خبریں

معاشرتی مسائل

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None

طنز و مزاح

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None
پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سنگل بینچ نے آج لاپتا شہریوں کے کیسز کی سماعت کے دوران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو عدالت طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں آج لاپتہ افراد کے کیسز کی سماعت کے دوران جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ایسے کیسز کی تعداد میں اضافے اور پولیس و سی ٹی ڈی حکام کی طرف سے لاپتہ شہریوں کی رہائی کیلئے پیسے طلب کرنے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو طلب کر لیا ہے۔ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس اشتیاق ابراہیم کا لاپتہ افراد کے کیسز کی سماعت کے دوران کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور خیبرپختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ ہیں انہیں خود آکر عدالت میں اس حوالے سے پیش ہونا چاہیے۔ کیس کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں لاپتہ افراد کے کیسز روزبروز بڑھتے جا رہے ہیں، گلبرگ سے صوابی کے رہائشی کو اغوا کر کے پولیس کی طرف سے 70 لاکھ روپے طلب کیے جا رہے ہیں۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کیسز کی سماعت کے حکم نامے میں کہا ہے کہ بہت سے لاپتہ شہریوں کے رشتہ داروں کی طرف سے پولیس وسی ٹی ڈی حکام کے اس معاملے میں ملوث ہونے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔ پولیس وسی ٹی ڈی پر الزام ہے کہ وہ ان لاپتہ شہریوں کو رہا کرنے کے بدلے میں بھاری رقوم کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ایک سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات میں پولیس کے خلاف شکایات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور آئے دن ایسے الزامات لگ رہے ہیں جس کے بعد عدالت کے پاس اب کوئی دوسرا حل نہیں ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو عدالت میں طلب کر لیا جائے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ان واقعات پر خیبرپختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ان پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، عدالت کو بتایا جائے کہ اس سلسلے میں وہ کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ اور اب تک ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ عدالت نے اپنے حکم نامے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو 22 جولائی 2024ء کو طلب کیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ کہا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے والے عناصر کو جمہوریت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے پارلیمانی پارٹی کے لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی نے مری میں پارٹی صدر میاں نواز شریف سے ملاقات کی اور انہیں پارلیمانی پارٹی کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ اس موقع پر نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک میں تباہی اور ہر شعبے کے زوال کا سلسلہ 2018میں شروع ہوا، امید ہے کہ مخلص اور محنتی قیادت ان مشکلات پر قابوپالے گی، سرمایہ کاری اور ترقی و خوشحالی کا گہرا تعلق امن و امان سے ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک پاکستان کو بدنام کرنے والے اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے والے عناصر کو جمہوریت سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے سیکیورٹی اداروں کی مکمل حمایت کی جائے۔
صحافی طارق متین نے فارم 45 ، فارم 46 کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی غلط بیانی کا پول کھول دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق صحافی طارق متین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں پہلے انہوں نے الیکشن کمیشن کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں الیکشن کمیشن نے ویب سائٹ پر تمام حلقوں کے فارم 45 اور فارم 46 موجود نا ہونے کے الزامات کی تردید کی تھی۔ اس بیان میں ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ تمام حلقے بشمول پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 159 کے فارم 45 اور فارم 46 الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ طارق متین نے اس کے بعد الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کھولی اور اس میں سے پی پی 159 کے فارم 45 اور فارم 46 ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر انہیں کامیابی نہیں ہوئی کیونکہ ویب سائٹ پر اس حلقے کے فارم 45 اور فارم 46 موجود نہیں تھے۔ صحافی نے اس حلقہ کے نتائج کے حوالے سے بھی انٹرنیٹ پر سرچ کیا جس میں معلوم ہوا کہ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 159 لاہور 15 سے مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر اور موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف 23598 ووٹ لے کر کامیاب ہوئیں جبکہ ان کے مقابلے میں آزاد امیدوارمہر شرافت علی 21 ہزار491 ووٹ حاصل کرسکیں۔ طارق متین نے ایک ہی ویڈیو میں الیکشن کمیشن کے ترجمان کے بیان شیئر کرتے ہوئے اس وقت اس کی حقیقت بھی کھول کر سامنے رکھ دی اور الیکشن کمیشن کی غلط بیانی کا پول کھول دیا۔
لیسکو ریجن میں پروٹیکٹڈ صارفین سے کروڑوں روپے کی اوور بلنگ کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق لیسکو ریجن میں 170 سے 200 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین سے کروڑوں روپے اوور بللنگ کی مد میں ادا کرنے پڑے ہیں، اس حوالے سے ایک اہم خبر سامنے آئی ہےجس کے مطابق 170 سے 200 یونٹس چلانے والے صارفین پر اضافی یونٹس ڈالنے سے ہزاروں روپے کےاضافی بل بھیجے گئے۔ ذرائع کے مطابق لیسکو ریجن میں ہزاروں کی تعداد میں ایسے صارفین سامنے آئے ہیں جن کو زبردستی پروٹیکٹڈ کیٹیگری سے نکالا گیا اور 200 یونٹس سے اوپر والی کیٹیگری میں شامل کیا گیا۔ ایسے صارفین کو 5 ، 5 ہزار روپے اضافی بل ادا کرنا پڑا اور ان کے مجموعی بل 8ہزار سے تجاوز کرگئے۔ اس حوالے سے ترجمان لیسکو کی جانب سے جاری کردہ وضاحت میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی اوور بلنگ نہیں کی گئی بلکہ 30 روزہ آٹو میٹک کمپیوٹر نے خودکار طریقے سے بلنگ کی ہے۔ قبل ازیں ایف آئی اے نے لیسکو کے خلاف پروٹیکٹڈ صارفین کو اوور بلنگ کی شکایات پر انکوائری شروع کردی ہے ، ایف آئی اے کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر لاکھوں پروٹیکٹڈ صارفین کو اوور بلنگ کا سامنا کرنا پڑا، پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں شامل صارفین پر اووربلنگ سے کروڑوں روپے کا اضافی بوجھ پڑا۔
پاکستان مزید قرضوں کے بوجھ تلے دبا جارہاہے, اب پاکستان پر بیرونی قرض 130 ارب ڈالرز سے تجاوز کرگیا,ڈان نیوز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اقتصادی امور کے اجلاس میں حکام اقتصادی امور ڈویژن نے بریفینگ دیتے ہوئے کہا 130 ارب ڈالرز سے زاید بیرونی قرض میں پرائیویٹ سیکٹر کا قرض بھی شامل ہے۔ سیکریٹری اقتصادی امور ڈویژن کا کہنا تھا کہ جاری منصوبوں کی کل تعداد 298 ہے، کثیر الجہتی منصوبوں کی کل تعداد 146 ہے، دو طرفہ ایگریمنٹس کے تحت 152 پروجیکٹس ہیں,بریفینگ میں کہا گیا کہ آئی ایم ایف سے کمرشل ڈومیسٹک قرض سے متعلق امور وزارت خزانہ دیکھتی ہے، بانڈز سرٹیفکیٹس سے متعلق امور بھی براہ راست وزارت خزانہ دیکھتی ہے, ایکسٹرنل ڈیولپمنٹ اسسٹنس اور شاٹ ٹرم اسسٹنس اے ڈی دیکھتی ہے، ڈیٹ مینجمنٹ عمل میں وزارت خزانہ، مرکزی بینک اور ای اے ڈی شامل ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کا ہر شہری 2 لاکھ 80 ہزار روپے کا مقروض ہے, اقتصادی سروے کے مطابق ملک پر مجموعی قرض 67 ہزار 525 ارب روپے ہو گیا جس میں مقامی قرض 43 ہزار 432 ارب روپے ہے,ملک پر بیرونی قرض 24093 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ ہر شہری 2 لاکھ 80 ہزار روپے کا مقروض ہوگیا, ملک کا مجموعی قرض جی ڈی پی کا 74.8 فیصد ہے، ملک کے کُل بیرونی قرضے جی ڈی پی کا 28.6 فیصد ہیں، ملک کا مقامی قرضہ جی ڈی پی کا 46.2 فیصد ہے۔
ملک میں مہنگائی کی شرح میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا,ایک ہفتے کی کمی کے بعد مہنگائی میں ہفتہ وار بنیاد پر 1.28 فیصد اور سالانہ بنیادوں پر23.59 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق 4 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں ملک میں روزمرہ استعمال کی 5 ضروری اشیا کی قیمتوں میں کمی اور17 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ اعداد و شمار کے مطابق پیاز کی قیمت میں 9.05 فیصد، آلو 1.04 فیصد، انڈے 0.79 فیصد، کیلا 0.60 فیصد اور بریڈ کی قیمت میں 0.02 فیصد کی کمی ہوئی,ایک ہفتے کے دوران 29 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا, ٹماٹرکی قیمت میں 70.77 فیصد، آٹا 10.57 فیصد، خشک دودھ 8.90 فیصد، ڈیزل 3.58 فیصد، پیٹرول 2.88 فیصد، دال چنا 2.87 فیصد، دال مونگ 2.86 فیصد، چکن 2.40 فیصد، ایل پی جی 1.63 فیصد، لہسن 1.54 فیصد، دال مسور1.10 فیصد اور چینی کی قیمت میں 0.93 فیصدکا اضافہ ہوا۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق سب سے کم آمدنی یعنی 17 ہزار 732 روپے ماہانہ آمدنی والے گروپ کے لیے قیمتوں کے حساس اشاریے میں 1.43 فیصد اضافہ ہوا، 17 ہزار 733 روپے سے 22 ہزار 888 روپے، 22 ہزار 889 روپے سے 29 ہزار 517 روپے، 29 ہزار 518 روپے سے 44 ہزار 175 روپے اور اس سے زیادہ ماہانہ آمدنی رکھنے والے گروپس کے لیے قیمتوں کے حساس اشاریے میں بالترتیب 1.44 فیصد، 1.31 فیصد، 1.31 فیصد اور1.23 فیصدکا اضافہ ہوا,صارفین کے لیے قیمتوں کے حساس اشاریے کا تعین ملک کے 17 بڑے شہروں کی 50 مارکیٹوں میں 51 ضروری اشیا کی قیمتوں میں کمی بیشی کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔
حکمران ایک طرف تو ملک کے عام شہریوں کو قانون پر پابندی کرنے کی نصیحتیں کرتے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف ان کے بچے قانون نام کی کسی چیز کو ماننے سے ہی انکاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما وسابق وفاقی وزیر برجیس طاہر کے بیٹے کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ خطرناک ڈرائیونگ اور تیز رفتاری کرنے سے منع کرنے پر ٹریفک وارڈن پر گاڑی چڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ وارڈنز انہیں گاڑی روکنے کا اشارہ کرتے رہے۔ برجیس طاہر کے بیٹے ثاقب برجیس نے ٹریفک وارڈن کی طرف سے خطرناک ڈرائیونگ اور تیزرفتاری کرنے سے روکنے پر گاڑی اس پر چڑھا دی اور مزاحمت کرتے رہے جس کی ویڈیو بھی سامنے آگئی ہے۔ واقعہ شمالی چھائونی کے قریب ایک ٹریفک سگنل پر پیش آیا جہاں تیزرفتاری سے گاڑی چلانے پر ٹریفک وارڈنز نے اسے رکنے کا اشارہ کیا تھا۔ ثاقب برجیس نے گاڑی روکنے کے بجائے وارڈنر کو گاڑی کے نیچے کچلنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں، اس نے اپنا تعارف ایک سیاسی شخصیت کے بیٹے کے طور پر کروایا، ثاقب برجیس کالے رنگ کی کار میں سوا تھا جس میں اس نے ٹریفک وارڈن کو کچلنے کی کوشش کی۔ ٹریفک پولیس کی طرف سے ثاقب برجیس کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کے لیے استغاثہ دائر کر دیا گیا ہے، پولیس کے مطابق معاملے کی تفتیش کر رہے ہیں، قانون کے مطابق ملزم کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ ملزم ثاقب برجیس کے والد برجیس طاہر سابق وفاقی وزیر وگورنر گلگت بلتستان رہ چکے ہیں۔
پاکستان بھر کے شہری بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمت کی وجہ سے پریشان ہیں اور حکومت وعدوں، دعوئوں کے باوجود ان کو ریلیف دینے میں ناکام ہے، عام شہریوں کے ساتھ ساتھ عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان کو بھی بجلی کے بل نے پریشان کر دیا ہے۔ عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان کو ان کے لاہور والے گھر کا بجلی کا بل 59 ہزار 471 روپے آیا ہے جس نے انہیں پریشان کر دیا ہے اور وہ معاملے کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر سامنے لے آئیں۔ ریحام خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے بجلی کے بل کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنے پیغام میں لکھا: یہ میرے لاہور والے گھر کا جون کے مہینے کا بجلی کا بل ہے جہاں پر میں نے صرف 12 دن گزارے تھے۔ گھر کے ایک کمرے میں رہائش پذیر رہی جہاں پر صرف ایک اے سی استعمال ہوتا رہا ہے وہ بھی بالکل نیا ہے۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کی حکومت کو بے حس قرارد یتے ہوئے سوال اٹھایا کہ یہ لاہور کی بات ہے، کراچی جیسے شہر میں کوئی ایسا شخص جس کی ماہانہ آمدن 1 یا 2 لاکھ روپے ہے اور چھوٹے بچے سکول یا کالج میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ اتنا زیادہ بل کیسے برداشت کر سکتا ہے؟ انہوں نے لکھا کہ ریٹائرڈ پنشنرز اتنا زیادہ بل کیسے ادا کر سکتے ہیں؟ مسلم لیگ ن کی حکومت کی طرف سے مجرمانہ بے حسی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ ایک اور پوسٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی گزشتہ الیکشن مہم میں بجلی بلوں کی قیمتوں کے خلاف کی گئی ایک تقریر کا ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا: پوچھنا تھا کہ اگلی بار جب مسلم لیگ ن ووٹ مانگنے آئے تو بھی یہی کرنا ہے یا یہ آفر صرف محدود مدت یعنی گزشتہ الیکشن کے لیے تھی!
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی طرف سے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب اور سابق وزیراعظم وبانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی آڈیولیکس کے معاملے پر 25 جون کو اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے جاری کیا گیا حکم نامہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ اداروں کے سربراہوں کی طلبی، رپورٹس منگوانا فیکٹ فائنڈنگ جیسا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے غیرمؤثر درخواست کے نکات سے ہٹ کر کارروائی کی گئی کیونکہ اس کے پاس ازخود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے حقائق کے منافی فیصلہ کیا اور وہ ریلیف دیا جو مانگا نہیں گیا، یہ اختیارات سے تجاوز ہے۔ حکومت نے سپریم کورٹ سے استدعا کی کہ 25 جون کو اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے جاری حکم نامہ کالعدم قرار دیا جائے۔ واضح رہے کہ 25 جون کے جسٹس بابر ستار کے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ شہریوں کی کسی بھی قسم کی سرویلنس غیرقانونی ہے، ریاستی سرپرستی میں قانونی انٹرسیپشن مینجمنٹ سسٹم سے 40 لاکھ شہریوں کی سرویلنس ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کی سرویلنس کے انفرادی واجتماعی ذمہ داری وزیراعظم وکابینہ ممبران ہے، وزیراعظم انٹیللی جنس ایجنسیوں سے رپورٹ طلب کر کے کابینہ کے سامنے یہ معاملہ رکھیں۔ وزیراعظم لافل مینجمنٹ بارے اپنی رپورٹ 6 کے اندر عدالت میں جمع کروانے کے پابند ہیں اور یہ بھی بتائیں کہ شہریوں کی سرویلنس کون سے قانون کے تحت ہو رہی ہے؟ حکم نامے میں وزیراعظم سے پوچھا گیا تھا کہ سرویلنس سسٹم کا انچارج کون ہے جو شہریوں کی پرائیویسی متاثر کر رہا ہے؟ تمام تیلی کام کمپنیوں کو بھی لا فل انٹرسیپشن مینجمنٹ سسٹم بارے اپنی رپورٹ 5 جولائی تک جمع کروانے کا حکم دیا گیا۔ ٹیلی کام کمپنیاں یقینی بنائیں کہ لا انٹرسیپشن مینجمنٹ سسٹم کی ان کے سسٹمز تک رسائی نہیں ہونی چاہیے، ٹیلی کام کمپنیاں اپنا ڈیٹا صرف تحقیقاتی اداروں سے شیئر کرنے کی مجاز ہیں۔ حکم نامے میں پی ٹی اے اور ان کے ممبران کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا گیا کہ چیئرمین پی ٹی اے وممبران 6 ہفتوں میں توہین عدالت نوتسز کا جواب دیں اور ممبران بتائیں کہ ان کیخلاف توہین عدالتی کارکردگی کیوں شروع نہ کی جائے؟ پی ٹی اے نے بظاہر سرویلنس سٹم سے غلط بیانی کی، لافل انٹرسیپشن مینجمنٹ سسٹم نامی سرویلنس سسٹم سے متعلق رپورٹ پی ٹی اے سربمہر لفافے میں جمع کروائے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی اے سے پوچھا تھ اکہ سروینس کہاں نصب کیا گیا ہے اور اس تک کس کس کو رسائی حاصل ہے، حکومتی ان چیمبر درخواست کر کے اگلی سماعت 4 ستمبر کو مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔ یاد رہے کہ نجم ثاقب کی تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر ابوذر سے گفتگو 29 اپریل 2024ء کو منظرعام پر آئی تھی جس میں انہیں اسمبلی کی ٹکٹوں بارے بات کر رہے تھے۔ مبینہ آڈیو میں پی ٹی آئی امیدوار ابوزر چدھڑ سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں کامیاب ہوئیں جس پر نجم ثاقب نے کہا کہ مجھے اطلاع مل گئی ہے۔ نجم ثاقب نے پوچھا اب کیا کرنا ہے؟ جس پر ابوزر نے کہا ٹکٹ چھپوا رہے ہیں، اس میں دیر نہ کریں، وقت بہت تھوڑا ہے۔ مبینہ آڈیو سامنے آنے پر فرانزک تحقیقات سمیت معاملے کی تحقیقات کیلئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک منظور ہونے کے بعد اسلم بھوتانی کی زیربراہی خصوصی کمیٹی قائم کی جس میں افضل خان ڈھانڈلہ، وجیہہ قمر، خالد حسین مگسی، ناز بلوچ، سید حسین طارق، شیخ روحیل اصغر، برجیس طاہر، محمد ابوبکر اور شاہدہ اختر شامل تھے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق کمیٹی تحقیقات کیلئے کسی ادارے کی بھی تحقیقاتی ادارے کی مدد حاصل کر کے رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرے گی۔ نجم ثاقب نے اس سپیشل کمیٹی کو 30 مئی کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ اس پارلیمانی پینل کی کارروائی روکی جائے کیونکہ یہ باڈی اسمبلی قوانین کی خلاف ورزی کر کے بنائی گئی۔ نجم ثاقب نے دعویٰ کیا تھا کہ کمیٹی نے انہیں طلب نہیں کیا لیکن سیکرٹری پارلیمانی کمیٹی نے انہیں اس کے باوجود پینل کے سامنے پیش ہونے کیلئے کہا تھا۔
پاکستان میں نکاح رجسٹریشن کے نئے نظام کی خبریں سوشل میڈیا پر زیر گردش ہیں, کہا جارہاہے کہ ملک میں نکاح رجسٹریشن ختم کر کے اس کی جگہ ایک ٹیب متعارف کروایا جا رہا ہے جس کے تحت نکاح خواں کا اس ٹیب میں اکاؤنٹ بنایا جائے گا۔ نکاح کی فیس نکاح خواں کی جانب سے جمع کروائی جائے گی۔ اور نکاح گواہان کے شناختی کارڈ کو اسکین کر کے بائیومیٹرک کیا جائے گا, جب شناختی کارڈ کی اسکیننگ اور انگوٹھے کے نشان کی تصدیق ہو جائے گی تو اسی صورت میں گواہ قابل قبول ہوں گے۔ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے والی خبروں کے مطابق اس سارے عمل کے دوران دلہا کی تصویر بھی مولوی صاحب بنائیں گے اگر دلہا مفرور ہوا یا کسی مقدمے میں اشتہاری یا ٹیکس چور ہوا تو دلہا کو موقع پر گرفتار کرلیا جائے گا کیونکہ ٹیب کا تصویری رابطہ نادرا سے منسلک ہوگا۔ خبر کی تصدیق کے لیے جب نادرا کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمر سعید سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے علم میں اب تک ایسی کوئی چیز نہیں آئی۔ کیونکہ اس سارے نظام نے کیسے چلنا ہے، یہ سب معلومات صوبائی حکومتوں سے متعلقہ ہیں, البتہ نادرا کا اس میں یہ کردار ہوتا کہ وہ شناختی کارڈ کی تصدیق کرتا اور نادرا کا کام یہی ہے کہ اس سارے نظام کے لیے کوئی سافٹ ویئر بنا کر دیتا۔صوبائی حکومتوں کی جانب سے اب تک ہم سے اس حوالے سے کسی نے بات چیت نہیں کی اگر ایسا کچھ ہوتا تو وہ نادرا سے ضرور مشاورت کرتے۔
ذرائع کے مطابق سپریم جوڈیشل میں کراچی کے ایک شہری کی طرف سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف شکایت دائر کر دی گئی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس طارق محمود جہانگیر کے خلاف دائر کی شکایت میں عرفان مظہر نامی کراچی کے شہری کی طرف سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کی قانون کی ڈگری جعلی ہے۔ شکایت کنندہ نے موقف اختیار کیا کہ ان کی ڈگری کی جامعہ کراچی نے توثیق نہیں کی۔ عرفان مظہر نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیر کے رول نمبر میں بھی تضاد سامنے آیا ہے، ان کا رول نمبر ریکارڈ کے مطابق امتیاز احمد نامی شخص کا تھا۔ جسٹس طارق جہانگیری نے جس رول نمبر کے ساتھ ایل ایل بی کا پہلا حصہ مکمل کیا وہ امتیاز احمد نامی شخص کو جاری کیا گیا تھا۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ کوئی بھی یونیورسٹی کسی بھی طالب علم کا ایک ہی رجسٹریشن نمبر جاری کرتی ہے اس سے زیادہ نہیں، عرفان مظہر نے سپریم جوڈیشل کونسل سے درخواست میں استدعا کی ہے کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے کیونکہ وہ مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر چوہدری فواد حسین نے شہری کی طرف سے دائر درخواست پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے ایکس (ٹوئٹر) پیغام میں لکھا: ڈگری جعلی ہے یا اصلی یہ باتیں جج نامزد کرتے وقت Verify کی جاتی ہیں، اب کوئی یہ تحقیقات نہیں کر سکتا ورنہ تو ہر وقت حکومتیں تعلیمی ریکارڈ تبدیل کر کے اپنے مخالف جج فارغ کر دیں، اب صبر کریں اور اسلام آباد کے انتخابات کیسے ہوئے تماشہ دیکھیں!
وفاقی بجٹ کے 20 فیصد منصوبے فراڈ، پورا مافیا کام کرتا ہے، جام کمال خان کی تنقید وفاقی وزیر برائے صنعت و تجارت جام کمال نے وفاقی بجٹ کے منصوبوں کو فراڈ قرار دے دیا,انہوں وفاقی بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا وفاقی ترقیاتی بجٹ کے 20 فیصد تک منصوبے فراڈ ہوتے ہیں,شہباز کابینہ کے مالی سال 2024-25 کے بجٹ کے حوالے سے اہم انکشاف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں کئی ایسے منصوبے ہیں، جو سیاست دانوں کے نہیں ہیں بلکہ فراڈ منصوبے گمنام ہوتے ہیں جن کا کوئی اونر نہیں ہوتا۔ جام کمال نے کہا گمنام اور فراڈ منصوبے دور دراز علاقوں کے ڈلوائے جاتے ہیں تاکہ رسائی نہ ہو,اِن گمنام اسکیموں کے پیچھے پورا مافیا ہوتا ہے جو منصوبے منظور کرواتا ہے اور ٹینڈرز کے پیچھے پورا مافیا کام کرتا ہے,زیادہ تر ایسے منصوبے اریگیشن کے ہوتے ہیں۔ سینیٹرز کے علاوہ ایسے لوگ بھی منصوبے ڈلوا لیتے ہیں جو انتخابات ہار چکے ہیں۔ دوسری جانب مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم وفاقی بجٹ کو حکومت اور آئی ایم ایف کا ایک ہائبرڈ بجٹ قرار دے چکے ہیں, انہوں نے کہا کہ ٹیکس کا چناؤ آئی ایم ایف اور اخراجات کا حکومت نے کیا ہے، ٹیکس کا بوجھ عام عوام پر آئی ایم ایف کا اور ٹیکس چھوٹ حکومت کا فیصلہ ہے۔ دودھ، ادویات ٹیکس آئی ایم ایف کا مقامی کارساز ٹیکس چھوٹ حکومت کا سکرپٹ ہے، بجلی، گیس، پٹرول قیمت میں اضافہ آئی ایم ایف جبکہ سرکاری مراعات میں اضافہ حکومت کا ہے,تعلیم، صحت اور زراعت پر کٹوتی آئی ایم ایف کا فیصلہ ہے، ترقیاتی اخراجات میں ایم این ایز کیلئے 75 ارب مختص کرنا حکومتی فیصلہ ہے، بجٹ صرف آئی ایم ایف کا ہے اور حکومت مکمل شراکت دار ہے۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کو بیٹھ کر بات کرنے مشورہ دے دیا, رانا ثنا نے کہا ملکی مسائل کا حل صرف اور صرف مذاکرات ہیں، اگر پی ٹی آئی کہتی ہے کہ 9 مئی سازش تھی اور وہ ملوث نہیں تو ثبوت لائیں اور آئیں بیٹھ کر بات کریں۔ ڈان نیوز کے پروگرام ’لائیو ود عادل شاہ زیب‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے سابق وزیر اعظم اور بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت کے دیگر لوگوں کی رہائی کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں عمران خان کو خوب آڑے ہاتھوں لیا پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا نے عمران خان پر کڑی تنقید کی انہوں نے کہابانی پی ٹی آئی پاکستان کے چہرے کو داغدار کرنے پر تلے ہوئے ہیں، ان کی یہ سوچ کہ وہ ہیں تو پاکستان ہے اور وہ نہیں تو پاکستان نہیں ہے تو اس سوچ سے انھیں نکلنا ہو گا۔ رانا ثنا نے کہا پی ٹی آئی نو مئی کے واقعات کو سیاسی احتجاج کا رنگ دینا چاہتی ہے اور کہتی ہے نو مئی سازش تھی اور وہ ملوث نہیں بلکہ یہ پلانٹ کیا گیا تو پھر ثبوت دیں کیونکہ ہمارے پاس بھی ثبوت ہیں,بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اپنے عمل کا مواخذہ اور حساب تو دینا چاہیے اور دینا ہو گا۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو حق حاصل ہے کہ وہ باہر آنے کی پوری کوشش کریں، اسی طرح پراسیکیوشن کو بھی اپنے مقدمات کی پیروی کا حق حاصل ہے تاہم ان کے باہر آنے سے کوئی طوفان نہیں آجائے گا, ملکی مسائل کا حل صرف اور صرف مذاکرات ہیں۔ نو مئی میں جو انھوں نے لوٹ مار کی اور دفاعی اداروں پر حملہ آور ہوئے، لوٹ مار کی ملکی تنصیبات کو نقصان پہنچایا تو ہم اس میں ان کی کیا مدد کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب بانی پی ٹی آئی عمران خان نے وزیراعظم کی بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ کرلیا,اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہماری پارٹی اے پی سی میں شرکت کرے گی اور حکومت کا مؤقف سنے گی۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کو عمران خان کی حکومت کے خاتمے اور "رجیم چینج آپریشن" میں ایک اہم کردار قرار دیدیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق شیر افضل مروت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مجھے عمران خان نے بتایا کہ رجیم چینج آپریشن میں اس وقت کے وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما فواد چوہدری کا کردار مشکوک تھا، وہ اس وقت کےآ رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملے ہوئے تھے۔ پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے کہا کہ فواد چوہدری پر مقدمات بھی ان کی اپنی فرمائش پر ہی قائم کیے گئے، وہ جیل میں بھی وی آئی پی طریقے سے رہ رہے تھے اور ان کی وہاں مکمل سیٹنگ تھی، فواد چوہدری جنرل باجوہ کو ہماری خبریں پہنچاتے اور ان کیلئے پیغام رسانی کا کام کرتے تھے، وہ پی ٹی آئی کے مفادات کے خلاف کام کرتے رہے ہیں اسی لیے پارٹی کی جانب سے ان کے کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ شیر افضل مروت نے کہا کہ فواد چوہدری کے پاس ہم پر تنقید کیلئے کوئی اخلاقی جواز موجود نہیں ہے ، جب پارٹی کو ضرورت تھی تو وہ خود اور ان جیسے دوسرے لوگ بھاگ کھڑے ہوئے تھے، فواد چوہدری پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ اور بن بلائے مہمان کی طرح ہمارے خلاف بول رہے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ فواد چوہدری کا یہ کہنا کہ عمران خان کے کہنے پر وہ آئی پی پی میں گئے سراسر جھوٹ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا یہ ٹاسک بیرون ملک مقیم کچھ مخصوص صحافیوں کو بھی دیا گیا ہے، پی ٹی آئی جہلم یہ لکھ کر دے چکی ہے کہ اگر فواد چوہدری واپس پارٹی میں آئے تو وہ پارٹی چھوڑ دیں گے،اگر فواد چوہدری واپس آتے ہیں تو پھر باقیوں کا کیا قصور ہے؟ انہیں بھی واپس لیا جانا چاہیے۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ رکن اسمبلی کی تنخواہ ایک لاکھ 70 ہزار ہے جبکہ ججوں کی تنخواہ 10 لاکھ سے کم نہیں، اگر ایوان ججوں کی تنخواہ میں کمی چاہتا ہے تو پیغام پہنچا دیا جائے گا,گزشتہ روز سینیٹ اجلاس میں الیکشن ترمیمی بل 2024 منظور کرلیا گیا، جس پر اپوزیشن نے شور شرابا کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کیا,اپوزیشن اراکین نے کہا بل غیرمنتخب لوگوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے لایا گیا۔ سینیٹ اجلاس میں الیکشن ترمیمی بل پر اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایک سوال پر ججز اور اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں پر وضاحت کی اور قانون سازوں اور انصاف کرنے والوں کی تنخواہوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ اعظم نذیرتارڑ کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی کی تنخواہوں سے ٹیکس کٹوتی ہوتی ہے جس کے بعد ہر ارکان اسمبلی کو ماہانہ ایک لاکھ 70 ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے جبکہ ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کے کسی بھی جج کی تنخواہ 10 لاکھ سے کم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشں ارکان کی کوئی تجاویز ہوں تو حکومت کو بھجوائی جاسکتی ہیں، اگر ججز کی تنخواہوں میں تخفیف کرنا چاہتے ہیں تو میں یہ پیغام پہنچا دوں گا، ارکان اگر تنخواہ میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھی بتادیں۔ انہوں نے کہا کہ لیگل ایجوکیشن کمیٹی کی انسپیکشن کمیٹیز نے 28 لاء کالجز کو کم معیار کا حامل قرار دیتے ہوئے متعلقہ یونیورسٹیوں سے انہیں غیر منسلک کر دیا ہے۔
وفاقی بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے 27 کرپٹ افسران کو سائیڈ لائن کردیا گیا ہے، سائیڈ لائن کیےگئے افسران 20 ویں گریڈ کے تھے۔ تفصیلات کے مطابق ایف بی آر نے محکمے میں بدعنوانی میں ملوث افسران کے خلاف کریک ڈاؤن کا شروع کردیا، کرپٹ اہلکاروں کی فہرست تیار کرکے ایف بی آر نے 20 ویں گریڈ کے 27 افسران کو ایڈمن پول میں شامل کردیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سائیڈ لائن کیے گئے افسران سے اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں، ایڈمن پول میں شامل افسران میں ان لینڈ ریونیو سروس اور پاکستان کسٹمز سروس کے افسران شامل ہیں۔ خیال رہے کہ ایف بی آر نے بجٹ منظوری سے قبل محکمے کے کرپٹ اور بدعنوان افسران کی فہرستیں مرتب کروائی تھیں تاہم بجٹ کی تیاری کے دوران ان افسران کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا اور ناہی ان افسران کو مطلع کیا گیا۔ دو ماہ میں ایف بی آر میں ہونےوالی یہ دوسری بڑی تبدیلی ہے، 20 ویں گریڈ کے افسران کو ایڈمن پول میں شامل کیے جانے کے علاوہ عید سے قبل ا یف بی آر کی جانب سے 800 ملین روپے سے زائد کے ریفنڈ کیس میں غلط کارروائی پر ایک ڈی سی ، ایک انسپکٹر اور دو اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں معطل کردیا تھا۔
مالی سال 2024 میں روزگار کیلئے بیرون ملک جانے والے افراد کے حوالے سے اعدادوشمار سامنے آگئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق مالی سال 2024 میں پاکستان سے مجموعی طور پر 7 لاکھ 89 ہزار 837 افراد ذریعہ معاش تلاش کرنے کیلئے ملک چھوڑ کر دیگر ملکوں میں چلے گئے ہیں۔ اس حوالے سے بیوروآف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی جانب سے جاری کردہ اعدود شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال 2023 کے دوران ملک سے بیرون ملک جانے والے افراد کی تعداد 8 لاکھ 11 ہزار 469 تھی۔ ڈپٹی ڈائریکٹر بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ نےاس حوالے سے بتایا کہ مالی سال 2024 میں روزگار کیلئے سعودی عرب کا ویزہ حاصل کرنے والوں کیلئے مسائل رہے، کیونکہ سعودی عرب نے زیادہ تر ویزے لیبر کلاس کیلئے جاری کیے جبکہ اس عرصے میں متحدہ عرب امارات نے پروفیشنل کیٹیگریز میں ویزوں کا اجراء کیا ، امریکہ اور یورپ میں پروفیشنل ورکرز کی مانگ میں اضافہ ہوا۔
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز بہت سے دوسرے ملکی اداروں کی طرح خسارے میں چل رہا ہے جن کی نجکاری کا عمل کیا گیا تھا تاہم نجکاری زیرالتواء ہونے پر بھی قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ، نجکاری و مواصلات عبدالعلیم خان نے اداروں کی پرائیویٹائزیشن کے منصوبے پر میدیا بریفنگ میں کہا ہے کہ پی آی آئی کی نجکاری کے عمل کو التواء میں رکھنے کے باعث قومی خزانے کو 850 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خسارے میں چلنے والے تمام اداروں کی پرائیویٹائزیشن کی طرف سے تیزی سے بڑھ رہے ہیں، ملکی اداروں کی نجکاری کا عمل تمام قواعد وضوابط کو مدنظر رکھ کر مکمل کیا جا رہا ہے۔ ملکی اداروں کو اونے پونے داموں فروخت نہیں کریں گے، ہماری کوشش ہو گی کہ اس سے زیادہ سے زیادہ فنڈز حاصل کر سکیں اور اس عمل میں پوری ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جائے۔ عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ ریکوڈک، سٹیل ملز اور پی آئی اے جیسے اداروں کی پرائیویٹائزیشن کو منسوخ کر کے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا، پی آئی اے کی نجکاری کے بعد فرسٹ ویمن بینک، ایچ بی ایف سی اور روزویلٹ کی نجکاری بھی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کے اگلے مرحلے میں ڈسٹری بیوشن و پاور جنریشن کمپنیوں کی پرائیویٹائزیشن کا عمل شروع ہو جائے گا۔ زرعی ترقیاتی بینک، سٹیٹ لائف کارپوریشن، یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے ساتھ ساتھ پیکو کی نجکاری بھی فہرست میں شامل ہے جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کے حکام کو بھی آن بورڈ لے لیا ہے۔ واضح رہے کہ چند ہفتے پہلے راولپنڈی چیمبر آف کامرس میں ایک تقریب سے خطاب میں سرمایہ کاری بورڈ، نجکاری و مواصلات عبدالعلیم خان نے کہا تھا کہ حکومت نے خسارے میں چلنے والے 24 اداروں کی نجکاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں پی آئی اے سرفہرست ہے اور اس کی نجکاری کا عمل براہ راست ٹی وی دکھایا جائیگا اور تمام منصوبوں کی نجکاری میں شفافت یقینی بنائی جائے گی۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ارسلان تاج نے سابق وفاقی وزیر علی زیدی کی گفتگو پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ علی زیدی اچھی اداکاری کرلیتے ہیں، یہ سیاست چھوڑ دیں تو اداکاری کی دنیا میں کوشش کرسکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے رکن ارسلان تاج نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک بیان میں علی زیدی کی گفتگو پر ردعمل دیا ہے، ارسلان تاج نے کہا کہ علی زیدی پہلے کہہ رہے تھے کہ میں نے تو کسی کو نہیں کہا تھا کہ پارٹی چھوڑ دو، اب یہ مان رہے ہیں کہ انہوں نے لوگوں کو ان کے بھلے کیلئے کہا کہ پارٹی چھوڑدو۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ ہوتے کون ہیں کسی کو کہنے والے کہ پارٹی چھوڑ دیں، میں ان کے پاس کبھی بھی آنکھوں میں آنسو لے کر نہیں گیا نا ہی میں نے ان سے کوئی ٹکٹ مانگا ، ہوسکتا ہے یہ اپنے کسی اور جو ان کے ساتھ پارٹی چھوڑ گئے ان کا ذکر کررہے ہوں۔ ارسلان تاج نے کہا کہ میں نے 2013 میں بھی کراچی سے الیکشن لڑ کر کراچی میں عمران خان کے نام پر سب سے زیادہ ووٹ لے چکا تھا، جیسی یہ خود اپنے پہلے کی گئی باتوں پر مان گئے اور بھی باتوں پر مان جائیں گے، یہ اداکاری اچھی کرلیتے ہیں ، سیاست چھوڑ دی ہے تو اداکاری کی دنیا میں کوشش کریں شائد کامیابی مل جائے اپنے کچھ قریبی دوستوں کی وجہ سے۔ خیال رہے کہ علی زیدی نے سیاست ڈاٹ پی کے خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ علی زیدی نے ارسلان تاج سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے لوگوں کو پی ٹی آئی چھوڑنے کا ان کی بہتری کیلئے ہی کہا تھا، سب کو ہم نے یہ کہا کہ چپ کرکے سائیڈ ہوجائیں، اگر بیان دینا ہے تو بیان دے کر سائیڈ ہوجائیں، میں نے جو کیا ان کی بہتری کیلئے کیا، وہ 2018 سے پہلے آنکھوں میں آنسو لے کر آئے کہ مجھے ٹکٹ نہیں مل رہا جس پر میں نے کہا کہ اگر آپ کو ٹکٹ نہیں ملے گا تو میں بھی الیکشن نہیں لڑوں گا۔
ٹی ٹوینٹی ورلڈکپ میں قومی کرکٹ ٹیم کی بری کارکردگی اور پاکستان میں کھیلوں کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ بھی بول اٹھے۔ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما و مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللہ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پر لوگ پاکستان کرکٹ بورڈ کا رونا رو رہے ہیں حالانکہ کھیلوں کی ہر فیڈریشن پر کوئی نہ کوئی قبضہ کر کے بیٹھا ہوا ہے۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ کھیلوں کی فیڈریشنز پر قبضہ کرنے والے لوگوں کی بڑی تعداد ریٹائرڈ افراد کی ہے جن کا مقصد صرف اور صرف ان عہدوں سے ملنے والی مراعات کا حصول ہے۔ اولمپکس مقابلوں میں چھوٹے چھوٹے ملکوں سے کھلاڑیوں کے بڑے بڑے دستے شریک ہوتے ہیں جبکہ بدقسمتی سے 25 کروڑ کے ملک میں 3 سے 4 ایتھلیٹ اولمپکس میں ہماری نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مقابلوں میں کھلاڑیوں کا ملک کے لیے کوئی میڈل جیت کر لے آنا تو دور کی بات ہے فیڈریشنز کم سے کم کھلاڑیوں کو اولمپکس کے لیے کوالیفائی تو کروائیں اور ایسا نہیں کر سکتے تو عہدہ چھوڑ دیں۔ یاد رہے کہ ماضی میں ہماری سپورٹس فیڈریشن میں تنازعات کی وجہ سے پاکستان کے قومی کھیل ہاکی کے علاوہ فٹ بال ودیگر کھیلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارشد ندیم آج جس مقام پر ہے وہ اپنی محنت کے بل پر یہاں پہنچا ہے، اس کے پیچھے کوئی فیڈریشن یا سپورٹ نہیں تھی، فیڈریشن میں ریگولیشن سسٹم لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم کھیلوں میں بہتری کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں جس میں آئندہ کھیلوں کی فیڈریشنز کی کارکردگی جانچنے کے لیے اہداف بھی طے کر دیئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیلوں کی ہر فیڈریشنز میں سے 15، 20 یا 50 لوگوں کو تو اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنا چہایے، قوم کا پیسہ صرف ان لوگوں پر خرچ کیا جائے گا جنہوں نے بیرون ملک جاکر پاکستان کی نمائندگی کرنی ہے۔ مزید کہا کہ سپورٹس جرنلزم کی صرف یہ ذمہ داری نہیں کہ کھلاڑیوں کی پرفارمنس دیکھیں اس بات پر بھی نظر رکھیں کہ فیڈریشنز اور بورڈ میں بیٹھے لوگ کب سے ہیں اور ان کی کارکردگی کیا ہے؟