خبریں

خبریں

Threads
6.7K
Messages
58.1K
Threads
6.7K
Messages
58.1K

معاشرتی مسائل

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None

طنز و مزاح

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None

رائے

Threads
52
Messages
564
Threads
52
Messages
564
چیئرمین پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ورکن قومی اسمبلی اور سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف صدارتی الیکشن لڑنے والے محمود خان اچکزئی 8 فروری 2024ء کو ہونے والے انتخابات میں قلعہ عبداللہ چمن کی نشست NA-266 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ 12 دسمبر 1948 کو محمود خان اچکزئی عنایت اللہ کاریز گلستان ضلع قلعہ عبداللہ میں پیدا ہوئے اور پرائمری سطح تک گورنمنٹ پرائمری سکول عنایت اللہ کاریز گلستان سے تعلیم حاصل کی۔ محمود خان اچکزئی نے گورنمنٹ ہائی سکول عنایت اللہ سے میٹرک کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ ڈگری کالج (سائنس کالج) کوئٹہ سے انٹرمیڈیٹ کر کے مکینیکل انجینئرنگ کالج یونیورسٹی آف پشاور سے بیچلر آف انجینئرنگ مکمل کی۔ سیاست کا باقاعدہ آغاز زمانہ طالبعلمی سے پشتون سٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں شامل ہو کر کیا جو بعد میں پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن بن گئی۔ 25 سالہ محمود خان اچکزئی سربراہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی 2 دسمبر 1973ء کو شہادت کے بعد پارٹی فیصلے کے بعد پہلے سربراہ پھر 1989ء میں چیئرمین پشتونخوا ملی عوامی پارٹی منتخب ہو گئے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں 7 اکتوبر 1983ء کو ایم آر ڈی تحریک کے قندھاری بازار میں جلوس کی قیادت کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی پر حملہ ہوا لیکن وہ معجزانہ طور پر محفوط رہے۔ محمود خان اچکزئی کے 4 ساتھی کاکا محمود، رمضان، دائود اور اولس یار اس افسوسناک واقعے میں شہید ہو گئے جس کے بعد محمود خان اچکزئی تقریباً 6 سال تک روپوش رہے۔ 1989ء میں دوبارہ سے منظرعام پر آنے کے بعد محمود اچکزئی نے لویا جرگہ کے انعقاد کی تجویز دی اور اسی بنیاد پر گلستان کی جنگ کا بھی آغاز ہوا۔ 1974ء میں محمود خان اچکزئی (قلعہ عبداللہ، چمن گلستان اور دوبندی) کے حلقے سے پہلی دفعہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے، 1990ء میں قلعہ عبداللہ خان پشین اور 1993ء میں پھر سے قلعہ عبداللہ خان پشین اور کوئٹہ چاغی کے حلقے سے منتخب ہوئے تھے۔ 2002ء میں ایک بار پھر سے وہ قلعہ عبداللہ پشین کی قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوئے۔ محمود خان اچکزئی نے 2013ء کے انتخابات سے پہلے نگران وزیراعظم بننے سے انکار کردیا بعدازاں انتخابات میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور حالیہ عام انتخابات میں قلعہ عبداللہ چمن اور کوئٹہ سٹی کے حلقہ NA-266 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ محمود اچکزئی نے جمہوری سیاسی اتحادوں میں ہمیشہ صف اول کا کردار ادا کیا اور آئینی بالادستی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ محمود خان اچکزئی جمہوری تحریک، پونم، اے پی ڈی ایم، ایم آر ڈی تحریک سمیت پی ڈی ایم کا بھی حصہ رہے اور اصولی موقف پر ڈٹے رہے۔ سردار عطاء اللہ مینگل کے بعد 2006ء میں صدر پونم اتحاد منتخب ہوئے جس میں سرائیگی، سندھی، بلوچ اور پشتون اقوام شامل ہیں۔ محمود اچکزئی مرکزی نائب صدر پی ڈی ایم رہے، ان کے خاندان میں اہلیہ، 3 بیٹے ازل خان، اصل خان اور اٹل خان اچکزئی اور 2 بیٹیاں شامل ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ بھارت نے چین سے پاکستان آنے والے ایک بحری جہاز کو روک لیا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈین کسٹم حکام نے چین سے کراچی جانے والے ایک بحری جہاز کو ممبئی کی بندرگاہ پر اس شبہ میں روکا ہے کہ جہاز میں جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام میں استعمال ہونے والا سامان موجود ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق 23 جنوری کو بھارتی کسٹم حکام نےانٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر مالٹا سے تعلق رکھنے والے ایک تجارتی بحری جہاز کو روکا اور جہاز میں موجود سامان کا معائنہ کیا، جہاز میں ایک کمپیوٹر نیومریکل مشین سی این سی موجود تھی، یہ ایک اطالوی کمپنی کی تیار کردہ مشین ہے جو بنیادی طور پر کمپیوٹر کے ذریعے کنٹرول ہوتی ہے اور ایسی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے جو مینوئلی ممکن نہیں۔ بھارت خبررساں ادارے کے مطابق انڈین ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی ایک ٹیم نے بھی جہاز میں موجود سامان کا معائنہ کیا اور دعویٰ کیا کہ پاکستان اس مشینری کو اپنے جوہری پروگرام کیلئے استعمال کرسکتا ہے اور ان آلات کی مددسے پاکستان اپنے میزائل ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے اہم پرزوں کی تیاری ممکن بناسکتا ہے۔ بھارتی دعوے کے مطابق سامان پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں"پاکستان ونگز پرائیویٹ لمیٹڈ" کی جانب سے امپورٹ کیا جارہا تھا، یہ کھیپ تائیوان مائننگ امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے پاکستان میں کاسموس انجینئرنگ کیلئے بھیجی گئی، انڈین ڈیفنس حکام نے جہاز میں موجود اس سازوسامان کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔
عدالت نے ریکارڈ اور تمام بیانات کو نظرانداز کرتے ہوئے مجھے توہین عدالت کا مرتکب قرار دے دیا ہے: ڈی سی اسلام آباد ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن کی طرف سے توہین عدالت پر دی گئی سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی گئی ہے۔ ڈی سی اسلام آباد نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ایس ایس پی آپریشنر کی معلومات پر مئی 2023ء میں نظربندی احکامات میٹننس آف پبلک آرڈر(ایم پی او)کے تحت جاری کیے تھے جسے 2 جون کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے غیرقانونی قرار دیکر کالعدم کرنے کے احکامات دیئے تھے۔ ڈی سی اسلام آباد کی درخواست کے مطابق راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ نے نظربندی کے متعدد احکامات جاری کیے جن کا مجھ سے کوئی تعلق نہ تھا، عدالت نے ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کی۔ 5 اگست 2023ء کو عمران خان گرفتار ہوئے اور 8 اگست کو سپیشل برانچ اور انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹس پر نظربندی کے احکامات جاری کیے جس پر میرے خلاف توہین عدالت کارروائی شروع کر دی گئی۔ درخواست کے مطابق توہین عدالت کے تحت فردجرم عائد کی گئی جس کے بعد تمام ریکارڈ عدالت کے سامنے رکھا گیا اور اپنا تفصیلی بیان بھی عدالت کے سامنے ریکارڈ کروایا، اپیل میں سپیشل برانچ و انٹیلی جنس بیورو حکام نے بھی تائیدی بیان ریکارڈ کروایا۔ عدالت نے ریکارڈ اور تمام بیانات کو نظرانداز کرتے ہوئے مجھے توہین عدالت کا مرتکب قرار دے دیا۔ ڈی سی اسلام آباد نے اپیل میں سوالات اٹھائے کہ کیا میں نے 2 جون 2023ء کو سنگل رکنی بینچ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی؟ کیا فیصلے میں ڈی سی کو 3 ماہ بعد نظربندی آرڈر جاری کرنے سے روکا گیا تھا؟ سپیشل برانچ اور انٹیلی جنس بیورو کی رپورٹس کو مدنظر رکھ کر نظربندی کے احکامات جاری کرنا کیا بلاجواز تھا؟ اپیل میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر ڈی سی اسلام آباد کے اقدام سے عدالتی حکم عدولی ہوئی ہے تو وفاقی دارالحکومت کی حدود سے باہر حکام نے توہین عدالت نہیں کی؟ سنگل رکنی بینچ نے توہین عدالت کیس کا فیصلہ کیا ذاتی جذبات کی بناد پر چلا کر جذباتی فیصلہ جاری کیا؟ کیا سنگل بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے میرٹ کے بجائے ذاتی جذبات کو مدنظر رکھا؟ درخواست میں ڈی سی اسلام آباد نے استدعا کی کہ سنگل رکنی بینچ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے اور ڈی سی اسلام آباد کو بری کیا جائے۔ دوسری طرف توہین عدالت کیس میں ڈی سی اسلام آباد کو سزا پر انٹراکورٹ اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیر پر مشمل 2 رکنی بینچ تشکیل دیدیا ہے، ڈی سی اسلام آباد ودیگر کی انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت 4 مارچ کو کی جائیگی۔ واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی طرف سے ڈی سی اسلام آباد عرفان نواز میمن کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے 6مہینے قید کی سزا سنائی گئی تھی، فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے سنایا اور کہا کہ ملزم کی سزا معطل نہ ہوئی تو گرفتار کر کے اڈیالہ جیل بھجوایا جائے۔ عرفان نواز میمن پی ٹی آئی رہنما شاندانہ گلزار اور شہریار آفریدی کی گرفتاریوں کے کیس میں توہین عدالت کا سامنا کر رہے تھے۔
رقم چاہئے تو مطالبات پورے کرنا ہوں گے, آئی ایم ایف کا پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ جاری ہے, آئی ایم ایف نے تنخواہ دار یا غیر تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ کردیا، ٹیکس سلیب میں کمی کا بھی مطالبہ کیا ہے,پی آئی ٹی اصلاحات کے ذریعے 500 ارب روپے کے اضافی ریونیو کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کا بوجھ دوگنا کرنے کی سفارش کی ہے تاکہ ان کی تفریق ختم کر دی جائے، سلیبس کی تعداد سات سے کم کر کے چار کر دی جائے اور پنشنرز کو پرائیویٹ آجروں کی شراکت پر ٹیکس چھوٹ ختم کر دی جائے۔ آئی ایم ایف نے تخمینہ لگایا ہے کہ اگر پرسنل انکم ٹیکس (پی آئی ٹی) سے متعلق سفارشات پر پوری طرح عمل کیا جائے تو اس سے جی ڈی پی کا صفر اعشاریہ پانچ فیصد اضافی ریونیو حاصل ہو سکتا ہے، جو کہ سالانہ بنیادوں پر 500ارب روپے کے برابر ہے۔ رواں مالی سال میں ایف بی آر نے رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ جولائی تا فروری کے دوران تنخواہ دار طبقے سے اب تک 215 ارب روپے اکٹھے کیے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایف بی آر تنخواہ دار طبقے سے تقریباً 300 ارب روپے حاصل کر سکتا ہے۔ پی آئی ٹی پر آئی ایم ایف کی سفارش سے تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار دونوں طبقوں سے 500ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہو سکتا ہے,اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ ایف بی آر استثنیٰ اور دیگر ترجیحی ٹیکس تریٹمنٹس کو ختم کر کے اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکتا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط کا متن سامنے آگیا ہے۔ عمران خان کی جماعت نے آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو مزید قرض دینے سے پہلے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 30 فیصد نشستوں پر الیکشن کا آڈٹ کرائے۔ پی ٹی آئی ترجمان رؤف حسن کی جانب سے آئی ایم ایف کی ایم ڈی کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ یہ خط عمران خان کے ایما پر لکھا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس بھی کی جس میں خط لھے جانے کی وجوہات بیان کی گئیں,خط میں آئی ایم ایف کو یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ وہ رکن ممالک میں گڈ گورننس پر کس قدر زور دیتا ہے۔ خط میں کہا گیا کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی کم ازکم 30 فیصد نشستوں پر آڈٹ یقینی بنایا جائے جو دو ہفتے میں ہو سکتا ہے,پی ٹی آئی نے کہا کہ وہ آئی ایم ایف کو انوسٹی گیٹو ایجنسی بننے کے لیے نہیں کہہ رہی، پاکستان میں دو مقامی ادارے فافن اور پٹن کولیشن 38 پہلے ہی انتخابات کے آڈٹ کے لیے طریقہ کار تجویز کر چکے ہیں جسے کچھ ردوبدل کے ساتھ مقامی سطح پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے اطمینان کے مطابق اختیار کیا جا سکتا ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سازی کے عمل میں کچھ اہم عہدوں پر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنمائوں کو موقع دینے کا عندیہ دے دیا۔ بلاول بھٹو زرداری سے پارلیمنٹ ہائوس میں اجلاس کے بعد ایک صحافی نے سوال کیا کہ "یہ سننے میں آرہا ہے کہ کامران ٹیسوری کے گورنر سندھ ہونے پر پاکستان پیپلزپارٹی کو اعتراضات ہیں؟" جس پر ان کا کہنا تھا کہ ہماری کسی بھی ایک خاص شخص سے متعلق ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت سازی کے عمل میں مسلم لیگ ن سے ہونے والے مذاکرات میں بہت سے عہدوں پر ہمارے معاملات طے ہو چکے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان جن عہدوں کے لیے کوئی بات اب تک طے نہیں ہوئی ان پر مجھے امید ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کو ضرور موقع دیا جائے گا۔ قبل ازیں ذرائع کے مطابق مرکز میں حکومت سازی کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے درمیان ہونے والے اجلاس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سندھ کے لیے گورنر کا امیدوار مسلم لیگ ن لانا چاہتی ہے جہاں پیپلزپارٹی کا بھی اتحادی جماعت سے اتفاق ہے تاہم ایم کیو ایم کی خواہش ہے کہ گورنر سندھ ان کی جماعت سے ہو۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سازی میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سے تعاون کے لیے ایم کیو ایم کی شرائط میں سے ایک گورنر سندھ ان کی جماعت سے ہونا ہے، وہ موجودہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو ان کے عہدے پر برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے گورنر سندھ کیلئے خوش بخت شجاعت کا نام دیا ہے اور دونوں جماعتوں کا اصرار ہے کہ انہیں گورنر سندھ بنایا جائے۔
اے ایس پی شہر بانو نقوی کے لئے اعزاز, اہل خانہ سمیت شاہی مہمان کی حیثیت سے سعودی عرب کا دورہ کریں گی لاہور میں خاتون کو مشتعل ہجوم سے نکال کر بحفاظت پہنچانے والی اے ایس پی شہر بانو نقوی کی احسن اقدام کو جہاں ملک بھر میں سراہا جارہاہے,وہیں بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی مل رہی ہے,پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس سیدہ شہربانو نقوی اور ان کے اہل خانہ کے شاہی مہمان کی حیثیت سے دورہ ریاض کا اہتمام کریں گے,یہ اقدام ان کے ہیروئک اقدام کے بعد کیا گیا ہے جس میں انہوں نے لاہور کی اچھرہ مارکیٹ میں ایک خاتون کو پرتشدد ہجوم سے بچایا۔ سعودی سفیر سے رابطہ رکھنے والے ذرائع کے مطابق پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے یہ بات اے ایس پی سید شہربانو کو اس وقت بتائی جب وہ اپنے اعزاز میں سعودی سفیر کی جانب سے سعودی سفارتخانے میں ملاقات کےلیے آئیں۔ ذرائع نے بتایا کہ سعودی سفیر نے نوجوان پولیس افسر کی جرات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ سعودی حکومت انہیں اور ان کے اہل خانہ کے دورہ سعودی عرب کے تمام اخراجات برداشت کرے گی اور وہ شاہی مہمان ہوں گے۔ سعودی سفیر نے ان کی بے غرض لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی۔ واضح رہے کہ ایک دن قبل آرمی چیف نے بھی اے ایس پی سے ملاقات میں انہیں خراج تحسین پیش کیاتھا۔ آئی جی پولیس نے سفارش کی ہے کہ سیدہ شہربانو نقوی کو قائد اعظم میڈل دیاجائے۔ اس سے قبل آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی اے ایس پی سیدہ شہربانو نقوی کو شاباشی دیتے ہوئے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ پیش کرنے پر تعریف کی, آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے اے ایس پی سیدہ شہربانو نقوی کی ملاقات ہوئی ، جس میں اےایس پی شہربانو کی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ پیش کرنے پر تعریف کی۔ اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ پاکستانی خواتین زندگی کے تمام شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، آزادی کے بعد سے پاکستانی خواتین نےقابلیت، استقامت ،عزم سے خود کو ممتاز کیا جنرل سید عاصم منیر کا مزید کہنا تھا کہ خواتین پاکستانی معاشرے کا انمول حصہ ہیں، خواتین کاکا احترام ہمارے مذہب کیساتھ معاشرتی اقدار میں بھی شامل ہے۔ 26 فروری کو لاہور کےاچھرہ میں ایک خاتون نے ایسا کرتا پہنا ہوا تھا ،جس پر عربی زبان میں کچھ حروف لکھے تھےجس کے بعد وہاں موجود لوگوں نے سمجھا کہ یہ کچھ مذہبی کلمات ہیں اور اس معاملے نے ایک غلط فہمی کو جنم دیا,اس پیچیدہ صورتحال کو خاتون اے ایس پی شہربانونقوی نے سنبھالا اور بہت بہادری سے خاتون کو بحفاظت نکالا اور اپنے ساتھ لے گئیں۔
پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے ایبسلوٹلی ناٹ کہہ دیا,امریکا نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر خدشات کا اظہار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق امریکا نے منصوبے پر تحفظات سے پاکستانی حکام کو آگاہ کیا, ایران پر امریکی پابندیوں کے باعث منصوبہ ایک بار پھر کھٹائی میں پڑ گیا۔ پاکستان نے منصوبے کیلئے امریکا سے ایران پر پابندیوں میں چھوٹ مانگی تھی تاہم امریکا نے ایران پر عائد پابندیوں پر ویور دینے سے انکار کر دیا,منصوبہ مکمل کرنے کی پاکستانی ڈیڈلائن مارچ میں ختم ہو رہی ہے۔ مارچ تک منصوبے کا آغاز نہیں کیا تو پاکستان کو 18 ارب ڈالرز کا جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔ پاکستان نے ایران کو امریکی پابندیوں کی مجبوری سےآگاہ کردیا ہے اور منصوبے کی ڈیڈ لائن بڑھانےکی درخواست کی ہے,پاکستان منصوبہ شروع کرنا چاہتا ہے تاہم امریکی پابندیاں مسئلہ ہے۔ ایران معاہدے کے مطابق اپنے حصے کی 700 میل لمبی پائپ لائن تیار کر چکا ہے۔ پاکستان میں 500 لمبی پائپ لائن تیار ہو کر بلوچستان اور سندھ تک جانی ہے۔ نگراں حکومت نے کچھ روز پہلے پائپ لائن منصوبہ مکمل کرنےکی منظوری دی تھی۔ منظوری کے بعد امریکا نے سرکاری طور پر پاکستان سے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور امریکی تحفظات کے بعد پاکستان نے منصوبے پر پھر عملدرآمد روک دیا ہے۔ اس سے قبل امریکا نے پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا ہے کہ حکومت پاکستان کے ساتھ ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر بات چیت جاری ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ نجی سفارتی گفتگو پر تبصرہ نہیں کر سکتے، توانائی بحران سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کرنا امریکا کی ترجیحات میں شامل ہے, امریکا نے پاکستان کی توانائی صلاحیت میں 4,000 میگاواٹ اضافے میں مدد کی, امریکی منصوبوں کی مدد سے آج 50 ملین سے زیادہ پاکستانیوں کے گھروں کو بجلی مل رہی ہے۔ ٹوئٹ پر صارف نے لکھا عمران خان کے دورِ حکومت میں پاکستان امریکہ کو ابسلُوٹلی ناٹ کہتا تھا,پی ڈی ایم 2.0 کے دورِ حکومت میں امریکہ نے پاکستان کو ابسلُوٹلی ناٹ کہنا شروع کر دیا,پاکستان کو 18 ارب ڈالرز جُرمانہ ادا کرنا ہو گا۔
سابق وزیراعظم وبانی چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت سے متعدد کیسز میں بڑا ریلیف مل گیا۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم وبانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف ظل شاہ قتل، کیس زمان پارک جلائو گھیرائو سمیت 4 مقدمات میں درخواست ضمانت پر آج انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے سماعت کی۔ عدالت نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ سناتے ہوئے 5,5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض میں ان کی ضمانتیں منظور کر لی ہیں۔ سابق وزیراعظم عمران خان کی طرف سے زمان پارک جلائو گھیرائو کے علاوہ 4 مقدمات میں ضمانت حاصل کرنے کیلئے عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔ عمران خان کے خلاف تھانہ ریس کیس میں 2، نصیرآباد اور ماڈل ٹائون تھانے میں 1،1 مقدمہ درج ہے۔ گزشتہ برس مارچ میں ان پر ظل شاہ قتل کیس میں حقائق چھپانے کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں گزشتہ برس 8 مارچ کو تحریک انصاف کی ریلی میں پولیس نےدفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے پر کریک دائون کیا تھا جس میں علی بلال (ظل شاہ) جاں بحق ہو گیا تھا۔ عمران خان نے زمان پارک سے داتا دربار تک شیڈول ریلی منسوخ کرنے کے بعد سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس(ٹوئٹر) پر الزام لگایا تھا کہ ظل شاہ کو پنجاب پولیس نے قتل کیا ہے۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے اس واقعے کا نوٹس لے کر غیرجانبدارانہ انکوائری کرنے کا حکم دیا تھا۔ بعدازاں زمان پارک سے اسلام آباد میں عدالت پیش ہونے کیلئے گئے تو پولیس نے بھاری نفری کے ساتھ ان کے گھر پر سرچ آپریشن کیا جس میں تحریک انصاف کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جس پر پی ٹی آئی رہنمائوں وکارکنوں کیخلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہوئے تھے۔
انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق نامعلوم وجوہات کی بنا پر اور 8 فروری کے انتخابات میں تحریک انصاف کے بڑے مینڈیٹ کے بعد نگراں حکومت 9مئی کے حملوں کے مختلف پہلوؤں کی تحقیقات کیلئے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے گریز کر رہی ہے۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی 6جنوری کو تشکیل دی گئی تھی تاکہ 9مئی کے حملوں کے ماسٹر مائنڈ، منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور منصوبے کے مطابق پرتشدد کارروائیوں اور فوجی تنصیبات پر حملوں میں حصہ لینے والوں کا تعین کیا جا سکے,کمیٹی کو 9 مئی کے واقعات کے فوری اور دور رس اثرات کا جائزہ لینے کا کام بھی سونپا گیا تھا، اور اسے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ 14روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے۔ 8فروری کو ہونے والے عام انتخابات سے چند روز قبل اس ذیلی کمیٹی کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دی نیوز کو بتایا تھا کہ کمیٹی نے اپنی مشاورت مکمل کرلی ہے اور اسے پتہ چلا ہے کہ 9مئی کے واقعات پاک فوج کے ادارے میں دراڑ ڈالنے کی منظم سازش تھے۔ رپورٹ کے مطابق 9 مئی کے حملوں کے ماسٹر مائنڈ، سازش کرنے والوں اور منصوبہ سازوں میں مقامی اور غیر ملکی عناصر شامل تھے۔ دی نیوز کو اس وقت بتایا گیا تھا کہ کمیٹی اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دے رہی ہے جسے منظوری اور ضروری کارروائی کیلئے کابینہ کے روبرو پیش کیا جائے گا۔ عام انتخابات کے بعد تمام متعلقہ حکام کسی بھی طرح کی معلومات فراہم کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ نگراں حکومت کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیا گیا، بیشتر متعلقہ افراد سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ حتیٰ کہ وزیر اعظم آفس سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں ذیلی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی ہے یا نہیں۔ ذیلی کمیٹی کے سربراہ نگران وزیر قانون، سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ 8؍ فروری کے انتخابات سے چند روز قبل کمیٹی کے ایک رکن کی جانب سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا گیا تھا کہ کمیٹی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 9 مئی کے حملے خود ساختہ نہیں بلکہ منظم منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے تھے۔ ان حملوں کا مقصد فوج میں دراڑ پیدا کرنا تھا، فوجی عمارتوں، تنصیبات اور علامتوں پر حملے بھی اسی سازش کا حصہ تھے, یہ بھی کہا گیا یہ سب منصوبے کا حصہ تھا کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی گرفتاری پر تحریک انصاف کس طرح کا رد عمل ظاہر کرے گی۔ غلط معلومات کا پھیلاؤ، جعلی پروپیگنڈا اور جعلی خبریں بھی اس منصوبے کا حصہ بتائی گئیں۔ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے نو مئی 2023 کے تناظر میں درج کیے جانے والے 12 مقدمات میں ہفتے کو پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین و سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں سماعت کی کوریج کرنے والے صحافی رضوان قاضی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جج ملک اعجاز آصف نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی، جہاں پاکستان تحریک انصاف کے وکیل شیراز احمد رانجھا پیش ہوئے۔ عدالت نے پراسیکیوشن کی جانب سے مہلت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے تمام 12 مقدمات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سینیئر رہنما شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور کرنے کا حکم سنایا۔ عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف راولپنڈی کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکلا نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کے لیے درخواست بھی جمع کروائی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عمران خان سے وکلا کی ملاقات کروانے کی ہدایت کی ہے۔
بھارت نے جب بھی جارحانہ انداز اختیار کیا تو پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا: زہرا بلوچ دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے تحریک انصاف کے آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط پر بیان جاری کر دیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو کوئی بھی دوسرا ملک ہدایات جاری نہیں کر سکتا، پاکستان ایک خودمختار اور آزاد ملک ہے، وزیراعظم آفس تحریک انصاف کی طرف سے آئی ایم ایف کو خط لکھنے کے معاملے کو دیکھ رہا ہے۔ پاکستان کی ترجیحات میں توانائی کا حصول سرفہرست ہے جس کے لیے آئی پی منصوبہ انتہائی اہم ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا پریس بریفنگ میں کہنا تھا کہ پاکستان نے ویانا کے گروپ 77 میں 28 فروری کو اپنی مدت کامیابی سے مکمل کر لی ہے، 6 مارچ کو پاکستان یورپی یونین سے سیاسی مشاورت کرے گا۔ سیکرٹری خارجہ سائرس سجاد قاضی نے انسانی حقوق کے 55 ویں اجلاس میں پاکستان کا موقف پیش کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے کی جانیوالی انسانی حقوق کی پامالیوں کی نگرانی پر زور دیا۔ زہرا بلوچ نے کہا کہ پاکستان بھارت کی طرف سے مسلم کانفرنس کے دھڑوں پر پابندی عائد کرنے کے بھارتی فیصلے کو مسترد کرتا ہے، بھارت 8 کشمیری جماعتوں پر لگائی گئی پابندیاں ختم کرے۔فلسطین کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان اسرائیلی قابض فوج کے ہاتھوں معصوم فلسطینیوں کے قتل اور وہاں خوراک کی فراہمی روکنے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ دنیا اس معاملے کا نوٹس لے۔ پاک، ایران گیس پائپ لائن منصوبے بارے کہا توانائی کا حصول پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے جس کیلئے گیس پائپ لائن منصوبہ انتہائی اہم ہے جس پر کابینہ توانائی کمیٹی نے فیصلہ کر لیا ہے۔ پاکستان نے پہلے مرحلے میں 80 کلومیٹر پائپ لائن تعمیر کرنے کی منظوری دے دی ہے، آئی پی میں کسی تیسرے ملک کی شمولیت کا علم نہیں۔ پاکستان خودمختار اور آزاد ملک ہے جسے کوئی دوسرا ملک ہدایات نہیں دے سکتا۔ پاکستان اپنے اندروانی معاملات میں آزادانہ فیصلے کرنے پر یقین رکھتا ہے، ہم نے محکمہ انصاف امریکہ کی رپورٹس دیکھی ہیں لیکن ان میں حوثیوں کو ایرانی اسلحہ یمن سمگلنگ کے الزام میں گرفتار کیے گئے افراد کی شہریت کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ہم نے امریکہ سے قونصلر رسائی طلب کی ہے تاکہ ان کی شناخت کی تصدیق ہو سکے، اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے سے اس معاملے پر رابطے میں ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کو پی ٹی آئی کی طرف سے لکھے گئے خط کا معاملہ وزیراعظم آفس دیکھ رہا ہے، پاکستان میں قانونی وآئینی میکانزم موجود ہیں، انتخابات یا ملک کے دیگر مسائل کو پاکستان خود حل کر سکتا ہے۔ بھارت سے متعلق سوال پر کہا تاریخی حقیقت ہے کہ بھارت نے جب بھی جارحانہ انداز اختیار کیا تو پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا، بھارتی بیانات خطے کا ماحول خراب کرنے کی کوشش ہیں۔
مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کے لئے کچھ ریلیف سامنے آگیا,وزارت خزانہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ رواں ماہ سے مہنگائی میں بتدریج کمی کا امکان ظاہر کردیا, جس کی بنیادی وجہ خراب ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں کمی ہے۔ وزارت خزانہ نے فروری کے لیے اپنے ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لُک میں کہا ہے کہ فروری میں افراط زر 24.5 سے 25.5 فیصد کے آس پاس رہنے کا امکان ہے، جبکہ مارچ میں یہ کچھ کمی کے ساتھ 23.5 سے 24.5 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود آنے والے مہینے کے لیے افراط زر کی شرح میں کمی کا رجحان دیکھا جاسکتا ہے، جس کی بنیادی وجہ بہتر فصلوں اور رسد میں بہتری کی وجہ سے خراب ہونے والی اشیا کی قیمتوں میں کمی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے زیادہ بیس کا اثر افراط زر کے دباؤ کو کم رکھنے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس میں مزید کہا گیا کہ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کا فوڈ پرائس انڈیکس، جو کہ عالمی سطح پر سب سے زیادہ تجارت کی جانے والی اشیائے خورونوش کا پتا لگاتا ہے، جنوری 2024 میں اوسطاً 118 پوائنٹس رہا جو دسمبر کی سطح سے ایک فیصد کم ہے۔ یہ رپورٹ پاکستان شماریات بیورو (پی بی ایس) کی جانب سے رواں ماہ کے لیے مہنگائی کے اعداد و شمار جاری کرنے سے ایک روز قبل سامنے آئی ہے، اور جب پاکستان عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ سے منسلک اصلاحات کر رہا ہے۔ جنوری کے لیے سالانہ کنزیومر پرائس انڈیکس 28.3 فیصد پر رہا تھا، جو کہ 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل آخری ماہانہ سی پی آئی ڈیٹا تھا,جنوری میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مسلسل پانچویں پالیسی میٹنگ میں شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھی تھی اور پورے سال کے افراط زر کے تخمینوں میں اضافہ کیا تھا۔ اسٹیٹ بینک نے کہا تھا کہ اس فیصلے کی تصدیق ’بلند‘ افراط زر کی وجہ سے کی گئی تھی جو دسمبر میں 29.7 فیصد تھی۔بینک کا کہنا تھا کہ جون میں ختم ہونے والے مالی سال کے لیے بینک کی اوسط افراط زر کی پیش گوئی 23 سے 25 فیصد تک ہے، جس کا پہلے 20 سے 22 فیصد تک کا تخمینہ لگایا گیا تھا، اس اضافے کی وجہ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ اس سے قبل گزشتہ ہفتے قیمتوں میں 0.33 فیصد کمی واقع ہوئی ہے,اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 25.33فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 29.15فیصد، 22 ہزار 889روپے سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 35.39فیصد رہی۔ اسکے علاوہ، 29 ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 32.72 فیصد رہی جبکہ 44 ہزار 176روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 28.228 فیصد رہی ہے۔
صوبائی دارالحکومت لاہور میں کوڑا ٹیکس لگانے سے 12 ارب روپے اکٹھے کیے جا سکتے ہیں: ایل ڈبلیو ایم سی نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی صدارت میں صاف ستھرا پنجاب پر اجلاس میں 1 مہینے میں پنجاب میں صفائی کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا جس میں ضلعی انتظامیہ ومتعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ 1 مہینے میں عوام کو ٹوٹی گلیوں، ابلتے گٹروں اور گندگی سے نجات دلوائی جائے۔ دوسری طرف صوبائی دارالحکومت میں کوڑاکرکٹ اٹھانے کیلئے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (ایل ڈبلیو ایم سی) نے ماہانہ بنیادوں پر ہر گھر سے 250 سے 2 ہزار روپے تک ٹیکس عائد کرنے کی سفارشات پیش کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایل ڈبلیو ایم سی کی طرف سے سفارش کی گئی ہے کہ لاہور شہر کے ہر گھر پر کوڑا کرکٹ اٹھانے کی مد میں اڑھائی سو سے 2 ہزار روپے تک ٹیکس عائد جائے اور کمرشل کیلئے 500 سے 10 ہزار روپے تک کا ماہانہ ٹیرف عائد کرنے کی سفارش کی گئی۔ ایل ڈبلیو ایم سی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ لاہور میں کوڑا ٹیکس لگانے سے 12 ارب روپے اکٹھے کیے جا سکتے ہیں۔ ایل ڈبلیو ایم سی کے مطابق کوڑا ٹیکس لگانے سے حکومتی خزانے پر ادارے کے بوجھ میں کمی آئے گی جس کے اخراجات سالانہ 17 ارب روپے تک ہو چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے صفائی ستھرائی کے علاوہ کمرشل ایریاز میں دکانوں کے باہر سامان رکھنے پر شہریوں کو درپیش مشکلات کا نوٹس لے کر انتظامیہ کو تجاوزات ختم کرنے کیلئے بھی 1 مہینے کی مہلت دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے شہریوں نے شکایت کی تھی کہ دکاندار سامان باہر رکھ دیتے ہیں، ٹھیلے اور ریڑھی والوں کی تجاوزات سے آمدروفت میں مشکلات اور حادثات پیش آتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ بازاروں میں ٹریفک کی بندش دور کی جائے اور سامان دکانوں کی حدود میں رکھا جائے، 1 مہینے میں شہریوں کی شکایات کا ازالہ کر کے ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جائے۔
2 ارب ڈالر قرض کو مزید ایک برس کے لیے رول اوور کیا جائے گا: ذرائع وزارت خزانہ پاکستان کے دوست ہمسایہ ملک چین کی طرف سے 2 ارب ڈالر کا قرض رول اوور کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی گئی ہے۔ ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق چین کی طرف سے پاکستان کو 7.1 شرح سود پر دیئے گئے 2 ارب ڈالر کے قرض کو رول اوور کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی گئی ہے، قرض میچور ہونے سے پہلے رول اوور کر دیا جائے گا۔ پاکستان نے چین کو قرض کی یہ رقم اگلے مہینے مارچ کے آخری ہفتے میں ادا کرنی تھی جسے موجودہ شرائط پر رول اوور کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے گزشتہ برس رول اوور پر لیے گئے قرض پر سود کی مد میں 26.6 ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں، پاکستان نے یہ قرض چین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے لے رکھا ہے۔ 2 ارب ڈالر قرض کا میچورٹی کا وقت 23 مارچ 2024ء کو مکمل ہو رہا ہے جسے اب چین کی طرف سے مزید ایک برس کے لیے رول اوور کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی طرف سے چینی وزیراعظم لی کی چیانگ کو خط لکھا گیا تھا جس میں درخواست کی گئی تھی کہ قرض رول اوور کر دیا جائے، چین سے پاکستان نے مجموعی طور پر 4 ارب ڈالر کے محفوظ ذخائر حاصل کیے ہوئے ہیں۔قبل ازیں متحدہ عرب امارات کی طرف سے بھی 2 ارب ڈالر کا قرض بھی رول اوور کرنے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔ نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے اپنی درخواست میں چینی وزیراعظم لی کی چیانگ کا پاکستان کی مالی معاونت کرنے پر شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ چین کی طرف سے پاکستان کے مشکل معاشی صورتحال میں اسے قرض کی ادائیگی کی گئی جس پر ہم ان کے شکرگزار ہیں۔ نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے غیرملکی ادائیگیوں کے بوجھ کو کم کرنے پر چینی حکومت کے اقدامات قابل تحسین ہیں۔
مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیا ہے کہ ہم جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے ساتھ آئی ایس آئی میس میں بیٹھ کر قانون سازی کیا کرتے تھے۔ تفصیلات کے مطابق ن لیگ کے رہنما اور سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ اعتراف کیا کہ ہم سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض کے ساتھ آئی ایس آئی میس میں بیٹھ کر قانون سازی کیا کرتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی مفادات یا ذاتی مفادات کیلئے نہیں بلکہ ملکی مفادات کیلئے جدوجہد کی ہے، ہم تو قانون سازی کیلئے آئی ایس آئی کے میس میں چلے جاتے تھے، وہاں جنرل باجوہ اور جنرل فیض ہم سے قانون سازی کرواتے تھے، 2 اہم قانون سازیاں فوج اور آئی ایس آئی کی مداخلت کے ساتھ ہوئیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اس وقت کا جو بگاڑ پیدا ہوا ہے اس کو آج ہم بھگت رہے ہیں، اس ماحول میں اور کیا ہوسکتا ہے۔
حکومت سازی کیلئے مذاکرات میں اس معاملے پر ڈیڈلاک پیدا ہو گیا تھا : ذرائع پاکستان میں برسراقتدار آنے والی ہر حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ وہ میرٹ اور شفافیت کے ساتھ کام کرتے گی لیکن آج تک ایسا نہیں ہو سکا۔ ایک طرف تو 8 فروری 2024ء کو ملک بھر میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے جا رہی ہے تو دوسری طرف سیاسی وآئینی عہدوں کے ساتھ ساتھ اب افسران کی بندربانٹ کیے جانے کا انکشاف سامنے آ رہا ہے۔ نجی ٹی وی چینل اے آر وائے نیوز کے ہیڈ آف انویسٹی گیٹو سیل نعیم اشرف بٹ کی رپورٹ کے مطابق ایک طرف تو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی طرف سے میرٹ کے دعوے کیے جا رہے ہیں تو دوسری طرف سیاسی بنیادوں پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ انتظامی افسران کی تعیناتی کا فیصلہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی کمیٹی کرے گی۔ نعیم اشرف بٹ کا کہنا تھا کہ سیکرٹریٹ انتظامی افسروں کی تعیناتی کا فیصلہ سیاسی بنیادوں پر کیا جائے گا جس کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں حکومت سازی کیلئے کچھ دن پہلے ہونے والے مذاکرات کے دوران سب اہم یہ پوائنٹ تھا جس پر ڈیڈلاک پیدا ہو گیا تھا کیونکہ ن لیگ اس معاملے پر مان نہیں رہی تھی۔ مسلم لیگ ن نے بعدازاں پیپلزپارٹی کی یہ شرط بھی تسلیم کر لی جس کے مطابق جن اضلاع میں پیپلزپارٹی کے ووٹرز کی تعداد زیادہ ہیں وہاں ان کی مرضی کے افسران تعینات کیے جائیں گے اور جہاں ن لیگ کے ووٹرز کی اکثریت ہے وہاں پر ان کی مرضی کے افسران تعینات ہوں گے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے افسران کی تعیناتی کے معاملے پر کمیٹی بنانے کے لیے ندیم افضل چن، علی حیدر گیلانی یا موسیٰ گیلانی میں سے کسی ایک کا نام شامل ہو گا جو مسلم لیگ ن کے ساتھ اس حوالے سے بات چیت کرینگے اور اپنی مرضی کے افسران کی تعیناتی کروائیں گے۔ میرٹ پر اب کوئی افسر نہیں لگے گا بلکہ دونوں سیاسی جماعتوں کی خواہش کے مطابق اضلاع وسیکرٹریٹ میں افسران تعینات کیے جائینگے۔
لاہور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی سینیٹرز کو آزاد قرار دے کر مسلم لیگ ن میں ضم کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں ایڈووکیٹ آفاق احمد کی پی ٹی آئی سینیٹر ز کو آزاد قرار دے کر ن لیگ میں ضم کرنے کی درخواست پر بطور اعتراض سماعت ہوئی، جسٹس علی باقی نجفی نے درخواست پر سماعت کی، درخواست میں چیف الیکشن کمشنر سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا تھا۔ درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ عدالت ،سینیٹ میں پی ٹی آئی کے سینیٹرز کو آزاد قرار دے کر انہیں مسلم لیگ ن میں ضم کرنے کے احکامات جاری کرے۔ رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ نے اس درخواست کے قابل سماعت ہونے اور پہلی درخواست کا تحریری فیصلہ ساتھ لف نا کرنے کے اعتراضات عائد کیے۔ جس کے بعد عدالت نے اعتراضی درخواست کے قابل سماعت ہونے کے حوالے سے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔
سکندر اعظم دنیا سے جاتے ہوئے کہہ گیا کہ خالی ہاتھ دفنا دینا میں کچھ لے کر نہیں جا رہا: سینئر صحافی ملک بھر میں 8 فروری 2024ء کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج پر مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے اب تک احتجاج جاری ہے تودوسری طرف سینئر صحافی وتجزیہ کار کامران شاہد بھی دھاندلی پر بول اٹھے۔ کامران شاہد نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کو سیاسی طور پر کوئی شرم ولحاظ نہیں ہے وہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں پٹیشن لے کر گئے ہیں کہ یہ مخصوص نشستیں ہمیں دے دیں۔ کامران شاہد نے کہا کہ اسلام کہتا ہے کہ آپ کے بھائی کا گوشت کھانا آپ پر حرام ہے، یہ نشستیں آپ کی نہیں بلکہ کسی اور کی ہیں، تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن پہنچ گئی ہیں کہ ہمیں یہ مخصوص نشستیں دے دیں اور انہیں شرم بھی نہیں آتی۔ کسی کا مینڈیٹ چوری کا سب سے بڑا گناہ ہے اور اگر کوئی ایم این اے یہ جانتا ہے کہ اس کے حق میں الیکشن چرایا گیا ہے یا اس نے خود اپنے حلقے کا مینڈیٹ چوری کیا ہے تو اسے شرم آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی اپنے حلقے کا مینڈیٹ چوری کرتا ہے چاہے وہ طارق فضل چودھری ہو، عمران خان ہو یا کوئی اور ہو یہ ظلم ہے، ہماری زندگی ہے کتنی، ہماری یہ سب بحثیں ختم ہو جائیں گی جب اللہ کی پکڑ میں آئے اور پوچھا جائے گا کہ تم نے جانتے بوجھتے کہ تم ہارے ہوئے تھے اور کسی کا مینڈیٹ چھین لیا تو کیا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دھاندلی سے فائدہ اٹھانے والے جانتے ہیں کہ انہیں کیسے جتوایا گیا پھر بھی حلف اٹھا رہے ہیں لیکن اللہ سب کچھ جانتا ہے کہ کون سا ایم این اے اور ایم پی اے دھاندلی سے اقتدار میں آیا ہے۔ سکندر اعظم بھی دنیا سے جاتے ہوئے کہہ گیا کہ خالی ہاتھ دفنا دینا میں کچھ لے کر نہیں جا رہا، دھاندلی سے جیتنے والے ایم پی ایز اور ایم این ایز کی بخشش نہیں ہے۔
190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف گواہی دینے والوں کے نام سامنے آگئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کےخلاف 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس میں گواہی دینے والے افراد کی فہرستیں سامنے آگئی ہیں، نیب کی جانب سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف اس کیس میں 59 گواہان کو پیش کیا جائے گا۔ نیب کے گواہان میں سابق وزیر دفاع پرویز خٹک، اعظم خان، زبیدہ جلال، سابق معاون خصوصی برائے وزیراعظم ندیم افضال گوندل، کیبنٹ ڈویژن کے ڈپٹی سیکرٹری اسٹیٹ ریکوری یونٹ محسن امان، القادر یونیورسٹی کے چیف فنانس آفیسر، اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی ڈائریکٹر لیگل سید انصر حسین اور ایکٹنگ ایگزیکٹیو ڈائریکٹر محمد امجد الرحمان شامل ہیں۔ خیال رہے کہ القادر ٹرسٹ اور 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں احتساب عدالت نے گزشتہ روز عمران خان اور بشریٰ بی بی پر فرد جرم عائد کردی تھی ، عمران خان اور بشریٰ بی بی نے عدالت میں صحت جرم سے انکار کردیا تھا، عدالت نے پانچ گواہان کو 6 مارچ کو طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی تھی۔
امریکی بحریہ نے مبینہ طور پر ایرانی میزائل کے پارٹس اور وار ہیڈز اسمگل کرنے کے الزام میں ایک پاکستانی شہری کو گرفتار کرلیا ہے۔ عرب خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پہلوان نامی پاکستانی شہری مبینہ طور پر ایک کشتی کا کیپٹن ہے، یہ کشتی یمن میں حوثی باغیوں کیلئے ایرانی میزائل کے پرزے لے جارہی تھی، جب امریکی کوسٹ گارڈز نے کشتی کو روکا تو پاکستانی کیپٹن نے جھوٹ سے کام لیا، جب کشتی کی تلاشی لی گئی تو میزائل کے پرزے برآمد ہوئے۔ امریکی حکام کے مطابق میزائل کے پرزے برآمد ہونے پر پاکستانی کیپٹن کو گرفتار کرلیا گیا، امریکی حکام گرفتار شخص پر وارہیڈز و دیگر ہتھیاروں کی اسمگلنگ کوشش کرنے، کوسٹ گارڈز سے غلط بیانی کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کریں گے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کشتی کو روکنے کےد وران دو نیوی سیلز بحیرہ عرب میں ڈوب گئے تھے جنہیں ڈھونڈنے اور بچانے کی تمام تر کوششیں بھی ناکام رہیں اور امریکی بحریہ کی جانب سے دونوں کو مردہ قرار دیدیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی شہری پہلوان پر امریکی ریاست ورجینیا کے شہر رچمنڈ میں امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں مقدمہ دائر کردیا گیا ہے۔
معلومات کے بعد جس جہاز پر چھاپہ مارا گیا ہے وہ بظاہر پاکستانی شہریوں کے استعمال میں تھا: بھارتی بحریہ بھارتی بحریہ نے گجرات کی ایک بندرگاہ کے نزدیک منشیات کی ایک بڑی کھیپ پکڑ لی اور دعویٰ کیا ہے کہ اس میں ملوث ملزمان کا تعلق پاکستان سے ہے۔ معروف بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بھارتی بحریہ نے گجرات کی ایک بندرگاہ کے قریب گہرے سمندر میں برصغیر کی تاریخ میں منشیات کی سب سے بڑی کھیپ ضبط کی ہے۔ بھارتی بحریہ نے یہ کارروائی گجرات اینٹی ٹیررازم سکواڈ اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے ساتھ مل کر یہ کارروائی کی۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی بحریہ نے گجرات کے پوربندر کے پاس اس بڑی کارروائی کے دوران ایک جہاز سے مجموعی طور پر 33 سو کلوگرام منشیات ضبط کی ہے جس میں 3 ہزار 89 کلوگرام چرس ، 25 کلو مارفن اور 158 کلو میتھمفیٹامائن بھی شامل ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں منشیات کی ضبط کی گئی اس کھیپ کی مالیت کا اندازہ 2 ہزار کروڑ بھارتی روپے سے بھی زیادہ لگایا گیا ہے۔ بھارتی بحریہ کی طرف سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اداروں کے ساتھ مل کر یہ مشترکہ کارروائی فضائی نگرانی کے نظام سے 2 دن تک نگرانی کے بعد ملنے والی معلومات کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ 2 دن تک فضائی نگرانی کے بعد ملنے والی معلومات کے بعد جس جہاز پر چھاپہ مارا گیا ہے وہ بظاہر پاکستانی شہریوں کے استعمال میں تھا۔ بھارتی وزیر داخلہ نے ایکس (ٹوئٹر) پیغام میں کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ویژن پر عمل کرتے ہوئے ہماری ایجنسیوں نے آج بھارت میں منشیات کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ پکڑنے میں کامیابی حاسل کی ہے۔ ہمارے ملک کو منشیات سے پاک بنانے کیلئے یہ تاریخی کامیابی ہماری حکومت کے غیرمتزلزل عزم کا ثبوت ہے۔ گجرات اینٹی ٹیررسٹ سکواڈ کے مطابق یہ آپریشن بحیرہ عرب میں بین الاقوامی میری ٹائم بائونڈری لائن کے قریب کیا گیا جس میں بھارتی بحریہ نے ایک مشکوک بحری جہاز کو نگرانی والے طیارے کے ذریعے پوربندر کے قریب سمندر میں دیکھا۔ قبل ازیں پونے اور نئی دہلی میں 2 دن کے چھاپوں میں 2500 کروڑ مالیت کی میفیڈرون کو بھی ضبط کیا گیا تھا۔