خبریں

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے زیر صدارت خیبرپختونخوا پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کا احوال سامنے آ گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں کے پی اسمبلی کے ہر حلقے سے تین سے چار نام پیش کئے گئے، جبکہ حتمی فیصلہ عمران خان کا ہی ہو گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اگر کوئی ایم پی اے یا کسی سابق وزیر کے خلاف کرپشن کے ثبوت ملے تو اسے ٹکٹ نہیں دیا جائے گا، اس صورت حال میں 12-10 سابق ارکان اسمبلی کے کاز لسٹ سے آؤٹ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اجلاس میں سابق وزیراعظم عمران خان نے سابق وزرائے اعلیٰ کے پی محمود خان، پرویزخٹک سمیت سابق صوبائی وزرا تیمورسلیم جھگڑا اوردیگر کو جیل بھرو تحریک متحرک کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں عمران خان کی باڈی لینگوئج مطمئن اور وہ پُرعزم دکھائی دیئے، اور کہا کہ موجودہ گرفتاریوں سے ہمیں ڈرانے کی کوشش کی جارہی ہے، ہم سب پارٹی عہدیدار اور کارکنان گرفتاریوں کیلئے تیار ہیں۔ اجلاس میں عمران خان نے جیل بھرو تحریک کیلئے تحصیل سطح پر تنظیموں کو متحرک کرنے کی ہدایات کرتے ہوئے کہا کہ کارکنان گرفتاریاں دینے کیلئے تیار رہیں، ہم جیلیں بھردیں گے۔
پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار شہید ہوئے جس کے بعد پاکستانی حکام نے افغانستان میں طالبان کے سپریم لیڈر سے عسکریت پسندوں کو قابو کرنے کا مطالبہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کابل میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان میں افغانستان کی سرحد سے متصل علاقوں میں حملوں میں ڈرامائی طور پر اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں عسکریت پسند حملے کرنے اور پکڑے جانے سے بچنے کے لیے ناہموار علاقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ حکام نے 30 جنوری کو پشاور میں ہونے والے دھماکے کا ذمہ دار کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک دھڑے کو ٹھہرایا ہے جس نے پولیس کمپاؤنڈ کے اندر واقع ایک مسجد میں 100 سے زائد افراد کی جانیں لیں۔ ٹی ٹی پی، افغان طالبان کے ساتھ مشترکہ نسب اور نظریات کا اشتراک کرتی ہے، جس کی قیادت ہیبت اللہ اخوندزادہ کرتے ہیں جو جنوبی شہر قندھار میں اپنے ٹھکانے سے احکامات جاری کرتے ہیں۔ معاون خصوصی فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وفود تہران اور کابل بھیجے جائیں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہا جائے کہ دہشت گرد ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کریں۔ کے پی پولیس کے ایک عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ کابل بھیجا جانے والا وفد اعلیٰ قیادت سے بات چیت کرے گا اور جب کہا جائے کہ افغان قیادت تو اس کا مطلب افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ ہیں۔ واضح رہے کہ خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر افغان طالبان نے فوری طور پر کوئی بیان نہیں دیا۔ البتہ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے چند روز قبل پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ دوسروں پر الزام نہیں لگانا چاہیے۔ اپنے گھر میں موجود مسائل پر نظر رکھنی چاہیے۔
ڈاکوئوں پر تشدد کرنے کے بعد انہیں زندہ جلا دیا گیا، ڈاکوئوں کو آگ لگانے والے شہریوں میں سے 5 افراد کو گرفتار کر لیا ہے : پولیس ذرائع تفصیلات کے مطابق ڈکیتی کی وارداتوں سے تنگ کراچی کے شہریوں نے قانون اپنے ہاتھ میں لے لیا، نیو کراچی اجمیر نگری کے علاقے میں شہریوں نے ڈکیتی کرنے والے 2 ڈاکوئوں کو پکڑ کر آگ لگا دی جو موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ واقعے کے تھوڑی دیر بعد پولیس کی بھاری نفری علاقے میں موقع پر پہنچ گئی اور لاشوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سنٹرل رانا معروف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اجمیرنگری میں رکشہ سٹینڈ پر 2 ڈاکو واردات کرتے ہوئے شہریوں نے پکڑ لیے ، مشتعل شہریوں نے دونوں ڈاکوئوں پر تشدد کرنے کے بعد انہیں زندہ جلا دیا گیا۔ ڈاکوئوں کو آگ لگانے والے شہریوں میں سے 5 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ پولیس کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے مزید ملزمان کی شناخت کی جا رہی ہے جبکہ پکڑے گئے ملزمان سے موٹرسائیکل، اسلحہ اور چھینے گئے موبائل فونز بھی برآمد کر لیے ہیں۔ واقعے کی ایک موبائل فوٹیج بھی سامنے آئی ہے جس میں دونوں ڈاکوئوں کو مردہ حالت میں دیکھا جا سکتا ہے اور ان کے جسم آگ سے جل رہے ہیں۔ دوسری طرف پولیس کا کہنا تھا کہ کراچی میں پچھلے 24 گھنٹوں میں سٹریٹ کرائم کی 114 وارداتیں رپورٹ ہو چکی ہیں جس میں شہریوں سے موبائل اور کار چوری کی 6، نقدی چھیننے کی 48، موٹرسائیکلیں چھیننے اور چوری کی 60 وارداتیں شامل تھیں جبکہ ایڈیشنل آئی جی کے مطابق پچھلے 24 گھنٹوں میں پولیس اور جرائم پیشہ افراد میں 5مقابلے ہوئے جن میں 7 جرائم پیشہ افراد زخمی حالت میں اور 14 ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کراچی میں رواں برس پہلی سہ ماہی میں اوسطاً ہر بارہ منٹ میں ایک شخص گاڑی یا موبائل فون سے محروم کیا گیا جن میں سے 31 افراد کو گن پوائنٹ پر روزانہ موبائل فونز ڈاکوؤں کے حوالے کرنا پڑے جبکہ اوسطاً روزانہ 8 افراد قتل کر دیئے جاتے ہیں جبکہ رواں سال کے پہلے مہینے میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت کرنے پر ڈاکوئوں کی فائرنگ سے 10 سے زائد شہری قتل کر دیئے گئے تھے۔
خودکش حملہ آور کے سہولت کار نے اسے رنگ روڈ پر پہنچنے میں مدد دی اور وہ رنگ روڈ کے راستے سے سفر کرتے ہوئے جی ٹی روڈ پر آگیا: پولیس ذرائع پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں امام مسجد اور پولیس اہلکاروں سمیت 100 سے زائد افراد شہید جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔ حکومت خیبرپختونخوا نے واقعے کے بعد 2تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ پولیس اور کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) ٹیم کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ خودکش حملہ کرنے والے دہشت گرد کی سہولت کار کے ساتھ تصویر جاری کر دی گئی ہے، تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے مبینہ حملہ آور موٹرسائیکل پر اپنے سہولت کار کے ساتھ رنگ روڈ پر سفر رہا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ مبینہ حملہ آور کا سہولت کار موٹرسائیکل چلا رہا ہے اور وہ خود پیچھے بیٹھا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کے سہولت کار نے اسے رنگ روڈ پر پہنچنے میں مدد دی اور وہ رنگ روڈ کے راستے سے سفر کرتے ہوئے جی ٹی روڈ پر آگیا۔ رنگ روڈ پر جمیل چوک سے آگے جا کر مبینہ حملہ آور کا سہولت کار موٹرسائیکل سے نیچے اتر گیا تھا جبکہ حملہ آور نے مسجد میں داخل ہوتے وقت پولیس کی وردی پہن رکھی تھی۔ مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے کی پہلے کالعدم تحریک طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور بعد میں بیان کی تردید کر دی گئی تھی۔ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ سانحے کے پیچھے ٹی ٹی پی کا کوئی مقامی گروپ ملوث ہو سکتا ہے اور یہ بھی شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ حملے کیلئے کسی نے اندر سے سہولت کاری کی ہے۔ پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کے کم سے کم 6 سو سے 7 سو خاندان پولیس لائنز میں رہائش پذیر ہیں۔
کابینہ کی سمری میں مجوزہ بل کا مقصد سوشل میڈیا پر فوج اور عدالتوں پر ہونےو الی تنقید کو بتایا گیا ہے: ذرائع سابق وزیراعظم ورہنما مسلم لیگ ن شاہد خاقان عباسی نے پاک فوج اور عدلیہ کی تضحیک پر 5 سال کی سزا دینے کیلئے پاکستان پینل کوڈ اور ضابطہ فوجداری میں ترمیم کی تجویز کی حمایت کر دی ہے۔ ڈان نیوز کے ذرائع کے مطابق وزارت قانون وانصاف نے مسودہ بل تیار کیا ہے جسے وزارت داخلہ کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کو پیش کیا جائے گا۔ کابینہ کی سمری میں مجوزہ بل کا مقصد سوشل میڈیا پر فوج اور عدالتوں پر ہونےو الی تنقید کو بتایا گیا ہے۔ وزارت داخلہ ذرائع کے مطابق سمری اور بل جلد وفاقی کابینہ کو بھجوا دیا جائے گا۔ شاہد خاقان عباسی سے رابطہ کرنے پر نئی قانون سازی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میں نےایسا کوئی مسودہ نہیں دیکھا لیکن کسی کو بدنام کرنے کی حد ہونی چاہیے، ۔ ’’دنیا میں ہر جگہ ہتک عزت کا قانون ہے اور ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی بھی اپنی مرضی سے آئے اور جو چاہے کہہ دے‘‘۔ رہنما مسلم لیگ ن روحیل اصغر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ حکومت کو ایسے قوانین پاس نہیں کرنے چاہئیں، ایسا کیا گیا تو قانون سازی کرنےو الوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، یہ خیال انتہائی غلط ہے کہ اداروں پر تنقید سے ان کی بدنامی ہوتی ہے، اگر ووٹرز اپنے حلقے کے سربراہوں پر تنقید کر سکتے ہیں تو کسی پر بھی تنقید کی جا سکتی ہے۔ فوجداری قوانین ترمیمی ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ جو بھی مسلح افواج، عدلیہ کے کسی رکن کو سکینڈلائز کرنے کیلئے غلط بیان شائع یا غلط معلومات پھیلانے کا مرتکب پایا گیا تو سادہ قید ہو گی جس کی 5 سال تک توسیع کی جا سکے گی یا ٍ10 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی جبکہ مجرم کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا جا سکے گا اور جرم ناقابل ضمانت ہو گا جسے صرف سیشن کورٹ میں چیلنج کیا جا سکے گا۔ کابینہ کی سمری میں کہا گیا کہ حال ہی میں عدلیہ اور مسلح افواج سمیت ریاست کے بعض اداروں پر توہین آمیز اور تضحیک آمیز حملوں کا سلسلہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ بعض ونگز کی طرف سے جان بوجھ کر سائبر مہم شروع کی گئی ہے جس کا مقصد ریاستی اداروں اور ان کے اہلکاروں کے خلاف نفرت کو ہوا دینا ہے۔ مسودے میں کسی بھی شخص کے خلاف مقدمے کا نوٹس یا ایف آئی آر کرنے سے قبل وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری کو لازمی قرار دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ قانون کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔ اپریل 2021ء میں بھی ایسا ہی ایک مسودہ بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے منظور کیا تھا جس میں مسلح افواج کی تضحیک پر 2 سال قید اور جرمانے کی تجویز دی گئی تھی۔ مسودہ بل پر اپوزیشن جماعت کے علاوہ سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری اور فواد چودھری نے بھی تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ تنقید کو جرم قرار دینا مضحکہ خیز خیال ہے، عزت کمائی جاتی ہے۔ میں شدت سے محسوس کرتا ہوں کہ ایسے نئے قوانین کے بجائے توہین عدالت کے قوانین کو منسوخ کیا جانا چاہیے،‘‘ فوجداری قوانین ترمیمی بل 2020ء پی ٹی آئی رکن اسمبلی امجد علی خان نے پیش کیا تھا اور پی پی رہنما آغا رفیع اللہ، لیگی رہنما مریم اورنگزیب کے اعتراضات کے باوجود قومی اسمبلی سے منظور کر لیا گیا تھا۔ ایسے ہی گزشتہ سال نومبر میں ایف آئی اے ایکٹ میں بھی ترمیم کی منظوری کی گئی تھی جس کے بعد ایف آئی اے کو سوشل میڈیا پر ریاستی اداروں کے خلاف افواہیں پھیلانے اور غلط معلومات پر کارروائی کا اختیار دیا گیا تھا۔قانون میں ترمیم کے حوالے سے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگر یہ بل آزادی اظہار کیخلاف ہے تو اسے پاس نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کے ساتھ ہوں گے۔
وہاڑی میں چلتی بس میں بس ہوسٹس کو جبکہ لاہور کے ایف 9 پارک میں لڑکی کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ تفصیلات کےمطابق میلسی سے وہاڑی آتے ہوئے چلتی بس میں گارڈ نےاس وقت اسلحہ کے زور پر 18 سالہ بس ہوسٹس کو زیادتی کا نشانہ بنایا، جب بس کے تمام مسافر اتر گئے تھےاوربس میں ہوسٹس اکیلی تھی، گارڈ نے زیادتی سے قبل بس کو اندر سے لاک کرلیا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم شیراز واقعہ کے بعد فرار ہوگیا تھا تاہم اسے اور بس کے ڈرائیور کو ملزم کی معاونت کرنے پر گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، بس ہوسٹس کو تشویشناک حالت میں ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسلام آباد کے ایف 9 پار میں خانیوال کی تحصیل میاں چنوں کی رہائشی لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، ملزمان نے بھی اسلحہ کے زور پر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لڑکی واک کرنے کیلئے دوست کے ساتھ پارک گئی، ملزمان نے اسلحہ کے زور پر دونوں کو روکااور لڑکی کو ایک طرف لے گئے،لڑکی کیجانب سے شور مچانے پر اسے تھپڑ مارے، درختوں کے پیچھے لے جاکر تشدد کا نشانہ بنایا، کپڑے پھاڑے اور زیادتی کا نشانہ بنایا، ملزما ن نے لڑکی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔ لڑکی کی جانب سے پولیس کو دیئے گئےبیان کے مطابق اس کے ساتھ 2 افراد نے زیادتی کی ، بعد میں کپڑے دور پھینک دیئے تاکہ وہ اٹھا کر موقع سے بھاگ نا سکے، ملزمان نے شام کے وقت پارک آنے سے گریز کرنے کا بھی کہا۔ پولیس نےلڑکی کو میڈیکل کیلئے ہسپتال منتقل کرتے ہوئے تھانہ مارگلہ میں مقدمہ درج کرلیا ہے، پارک میں لگے سی سی ٹی وی اور پارک عملے کو شامل تفتیش کرکے ملزمان کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین ٹویٹر پر آمنے سامنے آگئےہیں، دونوں کے ایک دوسرے پر لفظی وار جاری ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اسحاق ڈار اور شوکت ترین کے درمیان لفظی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب اسحا ق ڈار نے عمران خان کے ایک بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان ملک کی سیکیورٹی و معاشی صورتحال کو نقصان پہنچانے والی گفتگو کررہے ہیں،عمران خان کی وجہ سے دنیا کی 27ویں بڑی معیشت کو 2022 میں 47 ویں نمبر پر پہنچ گئی ، یہ بدترین گورننس اور نااہلی اور کرپشن کی بھرمار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہر کوئی جانتا ہے کہ جب سے خود غرض اور تکبر میں مبتلا عمران خان کو غیر آئینی طریقے سے وزارت عظمیٰ کی کرسی سے ہٹایا گیا ہے تو وہ پاگل ہوچکے ہیں، عمران خان اور وزیراعظم شہباز شریف کا موازنہ بنتا ہی نہیں ہے، شہباز شریف نے عمران خان کو سیکیورٹی اور نیشنل ایکشن پلان کے معاملے پر نیشنل ڈائیلاگ کیلئے دعوت دی مگر عمران خان کا غیر مہذب اور گھٹیا قسم کا رسپانس ہمارے لیے حیران کن تھا۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عمران خان خود کو عزت سے اپوزیشن میں دیکھنے کےبجائے ملک کو نیچےجاتا دیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسحاق ڈار نے اس دھواں دھار بیان پر سابق وزیر خزانہ شوکت ترین خاموش نا رہ سکے اور انہوں نے جوابی ٹویٹ داغ دی، شوکت ترین نے اسحاق ڈار کو اپنی معاشی سمجھ کو بہتر کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اعدادوشمار کا ہیرپھیر کرنے کی اپنی پرانی عادت چھوڑدیں، آپ لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں،آپ نے سوچا تھا آپ اس سب سے بچ جائیں گے؟ شوکت ترین نے کہا کہ پاکستان دنیا کی 24ویں نمبر کی معیشت اپنی جی ڈی پی کی وجہ سے تھا، 2022 میں کورونا کے باوجود ہماری جی ڈی پی مزید بہتر ہوئی اور 23ویں نمبر پر آگئی ،آپ جسے 47ویں پوزیشن کہہ رہے ہیں وہ درحقیقت 42ویں ہے، اس وقت جی ڈی پی برائے نام ہے جو آپ کے جانے کے وقت 40ویں نمبر پر تھی۔
پشاور میں ہونے والی ایپکس کمیٹی ( اے پی سی) کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے جس کے مطابق اجلاس میں زیادہ تر وقت سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں ضائع کیا گیا ہے۔ خبررساں ادارے اےآروائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پشاور میں ہونے والے ایپکس کمیٹی کے شرکاء کے درمیان مختلف معاملات پر سیاسی بیان بازی اور ایک دوسرے پر الزام تراشی دیکھنے کو ملی، کمیٹی کے شرکاء کی رائے منقسم رہی اور بعض موضوعات پر بات چیت پر کچھ شرکاء ناراض ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق اجلاس میں شرکاء پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھانے پر شرکاء آپس میں الجھتے رہے، کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس صرف سابقہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کیلئے بلایا گیا، چند افراد کی غلطی کو پوری فورس سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے، کے پی کےپولیس کی لازوال قربانیاں ہیں، سانحے کے بعد کچھ عناصر نے پولیس کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ کمیٹی میں تاندہ ڈیم کے سانحےپر بھی گفتگو ہوئی تو اس پر بھی پوائنٹ سکورنگ شروع ہوگئی، شرکاء کا کہنا تھا کہ اس ناقابل فراموش سانحے میں متاثر ہونے والوں کی کسی نے داد رسی نہیں کی، جانی نقصان کا اتنا ہی خیال ہے تو کوہاٹ بھی جانا چاہیے تھا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ کے پی کے پولیس کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہے ، وفاق این ایف سی کے تحت ذمہ داری پوری کرے، افواج وقانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف بات کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے، افواج و پولیس کے خلاف بیان بازی کا سدباب سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کی بیٹی کے نکاح کی تقریب میں شریک کیوں نہیں ہوئے؟ شاہد آفریدی نے وجہ بتادی ۔ تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور اسٹار کرکٹر شاہد خان آفریدی نے فوٹو شیئرنگ ایپلیکیشن انسٹاگرام پر وزیراعظم شہباز شریف کا خط شیئر کیا جس میں وزیراعظم نے شاہد آفریدی کی بیٹی کے نکاح میں شرکت سے معذرت کی تھی۔ 27 جنوری کو لکھے گئے اس خط میں وزیراعظم شہباز شریف نے شاہد آفریدی کو بتایا کہ وہ مصروفیات کے باعث اس تقریب میں شریک نہیں ہوسکیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بیٹی کے نکاح میں مدعو کرنے پر شاہد آفریدی کا شکریہ ادا کرتے ہوئےانہیں مبارکباد دی اور ان کی بیٹی کی نئی زندگی کیلئے دعاؤں اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ شاہد آفریدی نے وزیراعظم کا خط شیئر کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میری بیٹی کیلئے آپ کی دعاؤں کا بہت بہت شکریہ۔ یادرہے کہ گزشتہ روز شاہد آفریدی کی بیٹی انشا اور اسٹار فاسٹ باؤلر شاہین آفریدی رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے، ان کے نکاح کی تقریب میں قومی کرکٹرز اور دیگر مشہور شخصیات نے شرکت کی۔
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے موبائل فون پر پولیس کی تحویل کے دوران بھی واٹس ایپ کے استعمال ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر شیخ رشید کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے کچھ سکرین شاٹس شیئر کیے گئے، ان سکرین شاٹس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شیخ رشیداحمد کی جانب سے مختلف لوگوں کوواٹس ایپ کالز اور پیغامات موصول ہوئے ہیں، کسی کو شیخ رشید کی جانب سے فون کال موصول ہوئی تو کسی کو 'اسلام و علیکم ' کے پیغامات موصول ہوئے۔ شیخ رشید احمد کے آفیشل ہینڈل سے ان سکرین شاٹس کو شیئرکرتےہوئے کہا گیا ہے کہ میرا ذاتی موبائل جو اس وقت آبپارہ پولیس کی تحویل میں ہے اس کا واٹس ایپ آج دوپہر 2 بجے سے مسلسل استعمال ہورہا ہے، میرے واٹس ایپ سے مختلف لوگوں کو کالز کی جارہی ہیں، یہ واٹس ایپ اس وقت بھی آن لائن ہے۔ واضح رہے کہ آج اسلام آباد کی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے، عدالت نے دوران سماعت پراسیکیوشن کی مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست بھی مسترد کی۔
سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ کے بیٹے و سابق وفاقی وزیر مونس الہیٰ کا کہنا ہے کہ ان کا ایک دوست والد سے ملاقات کے بعد سے غائب ہے۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر مونس الہٰی نے لاپتہ ہونے اپنے دوست کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ کئی دنوں سے میرا دوست عامر سعید راں غائب ہے۔ مونس الہٰی کا کہنا ہے کہ میرے والد سے مل کے نکلا تھا تو اسے اٹھا لیا گیا تھا، نہ پولیس نہ ایف آئی اے مانتی ہے کے ان کے پاس ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ عدالت نے بھی پوچھا ہے پر کوئی جواب نہیں دے رہا۔ مسلم لیگ ق کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ آج اس کی سالگرہ ہے، اس کی سالگرہ کا ہی لحاظ کر کے اسے پولیس، ایف آئی اے، نیب یا کسی کے حوالے کر دیں۔ یاد رہے کہ 7 جنوری کو بھی مونس الہٰی نے اپنے ایک دوست کے لاپتہ ہونے کے بارے میں بتایا تھا۔ تب بھی ٹوئٹر پر جاری بیان میں پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الہٰی نے کہا تھا کہ میرے ایک دوست کو کچھ لوگوں نے لاہور سے 2 گاڑیوں میں اٹھا لیا ہے، ایف آئی اے والے قسمیں کھاتے ہیں انہوں نے نہیں اٹھایا۔
آج (4 فروری) کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر 13 روپے 98 پیسے اور اوپن مارکیٹ میں 14 روپے تک مہنگا ہوا ہے۔ روپے کے مقابلے دیگر غیر ملکی کرنسیوں کے حوالے سے جاری ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ رواں ہفتے بھی جاری رہا، اور روپے کے مقابلے میں انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں 13 روپے 98 پیسے اضافہ ہوا ہے، رواں ہفتے کے اختتام پر انٹر بینک میں ڈالر 262.60 روپے سے بڑھ کر 276.58 روپے بلند سطح پر بند ہوا۔ رپورٹ کے مطابق اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر اور دیگر کرنسی مہنگی ہوئی ہیں، ایک ہفتے میں اوپن مارکیٹ میں ڈالر 14 روپے مہنگا ہوا ہے، اس کی قیمت 269 روپے سے بڑھ کر 283 روپے کی بلند سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ایک ہفتے میں یورو 9.50 روپے مہنگا ہوکر 296.50 روپے کا ہو گیا جبکہ برطانوی پاؤنڈ 10 روپے مہنگا ہوکر 336 روپے کا ہوگیا۔ اسی طرح اس ہفتے میں امارتی درہم 3.20 روپے مہنگا ہوکر 76.20 روپے اور سعودی ریال 3 روپے مہنگا ہوکر 74 کی بلند سطح پر پہنچ گیا ہے۔
پیپلزپارٹی کے سینئر ترین پارلیمنٹیرین سینیٹر تاج حیدر کا کہنا ہے کہ اگر پنجاب اور کے پی کے انتخابات میں تاخیر ہوئی تو پیپلزپارٹی مخالفت کرے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیپلزپارٹی کے سینئر ترین پارلیمنٹیرین سینیٹرتاج حیدر نے نجی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا آئین کے مطابق انتخابات وقت سے ایک دن بھی آگے نہیں ہونے چاہییں۔ تاج حیدر کا کہنا تھا کہ اگرپنجاب اورکے پی کےانتخابات میں تاخیر ہوئی تو ہم مخالفت کریں گے، پیپلزپارٹی انتخابات میں تاخیر کو جمہوریت کے لیے نقصان دہ سمجھتی ہے۔ رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ جوخطرات ہیں وہ درست ہیں لیکن اس کا حل نکالنا چاہیے، مالی حالات خراب ہونے کے باوجود انتخابات کے لیے وسائل مختص کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات کی خرابی کا حل یہ نہیں کہ انتخابات ہی نہ کرائے جائیں، فضول خرچی نہ کریں لیکن اخراجات جمہوریت کی راہ میں کھڑے نہیں ہونے چاہئیں۔ پیپلزپارٹی کا موقف واضح ہے ہم ہرالیکشن میں حصہ لیں گے۔
سابق صدر آصف علی زرداری کی طرف سے بھی حکومت میں شامل اتحادیوں کو انتخابات میں حصہ لینے کیلئے منانے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں: ذرائع الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 16 مارچ کو قومی اسمبلی کے 33 حلقوں میں انتخابات کرانے کا شیڈول جاری کر رکھا ہے جس کیلئے پہلے سابق وزیراعظم وچیئرمین پی ٹی آئی کی طرف سے تمام حلقوں سے خود الیکشن لڑنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اب ان کے ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لینے کے اعلان کے بعد پاکستان ڈیموکریٹک نے اپنا پلان بی تیار کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق 33حلقوں میں ہونے والے انتخابات کیلئے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمن کی طرف سے پہلے ہی حصہ نہ لینے کا اعلان کیا جا چکا ہے جبکہ متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے بھرپور حصہ لینے کا اعلان کیا گیا ہے اور اب سابق صدر آصف علی زرداری کی طرف سے بھی حکومت میں شامل اتحادیوں کو انتخابات میں حصہ لینے کیلئے منانے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ آصف علی زرداری کا موقف ہے کہ ضمنی انتخابات میں میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہیے جس پر پیپلزپارٹی اور پی ڈی ایم کی طرف سے مل کر انتخابات لڑنے پر غور شروع کیا گیا ہے جس کے لیے ضمنی انتخابات سے متعلقہ وزراء پر مشتمل کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جبکہ تمام 33 حلقوں سے پی ڈی ایم کا متفقہ امیدوار میدان میں اتارنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے گزشتہ ماہ پی ٹی آئی کے 113اراکین اسمبلی کے استعفوں کو تین مراحل میں منظور کیا گیا تھا اور الیکشن کمیشن کی طرف سے ان نشستوں کے خالی ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کر کے 16مارچ کو ضمنی انتخابات کرانے کا شیڈول جاری کیا گیا جس کے بعد پی ٹی آئی نے تمام حلقوں سے پارٹی چیئرمین عمران خان کے امیدوار ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اب فیصلہ سامنے آیا ہے کہ عمران خان ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔
خیبرپختونخوا پولیس پاکستان کی بہادرترین فورس ہے جو دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن فورس کے طور پر لڑائی لڑ رہی ہے: جنرل سید عاصم منیر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرشاہ نے آج پشاور پولیس لائنز مسجد میں دھماکے کی جگہ کا دورہ کیا ہے۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) اعلامیہ کے مطابق آرمی چیف نے پشاور پولیس لائنز مسجد میں دھماکے کا دورہ کیا، اس موقع پر انہوں نے پولیس افسران و اہلکاروں سے ملاقات بھی کی۔ آرمی چیف نے پولیس جوانوں و افسران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم بحیثیت قوم مل کر دہشت گردی کے خلاف پائیدار امن حاصل کرنے تک لڑیں گے اور اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے! انشاء اللہ! ہم اپنے ہدف کو کامیابی سے حاصل کریں گے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پولیس پاکستان کی بہادرترین فورس ہے جو دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن فورس کے طور پر لڑائی لڑ رہی ہے۔ خیبرپختونخوا پولیس کی دہشت کے خلاف جنگ میں خدمات کو سراہتے ہیں اور اس راہ میں جام شہادت نو کرنے والے پولیس شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں آج پشاور میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس آئی ودیگر شریک ہوئے اور دہشت گردی کا یکجا ہوکر مقابلہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ افغانستان کے ساتھ دو ٹوک بات کی جائے گی اور کالعدم تنظیموں کا خاتمہ کرنے کیلئے ٹارگٹڈ آپریشنز کیے جائیں گے۔ دریں اثنا آئی جی خیبرپختونخوا نے پولیس اہلکاران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: مجھے فخر ہے کہ میں خیبرپختونخوا جیسی بہادر اور دلیر پولیس کا سپہ سالار ہوں جنہوں نے دہشتگردی کیخلاف جنگ جوانمردی سے لڑی اور لڑ رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا پولیس ایک جسم کی مانند ہے اور میں اس کی آنکھیں ہوں! تفریق ڈالنے والے ہمارا حصہ نہیں ہیں۔
نجی مارکیٹنگ کمپنیوں کے مکمل نقصانات کی تلافی ہونی چاہیے تاکہ انڈسٹری چلے اور پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی یقینی ہو : اوسی اے سی آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کی طرف سے وزارت توانائی اور اوگرا سے ہنگامی مراسلے کے ذریعے مدد مانگی گئی ہے اور حکومت سے اپیل کی گئی ہے کہ فوری طور پر ریفائنرز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی ٹریڈنگ فنانس کی حد میں اضافہ کیا جائے ورنہ پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ آل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے چیئرمین اوگرا اور وزارت توانائی کے نام خط میں لکھا کہ روپے کی قدر میں شدید کمی اور زرمبادلہ بحران کے باعث آئل سیکٹر کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے جس کی ایل سیز ابھی موجودہ شرح مبادلہ کے لحاظ سے طے ہونی ہیں جبکہ درآمد شدہ مصنوعات فروخت ہو چکی ہیں اس لیے فوری طور پر اجلاس بلایا جائے۔ او سی اے سی نے خط میں لکھا کہ آئل انڈسٹری کو سرمائے کی قلت کا سامنا ہے جس سے آئل سیکٹر تباہ ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے اور ریفائنریز بھی متاثر ہو رہی ہیں جس سے دبائو کا شکار انڈسٹری کے منافع پر بھی اثر ہو گا، کچھ کیسز میں پورے سال کے منافع سے نقصان کا حجم بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو چکا ہے۔ انڈسٹری کو بحران سے نکالنے کیلئے ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ خط کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی کی طرف سے آئل انڈسٹری کو 2 ماہ کی مد میں ایل سیز پر شرح مبادلہ کے فرق سے ہونے والے نقصان کی تلافی کیلئے طریقہ کار کی یکم اپریل کو منظوری دی گئی لیکن یہ تلافی پی ایس او کو بنچ مارک بنا کر دی جا رہی ہے جس کے باعث او سی اے اراکین اپنے نقصانات ریکور نہیں کر سکیں گے اس لیے یہ طریقہ کار تبدیل ہونا چاہیے او سی اے سی کا مطالبہ ہے کہ نجی مارکیٹنگ کمپنیوں کے مکمل نقصانات کی تلافی ہونی چاہیے تاکہ انڈسٹری چلے اور پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی یقینی ہو جبکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں اوگرا کی طرف سے شرح مبادل کے فرق کو مدنظر نہیں رکھا جاتا جس سے آئل سیکٹر کو بڑا دھچکا لگے گا اس لیے ضروری ہے کہ اوگرا اس فرق کو قیمتوں کا تعین کرتے وقت مکمل منتقل کرے۔ خط میں کہا گیا کہ آئل انڈسٹری کیلئے بینکنگ سیکٹر سے ملنے والی ٹریڈ فنانس ناکافی ہے جبکہ ایل سی کی مالیت کی حد میں 15سے 20فیصد کمی ہوئی ہے، درآمدات کے تسلسل کو جاری رکھنے کیلئے سٹیٹ بینک آف پاکستان ہر کمپنی کی ضروات کے مطابق ٹریڈ فنانس کی حد بڑھائے، ان تجاویز پر عملدرآمد نہ ہوا تو آئل انڈسٹری تباہ ہو جائے گی۔یاد رہے کہ انٹر مارکیٹ میں ایک ڈالر 278روپے کا ہو چکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مسلسل کم ہونے سے تیل کمپنوں کو اب تک تقریباً 20 ارب روپے کا نقصان ہو چکا۔
سالگرہ تقریب کیلئے اہلکاروں نے چڑیا گھر کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا اور ہر جگہ پر سکیورٹی تعینات کی گئی تھی : ذرائع کراچی کے افسران وی آئی پی پروٹوکول اپنے اہل خانہ کیلئے بھی استعمال کرنے لگے، عام عوام کے بچوں کی تفریح کے لیے بنایا گیا چڑیا گھر پرائیویٹ پارٹی کیلئے مختص ہونے لگا۔ نجی ٹی وی چینل اے آر وائے نیوز کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں عام شہریوں اور ان کے بچوں کی تفریح کیلئے قائم چڑیا گھر پرائیویٹ پارٹی کے باعث بند کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری سندھ نجم شاہ کی بیٹی کی سالگرہ کی تقریب کا عام شہریوں کیلئے قائم چڑیا گھر میں کا انعقاد کیا گیا اور اس موقع پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے اور عام شہریوں کو سیروتفریح سے روکنے کے ساتھ سے بچوں کا داخلہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ اے آر وائے نیوز کی طرف سے شیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چیف سیکرٹری سندھ کی بیٹی کی سالگرہ تقریب کیلئے کراچی میں چڑیا گھر کے مغل گارڈن میں کرسیاں لگا کر انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ سارا چڑیا گھر ویران پڑا ہے اور شہری اپنے بچوں کے ہمراہ چڑیا گھر کے باہر کھڑے انتظار کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نجم شاہ کی بیٹی کی سالگرہ تقریب کیلئے اہلکاروں نے چڑیا گھر کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا اور ہر جگہ پر سکیورٹی تعینات کی گئی تھی جبکہ املی گلی کو بھی عام شہریوں کیلئے بند کر دیا گیا تھا۔ تقریب کے موقع پر عام شہری اور ان کے بچے چڑیا گھر کے باہر انتظار کرتے رہے۔
انویسٹی گیشن یونٹس نے خودکش حملہ آور کے جسمانی اعضاء اور ہیلمٹ کو بھی برآمد کر لیا ہے : ایس ایس پی آپریشنز پشاور پولیس لائنز دھماکے میں ہونےو الے خودکش حملے کی تحقیقات اب تک جاری ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کے اعضا کا ڈی این اے ٹیسٹ خیبرمیدیکل کالج میں کر لیا گیا ہے جس میں جائے وقوعہ سے ملنے والے خودکش حملہ آور کے اعضاء میچ ہو گئے ہیں جبکہ خودکش حملہ آور کا سر اور ٹانگوں کا ڈی این اے بھی میچ ہو گیا ہے۔ سپیشل سپرنٹنڈنٹ پولیس آپریشنز کاشف آفتاب عباسی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں بتایا کہ مطابق انویسٹی گیشن یونٹس نے خودکش حملہ آور کے جسمانی اعضاء اور ہیلمٹ کو بھی برآمد کر لیا ہے جبکہ خودکش حملہ آور کی ٹوپی اور جوتے بھی تلاش کر لیے گئے ہیں جو تحقیقات کرنے والی ٹیم کو دے دیئے گئے ہیں۔ خیبرمیڈیکل کالج کے ذرائع کے مطابق سانحے کے بعد پوسٹ مارٹم کے لیے 85 میتیں اور ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے خودکش حملہ آور کے 6جسمانی اعضاء دیئے گئے تھے، ان اعضاء کا ڈی این اے ٹیسٹ 2 دنوں میں مکمل کر لیا گیا ہے۔ کاشف آفتاب عباسی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی حملے ہمیں شکست نہیں دے سکتے، ہمارے جوانوں کے حوصلے بلند ہیں۔ یاد رہے کہ 30جنوری کو پشاور کی پولیس لائنز مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 101افراد شہید اور49زخمی ہوگئے تھے۔ دوسری طرف وزیراعظم شہبازشریف نے نیشنل اپیکس کمیٹی کااجلاس پشاور میں طلب کر لیا ہے جس میں سیاسی عسکری قیادت بھی شرکت ہو گی اور مسجد میں ہونے والے دہشت گردی واقعے کے محرکات پر غور ہو گا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء، چاروں صوبوں، گلگت، بلتستان کے وزرائے اعلیٰ اور وزیراعظم آزادکشمیر سمیت پولیس حکام، سکیورٹی فورسز اور اعلیٰ سرکاری افسران شریک ہونگے۔
آئی ایم ایف کے مطالبے پر سرکاری افسران کے اثاثوں کو پبلک کرنے کی شرط پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے: ذرائع انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) اور پاکستان کے درمیان 7ارب ڈالر قرض پروگرام کی بحالی کے لیے اسلام آباد میں مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے جو 9فروری تک جاری رہیں گے۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کو دیئے جانے والے قرض کی قسط روک رکھی ہے اور حکومت کے سامنے ٹیکس اکٹھا کرنے ودیگر سخت مطالبات کر رکھے ہیں جن پر بات چیت کی جا رہی ہے ۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کے مطالبے پر سرکاری افسران کے اثاثوں کو پبلک کرنے کی شرط پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔ حکومت کی طرف سے 17سے 22ویں گریڈ کے سرکاری افسران اور ان کے خاندان کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کر لی گئی ہیں اور اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق 17سے 22ویں گریڈ کے سرکاری افسران کو اپنے اور اپنے اہل خانہ کے اندرون وبیرون ملک موجود تمام اثاثوں کو ظاہر کرنا ہو گا اور اثاثوں کو گوشارے میں ظاہر کرنے کی لازمی شرط رکھی گئی ہے ، بینک اکائونٹس کی بھی تمام تفصیلات دینا ہونگی جس تک متعلقہ اداروں کو رسائی دی جائے گی۔ یاد رہے کہ آئی ایم ایف کی طرف سے سرکاری افسران کے اثاثوں کو پبلک کرنے کیلئے حکومت سے قانونی ترامیم کا مطالبہ کیا گیا تھا اور بیرون ملک موجود اثاثوں کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں جبکہ ذرائع ایف بی آر کے مطابق آئی ایم ایف کی طرف سے سرکاری افسران کے اثاثوں کو پبلک کرنے کیلئے ایک اتھارٹی قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ دریں اثنا پشاور میں ایپکس کمیٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کاہ کہ آئی ایم ایف ٹف ٹائم دے رہا ہے، شرائط ناقابل تصور ہیں لیکن مجبوراً ہمیں یہ شرائط ماننی پڑیں گی۔ وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی شرط پوری کرتے ہوئے سرکاری افسران مبینہ طور پر منی لانڈرنگ اور کرپشن کا سراغ لگانے کیلئے بینکوں کو سرکاری افسران کے جمع اثاثوں کی تفصیلات تک مشروط رسائی کے روز جاری کر دیئے گئے ہیں۔
سینئر تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہے کہ مبینہ طور پر اس امپورٹڈ حکومت نے حکومتی بے قاعدگیوں اور ماورائے آئین اقدامات کی نشاندہی کرنے والی آوازوں کو دبانے نہیں بلکہ کاٹنے کا حکم دیدیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جی این این کے پروگرام "خبر ہے" میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عار ف حمید بھٹی نے کہا ہے کہ ہماری اطلاعات کے مطابق لاہور میں ایک چھوٹو گینگ اور ایک موٹو گینگ اس حوالے سے سرگرم ہے، میں نہیں جانتا اس کے پس پردہ کون ہے، عمران ریاض خان کی گرفتاری بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ عارف حمید بھٹی نے کہا کہ 5 سے 7 ایسے صحافی ہیں جنہیں ارشد شریف کی طرح جان سے مارنے کی خبریں مارکیٹ میں گردش کررہی ہیں، ان صحافیوں میں عمران ریاض خان، معید پیرزادہ، قاضی سعید، سمیع ابراہیم، خاور گھمن ، کاشف عباسی اور صابر شاکر کے نام شامل ہیں، سینئر تجزیہ کار ہارون رشید صاحب کے نام پر بھی مشاورت ہوئی۔ سینئرصحافی نے کہا کہ میں نے گزشتہ شب عمران ریاض خان کو بتایا کہ آپ کو گرفتار کرنے کی خبریں ہیں جس پر عمران ریاض خان نے ہنستے ہوئے کہا کہ عارف بھائی آپ کو بھی گرفتاار کرنے کی تیاریاں ہیں۔

Sponsored Link