خبریں

معاشرتی مسائل

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None

طنز و مزاح

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None
لڑکیوں کے اغوا میں ملوث خاتون پولیس کے ہتھے چڑھ گئی, پولیس نے لڑکیاں اغوا کرنے والی خاتون کو گرفتار کرکے 16 سالہ ماہ نور کو فیصل آباد سے بازیاب کرالیا۔ لاہور میں اغوا برائے تاوان سیل نے لڑکیوں کے اغوا میں ملوث خاتون کو گرفتارکرلیا گیا اور تھانہ نواں کوٹ سے اغوا 16 سالہ ماہ نور کو فیصل آباد سے بازیاب کرالیا۔ پولیس کے مطابق ملزمہ کے انکشاف پر3 لڑکیوں کو بازیاب کرایاگیا ، ملزمہ بچیوں کو نوکری کاجھانسہ دےکرغیراخلاقی کام کراتی تھی,پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمہ نے2لڑکیوں کوساڑھے3لاکھ روپےمیں فیصل آبادفروخت کیاتھا اوربعد میں اسلام آباد بھجوایا، جہاں سے ہر ماہ 60 سے 70ہزار لیتی تھی,ملزمہ اور اس کا گروہ جعلی نکاح نامے اور اسٹامپ پیپر تحریر کراتے اور بلیک میل کرتےتھے، گروہ کے مزید ارکان کی گرفتاریوں کیلئےٹیمیں تشکیل دیدی گئیں ہیں۔ گزشتہ سال شادی اور نوکری کا جھانسا دے کر لاہور سے 500 لڑکیوں کو اغوا کرکے سندھ میں فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا تھا, شیخو پورہ پولیس نے لاہور پولیس کی معاونت سے 10 افراد پر مشتمل گروہ کو گرفتار کرلیا تھا,تین مردوں اور تین عورتوں پر مشتمل لاہور میں سرگرم یہ گروہ لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر سندھ کے کچے کے علاقوں میں منتقل کرتا تھا اور پھر انہیں چھوڑنے کے عوض تاوان کا مطالبہ کیا جاتا تھا,کراچی مقیم لطیفاں بی بی اپنے شوہر خان محمد کے ساتھ مل کر یہ گروہ چلاتی رہی تھی۔
ملک کے سرکردہ مذہبی اسکالرز میں سے ایک نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کی پر ناکام ہوگئے, انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق ایک باخبر ذرائع نے بتایا کہ یہ کوشش 8 فروری کے انتخابات سے پہلے کی گئی تھی لیکن یہ ناکام رہی, ذرائع نے عالم کا نام ظاہر نہیں کیا۔ اپریل 2022 میں حکومت سے نکال باہر کیے جانے کے بعد فوج، اس کے اعلیٰ کمانڈروں اور حتیٰ کہ موجودہ اور سابقہ آرمی چیف کیخلاف عمران خان جو الزامات عائد کر رہے ہیں ان کے تناظر میں اب جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کیلئے ساکھ کے بحران کا ایک سنگین چیلنج درپیش ہے۔ اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ عمران خان ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ سمیت لوگوں پر بغیر ثبوت سنگین نوعیت کے الزامات عائد نہیں کریں گے۔ گزشتہ دو سال کے دوران عمران خان ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور اعلیٰ جرنیلوں پر تنقید کی دو جہتی پالیسی پر عمل پیرا رہے ہیں اور ساتھ ہی ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اُن کے مخالفین کی حکومت ہٹا کر عمران خان کیلئے اقتدار میں واپسی کی راہ ہموار کریں۔ 9 مئی کے حملوں اور 8 فروری کے انتخابات کے بعد بھی، عمران خان موجودہ آرمی چیف پر براہ راست تنقید جاری رکھے ہوئے ہیں۔ تنقید کے ساتھ ہی وہ جنرل عاصم منیر اور ان کے ماتحت اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کی کوشش بھی کر رہے ہیں۔ فوج کے ترجمان نے 8 فروری کے انتخابات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں میڈیا کو واضح طور پر کہا کہ فوج پی ٹی آئی کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کرے گی۔
صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں شادی کی تقریب میں واقعہ پیش آیا,ہینڈ گرنیڈ کے دھماکے سے بچوں سمیت 19 افراد زخمی ہو گئے,پولیس کے مطابق ضلع کرم کے سرحدی علاقے غوز گڑھی مقبل کے ایک گھر میں شادی کی تقریب جاری تھی کہ اسی دوران ہینڈ گرنیڈ پھٹ گیا۔ دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال صدہ منتقل کر دیا گیا ،ڈاکٹروں کے مطابق زیادہ تر زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے,پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں ، ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا شادی کی تقریب میں موجود ایک شخص کی جیب میں رکھے ہینڈ گرینڈ کے پھٹنے سے ہوا۔ رواں ماہ ضلع کرم میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی بارودی سرنگ سے ٹکرا گئی تھی جس میں 5 جوان شہید ہوگئے تھے,پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کرم کے علاقے صدہ میں سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا, 5 بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا,آئی ایس پی آر کے مطابق شہدا میں حوالدار عقیل احمد، لانس نائیک محمد طفیر، سپاہی انوش رفون، سپاہی محمد اعظم خان اور سپاہی ہارون شامل تھے۔
مختلف شہروں میں بے زبان جانوروں پر دل دہلادینے والے واقعات سامنے آئے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق انسانوں نے اپنی دشمنی اور غم و غصے کی آگ میں بے زبان جانوروں کو جھونکنا شروع کردیا ہے، اندرون سندھ اونٹ کی ٹانگ کاٹنے کا واقعہ ابھی بھلایا نہیں گیا تھا کہ ایسے مزید واقعات منظر عام پر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ جانوروں پر ظلم کے تازہ ترین واقعات سرگودھا اور عمر کوٹ میں پیش آئے ہیں جن میں بے زبان جانوروں کو نا صرف تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ انہیں آگ میں بھی جھونک دیا گیا ہے۔ عمرکوٹ کی تحصیل کنری میں نامعلوم ملزمان نے ایک اونٹنی کی چاروں ٹانگیں کاٹ دی ہیں، ٹانگیں کاٹنے سے اونٹنی کا بہت زیادہ خون بہہ گیا جس کے باعث اونٹنی کی موت واقع ہوگئی ہے۔ دوسرا واقعہ سرگودھا کے نواحی چک ستائیس میں دیرینہ رنجش کے باعث پیش آیا جہاں فریقین نے ایک دوسرے سے بدلہ لینے کیلئے مویشیوں کو ہی آگ لگادی جس سے لاکھوں روپے مالیت کے جیتے جاگتے مویشی جھلس کر دم توڑ گئے۔ آگ لگنے کی وجہ سے درجن سے زائد مویشی مرنے سے بچ گئے تاہم ان کے جسموں پر آنے والے زخموں ان جانوروں کو مزید اذیت دیتے رہیں گے۔ سرگودھا پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے ملزمان کی تلاش دشروع کردی ہے۔
وفاقی حکومت نے پہلی بارجائیداد کی فروخت ، منتقلی پر فائلرز اور نان فائلرز کیلئے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کردی ہے، ٹیکس کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے فنانس بل 2024 کو صدر مملکت کی جانب سے دستخط کے بعد ایکٹ کی صورت میں نافذ کردیا ہے، بل یکم جولائی سے نافذ العمل ہوجائے گا ، بل کے تحت ریئل اسٹیٹ کی جائیدادوں کی فروخت پر پہلی بار ایف ای ڈی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، فیصلے کے بعد بلڈرز اور ڈویلپرز کی پراڈکٹس پر 3 فیصد ایف ای ڈی عائد ہوگی ۔ بل کے تحت کمرشل پلاٹ فروخت کرنے پر 3 فیصد ایف ای ڈی وصول کی جائے گی، جائیداد دفروخت کرنے والا اگر فائلر ہو تو اس سے بھی 3 فیصد ایف ای ڈی لی جائے گی جبکہ لیٹ فائلر ز کیلئے ایف ای ڈی کی شرح 5 فیصد عائد کی گئی ہے اور نان فائلرز کیلئے 7 فیصد ایف ای ڈی مقرر کی گئی ہے۔ بل کے تحت اسلام آباد کے فارم ہاؤسز، بڑے گھروں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس کی مد میں پانچ لاکھ روپے ٹیکس عائد ہوگا، 1 سے 2 ہزار گز کے رہائشی گھروں پر 10 لاھ اور 2 ہزار سے بڑے گھروں پر 15 لاکھ روپے ٹیکس لیا جائے گا، 2000 سے 4000 گز تک کے فارم ہاؤسز اور گھروں کی فروخت پر 5 لاکھ روپے کیپٹل ویلیو ٹیکس عائد کیا گیا ہے،4 ہزار گز سے بڑے گھروں و فارم ہاؤسز کی فروخت پر 10 لاکھ سی وی ٹی لی جائے گی۔
چینی سرحد کے قریب لداخ کے علاقے میں فوجی مشقوں کے دوران بھارت کے 5 فوجی دریا برد ہو گئے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق چینی سرحد کے قریب لداح کے علاقے میں دولت بیگ اولڈ ایریا میں بھارت کے فوجی جنگی مشقوں کے دوران T-72 ٹینک پر دریا پار کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اچانک طغیانی آنے کے باعث دریا برد ہو گئے۔ فوجی مشقوں کے دوران چند بھارتی فوجیوں نے T-72 ٹینک پر دریا پار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر کے علاقے لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول میں دولت بیگ اولڈی کے قریب سے گزر رہے تھے کہ اچانک طغیانی آنے کے باعث T-72 ٹینک پانی میں بہہ گیا جس میں موجود 5 فوجی بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بھارتی فوجی جن علاقوں میں مشقیں کر رہے تھے وہاں پر پچھلے کچھ دنوں سے موسلادھار بارشیں ہو رہی تھیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی فوج کا T-72 نامی ٹینک 28 جون کی شب کو دریائے شیوک میں سیلابی ریلے میں پھنس گیا تھا، ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر مدد کے لیے پہنچ گئی تھیں لیکن پانی کی سطح اچانک بلند ہونے کی وجہ سے ٹینک دریابرد ہو گیا۔ ٹینک میں بھارتی جونیئر کمیشن آفیسر سمیت 5 اہلکار سوار تھے جو جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، ریسکیو حکام نے حکام نے پانچوں کی لاشیں دریائے شیوک سے نکال لی ہیں۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ فوجیوں نے بدقسمتی سے ٹینک پر دریا عبور کرنے کی کوشش کی اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، قوم اپنے بہادر سپاہیوں کی خدمات کو نہیں بھولے گی۔ واضح رہے کہ موسلادھار بارشوں کے موسم میں ان علاقوں میں کہیں کہیں اچانک بڑے ریلے آتے رہتے ہیں، متعدد ریلیوں میں بہہ کر متعدد افراد پہلے بھی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔
ملک بھر میں جرائم کی شرح میں روزبروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی ایک وجہ انتظامیہ و پولیس کی ناکامی بھی ہے، پولیس وانتظامیہ کے دعوئوں اور وعدوں کے باوجود اب تک ڈاکوئوں پر قابو پانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ شہریوں کو تاوان کے لیے اغوا کرنے کی وارداتوں میں بھی کمی آنے کے بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ڈاکوئوں کی ہمت اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ مغویوں کی ویڈیوز بھی وائرل کر رہے ہیں اس کے باوجود پولیس انہیں پکڑنے میں ناکام ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبہ سندھ کے شہر جیکب آباد میں ڈاکوئوں نے 19 دن پہلے ایک زمیندار کو تاوان کے لیے اغوا کر لیا تھا، زمیندار کا نام بہرام کھوسو کو جیکب آباد کے علاقے ٹھل سے اغوا کیا گیا تھا، ڈاکوئوں نے مغوی زمیندار کی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل کر دی ہے اور اس کے اہل خانہ سے 1 کروڑ روپے ودیگر قیمتی اشیاء کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ڈاکوئوں کی طرف سے وائرل کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بہرام کھوسو کو زنجیروں میں جکڑ کر رکھا گیا ہے اور وہ اپنے اہل خانہ کو پیسے ادائیگی کا پیغام دے رہا ہے، مغوی نے ویڈیو میں بتایا کہ ڈاکو اس سے 1 کروڑ روپے، 2 راڈو گھڑیوں اور آئی فون کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بہرام کھوسو کا ویڈیو میں اپنے اہل خانہ کے لیے پیغام تھا کہ مجھے میری زمین فروخت کر کے بازیاب کروایا جائے۔ دریں اثنا ذرائع کے مطابق جیکب آباد کے مختلف مقامات پر پولیس ڈکیت گینگ کے خلاف سرچ آپریشن ک رہی ہے جس کی سربراہی ایس ایس پی سید سلیم شاہ کر رہے ہیں۔ آپریشن چانڈیو گینگ میں شامل ملزمان کی گرفتاری کے لیے کیا جا رہا ہے جس میں بکتربندگاڑیوں، جدید مشینری کا استعمال کیا جا رہا ہے ، پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری تک یہ آپریشن جاری رہے گا۔
پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما نبیل گبول نے ایک دبنگ انٹرویو میں کہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں بیٹھے شخص کی وجہ سے معاملات خطرناک ہوچکے ہیں،ا گر آپس میں نا بیٹھے تو پھر نا پارلیمنٹ رہے گی نا ہی اڈیالہ جیل۔ تفصیلات کے مطابق رہنما پیپلزپارٹی نبیل گبول نے اے آروائی نیوز کے نمائندے نعیم اشرف بٹ سے خصوصی گفتگو کی اور کہا کہ میں مانتا ہوں کہ عمران خان کو مقبولیت کا ووٹ ملا، یہ ہمیں فارم 47 کی حکومت کہتے ہیں، میں سینٹرل پنجاب سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کے کتنے ایسے اراکین اسمبلی کو جانتا ہوں جنہوں نے ریٹرننگ افسران کو پیسے دے کر سیٹیں جیتی ہیں، یہ اراکین خود کہتے ہیں کہ انہوں نے آر او کو پانچ پانچ کروڑ روپے دیئے ہیں۔ نبیل گبول نے کہاپہلے یہ فیض یاب تھے آج زیر عتاب ہیں، آج کوئی اور فیض یاب ہے تو کل کوئی اور زیر عتاب ہوگا، یہ میوزیکل چیئر کے گرد سب گھوم رہے ہیں، پی ٹی آئی کو 50 فیصد ووٹ ملے جبکہ 50 فیصد انہیں بھی نوازا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ عمران خان باہر آجائیں گے مگر اس میں 6ماہ لگ سکتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کو سمجھ کر باہر آنا ہوگا اوروہ جلد سمجھ جائیں گے وہ 80 فیصد سیکھ چکے ہیں جبکہ 20 فیصد سیکھ کر باہر آجائیں گے، بانی پی ٹی آئی کا کوئی بھی اعتبار نہیں کررہا اور گارنٹی بھی نہیں دے رہا،گارنٹی والی شخصیات کہتی ہیں کہ بانی پی ٹی آئی شام کو کچھ ، صبح کچھ اور ہوتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں نبیل گبول نے کہا کہ اگر ہم سب مل بیٹھ کر اپنے ملک کو اس صورتحال سے نہیں نکالیں گےتو نا پارلیمنٹ رہے گا نا ہی اڈیالہ جیل رہے گا، اس وقت جس خطرناک صورتحال سے ہم گزررہے ہیں اس کی وجہ بس ایک ہی شخص ہے جو اڈیالہ جیل میں بیٹھا ہے، ہم سیاسی رہنماؤں کو قید کرنے کے خلاف ہیں، عام معافی ملنی چاہیے، تاہم عام معافی ان کو ملنی چاہیے جو یہ گارنٹی دے کہ باہر نکل کر مزید انتشار نا پھیلائیں، عمران خان بھی گارنٹی دے کر باہر آئیں اور جمہوریت کا ساتھ دیں۔ لیگی حکومت سے متعلق کہا ہم نون لیگ کی حکومت کو دھکا اسٹارٹ پر چلا رہےہیں اور جس دن ہم نے نون لیگ کو دھکا دینا بند کیا انکی گاڑی رک جائےگی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے خلاف کراچی کیماڑی ودیگر مقدمات کے حوالے سے درخواستوں پر 41 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ایک ہی الزام پر درج مقدمات کے اخراج کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ایک ہی واقعے کی ایف آئی آر متعلقہ پولیس سٹیشن کے علاوہ کسی دوسری جگہ درج نہیں ہو سکتی۔ تحریری فیصلے کے مطابق ایک ہی جرم میں ایک سے زیادہ دفعہ کسی بھی شہری کو پراسیکیوٹ نہیں کیا جا سکتا، شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا آئینی عدالتوں کی ذمہ داری ہے۔ شیخ رشید احمد کے کیس میں وقوعہ پولی کلینک اسلام آباد کا تھا اس لیے عدالتی دائرہ اختیار ہے، ان کے خلاف موچکو پولیس سٹیشن کیماڑی کراچی میں درج مقدمہ خارج کیا جاتا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سیاسی جماعتیں حکومت میں آتے ہی سیاسی مخالفوں پر غیرسنجیدہ کیسز بنا دیتی ہیں اور ایک ہی الزام پر مختلف ملکی حصوں میں مقدمات درج کروا دیئے جاتے ہیں۔ سیاسی مخالفین کو ایسے ٹارچر یا ہراساں کرنا سپریم کورٹ کی طرف سے طے شدہ قانون کی خلاف ورزی ہے، قانون کی حکمران وجمہوریت کیلئے بھی غلط ہے اس لیے ایسا کرنا سے پہلے دو دفعہ سوچ لینا چاہیے۔ تحریری فیصلے کے مطابق پولیس وعدالتی معاونین نے بتایا کہ اسلام آباد کے وقوعہ کا مقدمہ دوسرے صوبوں میں درج ہونا درست عمل نہیں، پولیس نے لاہور، لسبیلہ اور پشاور کے مقدمات اسی بنیاد پر کینسل کیے، لاہور، لسبیلہ اور پشاور کے مقدمات پولیس کی طرف سے کینسل ہونے پر درخواست گزاروں نے اپنی پٹیشنز واپس لیں۔ فیصلے کے مطابق بلاول بھٹو کو انتہائی غلیظ، غیراخلاقی کہنے کے باعث شیخ رشید پر کیماڑی میں مقدمہ درج ہوا جبکہ یہ الفاظ انہوں نے پولی کلینک اسلام آباد میں کھڑے ہو کر بولے تھے اس لیے ایف آئی آر میں پولیس نے کہا کراچی میں مقدمہ نہیں بنتا۔ پولیس اہلکار نے کہا معاملہ بلاول بھٹو کا ہے تو آفیشل سٹیٹمنٹ نہیں دے سکتا، سپریم کورٹ کے صغریٰ بی بی کیس کے مطابق ایک واقعے کے مختلف مقامات پر مقدمات درج نہیں ہو سکتے۔
سوشل میڈیا پر ہیرو بن کر سامنے آنے والے ایک شخص کی حقیقت سامنے آگئی ہے، مذکورہ شخص ایک سرکاری اسکول ٹیچر ہےجس نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اس نے ریلوے ٹریک سے بچی کو بچاتے ہوئے خود کو زخمی کرلیا، مگر حقیقت کچھ اور ہی تھی۔ تفصیلات کے مطابق دو روز قبل سوشل میڈیا پر کوئٹہ کے ٹراما سینٹر میں زیر علاج زخمی اسکول ٹیچر عامر غوری کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں یہ تاثر دینےکی کوشش کی کہ زخمی شخص نے شہباز ٹاؤن میں ایک بچی کو ٹرین کی زد میں آنے سے بچانے کی کوشش کی اور اس کوشش میں وہ ایک ہاتھ اور ایک پاؤں سے محروم ہوگئے۔ اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے عامر غوری کو زبردست خراج تحسین پیش کرنا شروع کردیا اور اس عظیم قربانی پر انہیں خوب سراہا، بات یہاں تک بڑھی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے بھی نوٹس لیا اور ہیرو قرار دیئے جانے والے زخمی کیلئے سرکاری خرچ پر بہترین علاج کی سہولت فراہم کرنے اور اس کیلئے انہیں کراچی منتقل کرنے کی ہدایات دے دیں۔ تاہم اس واقعہ کی حقیقت اس وقت سامنے آئی جب مذکورہ ریلوے ٹریک کے آس پاس لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے لگیں، ویڈیو دیکھ کر پتا چلا کہ اس واقعہ میں سراسر کسی بچی یا بچے کا کوئی کردار تھا ہی نہیں بلکہ یہ ایک خودکشی کی کوشش کا معاملہ تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عامر غوری ریلوے ٹریک کے قریب موجود تھے جیسے ہی ٹرین قریب آئی تو انہوں نے بھاگ کر ٹریک پر لیٹنے کی کوشش کی مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوئے اور صرف زخمی ہوگئے۔ ویڈیوز منظر عام پر آنے اور معاملے کی حقیقت کھلنےپر وزیراعلیٰ بلوچستان نے شدید برہمی کا اظہار کیا اور پولیس کو تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ حکومت خود سوزی کرنے والوں کو اعلان کردہ مراعات فراہم نہیں کرے گی بلکہ انسانی ہمدردی کے تحت اس کا علاج کروائے گی۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ عمران خان چاہتے ہیں تو اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرلیں ، ہمیں عمران خان کی رہائی سے کئی خطرہ نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کو عمران خان کی رہائی سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپریشن فوج کی نہیں بلکہ ہماری ضرورت ہے، حکومت کو ذمہ داری بھی ہے اور یہ ذمہ داری لینی بھی چاہیے، سیاسی معاملات کو سیاسی طریقے سے نمٹنا چاہیے مگر اس کیلئے بات چیت لازم ہے۔ اس سے قبل وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کےاجلاس سے خطاب کیا اور کہا کہ پی ٹی آئی آج بھی 9 مئی والی جماعت ہے، یہ آج بھی فوج کے خلاف دہشت گردوں کے ساتھ کھڑۓ ہیں، کبھی یہ دھمکیوں پر اتر آتے ہیں تو کبھی پاؤں پکڑتے ہیں۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ ہمارے ملک میں اقلیتیں غیر محفوظ ہوچکی ہیں، روزانہ کی بنیاد پر ان کے قتل ہورہے ہیں، اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات پر پوری قوم کو شرمسار ہونا چاہیے، اسمبلی میں اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہونا چاہیے، تاہم اپوزیشن اس معاملے پر بھی اپنے سیاست چمکارہی ہے۔
حیدرآباد گھریلو تنازعے پر بھتیجوں نے اپنی چچی اور اس کی بیٹی کو ایک کمرے میں قید کر کے پختہ دیوار بنا دی جنہیں پولیس نے کارروائی کر کے بازیاب کروایا۔ ذرائع کے مطابق حیدرآباد کے علاقہ لطیف آباد نمبر 5 میں گھریلو تنازعے پر بھتیجوں نے اپنی چچی اور اس کی بیٹی کو ایک کمرے میں بند کر کے پختہ دیوار تعمیر کر دی اور انہیں قید کر دیا۔ لطیف آباد بی سیکشن پولیس نے اطلاع ملنے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ماں بیٹی کو دیوار توڑ کر بازیاب کروا لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماں بیٹی کو ایک کمرے میں قید کرنے کے بعد ملزمان فرار ہو گئے تھے، پولیس کو مقامی افراد کی طرف سے مددگار 15 پر اطلاع دی گئی کہ ایک ماں بیٹی کو گھر میں قید کیا گیا ہے جس پر لطیف آباد بی سیکشن پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں بازیاب کروایا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر کمرے کی دیوار توڑی اور ماں بیٹی کو بحفاظت بازیاب کر کے طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا۔ خواتین کی شناخت تسلیم جہاں زوجہ عبدالحق اور بیٹی دعا کے نام سے ہوئی ہے جنہیں ایک دن قبل ہی کمرے میں قید کر کے پختہ دیوار تعمیر کی گئی تھی۔ پولیس اطلاع ملنے پر اس گھر میں پہنچی تو مرکزی دروازے پر تالا لگا ہوا تھا جسے توڑ کر اندر داخل ہوئے، واقعہ میں ملوث خاتون کے دیور اور بھتیجوں کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہی ہے۔ پولیس کی طرف سے بی سیکشن کے تحت مذکورہ واقعے کا مقدمہ مسماۃ تسلیم جہاں زوجہ عبدالحق کی مدعیت میں 3 افراد (خاتون کا دیور، اس کی بیوی اور برادرنسبتی) کو نامزد کر کے درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمے میں خاتون کے گھر پر قبضہ کرنے، حبس بے جا میں رکھنے اور دھمکیاں دینے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ میرے دیور نے ہم ماں بیٹی کو گیس، بجلی اور پانی کی سہولت سے محروم رکھا ہوا تھا اور ہمیں کمرے میں بند کر کے دیوار بنا کر پلستر کرا دیا تھا تاکہ باہر نہ نکل سکیں۔ خاتون نے بتایا کہ ملزموں نے میرے مکان پر قبضہ کرنیکی کوشش کی، میری جان کو خطرہ ہے، تحفظ دیا جائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تسلیم جہاں اور اس کے دیور کے درمیان مکان کی ملکیت کے حوالے سے تنازع چل رہا تھا۔
سابق بیوروکریٹ، وکیل اور کالم نویس اوریا مقبول جان نے چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں باقاعدہ ریفرنس دائر کر دیا ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کیے گئے ریفرنس میں اوریا مقبول جان کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ چیف جسٹس کے طرز عمل کی تحقیقات جائیں سینئر سپریم کورٹ ججز کو مخاطب کرتے ہوئے ان کے خلاف متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اوریا مقبول جان کی طرف سے دائر ریفرنس میں بنیادی الزام 3 مئی 2024ء کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ہدایات پر پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھے گئے ایک خط کے گرد گھومتا ہے۔ چیف جسٹس نے مبینہ طور پر یہ خط 27 اپریل 2024ء کو لاہور میں منعقدہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں برطانوی ہائی کمشنر کے ریمارکس کے جواب میں لکھوایا تھا۔ اوریا مقبول جان کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ کے اقدامات ججز کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہیں، ان کی سپریم کورٹ رجسٹرار کو خط لکھنے کی ہدایت عدالتی حقانیت کی خلاف ورزی ہے جس میں عوامی تنازع میں ملوث ہونا اور سیاسی سوال کو حل کرنا شامل ہے۔ شکایت میں ججز کے ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2 کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں ججز کو رائے میں محتاط اور بردبار ہونے کا حکم دیا گیا ہے اور آرٹیکل 5 ججز کو تشہیر حاصل کرنے اور عوامی تنازعات میں ملوث ہونے سے روکتا ہے۔ اوریا مقبول جان کا کہنا تھا کہ جسٹس عیسیٰ کے یہ اقدامات وزارت خارجہ کے دائر کار میں مداخلت کے مترادف اور عدالتی دائر کار سے باہر ہیں۔ چیف جسٹس نے وزارت خارجہ کے ترجمان کے طور پر کام کرنے کی کوشش کرتے ہوئے مبینہ طور پر اپنے آئینی کردار سے تجاوز کیا ہے اور پاکستان کے برطانیہ کے ساتھ سفارتی تعلقات کو خطے میں ڈالا ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل معاملے کی تحقیقات کر کے صدر پاکستان کو رپورٹ کرے اور شکایت میں جسٹس عیسیٰ کو ججز کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار پانے پر ہٹانے کی سفارش کی گئی ہے۔ سینئر صحافی نعیم اشرف بٹ نے اوریا مقبول جان کا انٹرویو شیئر کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا: سابق بیوروکریٹ، وکیل، کالم نویس اوریا مقبول جان نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کےخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائرکردیا ہے! ریفرنس دائر کیوں کیا گیا اور کیا شکایت کی گئی ہے؟ دیکھیے اوریا مقبول جان کا ایکسکلوسیو انٹرویو!
پی ٹی آئی اتحاد کی پاکستان کی طرف سے افغانستان کے اندر حملے کی مخالفت پی ٹی آئی اتحاد نے پاکستان کی طرف سے افغانستان کے اندر حملے کی بھی مخالفت کردی, ہوا کچھ یوں کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں واضح کیا کہ افغانستان سے دہشتگردی ہوئی تو جواب دیں گے، عوام اور ملک کی حفاظت کے لیے ہمیں حق ہے کہ اس کا جواب دیں۔ اس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے ہنگامی اجلاس میں مطالبہ کیا کہ کسی اور ملک کے اندر مداخلت نہ کی جائے,قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے بیان دیا افغانستان کے اندر حملہ کریں گے، مزید جنگ اور خرابی کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے، افغانستان کے اندر حملے کا مطلب پورے خطے کو جنگ میں دھکیلنا ہے۔ اسد قیصر کا کہنا تھاہماری خارجہ پالیسی ہے کہ نہ کہیں مداخلت کریں گے نہ کرنے دیں گے، خیبر پختونخوا اور فاٹا کی معیشت کی بنیاد افغانستان پر ہے، پی ٹی آئی کے افغانستان سے اچھے تعلقات استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ آپریشن 'عزم استحکام' کے تحت تحریک طالبان پاکستان کو افغانستان کے اندر بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ وزیر دفاع نے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو بھی یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ اس کی بنیاد نہیں,وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ آپریشن' عزمِ استحکام 'کے تحت حکومت سرحد پار افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکتی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے سندھ میں 54 ہزار سے زائد بھرتیاں کالعدم قرار دیدی ہیں، یہ بھرتیاں اگست 2023 کے اشتہارات کے مطابق کی گئی تھیں۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں گریڈ 1 سے 15 پر ہونے والی 54 ہزار سے زائد بھرتیوں کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) پاکستان کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے 23 اگست 2023 کے اشتہارات کے مطابق کی گئیں بھرتیوں کو کالعدم قرار دیدیا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں واک ان انٹرویو کی بنیاد پر کبھی بھرتیاں نہیں کی جائیں گی، گریڈ 1 سے چار اور 5 سے 15 کی پوسٹوں پر ضلعی بنیاد پر بھرتیاں کی جائیں۔ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے میں کہا گیا کہ سندھ حکومت بھرتیوں سے متعلق بنائے گئے قوانین کے مطابق نئی بھرتی کرے۔ واضح رہے کہ ایم کیو ایم کی جانب سے سندھ میں واک ان انٹرویو کی بنیاد پر کی گئی 54 ہزار بھرتیوں کو چیلنج کیا گیا ہے جس پرسندھ ہائی کورٹ نے حکم امتناع جاری کردیا تھا۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی کا اخلاقیات برقرار رکھنے کیلئے کمیٹی بنانے کا اعلان اسپیکرپنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے اسمبلی میں اخلاقی روایات کی دھجیاں اڑانے والوں کی نشاندہی کے لیے کمیٹی بنانے کا اعلان کردیا, پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں اسپیکر ملک احمد خان نے واضح کیا آئینی طریقہ کار کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور غیر اخلاقی نعرے بازی کرنے والوں کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔ انہوں نے اسمبلی میں اخلاقی روایات کی دھجیاں اڑانے والوں کی نشاندہی کے لیے کمیٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں ہلڑ بازی ہرگز برداشت نہیں اور نہ ہی ہودہ نعروں کی اجازت ہوگی,ہمیں گندی زبان استعمال کر کے ایک دوسرے کو اشتعال نہیں دلانا چاہیے، احتجاج سب کا حق ہے، اب احتجاج غلیظ گالیوں تک پہنچ چکا ہے، پہلے ہلڑ بازی، شورشرابا تھا اب بات گالم گلوچ تک پہنچ گئی ہے، ایوان میں اپوزیشن کی اشتعال انگیز نعرے بازی اور الزام تراشی معمول بنا چکا ہے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ میری موجودگی میں ایوان کے اندر گالیاں دی گئیں، لوگ اخلاقی سطح سے گر جائیں گے تو کس طرح ایوان چلے گا، ایوان کی تنزلی کے ذمہ دار اس کے اندر بیٹھے لوگ ہیں یہ کوئی جلسہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی کنٹینر ہے، کوشش کی کہ مذاکرات کو فروغ دیا جائے۔ ملک احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ اسمبلی میں بیہودہ نعروں کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ایک عرصے کے بعد ہمیں ٹیکس فری بجٹ دیکھنے کو ملا، اپوزیشن کی حرکتوں کو بہت برداشت کیا، ارکان اخلاقی سطح سے گر جائیں گے تو مجھے اپنا اختیار استعمال کرنا پڑے گا۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم کے بعد سینئر مینجر وہاب ریاض نے بھی صحافی مبشر لقمان کو قانونی نوٹس بھجوا دیا,ذرائع کے مطابق وہاب ریاض نے صحافی کو لیگل نوٹس میں وی لاگ میں لگائے گئے الزامات پر 14 دنوں میں معافی مانگنے کا مطالبہ اور پچاس کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔ وہاب ریاض نے مؤقف اپنایا کہ جس طرح اپنے یوٹیوب چینل پر ہتک آمیز بیانات جاری کیے تھے اسی چینل کے ذریعے معافی بھی مانگیں۔ 14 روز میں معافی نہ مانگی تو آپ کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔ اس سے قبل بابر اعظم نے بھی مبینہ الزامات عائد کرنے پر اینکر و یوٹیوبر اور صحافی مبشرلقمان کو ایک ارب روپے ہرجانے کا ہتک عزت کا نوٹس بھیجا تھا۔ اینکرپرسن نے اپنی ویڈیو میں الزام عائد کیا تھا کہ بابراعظم نے میچز کے نتائج تبدیل کرنے کے لیے مہنگی گاڑیاں، دبئی اور آسٹریلیا میں اپارٹمنٹس حاصل کیے، جب کہ ان پر بکیز سے روابط کا الزام بھی عائد کیا گیا، جس میں ان کے ساتھ دیگر کھلاڑیوں اور کچھ سابق کرکٹرز کا نام بھی لیا تھا۔ اینکرپرسن نے خصوصی طور پر ٹی20 ورلڈکپ میں میزبان امریکا کے خلاف پاکستان کے افتتاحی میچ پر شکوک شبہات کا اظہار کیا گیا تھا، جس میں پاکستان کو سپر اوور میں شکست ہوئی تھی۔ اینکرپرسن نے خصوصی طور پر ٹی20 ورلڈکپ میں میزبان امریکا کے خلاف پاکستان کے افتتاحی میچ پر شکوک شبہات کا اظہار کیا گیا تھا، جس میں پاکستان کو سپر اوور میں شکست ہوئی تھی۔
وفاقی ادارہ شماریات نے حالیہ ہفتے میں مہنگائی کی شرح بارے رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق ملک بھر میں مسلسل 5 ہفتوں تک مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہونے کے بعد کمی واقع ہونا شروع ہو گئی ہے تاہم آٹے اور دالوں سمیت 18 اشیاء کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے میں مہنگائی کی شرح 0.73 فیصد کم ہوئی ہے جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح کم ہونے کے بعد 22.88 فیصد ہو گئی ہے۔ مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق روزمرہ استعمال کی 18 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھی ہیں اور 8 کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 25 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا۔ رواں ہفتے ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 25.25فیصد، چکن 14.20فیصد، پیاز 3.90فیصد، باسمتی ٹوٹا چاول 0.15فیصد، انڈے 0.09فیصد، بریڈ 0.81فیصد اور لہسن کی قیمت میں 2.80فیصد کمی ہوئی۔ اعدادوشمار کے مطابق آٹے کی قیمت 0.61فیصد، لکڑی 0.20فیصد، گڑ 0.87فیصد، آلو 0.99فیصد، دال ماش 0.32فیصد، دال مسور 1.79فیصد، دال مونگ 3.20فیصد، دال چنا 4.72فیصد اور ایل پی جی کی قیمت 5.38فیصد بڑھ گئی۔ حساس قیمتوں کے اشاریہ کے لحاظ سے 17ہزار 732 روپے کمانے والے شہریوں کیلئے مہنگائی کی شرح میں 0.80 فیصد کم ہو کر 16.57فیصد ہو گئی۔ 17 ہزار 733 سے 22 ہزار 88 ماہانہ کمانے والے شہریوں کیلئے مہنگائی کی شرح 0.85فیصد کم ہو کر 20.30فیصد ہو گئی ہے۔ 29ہزار 517 روپے تک کمانے والے شہریوں کیلئے مہنگائی کی شرح 0.77فیصد کم ہو کر 26فیصد، 44 ہزار تک ماہانہ کمانے والے شہریوں کیلئے مہنگائی کی شرح 0.79فیصد کم ہو کر 23.30فیصد ہو گئی، 44 ہزار 176 روپے تک ماہانہ کمانے والے شہریوں کیلئے مہنگائی 0.67 فیصد کم ہو کر 20.53 ہو گئی ہے۔ علاوہ ازیں لاہور کی ہول سیل مارکیٹ میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد دال چنا کی قیمت میں 3 ہزار روپے فی من اضافہ ہوا اور قیمت فی کلو قیمت 300 تک پہنچ گئی ہے۔ سرکاری ریٹ لسٹ کے مطابق دال چنا 250 روپے کلو ہے جبکہ ہول سیل مارکیٹ میں قیمت 285 اور پرچون میں 300 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق لاہورمیں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 100 روپے بڑھ کر 1700 روپے، راولپنڈی میں 1850 روپے جبکہ 10 کلو آٹے کا تھیلے کی قیمت 50 روپے بڑھ کر 850 روپے ہو گئی ہے۔ چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن عاصم رضا کا کہنا ہے کہ گندم کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے آٹے کی قیمت بڑھی، فلور ملز مالکان کا خدشہ ہے کہ آئندہ دنوں میں آٹے کی قیمت مزید بڑھے گی۔
پاکستان آزاد وخودمخار حیثیت سے اپنے اندرونی معاملات میں کوئی مداخلت قبول نہیں کریگا: قرارداد کا متن پاکستان میں 8 فروری 2024ء کو ہونے والے عام انتخابات میں بے ضابطگیوں اور مداخلت کی تحقیقات کے حوالے سے امریکی کانگریس میں منظور کی گئی قرارداد کےخلاف قومی اسمبلی میں قرارداد منظور کر لی گئی۔ حکومتی رکنی قومی اسمبلی شائستہ پروہز ملک نے قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ 25 جون 2024ء کو امریکی ایوان نمائندگان کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد "پاکستان میں جمہوریت کی حمایت کا اظہار" کا یہ ایوان نوٹس لے رہا ہے۔ قرارداد کے مطابق پاکستان 1973ء کے آئین کی روح کے تحت جمہوریت کے بین الاقوامی اصولوں اور اس میں درج کردہ بنیادی انسانی حقوق کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ یہ ایوان ہمارے بیان کے تصور اور عوام کی امنگوں کے مطابق مذکورہ بالا اصولوں کی حفاظت اور ان کی برقرار رکھنے کیلئے پاکستان کی کوششوں اور مضبوط ومستحکم جمہوری معاشری کی تعمیر کا اعادہ کرتا ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ امریکی ایوان نمائندگان میں منظور کی گئی قرارداد واضح طور پر پاکستان کے انتخابی وسیاسی عمل بارے غلط فہمی اور نامکمل معلومات کا نتیجہ اور حقائق کے خلاف ہے جو انتہائی افسوسناک امر ہے۔ پاکستان میں 8 فروری 2024ء کو ہونے والے عام انتخابات میں کروڑوں پاکستانیوں کے حق رائے دہی کے آزادانہ استعمال کو تسلیم نہ کیا جانا بھی انتہائی افسوسناک ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک آزاد وخودمخار حیثیت سے اپنے اندرونی معاملات میں کوئی مداخلت قبول نہیں کریگا اور امریکی کانگریس سے منظور کی گئی قرارداد ایسا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ ایوان اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مضبوط، باہمی تعاون واحترام پر مبنی برابری کی بنیادپر دوطرفہ تعلقات قائم کیے گئے۔ یہ ایوان اس امید کا بھی اظہار کرتا ہے کہ آئندہ امریکی ایوان نمائندگان دونوں ملکوں کے باہمی فائدے کیلئے تعاون کی نئی راہوں پر توجہ مرکوز کرکے دوطرفہ تعلقات مضبوط کرنے میں تعمیری کردار ادا کرے گا۔ ایوان میں پیش کی گئی قرارداد کی سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی طرف سے مخالفت کی گئی اور اس دوران احتجاج کرتے ہوئے سائفر، سائفر کے نعرے لگاتے رہے اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں۔ یاد رہے کہ 2 دن پہلے ہی امریکی ایوان نمائندگان کی طرف سے پاکستان میں 8 فروری 2024ء کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد دھاندلیوں اور مداخلت کے دعوئوں کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کے حق میں بھاری اکثریت سے قرارداد منظور کی گئی تھی۔ انتخابات میں بے ضابطگیوں کے دعوئوں یا مبینہ مداخلت کی تحقیقات کیلئے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں 7 کے مقابلے 368 امیدواروں نے ووٹ کیا تھا۔
پاکستان تحریک انصاف میں مبینہ اختلافات کے باعث شہریار آفریدی نے قومی اسمبلی سے استعفیٰ دیا تھا جس کے بعد شیرافضل خان مروت کی طرف سے بھی قومی اسمبلی سے استعفیٰ دینے کا عندیہ دیا گیا تھا جبکہ گزشتہ روز سیکرٹری جنرل تحریک انصاف عمر ایوب خان نے پارٹی عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنمائوں کے استعفوں کی خبروں کے بعد پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک بننے کی افواہیں گردش میں تھیں جن پر پی ٹی آئی رہنمائوں شہریار آفریدی، شیرافضل مروت اور شاندانہ گلزار نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ شہریار آفریدی نے پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک بننے کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے اپنے ردعمل میں بیان دیتے ہوئے کہا: میرے خلاف پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، میں نے اپنے گھر کے تین جنازے اس لیے نہیں اٹھائے کہ میں خدانخواسہ تحریک انصاف میں کسی فارورڈ بلاک کا حصہ بنوں گا، ایک عمران خان ایک پاکستان! شیر افضل مروت نے تحریک انصاف میں فارورڈ بلاک کی افواہوں پر ردعمل دیتے ہوئے اپنے ایکس (ٹوئٹر) اکائونٹ سے اپنے پیغام میں لکھا: جو عناصر پاکستان تحریک انصاف میں فارورڈ بلاک بننے کی افواہیں پھیلا رہے ہیں وہ پی ٹی آئی مخالف ہیں، پی ٹی آئی ایک ہے اور خان صاحب کی قیادت میں متحد ہے! پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شاندانہ گلزار نے ہیش ٹیگ لفافے مردہ باد، ہیش ٹیگ عمران خان تو آئیگا استعمال کرتے ہوئے اپنے ردعمل میں لکھا: میرے تمام پاکستان تحریک انصاف کے بھائی بہنوں کے نام پیغام! میری بجٹ تقریر کے بعد سے میرا فون بلاک ہے اور ابھی ابھی میرا فون کھولا گیا ہے، پتہ چلا ہے کہ مجھے رنگ لیڈر بنانے کی ناکام کوشش ہو رہی ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے حوالے سے لکھا کہ: جیو نیوز ہمیشہ کی طرح استعمال ہو رہا ہے، میں پاکستان تحریک انصاف میں کسی بھی فارورڈ بلاک، بیک ورڈ بلاک، ایڈا بلاک کی ممبر نہیں ہوں۔ میری ایک پارٹی، ایک لیڈر اور ایک ایمان ہے، پاکستان!