ایسا کچھ ثابت نہیں ہوتا کہ درخواست گزار ایک اشتہاری مجرم ہے، کیس کو سنے بغیر کسی کو اشتہاری مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا، کسی اشتہاری کا صرف اس کے متعلقہ کیس تک ہی تعلق ہوتا ہے اس کا دیگر مقدمات سے کوئی تعلق نہیں بنتا، آئین اور الیکشن ایکٹ میں اشتہاری مجرم کے الیکشن لڑنے پر کوئی پابندی نہیں، الیکشن کمیشن اس بات کو یقینی بنائے کہ درخواست گزار عام انتخابات میں حصہ لے سکے،الیکشن کمیشن چاہے تو اعتراض کنندہ سے کیس کے اخراجات وصول کر سکتا ہے