خبریں

معاشرتی مسائل

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None

طنز و مزاح

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None
انسپکٹر جنرل سندھ پولیس غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں دہلی، ڈھاکہ اور تہران سے کم جرائم ہورہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کراچی شہر میں جرائم کی روز بروز بڑھتی ہوئی وارداتوں کے حوالے سے بڑا دعویٰ کردیا ہے، انہوں نے یہ دعویٰ نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا اور کہا کہ رواں سال کراچی میں ڈکیتی میں مزاحمت پر 58شہریوں کو قتل کیا گیا، قتل کے 41 کیسز کو حل کردیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ 41 کیسز میں ملوث ملزمان یا تو پکڑے گئے یا مارے گئے ہیں،سندھ پولیس نے مجموعی طور پر 53ملزمان کو گرفتار کیاجبکہ 17 ملزمان ہلاک ہوگئے۔ آئی جی سندھ کا مزید کہنا تھا کہ ملزمان کی ای ٹیگنگ کیلئے قانون بنادیا گیا ہے، آئندہ بجٹ میں اس حوالے سے رقم مختص کی جائے گی جس کے بعد 4ہزار ملزمان کو ای ٹیگ کیا جائے گا،پولیس کو ڈیجیٹلائز کیاجارہا ہے اور ڈیٹا اپ گریڈ کیا جارہا ہے، کراچی میں اسمارٹ کیمرے لگانے میں تاخیر ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ کراچی میں جرائم میں ملوث افرادسے سینٹرل جیل بھر گئی ہے، رواں سال کے پہلے پانچ ماہ میں چھ ہزار سے زائدجرائم پیشہ افراد کو کراچی سینٹرل جیل منتقل کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے ٹیکس شرح کو بڑھا کر 14 فیصد تک لانے کا عندیہ دیدیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے چین کے شہر شینزن میں پاک چین بزنس کانفرنس سے خطاب کیا، اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں معیشت کے اعشاریئے مثبت اور درست سمت میں گامزن ہیں، پاکستان میں رواں برس زرعی ترقی کی شرح 6اعشاریہ 2 فیصد رہی ہے،اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں جو پاکستان کی دو ماہ کی برآمدات کیلئے کافی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان معیشت کیلئے افراط زر ایک حقیقی مسئلہ ہے، پاکستان میں افراط زر میں بتدریج کمی آرہی ہے، گزشتہ سال کی 38 فیصد کی افراط زر کی شرح رواں سال 11 فیصد کی سطح پر آگئی ہے،پالیسی ریٹ میں کمی کی بدولت معیشت پر اچھے اثرات مرتب ہورہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے گزشتہ دور میں اسٹینڈ بائی معاہدے کے ذریعے معاشی استحکام کی جو بنیاد رکھی تھی اس کے ثمرات سامنے آرہے ہیں، ہم نے کامیابی سے آئی ایم ایف کا 9 ماہ کا پروگرام مکمل کیا ۔ وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تا کہ ٹیکسوں کی شرح کو موجودہ سطح سے بڑھا کر 13،14 فیصد کی سطح پر لایا جائے گا تاکہ ٹیکس کی شرح مجموعی قومی پیداوا کے تناسب میں آسکے، حکومت برآمدات پر مبنی نمو پر توجہ دے رہی ہے، اسی ضمن میں آج چینی سرمایہ کاروں سے بات چیت ہورہی ہے، ہمارا ماننا ہے کہ خصوصی اقتصادی زونز برآمدات کے فروغ میں اہم کردار اداکرس
سپریم کورٹ آف پاکستان میں نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کیخلاف انٹراکورٹ اپیلوں کی سماعت لائیوسٹریمنگ کے ذریعے براہ راست دکھانے کی درخواست مسترد کرنے کے فیصلے پر بینچ میں شامل جسٹس اطہر من اللہ نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ نیب ترمیم کیس کی کارروائی لائیو دکھانا کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا: بانی پی ٹی آئی ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، وہ کوئی عام قیدی نہیں ہیں، ان کی پیشی کو لائیو دکھانا کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ کے اختلافی نوٹ پر سینئر صحافی وتجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر تنقید کی جس پر سوشل میڈیا صارفین برہم ہو گئے اور ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ عاصمہ شیرازی نے لکھا: عمران خان عام قیدی نہیں، جسٹس اطہر من اللہ ۔۔۔ کیا مقبول رہنماؤں کے لئے آئین میں کوئی خاص شق ہے؟ سینئر صحافی سلمان درانی نے عاصمہ شیرازی کی 2019ء میں میاں نوازشریف اور آصف زرداری کے حق میں کی گئی ٹویٹ کو شیئر کرتے ہوئے اپنے پیغام میں لکھا: صحافت میں دوہرا معیار اسے کہتے ہیں۔ عاصمہ شیرازی کو اپنے ٹویٹ میں کہنا تھا کہ نوازشریف اور آصف زرداری عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں انہیں صحت کی بہتر سہولیات کی ضرورت ہے، جو لوگ انہیں عام قیدی کہتے ہیں ان سے عرض ہے کہ اگر وہ عام قیدی ہوتے تو آج قوتیں ان کی صحت کے ہاتھوں یرغمال نہ ہوتیں۔ سینئر صحافی ارم ضعیم نے بھی عاصمہ شیرازی کا پرانا ٹویٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا: عاصمہ جی کے کرن ارجن ( نواز، زرداری) خاص قیدی تھے لیکن 90فیصد عوام کی نمائندگی کرنے والا عمران خان ایک عام آدمی ہے۔ فرزانہ نامی سوشل میڈیا صارف نے لکھا: پھر سرکاری حاجن کہتی ہے ہمیں لفافہ نہ کہا کرو ، میرے بیٹے کو سکول میں طعنے ملتے ہیں ۔ فہد علی گھمن نے لکھا: اور جب عاصمہ شیرازی کے کرن ارجن مطلب نواز شریف اور زرداری کو عدالتوں سے طبی بنیادوں پر نکل گئے اس کے بعد محترمہ اس سال بھی اپنا حج پکا کرتے ہوئے! اس عورت کو یہ نظر نہیں آیا نواز شریف جب واپس آیا تو اس کو نادرا سے لے کر حوالدار تک ریسیو کرنے گیا تھا حالانکہ وہ عدالت سے مفرور مجرم تھا! سینئر صحافی سلمان درانی نے لکھا: بات اگر نواز شریف مریم نواز یا زرداری بھٹو خاندان کی ہوتی تو ممکن ہے کہ آپ اس ٹویٹ میں پوچھنے کے بجائے عدالت کو آئین و قانون سمجھا رہی ہوتیں۔
ایک طرف ملک بھر میں واپڈا کا نام غیرقانونی طور پر استعمال کرنے والی ہائوسنگ کے خلاف ادارے کی طرف سے قانونی کارروائی کا اعلان کیا گیا ہے تو دوسری طرف ان سوسائٹیوں کی انتظامیہ عرصہ دراز سے عوام کو مختلف ہتھکنڈوں سے لوٹنے میں مصروف عمل ہیں۔ سینئر صحافی وتجزیہ کار مطیع اللہ جان نے ایک ایسی ہی ہائوسنگ سوسائٹی کی متاثرہ خاتون کی درخواست سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر شیئر کر دی جس نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات پر اپنا گھر کا قبضہ چھوڑ دیا اب عدالتوں کے دھکے کھا رہی ہے۔ مطیع اللہ جان نے اپنے پیغام میں لکھا: رقم کا جھانسہ کہیں یا عدالتی حکم؟ 11 مارچ 2020ء کو سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور ریٹائرڈ جسٹس طارق مسعود اور ریٹائر جسٹس منظور احمد ملک پر مشتمل ایک بینچ نے فیصل آباد کی طاہرہ پروین نامی 70 سالہ خاتون کو اپنے مکان کا قبضہ اس شرط پر چھوڑنے کا حکم دیا کہ اسے اور ایک اور فریق کو 1 کروڑ 42 لاکھ روپے 2 مہینے میں ادا کروا دیئے جائیں گے۔ طاہرہ پروین نے 15 مارچ 2020ء کو عدالتی حکم پر فیصل آباد ہائوسنگ کالونی واپڈا سٹی K بلاک میں واقع اپنے مکان کا قبضہ چھوڑ دیا مگر آج تک ان کو سوسائٹی انتظامیہ کی طرف سے رقم کی ادائیگی نہیں کی گئی۔ جعلسازی کے جرم میں ٹرائل کورٹ کی طرف سے 2 ملزموں کو 5،5 سال اور ایک ملزم کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی اور اپیل پر سیشن کورٹ کی طرف سے بھی ان کی سزا برقرار رکھی گئی۔ سپریم کورٹ میں ضمانت منسوخ ہونے پر ملزمان 26 نومبر 2020ء گرفتار کر لیے گئے، ملزموں کو گرفتار کر کے سینٹرل جیل سیالکوٹ میں قید کر دیا گیا مگر خاتون کی بھتیجی کے خاوند فاروق احمد کا کہنا ہے کہ جیل حکام کی طرف سے ان کو بتایا گیا ہے کہ تینوں ملزم (مولوی سعید رامے وغیرہ) قید کاٹنے کے بعد رہا ہو چکے ہیں۔ سول جج گلزیم اسلم نے بھی 16 اپریل 2022ء کو بوڑھی خاتون کے حق میں دعویٰ ڈگری جاری کر دیا تاہم فیصل آباد ہائوسنگ سوسائٹی واپڈا سٹی کی انتظامیہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرنے سے انکاری ہے اور مکان کا قبضہ نہیں دلوا رہی۔ مخالف فریق کی طرف سے خاتون کے حق میں جاری کی گئی اس ڈگری کو بھی آج تک چیلنج نہیں کیا گیا، اجراء کی ڈگری کیلئے دائر کی گئی درخواست پر سول جج فیصل آباد اکرم آزاد کئی سالوں سے تاریخیں دے رہا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ: خاتون کے داماد کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کو اب تک 100 کے قریب خط لکھ چکے ہیں مگر شنوائی نہیں ہو رہی۔ غریب خاتون سپریم کورٹ کے حکم کے جھانسے میں آکر کرائے کے مکانوں اور تھانہ، کچہری کے چکر لگا لگا کر مافیا کے سامنے تھک ہار گئی ہے، اس کے تمام جمع پونجی ختم ہو چکی ہے اور گھر میں فاقوں کے ڈیرے ہیں۔ انہوں نے لکھا: طاہرہ پروین نامی بوڑھی خاتون اب سپریم کورٹ کے ان ججوں کو تلاش کر رہی ہے جنہوں نے اسے سوسائٹی انتظامیہ سے 2 مہینوں کے اندر اندر 1 کروڑ 42 لاکھ روپے کی ادائیگی کروانے کا جھانسہ دیا تھا۔ عدالتی حکم کے جھانسے میں آکر بزرگ خاتون نے مکان کا قبضہ چھوڑ دیا مگر اب وہ ان ججز کو ڈھونڈ رہی ہے جنہوں نے حکم دیا تھا کہ اسے گھر کا قبضہ چھوڑیں رقم آپ کے اکائونٹ میں آ جائے گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ امریکہ میں کھلاڑیوں کی مداحوں سے ملاقات کیلئے 25 ڈالر کی فیس مقرر کرنے پر تنیقد کی زد میں آگیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق قومی ٹیم آئی سی سی ٹی 20 کرکٹ کیلئے امریکہ میں موجود ہے، اس موقع پر پی سی بی نے امریکہ میں پاکستانی کرکٹ مداحوں سے کھلاڑیوں کی ملاقات کا منصوبہ بنایا اور اس مقصد کے حصول کیلئے ایک ہوٹل میں نجی ڈنر کا انعقاد کیا گیا۔ کرکٹ مداح جب اس ہوٹل میں اپنے کرکٹ پرستاروں سے ملنے کیلئے پہنچے تو انہیں 25 ڈالر کی انٹری فیس کا سن کر دھچکا لگا اور کئی کرکٹ مداح اس وجہ سے کرکٹرز سے ملے بغیر ہی واپس چلے گئے۔ اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد پی سی بی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، سابق کپتان اور وکٹ کیپر راشد لطیف نے بھی پی سی بی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ راشد لطیف نے کہا کہ ورلڈ کپ کے دوران یا اس سے قبل کھلاڑی کیسے کسی سے مل سکتے ہیں؟ اور وقت کیسے ضائع کرسکتے ہیں؟ بورڈ ایسے ڈنرز کی اجازت کیوں دیتا ہے؟ راشد لطیف نے کہا کہ کمرشل ڈنر میں شرکت کیلئے پریکٹس سیشن کی ٹائمنگز تبدیل کردی جاتی ہیں, مہربانی کریں اور کرکٹ پر توجہ دیں پیسہ خود بخود آجائے گا۔
ملک بھر میں غیرقانونی ہائوسنگ سوسائٹیوں کا جال تو پہلے ہی پھیلا ہوا ہے اب انکشاف ہوا ہے کہ مختلف سوسائٹیاں واپڈا کا نام غیرقانونی طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایسی ہائوسنگ سوسائٹیوں کا انکشاف کیا گیا ہے جو غیرقانونی طور پر واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کا نام استعمال کر رہی ہیں۔ واپڈا کی طرف سے ایسی سوسائٹیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا گیا ہے جو ادارے کا نام غیرقانونی طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ واپڈا کی طرف سے قانونی کارروائی کرنے کے لیے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی اور رجسٹرار کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹیز سے رابطہ کیا گیا ہے اور بڑے بڑے شہروں میں ایسی سوسائٹیز کے نام بھی جاری کیے گئے ہیں جو واپڈا کا نام غیرقانونی طور پر استعمال کر رہے ہیں، یہ سوسائٹیاں واپڈا ایمپلائز کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی کے نام سے کام کر رہی ہیں۔ واپڈا کا نام غیرقانونی طور پر استعمال کرنے والی ہائوسنگ سوسائٹی میں واپڈا ایمپلائز کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی فیصل آباد، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، سرگودھا، قصور، اسلام آباد اور واپڈا ایمپلائز کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی لمیٹڈ بھی شامل ہے۔ واپڈا ایمپلائز ہائوسنگ سوسائٹی لمیٹڈ پشاور، کوئٹہ اور کراچی کی ہائوسنگ سوسائٹیوں میں واپڈا ورکرز اینڈ آفیسرز کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی حیدرآباد، کے پی آئی کراچی اور واپڈا ایمپلائز کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی (سدرن زون) بھی شامل ہیں۔ واپڈا حکام کا کہنا ہے کہ ادارے کا نام غیرقانونی طور پر استعمال کرنے والی سوسائٹیوں میں واپڈا سٹی گوجرانوالہ اور فیصل آباد بھی شامل ہیں، ان سوسائٹیز میں لوگوں کے سرمایہ کاری کرنے کی صورت میں کسی بھی نقصان ہونے یا واجبات کی ادائیگی کے لیے واپڈا ذمہ دار تصور نہیں ہو گا۔ حکام کے مطابق صرف واپڈا ٹائون کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹی لاہور واپڈا کا نام استعمال کرنے کی مجاز ہے۔ واپڈا حکام کے مطابق واپڈا ٹاؤن کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور کے علاوہ ملک کے کسی بھی حصے میں موجود کسی بھی ہائوسنگ سوسائٹی کا واپڈا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ واپڈا کا نام استعمال کرنے والی ایسی کسی بھی ہائوسنگ سوسائٹی یا فرد کی طرف سے واپڈا کا نام استعمال کرنا عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے اور اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سندھ حکومت نے صوبے میں تعینات اسسٹنٹ و ڈپٹی کمشنرز کیلئے سینکڑوں کی تعداد میں لگژری گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت صوبے میں غربت اور بے روزگاری کو نظر انداز کرتے ہوئے افسران پر مہربان ہوگئی ہے اور اسسٹنٹ و ڈپٹی کمشنرز کیلئے نئی گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔ خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے رواں مالی سال کےفنڈ ز میں شہری علاقوں کے اسسٹنٹ کمشنرز اور دیہی علاقوں کے ڈپٹی کمشنرز کیلئے لگژری گاڑیاں خریدنے کیلئے فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سندھ کے شہری علاقوں میں تعینات اسسٹنٹ کمشنزر کیلئے 1300 سی سی ٹویوٹا یارس خریدی جائیں گی جبکہ دیہی علاقوں میں فرائض سرانجام دینے والے اسسٹنٹ کمشنرز کیلئے ٹویوٹا ہلکس ڈبل کیبن اسٹینڈرڈ ایڈیشن خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبے کے اضلاع اور سب ڈویژنز میں تعینات ڈپٹی کمشنرز کو اس سے بھی مہنگی گاڑیاں فراہم کرنے کافیصلہ ہوا ہے۔ صوبائی وزیر برائے ترقی و منصوبہ بندی سید ناصر حسین شاہ نے اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سرکاری ڈیوٹیز کیلئے گاڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے، حکومت عیش و عشرت پر پیس ضائع نہیں کررہی، رواں مالی سال کے بجٹ میں اس کیلئے پہلے ہی فنڈز مختص کیےجاچکے ہیں۔
ملک کے لئے خوشی کی خبر سامنے آگئی, معیشت مضبوط اور ملک درست سمت میں جا رہا ہے, پسوس پاکستان کے حالیہ سروے میں حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا، جن کا خیال ہے کہ ملک درست سمت میں جا رہا ہے، اور معیشت بھی مضبوط ہو رہی ہے۔ تازہ سروے میں چاروں صوبوں ، وفاق، گلگت بلتستان، اور آزاد کشمیر کے لوگوں سے حالیہ ملکی سیاسی حالات و واقعات سے متعلق سوالات پوچھے گئے۔ سروے میں پوچھا گیا کہ آپ کے خیال میں کیا پاکستان کے حالات درست سمت میں جا رہے ہیں یا غلط سمت میں جا رہے ہیں؟سروے کے مطابق حکومتی پالیسیوں پراعتماد کرنے والوں کی تعداد 12 فیصد سے بڑھ کر 18 فیصد ہوگئی ہے جبکہ پاکستان کی سمت درست سمجھنے والوں کی تعداد میں بھی بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سروے میں ملک میں مہنگائی کو بڑا مسئلہ سمجھنے والوں کی تعداد کم ہوکر 34 فیصد رہ گئی ہے جو گزشتہ تین برس کی سب سے کم شرح ہے اور ملک کی موجودہ معاشی حالت کو مضبوط سمجھنے والوں کی تعداد بھی 4 گنا اضافے کے ساتھ 4 فیصد سے بڑھ کر 16 فیصد ہوگئی ہے۔ نئے سروے کےمطابق اپنے لیے روزانہ کی گھریلوخریداری آسان سمجھنے والوں کی تعداد بھی چار فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ایسے پاکستانیوں کی تعداد بھی 11 فیصد سے بڑھ کر 15 فیصد ہوگئی ہے جو خود کو سیونگز کیلئے پُراعتماد سمجھتے ہیں۔ سروے کے مطابق اپنی ملازمت محفوظ سمجھنے والوں کی تعداد بھی 12 فیصد سے بڑھ کر 15 فیصد ہوگئی ہے جبکہ ملک میں صارفین کے اعتماد کے اشاریے میں 8 مثبت پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد مجموعی طور پر صارفین کے اعتماد کا موجودہ اشاریہ تین سال کا سب سے بہترین آؤٹ لُک ہے۔
جرمنی نے ملکی سیکیورٹی کیلئے خطرہ بننے والے افغان باشندوں کو ملک بدر کرنے کا عندیہ دیدیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق یہ پیش رفت جرمنی میں گزشتہ ہفتے چاقو حملے میں ایک پولیس افسر کی ہلاکت کے بعد اس وقت سامنے آئی جب جرمن وزارت داخلہ نے ہجرت پر سخت لائحہ عمل اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس حوالے سے جرمن وزیر داخلہ نینسی فیزرر کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ کئی مہینوں سے اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس معاملے پر جلد از جلد فیصلہ کرلیا جائے گا۔ نینسی فیزر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ جرمنی کی سلامتی کیلئے ممکنہ طور خطرہ بن سکتے ہیں انہیں فوری طور پر ملک بدر کیا جانا چاہیے، ان لوگوں میں افغانستان اور شام کے تارکین وطن شامل ہیں، میں اس بات پر پوری طرح اٹل ہوں کہ ان لوگوں کے مفادات سے زیادہ جرمنی کے سیکیورٹی مفادات اہم ہیں۔ خیال رہے کہ جرمنی کے شہر مانہیم میں جمعہ کے روز ایک اسلام مخالف تقریب منعقد کی گئی جس میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ نوجوان نے لوگوں پر چاقو سے حملہ کردیا، حملے میں 6 افراد زخمی ہوئے ، زخمیوں میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل تھا جو زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
لاہور میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی(ایف آئی اے) ملازمین کی جانب سے ملزمان سے رشوت لینے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے ملازمین نے لاہور میں تفتیش کے نام پر ملزمان سے ساز باز کرنا شروع کردی ہے۔ رشوت ستانی کا واقعہ سائبر کرائم سرکل کے ایک ملازم کے حوالے سے سامنے آیا ہے، ذرائع کہنا ہے کہ ملازم ذیشان نے ملزم اویس ظفر کی گھر والوں سے بات کروائی اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے تمام ثبوت ڈیلیٹ کروادیئے۔ ذیشان نے اس کے بدلے ملزم اویس سے پانچ ہزار روپے رشوت لی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے سائبرکرائم سرکل کی جانب سے گرفتار کیے گئے ملزم اویس ظفر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سیدہ مہرین کے نام سے اکاؤنٹس بنا رکھا تھا اور ملزم لوگوں کو گستاخانہ مواد تیار کرنے پر اکساتا تھا، ایف آئی اے کی جانب سے گرفتاری کےبعد ملازم ذیشان نے رشوت لے کر ملزم کی گھر والوں سے بات کرواکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے سارے ثبوت ڈیلیٹ کروادیئے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکیل نے انکشاف کیا کہ انہیں امریکی جیل میں مسلسل جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جارہا ہے، حال ہی میں ایک گارڈ نے سزا کے طور پر انکے ساتھ زیادتی بھی کی, ٹیکساس کی فورٹ ورتھ‎ جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ کے وکیل کلائیو اسٹیفورڈ اسمتھ نے اُن سے ملاقات کے بعد زیادتی کا انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے جمعرات اور جمعہ کے روز عافیہ سے ملاقات کی، اس دوران درمیان میں شیشے کی دیوار حائل ہوتی ہے اور فون پر ساری گفتگو ہوتی ہے,وکیل کلائیو اسٹیفورڈ کا کہنا تھا کہ تمام ملاقاتوں میں فون درست طریقے سے کام نہیں کررہا تھا اور ہم فون پر ایک دوسرے سے چیخ چیخ کر باتیں کررہے تھے۔ جیل حکام سے شکایت کرنے کے بعد دوسرا فون دیا گیا۔ عافیہ صدیقی کے وکیل نے بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ کو اب بھی فورٹ ورتھ کی جیل میں مسلسل جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ڈاکٹر عافیہ کو ابھی بھی دو ہفتوں قبل ایک گارڈ نے سزا کے طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ڈاکٹر فوزیہ کی رہائی سے متعلق وہ کافی پرامید ہیں۔ وہ آج واشنگٹن جارہے ہیں جہاں ان کی ملاقاتیں کچھ ایسے افراد سے طے ہیں جو کہ وائٹ ہاؤس کو اس سلسلہ میں آگاہی دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے جمعرات اور جمعہ کے روز عافیہ سے ملاقات کی، اس دوران درمیان میں شیشے کی دیوار حائل ہوتی ہے اور فون پر ساری گفتگو ہوتی ہے,وکیل کلائیو اسٹیفورڈ کا کہنا تھا کہ تمام ملاقاتوں میں فون درست طریقے سے کام نہیں کررہا تھا اور ہم فون پر ایک دوسرے سے چیخ چیخ کر باتیں کررہے تھے۔ جیل حکام سے شکایت کرنے کے بعد دوسرا فون دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اتوار کو جب ڈاکٹر عافیہ سے ان کی بہن فوزیہ کی ملاقات ہوئی تو عافیہ زار و قطار رو رہی تھیں اور جیل حکام عافیہ کو وہاں سے لے گئے مگر ان کی بہن جو کہ سامنے دوسرے کمرہ میں تھیں وہ ان کو بھول گئے۔ اس طرح ڈاکٹر فوزیہ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے اس کمرے میں بند رہیں۔
سابق رہنما پاکستان مسلم لیگ ن مفتاح اسماعیل نے نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے پروگرام فیصلہ آپ کا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشی بحران تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اس بجٹ کے بعد مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا اور عوام پر بوجھ پڑے گا۔ حکومت نے رواں سال بھی ضائع کر دیا، جب تک حکومتی اور صوبوں کے اخراجات کم نہیں ہوتے اور طاقتور طبقوں پر ٹیکس عائد نہیں ہوتا مسائل حل نہیں ہوں گے، موجودہ حکومت اپنے سائے سے بھی ڈرتی ہے۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کوئی کام نہیں کر سکتی، نیٹ میٹرنگ کے فیصلے سے دبائو پر پیچھے ہٹ گئے، جس حکومت کے پاس کوئی مینڈیٹ نہ ہو اور اپنے سائے سے بھی ڈرتی ہوئی وہ اصلاحات کیسے کر سکتی ہے؟ دوسری طرف آئی ایم ایف بھی زبردستی کر رہی ہے۔ سیاسی بحران معاشی مسائل حل کرنے کیلئے ضروری ہے تاہم دونوں حریف اوپر رہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر سیاسی کمپی ٹیشن سے بہتری آتی ہے تاہم جو کچھ اس وقت چل رہا ہے اس میں صرف عوام پس رہی ہے، پاکستان میں بجلی کا بل عوام کی انکم کے 40 فیصد سے بڑھ چکا ہے۔ گرمیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور سردیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ شروع ہو جاتی ہے، معاشی مسائل کا حل سیاسی بحران کے حل کرنے میں ہی ہے۔ پروگرام میں شریک سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ عوام نے حکومت کو ووٹ کرسی پر بیٹھنے کے لیے نہیں دیئے، عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتے تو استعفیٰ دیں، گھر جائیں، کسی اور کو موقع دیں یہی سیاست ہے۔ موجودہ حکومت میں کوئی صلاحیت نہیں ہے، یہ کچھ نہیں کر سکتی، نظام بھی حکومت نے ہی درست کرنا ہوتا ہے، اس کے لیے باہر سے کوئی نہیں آئے گا۔ شاہد خاقان عباسی کا تحریک انصاف سے مذاکرات بارے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کون نہیں جانتا کے ملک کے مسائل کیا ہیں؟ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہ، چیف جسٹس آف پاکستان اور آرمی چیف کیا یہ مسائل نہیں جانتے؟ یہ ایک ساتھ نہیں بیٹھ سکتے؟ اگر ان میں ہی تفریق ہو گی تو کیسے چلے گا؟ آئین میں ملک کے لیے ان سب کے ایک جگہ پر بیٹھنے پر پابندی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان ایک حقیقت ہے انہیں بھی ساتھ بٹھانا پڑے گا، جیل میں کیوں ہے پتہ نہیں؟ ہم بھی جیل میں رہ چکے ہیں، ملک کا ہر وزیراعظم جیل جاتا ہے یہ کوئی بات نہیں ہے۔ سیاسی جماعت تو باہر موجود ہے جو بات کر سکتی ہے اور طے کر سکتی ہے کہ ملک کو آگے کیسے لے کر جا سکتے ہیں؟ ملک میں اگر معاشی بحران آتا ہے تو کیا اس سے عمران خان کو کوئی فائدہ پہنچے گا؟
اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیوی کے سابق افسران کی سزائے موت کے فیصلےپر عمل درآمد روکنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابرستار نے نیوی کے پانچ سابق افسران کے کورٹ مارشل میں سزائے موت کے فیصلے کے خلاف درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 9 اور 10 اے ہر شہری کو زندگی جینے اور فیئر ٹرائل کا حق فراہم کرتا ہے، اس نکتے کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست کے زیر سماعت ہونے تک ملزمان کی سزائے موت پر عمل درآمد نا کیا جائے۔ عدالتی فیصلے میں چیف آف نیول اسٹاف کا موقف تین ہفتوں میں سربمہر لفافے میں عدالت میں جمع کروانےکی ہدایات بھی دی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ درخواست گزاران کے مطابق انہیں جنرل کورٹ مارشل کے دوران وکیل کی معاونت کی اجازت نہیں تھی، ملزمان سے کورٹ آف انکوائری کی دستاویزات اور شواہد بھی شیئر نہیں کیے گئے اور سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل اور نظر ثانی کی درخواست بھی مسترد کردی گئی۔ دوران سماعت اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ دستاویزات تک رسائی دینے کا اختیار صرف چیف آف نیول اسٹاف کے پاس ہیں اور دستاویزات تک رسائی کو ریاست کے مفادات کیلئے خطرہ سمجھتا جاتا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ چیف آف نیول اسٹاف کا موقف وجوہات کے ساتھ عدالت میں جمع کروایا جائے اور بتایا جائے کہ دستاویزات تک رسائی ریاست کو ریاست کے مفادات کے برخلاف کیوں سمجھا جاتا ہے، عدالت نے کیس کی سماعت یکم جولائی تک کیلئے ملتوی کردی۔
پولیس اور انتظامیہ کی نااہلیوں کے باعث جرائم پیشہ افراد کے حوصلے بڑھنے لگے اور بے خوف ہو کر دن دیہاڑے شہریوں پر تشدد کرنے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فیصل آباد کے علاقے بٹالہ کالونی میں قائم ایک بیوٹی پارلر میں چند خواتین سمیت ایک نامعلوم شخص حملہ آور ہو گئے اور آمنہ اور ثوبیہ نامی خواتین نے شبانہ نامی بیوٹیشن پر تشدد کرکے اس کے کپڑے پھاڑ ڈالے۔ شبانہ کا کہنا تھا کہ آمنہ اور ثوبیہ نے اس پر بری طرح تشدد کیا اور گلا بھی دبانے کی کوشش کی جبکہ گلے سے سونے کی چین اتار کر لے گئے، واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شبانہ نامی خاتون اس بیوٹی پارلر پر بطور بیوٹیشن کام کرتی ہے جہاں پر آمنہ اور ثوبیہ ایک نامعلوم شخص کے ساتھ رکشہ پر سوار ہو کر آئے اور آتے ہی ثوبیہ نے شبانہ پر حملہ کر دیا اور گلے سے پکڑ کر صوفے پر گرا دیا اور اس کا گلا دبانے کی کوشش کی۔ ثوبیہ نے اس پر تھپڑ برسائے اور آمنہ نے اس کی سونے کی چین اس کے گلے سے اتار لی، بیوٹی پارلر کے عملے نے روکا تو طاہرہ نامی بیوٹیشن پر بھی تشدد کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ لڑائی جھگڑا بڑھتے دیکھ کر باہر سے کچھ مقامی افراد آئے جنہوں نے ان خواتین کو روکنے کی کوشش کی تو خواتین کی طرف سے ان پر بھی حملہ کیا گیا۔ ملزمان خاتون کو گھسیٹ کر بیوٹی سیلون سے باہر لے آئی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہو گئے، ثوبیہ اسی بیوٹی سیلون پر کام کرتی تھی جس نے 2 مہینے پہلے ہی کام چھوڑا تھا اور شبانہ کو جسم فروشی کا دھندا کرنے پر اکساتی تھیں۔ شبانہ نامی خاتون نے تھانہ بٹالہ کالونی میں مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست جمع کروا دی ہے جس میں اس نے بتایا کہ خواتین کے تشدد سے میرے بائیں گل، بازو اور ہتھیلی پر چوٹیں آئیں جبکہ آمنہ نے واپر کےساتھ طاہرہ فرحت پر متدد وار کیے جس سے اس کا بایاں بازو اور ہتھیلی زخمی ہو گئے۔ بیوٹی پارلر کے مالک اظہر علی نے موقع پر پہنچ کر ان کی جان بخشی کروائی جبکہ اس موقع پر 3 نامعلوم اسلحہ بردار افراد باہر موجود تھے اور لوگوں کو آتے دیکھ کر دھمکی دیتے ہوئے فرار ہو گئے۔
شہری سے جھگڑا کرنے والے سب انسپکٹر محمد ارشد کو معگل کرنے کا حکم جاری کر دیا گیا: ذرائع دنیا بھر میں اپنے شہریوں کو سہولتیں دینے کے لیے ادارے قائم کیے جاتے ہیں مگر پاکستان میں الگ ہی نظام چل رہا ہے جہاں مختلف اداروں کے لوگ اپنے ہی شہریوں کے لیے تکالیف کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبائی دارالحکومت کراچی میں واقع ایک پاسپورٹ آفس کے قریب ٹریفک پولیس ولفٹنگ کے عملے کی طرف سے ایک شہری کے ساتھ بدمعاشی کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں وہ شہری کو موٹرسائیکل سمیت لفٹر گاڑی میں ڈال کر تھانے لے گئے۔ ذرائع نے کراچی میں قائم ایک پاسپورٹ آفس کے قریب سے ٹریفک پولیس کے عملہ نے ایک شہری کا موٹرسائیکل لفٹر کے ذریعے اٹھانے کی کوشش کی تو شہری پہلے لفٹر کے سامنے لیٹ گیا اور اس کے بعد موٹرسائیکل کے اوپر ہی بیٹھ گیا۔ ٹریفک پولیس کے عملے نے موٹرسائیکل کو شہری سمیت اٹھا لیا اور گاڑی میں ڈال کر لے گئے جس کی فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہری ٹریفک پولیس کے عملے کو موٹرسائیکل اٹھانے سے منع کر رہا تھا، واقعہ سوموار کے دن دوپہر کے وقت پیش آیا، شہری نے بعددازاں معافی نامہ جمع کروایا جس کے بعد اسے موٹرسائیکل لوٹا دی گئی۔ ڈی آئی جی ٹریفک احمد نواز نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا اور شہری سے جھگڑا کرنے والے سب انسپکٹر محمد ارشد کو معگل کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی ٹریفک کی طرف سے سیکشن آفیسر کو شوکاز نوٹس بھی جاری کرنے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ کراچی میں ایسے واقعات آئے روز پیش آتے رہتے ہیں جن میں خاص طور پر صدر موبائل مارکیٹ، زینب مارکیٹ میں موٹرسائیکل لفٹنگ کی جاتی ہے اور 300 روپے لے کر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
صرف پاکستان تحریک انصاف ہی ایک حقیقی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی، باقی جماعتیں بوقت ضرورت بنائی گئیں, شاہد خاقان عباسی سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں پی ٹی آئی واحد حقیقی سیاسی جماعت تھی،باقی جماعتیں بوقت ضرورت بنائی گئیں,وی نیوز کو انٹرویو میں شاہین خاقان نے کہاہمارے حکمرانوں میں صلاحیت کی کمی ہے، جب حکومت میں صلاحیت نہ ہو تو اسٹیبلشمنٹ کو موقع مل جاتا ہے، میرے دور میں اسٹیبلشمنٹ نے دھرنے کرائے، سینیٹ الیکشن چوری ہوا لیکن میں اپنا کام کرتا رہا,اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ جماعتیں ہی اقتدار میں آتی ہیں لیکن ہم اقتدار چھوڑ کر یہاں آئے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہا عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کی لڑائی ذاتی نہیں، مقصد اقتدار کا حصول ہے۔ جب عدلیہ سیاست میں حصہ لے تو ملک کو بہت نقصان پہنچتا ہے، ہم سب کو اپنی کرسیاں چھوڑ کر ملک کی بات کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن سے کوئی ناراضی نہیں ہے، میرا 35 سال کا تعلق ہے اور میں جماعت کے سینیئر ترین لوگوں میں شمار تھا۔ اب میں اس سیاست سے اتفاق نہیں کرتا جس کا چناؤ اس وقت مسلم لیگ ن نے کیا ہے۔ ن لیگ کے منحرف رہنما نے کہا کہ نواز شریف جب بھی حکم کریں گے میں حاضر ہو جاؤں گا، میں چاہتا ہوں کہ رشتہ قائم رہے۔ ہم ووٹ کو عزت دو کی سیاست کے ساتھ تھے لیکن آج کی سیاست کچھ اور ہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ 30 سالوں میں صرف پاکستان تحریک انصاف ہی ایک حقیقی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی۔ باقی جماعتیں بوقت ضرورت بنائی گئیں۔ اس وقت بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ کوئی نئی سیاسی جماعت ہونی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ میری سیاسی جماعت 3 سے 4 ہفتوں میں قیام ہو جائے گا اس کا نام ‘عوام پاکستان’ ہو گا، پارٹی کے باضابطہ اعلان کے بعد سب کے پاس جائیں گے اور اس میں شمولیت کی دعوت دیں گے۔ چاہتے ہیں لوگ ہماری جماعت اور دیگر جماعتوں میں فرق محسوس کریں. انہوں نے کہا شہباز شریف حکومت نہیں چلا پارہے تو استعفیٰ دیں اور گھر چلے جائیں، ہماری جماعت میں دیانتدار اور باصلاحیت لوگ شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا کام ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ عوام نے کس کو مینڈیٹ دیا ہے، اتنی واضح مثالیں موجود ہیں کہ الیکشن چوری ہوا ہے، عوام ایک مرتبہ غلط فیصلہ کرے گی، پھر کچھ بہتر فیصلہ کرے گی اور اسی دوران ہو سکتا ہے کہ عوام سے صحیح فیصلہ بھی ہوجائے۔
متحدہ قومی موومنٹ(ایم کیو ایم) پاکستان نے کراچی شہر میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کیلئے ہر شہری کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق یہ مطالبہ ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال کیا جانب سے میڈیا سے گفتگو کے دوران سامنے آیا ، مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی شہر کے گلی محلوں میں ہم بیئریئر لگانے والے ہیں، آپ ہر شہری کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دیں، آپ کچھ نہیں کرسکتے تو ہم اپنی حفاظت کرنا جانتے ہیں، ہم کب تک اپنے نوجوانوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کراچی میں کھلے عام نوجوانوں کو قتل کیا جارہا ہے، اسٹریٹ کرائمز کے ذریعے ہماری نسل کشی ہورہی ہے، اس وقت شہر میں ظلم انتہا کو پہنچ چکا ہے، گولڈ میڈلسٹ کو سرعام گولی ماردی جاتی ہے، جن کا جوان بچہ قتل ہوجائے ان بوڑھے والدین کو کیا تسلی دی جائے گی، بڑھتے ہوئے مظالم کو مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ شہری علاقوں کا کوٹہ چھین کر دوسروں کو دیا جارہا ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے بتائیں کہ شہر میں امن کہاں ہیں، جس جگہ ہم سیکیورٹی فراہم کرسکتے ہیں ہم کریں گے، ایک سازش کے تحت نوجوانوں کو چن چن کر مارا جارہا ہے، نس کشی کا پلان بنایا گیا اور شہری 40 فیصد دیہی 60فیصد کا کوٹہ بنایا گیا، ریاست چلانےو الوں سے حشر کے روز حساب لیا جائے گا۔
پشاور بی آرٹی بس میں چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں میں جرائم پیشہ خواتین کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پشاور پولیس نے بی آرٹی بس میں بڑھتی ہوئی چوری کی وارداتوں میں ملوث جرائم پیشہ خواتین کی تصاویر بس اسٹیشنز پر آویزاں کردی ہیں۔ اس حوالے سے پشاور کے ایس ایس پی آپریشنز کاشف ذولفقار کا کہنا ہے کہ چوری کی وارداتوں میں ملوث خواتین کی تصاویر آویزاں کی گئیں ہیں جبکہ بی آرٹی کی ڈیجیٹل اسکرینز پر 23 خواتین کی تصاویر نشر بھی کی جارہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ خواتین بی آرٹی بس میں خواتین سے پرس چھیننے، موبائل فونز اور دیگر قیمتی سامان چوری کرنے میں بھی ملوث ہیں، عوام ان خواتین کی گرفتاری میں پولیس کی مدد کریں۔
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا ہے کہ ہمارے یہاں احتساب کا جامع نظام ہونا چاہیے ، ججز ، جرنیل اور بیوروکریٹس ، سیاستدانوں کا بلا امتیاز احتساب ہونا چاہیے۔ تفصیلات کے مطابق گورنر پنجاب سدار سلیم حیدر اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ایف پی سی سی آئی لاہور کا دورہ کیا، اس موقع پر گورنر پنجاب نے ایف پی سی سی آئی کے ممبران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سزا و جزا کے عمل کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، ایران اور چین میں کرپٹ لوگوں کو لٹکایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ملک میں بھی احتساب کا ایسا جامع نظام ہونا چاہیے جہاں سب کا احتساب ممکن ہوسکے، ججز ، جرنیلوں ، بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کا بلا امتیاز احتساب ہونا چاہیے۔ اس موقع پر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ جب تک فاٹا کے لوگوں کو سہولیات نہیں دی جائیں گی انہیں ٹیکس زون میں کیسے لایا جاسکتا ہے؟ ریاست نے جو وعدے کیے تھے فاٹا کے لوگوں کو وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں وگرنہ حالات خراب ہوجائیں گے، ملک میں زراعت اور صنعت کے شعبوں کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں غیر ملکی ہائی کمیشن کی خاتون اہلکار نے ٹریفک سگنل توڑ کر پولیس اہلکار پر گاڑی چڑھادی ہے۔ تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر اس ووقت پیش آیا جب غیر ملکی ہائی کمیشن کی اہلکار نے پولیس کانسٹیبل پر گاڑی چڑھادی جس سے کانسٹیبل عامر کاکڑ زخمی ہوگئے اور ان کی موٹر سائیکل مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عامر کاکڑ کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے،حادثے کے حوالے سے ضابطے کی کارروائی اور تفتیش شروع کردی گئی ہے۔ واقعہ کے حوالے سے آئی جی اسلام آباد نے نوٹس لیتے ہوئے زخمی کانسٹیبل کو بہترین علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔