خبریں

معاشرتی مسائل

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None

طنز و مزاح

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None
وفاقی محتسب کشمالہ طارق نے انکشاف کیا ہے کہ اہم کیسز کی وجہ سے مجھے پر بھی دباؤ ڈالا گیا اور ہراساں کیا گیا۔ نجی خبررساں ادارے 24 نیوز سے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کشمالہ طارق نے کہا کہ بطور وفاقی محتسب میں بھی اکثر ہراساں ہوئی ہوں، اس ملک میں صرف خواتین ہی نہیں مردوں کو بھی ہراساں کیا جاتا ہے۔ کشمالہ طارق نے کہا کہ نجی اداروں کے علاوہ سرکاری محکموں میں بھی ہراسانی کے واقعات رونما ہوتے ہیں، تعلیمی اداروں خصوصاً یونیورسٹیز میں لڑکیوں کو لڑکوں سے زیادہ ہراسانی کا شکار بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں میں ہراسانی کے کیسز پر سی ای اوز، سی ایف اوز کو مستعفیٰ ہونا پڑا،13،13 سال عدالتوں میں غریب اور بیوہ خواتین کی جائیدادوں کے قبضوں سے متعلق کیسز التوا کا شکار تھے جن پر 20 دن میں انصاف مہیا کیا، ڈی سی اوز اور پولیس کے ذریعے قبضے واپس دلوائے۔ وفاقی محتسب نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر پیغام دینا چاہوں گی کہ اب ڈرنا چھوڑیں اور خوف سے نکل آئیں، ہمارے پاس شکایات لے کر آنے والوں کو وکلاء کی فیسیں ادا نہیں کرنی پڑتیں، فیصلوں کے بعد ان کا فالو اپ بھی رکھتے ہیں کہ کہیں سائل کو بعد میں دھمکیوں یا کسی نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے 68.5کروڑڈالر کی منظوری دیدی۔ تفصیلات کے مطابق ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو شعبہ توانائی میں اصلاحات اور خیبرپختونخوا کے 5 شہروں میں بنیادی سہولیات کے فراہمی کیلئے 68کروڑ50لاکھ ڈالر کی منطوری دی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرونا وبا کی وجہ سے شعبہ توانائی میں اصلاحات کی رفتار کم ہوگئی ہے اسی لیے گردشی قرضوں کو سپورٹ کرنے، مالی،انتظامی اور تیکنکی اصلاحات کے لئے 30کروڑ ڈالر دیئے جائیں گے جس سے کمرشل،گھریلوں،شہری اور دیہی صارفین فائدہ حاصل کرسکیں گے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق 38کروڑ 50لاکھ ڈالر خیبرپختونخوا کے پانچ شہروں میں صاف پانی کی فراہمی،صحت اور صفائی ستھرائی کی سہولیات پر خرچ کئے جائیں گے۔ اربن ڈیویلپمنٹ کے فلیگ شپ منصوبے کے تحت کے پی کے کیلئے منظور کردہ 38 کروڑ 50 لاکھ ڈالر میں 38 کروڑ ڈالر قرض اور 50 لاکھ ڈالر کی گرانٹ شامل ہے، جس سے کے پی کے پانچ شہروں ایبٹ آباد، کوہاٹ، مردان، منگورہ اور پشاور میں پینے کے صاف پانی کیلئے دو پلانٹ لگائے جائیں گے اسکے ساتھ سیوریج ٹریٹمنٹ کی تین سہولیات اور متعدد غیر فعال ٹیوب ویلز کی بحالی منصوبے کا حصہ ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کی وجہ سے خیبرپختوانخوا کی 35 لاکھ آبادی کو بنیادی شہری سہولیات ،ڈیڑھ لاکھ گھرانوں کو پانی کے نئے کنیکشن اور اسمارٹ واٹر میٹر کے تنصیب جیسی سہولیات میسر ہوں گی۔ واضح رہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک احساس پروگرام میں توسیع کیلئے 60 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے فنڈز کی پہلے ہی منظوری دے چکا ہے۔
موسم سرما کے دوران ملک میں جاری گیس کے بحران پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے تنقید کی اور کہا کہ مسلسل چوتھی بار سردیوں میں تحریک انصاف کی حکومت گیس کی فراہمی میں ناکام ہے۔ اس پر حماد اظہر اور شوکت ترین میں بحث کرانی چاہیے، یہی نہیں انہوں نے حماد اظہر کی شاہزیب خانزادہ کے ساتھ بحث پر بھی زور دیا۔ تفصیلات کے مطابق مفتاح اسماعیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرکہا کہ پی ٹی آئی حکومت مسلسل چوتھے موسمِ سرما میں گیس کی فراہمی میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے تجویز دی ہے کہ گیس کے بحران کے معاملے پر حماد اظہر اور شاہ زیب خانزادہ میں بحث ہونی چاہیے۔ مفتاح اسماعیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک بحث شوکت ترین اور حماد اظہر میں بھی کرائی جائے کیونکہ شوکت ترین گیس کی بات کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے بھی اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے ٹوئٹ میں کہا کہ ایک بحث مفتاح اسماعیل اور نیب میں بھی کروائی جائے۔ کیونکہ آپ کے دور میں 50 فیصد کم ایل این جی آئی استعمال کی گئی جب کہ فرنس آئل 4 گنا زیادہ خرچ کیا گیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پاکستان اور فلپائن کی کی جانب سے مشترکہ طور پر پیش کی گئی بین المذاہب اور بین الثقافتی مذاکرات کے فروغ سے متعلق قرارداد کو بھاری اکثریت سے منظور کرلیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیراکرم کی جانب سے دی گئی تفصیلات کے مطابق فلپائن کے اشتراک سے پیش کی گئی یہ قرارداد بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری، ایک دوسرے کے مذاہب اور اقدار کے لیے احترام اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کیلئے پاکستان کی عالمی کوششوں کا حصہ ہے۔ پاکستان کو ملنے والی اس بڑی کامیابی پر پاکستان کے مستقل مندوب نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد کی منظوری اطمینان کا باعث ہے، وزیراعظم نے اسلاموفوبیا، عدم رواداری کے خطرے سے بارہا دنیا کو متنبہ کیا ہے، اسلامو فوبیا کےخلاف اقدامات یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ میں تعینات پاکستان کے نائب مندوب محمد عامر خان نے کہا اس قرارداد کا یہ مطلب ہے کہ پاکستان ایک کثیر الثقافتی اور کثیر النسلی معاشرہ ہے، کسی شہری کے مذہب، ذات یا عقیدے کا ریاست کے کاروبار سے تعلق نہیں، پاکستان احترام اور بین المذاہب رواداری کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنا چاہتا ہے۔
کوئٹہ میں مجبور لڑکیوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کرنے کا شرمناک اسکینڈل منظر عام پر آیا ہے۔ ملزمان کی جانب لڑکیوں کی ویڈیوز وائرل کر دی گئیں جبکہ مرکزی ملزم سمیت دو افراد کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے اب دونوں ملزمان 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان بھائی ہیں، ملزمان کے لیپ ٹاپ اور دوسری ڈیوائسز سے برآمد ویڈیوز فارنزک کیلئے بجھوا دی گئی ہیں اور ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔ ملزم لڑکیوں کو نوکری کا جھانسہ دے کر نشہ آور چیزیں دیتا، پھر انکی ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کرتا تھا۔ ملزم ہدایت خلجی کو بااثر سیاسی شخصیات کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ وہ دو لڑکیوں کے اغوا میں بھی ملوث ہے۔ جب کہ تیسرے ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس چھاپے مار رہی ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ تیسرے ملزم شانی کو بھی بہت جلد گرفتار کرلیں گے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کا کہنا ہے کہ ویڈیو اسکینڈل انتہائی افسوسناک ہے اور اس واقعے نے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے، ویڈیو اسکینڈل میں ملوث ملزم کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ ڈی آئی جی پولیس فدا حسین نے کہا کہ دو لڑکیاں افغانستان میں ہیں جن کی واپسی کیلئے وفاقی سطح پر رابطہ کیا ہے، اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے قائم کمیٹی موثر طور پر کام کر رہی ہے۔ دوسری جانب اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد ہدایت دی ریپسٹ HIDAYATTHERAPIST# ٹاپ ٹرینڈز کر رہا ہے۔ جس پر سوشل میڈیا صارفین مرکزی ملزم ہدایت خلجی کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مصور خان نے کہا کہ جب تک انصاف نہیں ہو جاتا یہ سلسلہ رکنا نہیں چاہیے۔ مہد آغا نے کہا کہ یہ مجرمانہ ذہانت والا نفسیاتی مریض ہے۔ نرگس منیر نے کہا کہ اگر ان مجرموں کو سرعام سزا ملے تو ایسے واقعات نہ ہوں۔ زہرا شاہ نے کہا کہ یہ وہی درندہ ہے جس نے لڑکیوں کو اغوا کر کے ان کی نازیبا ویڈیوز بنائیں۔ ڈاکٹر راشد جہانگیر نے کہا کہ ظلم کتنی بھی بلندی پے ہو خدا کے ہاں انصاف ضرور ہوتا ہے۔ کاشف حسنین نے کہا کہ حکومت ایسے مجرموں کو سزا دینے سے پہلے سوچ بھی کیوں رہی ہے۔ سازین بلوچ نے کہا کہ 200 لڑکیاں اس کی زد میں آگئی ہیں۔ اب اگر پھر بھی خاموشی اختیار کی گئی تو ایسے ہزاروں ہدایت بلوچستان بھر کے خواتین کے لئے خطرناک ثابت ہونگے۔
پیپلز پارٹی لاہور کے ضمنی انتخاب میں بتیس ہزار ووٹ لینے پر خوش ہے، جس پر سابق صدر آصف علی زرداری لاہور مبارکباد دینے پہنچے اور کہا کہ دنیا پاکستان کو توڑنا چاہتی ہے ہم پاکستان کو بچانے کیلئے لڑیں گے، آصف زرداری کے اس بیان پر جیونیوز نے اپنے پروگرام میرے مطابق میں سینیئر تجزیہ کار حسن نثار سے ان کی رائے مانگی۔ حسن نثار نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ سچ بات ہے اور اس معاملے میں آصف علی زرداری کیلئے بہت احترام ہے،بھٹو خاندان واقعی شہدا کا خاندان ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے،آصف زرداری نے بے نظیر کی شہادت پر جب کہا تھا پاکستان کھپے ہے تو میرے دل میں ان کے لئے احترام بڑھ گیا تھا، وہ واقعی جی دار آدمی ہیں،اتنے مشکل وقت میں انہوں ںے یہ بات کہی۔ حسن نثار نے لاہور ضمنی الیکشن میں بتیس ہزار ووٹ کی خوشیاں منانے پر کہا کہ انہیں خوشیاں منانی چاہئے کیونکہ وہ ہاری ہوئی بازی تھی، اور اگر یہ محنت کرینگے جیت جائیں گے،پرویز ملک کی اہلیہ شائستہ پرویز ملک انتہائی قابل احترام خاندان سے تعلق رکھتی ہیں،یہ سارے کے سارے بہت پیارے لوگ ہیں،اگر شائستہ بی بی یا ان کا کوئی بیٹا نہ ہوتا تو اسلم گل اس سے بھی زیادہ ووٹ لیتے۔ حسن نثار نے کہا کہ سارے سارے حربے ن لیگ کہ ہیں،آصف زرداری کو بھی ان کی وکٹ پر کھیلنا پڑے گا، لاہور ذوالفقار علی بھٹو کا لاڑکانہ کہلاتا تھا،پھر بھی اسلم گل کو مبارکباد دیتا ہوں۔
بلاول بھٹو زرداری نے 7 براعظموں کی سات بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے نوجوان کوہ پیما اسد علی میمن سے ملاقات کی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ میں کوہ پیمائی کو عالمی سطح پر فروغ دیا جائے گا، لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما اسد علی میمن نہ صرف ملک بلکہ خاص طور پر صوبے کے نوجوانوں کے لیے بہترین جدوجہد کی عمدہ مثال ہیں۔ اس موقع پر چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نے سات براعظموں کی 7 بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا مجھے خود بھی کوہ پیمائی کا بہت شوق ہے، میری تمنا ہے کہ دنیا کے سات براعظموں کی سات بلند ترین چوٹیوں کو سر کروں۔ انہوں نے اسد علی میمن کے جذبے کو سراہا اور کہا کہ میری نیک خواہشات آپ کے ساتھ ہیں، ملک و قوم کا نام خوب روشن کریں۔
حکومت کے بڑے اتحادی اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے عوام کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں، حکومت جان لے مہنگائی کو کنٹرول نہ کیا تو ہر قسم کی پرفارمنس ختم ہو جائے گی۔ روزنامہ جنگ کے مطابق لاہور میں مسلم لیگ ق راولپنڈی کے صدر زبیر احمد خان نے وفد کی قیادت کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں چوہدر پرویز الہٰی نے کہا کہ حکومت کو زبانی جمع خرچ کی بجائے عوام کو ریلیف دینے کیلئے عملی اقدامات کرنا پڑیں گے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ اس وقت مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے جامع پلان بنانے کی ضرورت ہے،عوام کو ریلیف دینا دراصل انسانیت کی خدمت ہے۔ انہوں نے اومی کرون وائرس کے حوالے سے بات کرتے ہوئےکہا دنیا میں اس ویرینٹ کی موجودگی کے سبب صوبوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنا پڑیں گی۔
نی لانڈرنگ کیس، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کیخلاف چالان تیار اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کیخلاف ایف آئی اے کی منی لانڈرنگ مقدمے میں پیشرفت سامنے آگئی،ایف آئی اے نے شہباز شریف فیملی کی شوگر ملز کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس کا چالان تیار کرلیا،رپورٹ کل عدالت میں پیش کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف، اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز اور دیگر کے خلاف چالان تیار کر لیا ہے۔ چالان میں شہباز شریف اورحمزہ شہباز سمیت کل 17 سے زائد افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ شہباز شریف فیملی کے سی ایف او محمد عثمان کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔۔ ایف آئی اے شہباز شریف فیملی کے خلاف منی لانڈرنگ مقدمے کی تحقیقات کررہا ہے، ایف آئی اے حکام 11 دسمبر کو عدالت میں چالان جمع کرائیں گے،شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے بینکنگ جرائم کورٹ سے عبوری ضمانت لے رکھی ہے۔
میٹرو شوز جو کہ پاکستان میں خواتین کے جوتوں اور دیگر لوازمات بنانے والے سب سے بڑے ریٹیل برانڈز میں سے ایک ہے کیخلاف فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے انفورسمنٹ زون نے جمعرات کو ٹیکس چوری اور کروڑوں روپے کے ٹیکس فراڈ کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کر لی۔ تفصیلات کے مطابق ایف بی آر کے بڑے ٹیکس دہندگان کے دفتر اسلام آباد کے انفورسمنٹ زون نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے تحت راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو شوز کے احاطے کی تلاشی لی اور بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری اور ٹیکس فراڈ کے الزام میں ریکارڈ اور کتابیں ضبط کرلیں۔ ایل ٹی او اسلام آباد سے موصول ہونے والی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایف آئی آر سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت جہانزیب ندیم، پروپرائٹر اور اس کے معاونین بشمول میٹرو شوز کے پی او ایس وینڈر اور دیگر کے خلاف درج کی گئی ہے۔ میٹرو شوز پاکستان میں خواتین کے جوتوں اور لوازمات کے سب سے بڑے ریٹیل برانڈز میں سے ایک ہے جس کی ملک بھر میں 45 سے زائد شاخیں ہیں۔ میٹرو شوز کے ریکارڈ کے ابتدائی تجزیے اور چھان بین کے دوران کروڑوں روپے کی ٹیکس چوری اور ٹیکس فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے علاقے ای 11 کی جھونپڑی میں رہنے والی خاتون کی عارضی درخواست پر جھگیوں کے خلاف آپریشن روکنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس میں کہا کہ نیول گالف کورس کو تو سی ڈی اے نے 2012 میں نوٹس دیا، واگزار کرانے کی جرات نہ کر سکے، جبکہ سی ڈی اے غریب کی جھگی گرانے میں دیر نہیں لگاتا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کو ای 11 میں جھگیوں کے خلاف آپریشن سے روک دیا۔ عدالت کی جانب سے 3 وکلا پر مشتمل عدالتی کمیشن تشکیل دے دیا گیا۔ کمیشن میں شامل وکلا کے نام عدنان رندھاوا، عمر اعجاز گیلانی اور دانیال حسن ایڈووکیٹس ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی ڈی اے حکام کے ہمراہ کمیشن کو فوری جھگیوں کا وزٹ کرنے کا حکم بھی دیا۔عدالت کے حکم پر خاتون کی عارضی درخواست رٹ پٹیشن میں تبدیل کر دی گئی اور سی ڈی اے کو نوٹس جاری کر دیا گیا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ کمیشن جھگیوں کا وزٹ کر کے رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔ معاشرے کا یہ طبقہ وکیل کی خدمات نہیں لے سکتا۔ سی ڈی اے سے جواب طلب کرتے ہوئے عدالت نے سماعت 14 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
کراچی کےعلاقے صدر میں بیوی نے شوہر کو قتل کرکے لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے،اور پھر آرام سے سو گئی،پولیس نے ملزمہ کوگرفتارکرکے تحقیقات شروع کردیں،ایس ایس پی زبیرنذیر شیخ کے مطابق گھر کے مختلف حصوں سے مقتول کی لاش کے اعضاء ملے ہیں،خاتون کے قبضے سے مختلف اوزار بھی ملے ہیں۔ خاتون خود بھی اعضاء کے قریب ہی آرام سے سو رہی تھی، پولیس کے مطابق خاتون کے ہاتھ اور کپڑے پر خون کے دھبے موجود تھے اور سارے شواہد اس کے خلاف تھے،ایس ایس پی زبیرنذیر شیخ کے مطابق جائے وقوع سے تمام شواہد اکھٹے کر رہے ہیں جبکہ قتل کے حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے،پولیس کی بھاری نفری جائے وقوع پر موجود ہے جبکہ کرائم سین یونٹ کی ٹیم بھی طلب کی گئی ہے۔ مقتول کی شناخت 70 سالہ محمد سہیل ولد محمد لطیف کے نام سے ہوئی ہے جس کی لاش کے ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے جناح اسپتال منتقل کیا گیا ہے،ملزمہ کے مطابق مقتول شیخ سہیل ڈاکٹر تھا، میرا شوہر نہیں بلکہ بہنوئی تھا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق ملزمہ خاتون کے ویڈیو بیان میں بتایا کہ مقتول میرے باپ بھائیوں پر چوری کے الزامات عائد کرتا تھا اور مجھے زبردستی اپنے ساتھ رہنے پر مجبور کرتا تھا،احتجاج کیا تو مجھے قتل کی دھمکیاں دیتا تھا،جب بھی مزاحمت کرتی تو لاشوں کی تصویریں دکھاتا تھا۔
کراچی میں جعلی پولیس مقابلے میں طالبعلم کی ہلاکت کے بعد غائب ہونے والے اورنگی ٹاؤن ‏تھانے کا ایس ایچ او منظرعام پر آگیا،مفرور ایس ایچ او کراچی سے سکھر پہنچ گیا،اور ملزم سابق ایس ایچ او اعظم ‏گوپانگ نےضمانت بھی کرالی ہے،سکھرکی عدالت سےسابق ایس ایچ اوکی جانب سےضمانت حاصل ‏کی گئی۔ دوسری جانب پولیس کی چھاپا مار کارروائیاں بھی جاری ہیں،آئی جی سندھ کی جانب سے ملزم کو ‏فوری طور پر گرفتار کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے،ڈی آئی جی ویسٹ ناصرآفتاب نے اعظم گوپانگ کو ملازمت سے فارغ کردیا ہے،اعظم گوپانگ جرائم پیشہ ‏عناصر کو کنٹرول کرنےمیں ناکام رہے۔ اورنگی واقعےکے بعدایچ آرڈی نے متعدد بار فون پر رابطےکی کوشش کی لیکن اعظم گوپانگ ‏نے اپنا موبائل فون بند کر دیا،ایس ایچ او کا رویہ پولیس نظم وضبط سے متصادم ‏قرار دے کر پولیس قوانین کے مطابق اعظم گوپانگ کےخلاف کارروائی کی گئی تھی۔ کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں کالج کے طالب علم کو قتل اور اس کے ساتھی کو زخمی کردیا گیا تھا،تین روز قبل اورنگی ٹاؤن پونے 5 نمبر میں ہونے والے مشکوک پولیس مقابلے میں اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے 16 سالہ طالبعلم ارسلان کے زخمی دوست یاسر نے جعلی پولیس مقابلے کی حقیقت بتادی۔ یاسر کا بیان میں کہنا تھا کہ وہ اور ارسلان موٹر سائیکل پر کو چنگ سینٹر سے واپس آرہے تھے کہ اس دوران سادہ لباس پولیس اہلکار اور اس کے دوست نے ان کو روکا اور فائرنگ کی، پہلی گولی اسے لگی جس کے بعد وہ دونوں موٹرسائیکل سے گرگئے۔
پاکستان نے امریکہ کے جمہوریت ورچوئل سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے اپنے ایک بیان میں اس فیصلے کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ پاکستان کو اس سمٹ میں مدعو کرنے پر ہم امریکہ کے شکر گزار ہیں، ہم امریکہ کے ساتھ اپنی شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ہم اس شراکت داری کو علاقائی و بین الاقوامی تعاون کے لحاظ سے مزید بڑھانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ متعدد مسائل پر رابطے میں ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ مستقبل میں مزید موضوعات پر بھی روابط کو بڑھاسکتے ہیں، پاکستان مشترکہ اہداف کو حاصل کرنے کیلئے بین الاقومی تعاون کو مضبوط بنانے، بات چیت کو جاری رکھنےاور تعمیری کردار ادا کرنےکیلئے تمام کوششوں کی حمایت کرے گا۔ ترجمان دفتر خارجہ نے سمٹ برائے جمہوریت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک فعال جمہوریت ہے جہاں آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور متحرک سول سوسائٹی موجود ہے ہم اپنے ملک میں بدعوانی کے خاتمے ، شہریوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی کیلئے پرعزم ہیں تاکہ پاکستان میں جمہوریت کو مزید مستحکم کیا جاسکے، ہم نے حالیہ برسوں میں ان اہداف کو حاصل کرنے کیلئےبڑے پیمانے پر اصلاحات کا آغاز بھی کردیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ نے 9اور 10 دسمبر کو سمٹ برائے جمہوریت کا انعقاد کیا ہے جس میں پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی، تاہم روس اور چین کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔
فیصل آباد میں مبینہ چوری کی واردات کے دوران خواتین کے کپڑے پھاڑنے کے واقعے کا ڈراپ سین ہوگیا ہے، خواتین بھکاریوں نے اعتراف کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن کنیز فاطمہ نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے واقعے کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ فیصل آباد واقعے میں خواتین اعتراف کیا کہ ڈر کے باعث اپنے کپڑے خود پھاڑے، خواتین نے اپنی غلطی پر معافی مانگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مانگنے والی خواتین چور بھی تھیں تب بھی انہیں پکڑ کر تشدد کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ بھکاری خواتین نہ صرف چوریاں کرتی تھیں بلکہ بلیک میلر بھی ہیں، گزشتہ کئی ماہ کے دوران دکانوں میں گھس کر لوگوں کو ہراساں کرنے میں ملوث پائی گئی ہیں، متعدد واقعات میں اپنی بات نہ ماننے پر یہ خواتین یا کبھی دوپٹے اتار پھینکتی ہیں یا کپڑے پھاڑ لیتی ہیں۔ یادرہے کہ فیصل آباد میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک دوکان میں چند خواتین پر مبینہ طور پر چوری کا الزام عائد کرکے ان پر تشدد اور کپڑے پھاڑنے کی تفصیلات سامنے آئیں، تاہم بعد میں دوکان میں لگے کیمروں کی ویڈیوز سے معلوم ہوا کہ خواتین نے دوکان میں چوری کی کوشش کی اور پکڑے جانے پر اپنے کپڑے خود پھاڑ ے۔
عدالت نے گداگر کی درخواست پر پولیس اہلکاروں کو نوٹس جاری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق کراچی سٹی کورٹ میں سیشن عدالت جنوبی میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے بھتہ لینے کیخلاف معزور گداگر محمد ساجد کی اہلکاروں پر مقدمہ درج کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، پولیس اہلکاروں میں زرین، نیازی، جاوید، پرویز و دیگر شامل ہیں۔ گداگر کے وکیل بلاول منگی کا موقف تھا کہ میرا موکل ایک ٹانگ سے محروم ہے اور کینٹ اسٹیشن پر بھیگ مانگتا ہے، فریئر تھانے سے تعلق رکھنے والے پولیس اہلکاروں نے چرس بیچنے کا کہا تاہم منع کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ گداگر کے وکیل نے مزید کہا کہ وہ جو بھیک مانگا کر کماتا ہے، سادہ لباس پولیس اہلکار چھین کر لے جاتے ہیں۔ سیشن عدالت جنوبی نے معزور گداگر کی درخواست پر بھتہ لینے والے پولیس اہلکاروں کےخلاف نوٹس جاری کردیے ہیں اور ڈی ایس پی سے جواب طلب کرلیا ہے۔
الیکشن ٹریبونل نے خیبرپختونخوا سے سینیٹ کے خالی نشست پر انتخابات کے لیے مشیر خزانہ شوکت ترین کے کاغذات نامزدگی کیخلاف دائر داخواست خارج کردی۔ تفصیلات کے مطابق پشاورمیں سینیٹ کی خالی نشست پر انتخاب کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں مشیر خزانہ شوکت ترین کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی جس میں ٹریبونل نے شوکت ترین کے کاغذات نامزدگی منظور کئے جانے کے فیصلے کودرست قرار دیدیا۔ شوکت ترین نے سینیٹ انتخابات کیلئے اپنا ووٹ خیبرپختونخوا منتقل کیا تھا جس کے لئے انہوں نے کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن میں جمع کروائے تھے۔ شوکت ترین کی کاغذات کو سینیٹ نشست کے لئے عوامی نیشنل پارٹی کے نامزد امیدوار شوکت جمال امیرزادہ نے چلینج کیا تھا۔ اے این پی کے امید وار امیر زادہ نے ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ شوکت ترین مردان کے رہائشی نہیں ہیں اور نہ ہی الیکٹورل رول میں رجسٹرڈ ہیں جب کہ کاغذات نامزدگی کے ساتھ جو الیکٹورل رول جمع ہے وہ بھی سرٹیفائیڈ نہیں ہے لہٰذا شوکت ترین کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے ریٹرننگ افسر کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔ واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے شوکت ترین کو سینیٹر بنانے کے لیے ایوب آفریدی سے استعفیٰ لیا تھا۔
عوام کو مہنگائی کا بڑا جھٹکا، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ایک ماہ کیلئے بجلی کی قیمت میں 4 روپے 74 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیپرا کی جانب سے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے کیے گئے اضافے سے متعلق نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ صارفین سے دسمبر کے مہینے میں وصول کی جائے گی۔ نیپرا کے مطابق بجلی کی قیمت میں فی یونٹ اضافے کا اطلاق لائف لائن اور کے الیکڑک صارفین پر نہیں ہو گا۔ وزارت توانائی نے اس معاملے پر ایک بیان بھی جاری کیا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ہونے والے اضافے کا بجلی کی قیمت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس فیصلے کی بنیاد عالمی منڈیوں میں اکتوبر کے مہینے میں ایندھن کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ہے۔ وزارت توانائی نے موقف اپنایا کہ نومبر کے مہینے میں بجلی کی قیمتوں میں ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی تفصیلات پیش کی تھیں، ایک مہینے کے دوران استعمال ہونے والی بجلی سے متعلق نیپرا میں درخواست زیر سماعت تھی جس پر آج فیصلہ سنایا گیا۔ وزارت توانائی کے مطابق نیپرا ہر مہینےفیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے معاملے پر عوامی سماعت کرتا ہے جس میں بجلی کی قیمت میں مخصوص مدت کیلئے فیول کی قیمت کا تعین کیا جاتا ہے، بین الاقوامی منڈیوں میں ایندھن کی قیمتوں کا براہ راست اثر ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر پڑتا ہے۔
محکمہ صحت سندھ نے کہا ہے کہ کراچی میں کورونا وائرس کے نئے ویرینٹ اومی کرون کا پہلا کیس سامنے آ گیا ہے جبکہ دوسری جانب نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) نے اس کی تردید کر دی ہے اور کہا ہے کہ یہ خبر مصدقہ نہیں۔ تفصیلات کے مطابق این سی او سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اومی کرون وائرس آنے کی خبر مصدقہ نہیں ہے، کراچی کی مریضہ کو ابھی مشکوک مریض ہی کہا جا سکتا ہے۔ جب کہ محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ کراچی کے نجی اسپتال نے خاتون میں اومی کرون کی تصدیق کی ہے، خاتون بیرون ملک سے آئی تھیں، ان کی ٹریول ہسٹری معلوم کی جارہی ہے اور کانٹیکٹ ٹریسنگ کی بھی کوشش جاری ہے۔ خاتون کی عمر 65 سال ہے تاہم انہیں ہسپتال سے گھر منتقل کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اس کیس سے متعلق پارلیمانی سیکرٹری صحت سندھ قاسم سومرو کا کہنا ہے کہ اومی کرون ویرینٹ کا پہلا ٹیسٹ مثبت آیا ہے، متاثرہ خاتون کے رشتے داروں اور ملنے والوں کا کورونا ٹیسٹ ہو گا۔ انٹرنیشنل فلائٹس کھلی ہونے کے باعث اومی کرون ویرینٹ کا ہونا ظاہر تھا، عالمی سطح پر اومی کرون کے بعض کیسز میں پی سی آر ٹیسٹ پازیٹو نہیں تھے۔
فیصل آباد کے علاقے ملت ٹاؤن میں گزشتہ روز ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا جس میں ابتدائی معلومات کے مطابق خواتین نے دکان پر چوری کی تو دکان کے مالک نے اپنے ملازموں اور دیگر دکانداروں کے ساتھ مل کر ان خواتین کو محبوس کیا اور ان پر تشدد کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد سامنے آنے والی ویڈیوز دل دہلا دینے والے تھیں جن میں خواتین کو سرعام سڑک پر برہنہ حالت میں دیکھا گیا اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے بھی کہا گیا کہ ان خواتین کے کپڑے دکانداروں نے ہی پھاڑے ہیں۔ مگر آج سوشل میڈیا پر اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے پر یوں لگ رہا ہے کہ جیسے تفتیش کا رخ بدل گیا ہے کیونکہ اس فوٹیج میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین دکان میں گھسیں، انہوں نے پانی پینے کی اجازت مانگی اور اجازت ملنے پر وہ سامنے پڑے کولر سے پانی پینے کی بجائے دکان کے پچھلے حصے میں زبردستی داخل ہو گئیں۔ دکاندار ان خواتین کو پچھلے حصے میں جانے سے روکتا ہے اور بعد ازاں جب وہ صورتحال کو قابو سے باہر سمجھتا ہے تو باہر آکر دیگر دکانداروں سے مدد مانگتا ہے۔ اسی دوران یہ خواتین دکان سے باہر نکل کر بھاگنے کی کوشش کرتی ہیں مگر وہ ان میں سے ایک کو پکڑ لیتا ہے جبکہ ان میں سے ایک خاتون کے کپڑوں کو پھٹا ہوا دیکھ کر وہ چھوڑ دیتا ہے۔ یہ خواتین اس کے ساتھ ہاتھاپائی پر اتر آتی ہیں تو جواب میں دکاندار بھی ان کے ساتھ دست درازی کرتے ہوئے تشدد پر اتر آتا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ خواتین کچھ دور جا کر خود ہی اپنے کپڑے پھاڑ کر واپس آکر اپنی ساتھی کو چھڑانے کی کوشش کرتی ہیں مگر تب تک دیگر دکاندار بھی پہنچ جاتے ہیں اور نتیجے کے طور پر یہ سب پکڑی جاتی ہیں۔ اس واقعے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے جس میں لوگوں کا کہنا ہے کہ عورت کی عزت کرنی چاہیے لیکن جو عورت اپنی عزت کی خود حفاظت نہ کرے دوسرے کو کیا کہنا۔ ایسی عورت دوسری عورتوں کیلئے بھی خطرہ ہیں ان کو ٹھیک کرنا چاہیے ورنہ معاشرہ کبھی ٹھیک نہی ہو گا۔ یمنیٰ طارق نے کہا کہ مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ان میں سے حق پر کون تھا مگر اس طرح برہنہ خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز کو پوسٹ نہیں کرنا چاہیے۔ رضوانہ غضنفر نے کہا کہ معاملے کے پیچھے اصل کہانی کچھ اور ہے۔ جاوید مشہود نے سی سی ٹی وی فوٹیج شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ دیکھا جا سکتا ہے کہ پچھلے کمرے سے نکلتے ہی خاتون نے خود اپنے کپڑے پھاڑ لیے اور دیگر خواتین نے کچھ دور جا کر خود اپنے کپڑے اتارے۔ اردو شو نامی پلیٹ فارم کی جانب سے اس واقعے کی مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج شیئر کی گئی اور بتایا گیا کہ کس طرح یہ واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ بہرحال اپنے آپ میں ایک سانحہ جیسا ہے جس میں خواتین نے خود اپنا لباس اتارا اور پھر دکانداروں پر برہنہ کرنے کا الزام تھونپ دیا، مگر جس طرح خواتین کو سرعام ہجوم کے سامنے گھسیٹا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا وہ بھی قابل مذمت اور قابل سزا جرم ہے۔