خبریں

معاشرتی مسائل

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None

طنز و مزاح

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None
پشاور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ سیالکوٹ میں بچے جوش میں آگئے تھے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ملک میں سب کچھ بگڑ چکا ہے۔ دین کی بات پر تو میں بھی جوش میں آکر غلط کام کر سکتا ہوں۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ جوانی میں ہم بھی جوش میں آجاتے تھے، پھر اندازہ ہوا کہ جوش سنبھال کر رکھنا ہوتا ہے۔ انہوں نے جوشیلے نوجوانوں کو سمجھانے کی ذمے داری بھی میڈیا پر ڈالتے ہوئے کہا کہ ہر چیز کی ذمے داری حکومت پر نہیں ڈالی جاسکتی، میڈیا لوگوں کو کیوں نہیں سمجھاتا؟ میڈیا صرف پیسے کماتا ہے۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں ان کا یہ تبصرہ سوشل میڈیا صارفین کو نامناسب لگا اور انہوں نے کہا کہ پرویز خٹک کو اس طرح ایک قتل کیلئے بھونڈی وضاحت دینے پر وزیر دفاع کے عہدے سے ہٹایا جائے۔ صحافی سعدیہ افضال نے کہا کہ اس طرح کی افسوسناک حالت کی وجہ سے ہم اس مقام پر ہیں۔ یہ ہمارے وزیردفاع بے شرمی سے اس واقعے کو جواز بنا رہے ہیں۔ انہیں فوری طور پر برطرف کیا جائے۔ راجہ فرقان نے بھی کہا کہ انہیں اس عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں۔ ثمرینا ہاشمی نے کہا کہ عمران خان صاحب جب تک آپ کی اپنی پارٹی میں ایسے لوگ موجود ہیں آپ پاکستان سے شدت پسندی ختم نہیں کر سکتے۔ طارق الرحمان نے کہا کہ پرویز خٹک ان کی نظر میں عزت کھو گئے ہیں۔ صدر عوامی نیشنل پارٹی ایمل علی خان نے کہا کہ اگر پرویز خٹک کو فی الفور کابینہ سے برخواست نہیں کیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ سب جھوٹ ہے جو وزیر اعظم سانحہ سیالکوٹ پر کہتے رہے، جو سری لنکا کے صدر اور وزیر خارجہ سے کہا گیا۔ شازیم میرنے کہا کہ پرویز خٹک کو اس بچگانہ بیان پر کابینہ سے ہٹایا جائےکیونکہ وہ سیالکوٹ سانحہ کے ذمہ دار ان غنڈوں کے اس بیہمانہ اقدام پر بہت ہی چھوٹا بیان دے رہے ہیں۔ ایک صارف نے کہا کہ پرویز خٹک یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ کیا انہوں نے اپنا دماغ کھو دیا ہے، یہ سچ ہے کہ حکومت کو اس پر مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا مگر اس قدر بےوقوفانہ بیان اور ایسے اقدام کو بچگانہ اور جذباتی کہنا تو بالکل غلط ہے۔ عامر نے پرویز خٹک کو بےوقوف قرار دیا۔ سعد فرخ نے کہا کہ پرویز خٹک نے اس واقعہ پر یہ بیان دے کر سب سے احمقانہ بیان دینے کا تاج بڑی کامیابی کے ساتھ فضل الرحمان سے چھین لیا ہے۔
بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر میرٹھ سے ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں تنور پر روٹیاں لگانے والے نے ایسی گھٹیا حرکت کی کہ تنور کی روٹیاں کھانے والے اسے دیکھ کر افسردہ ہو گئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ویڈیو میں ایک شخص کو تنور میں روٹیاں لگانے سے پہلے ان پر تھوکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق میرٹھ میں ایک منگنی کی تقریب کے دوران تنور والے نے روٹیاں لگاتے ہوئے تقریباً ہر پیڑے پر تھوکا جس کی تقریب میں شامل ایک مہمان نے ویڈیو بنا لی جو بعد ازاں سوشل میڈیا پر بڑی تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ اس شخص کی شناخت نوشاد کے نام سے ہوئی ہے۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو کئی لوگوں نے کہا کہ یہ نہایت ہی کراہت آمیز حرکت ہے جسے دیکھ کر انہیں قہ آ رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ویڈیو بنانے والے نوجوان نے ثبوت کے طور پر جب یہ ویڈیو اپنے اہلخانہ کو دکھائی تو انہوں نے پولیس کو اس کیٹرنگ سروس سے متعلق شکایت کی جس کے ساتھ نوشاد نامی یہ شخص موجود تھا جو روٹیاں لگانے سے پہلے ان پر تھوک رہا تھا۔ یو پی پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے اس شخص کو گرفتار کر لیا اور کیٹرنگ کنٹریکٹر کا لائسنس بھی منسوخ کر دیا۔
پاکستان اور سعودی حکومت کے درمیان اہم معاہدوں کا سلسلہ جاری، پاکستانی ہنرمند افراد کے روزگار کے لئے سعودی حکومت کے ساتھ دو معاہدوں پر دستخط کردیئے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اور مملکت سعودی عرب کے درمیان ورکرز کی بھرتی اور ہنر کی تصدیق کے معاہدوں پر دستخط ہوگئے۔ اس حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار احمد کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے، بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے پاکستانی افرادی قوت کے لیے ورکرز کی بھرتی اور ہنر کی تصدیق کے پروگرام سے متعلق دو معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ بیان میں کہا ہے کہ معاہدوں پر دستخط کی تقریب وفاقی وزیر برائے تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور قومی ورثہ شفقت محمود کے دورہ سعودی عرب کے دوران ہوئی۔ یہ معاہدہ تنازعات کو حل کرنے اور کسی بھی خلاف ورزی پر ریکروٹمنٹ دفاتر، کمپنیوں یا ایجنسیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے میں بھی مدد دے گا۔ یہ معاہدہ سعودی عرب میں ملازمت کرنے والے پاکستانی کارکنوں کو ان کے جائز حقوق کا تحفظ اور جامع قانونی تحفظ فراہم کرے گا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سٹیٹ بنک آف پاکستان اور سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ نے تین ارب ڈالر کے ڈپازٹ معاہدے پر دستخط کئے تھے، اس معاہدے کے تحت سعودی فنڈ نے پاکستان سٹیٹ بنک کے پاس تین ارب ڈالر رکھوائے ہیں، جو بینک کے زرمبادلہ ذخائر کا حصہ بن گئی ہے اور کووڈ 19 کی وبا کے معیشت پر منفی اثرات دور کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
سیالکوٹ میں وزیرآباد روڈ پر نجی فیکٹری کے غیر ملکی منیجر کو مشتعل ہجوم نے قتل کر کے زندہ جلایا تو اس واقعہ سے متعلق ایک شخص نے مزید اشتعال دلانے کیلئے اپنی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے اس واقعہ کی تفصیلات بتائیں۔ سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو شیئر ہوئی تو پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ویڈیو سے ملزم کو ٹریس کیا اور اسے گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزم کی شناخت عدنان افتخار کے نام سے ہوئی ہے۔ پنجاب پولیس کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کے بعد اس کی تصاویر بھی جاری کی گئیں جس میں ملزم ہتھکڑی پہنے نظر آ رہا ہے۔ ملزم عدنان افتخار اپنی وائرل ہونے والی ویڈیو میں سری لنکا کے مقتول شہری سے متعلق نامناسب الفاظ استعمال کرتا ہے جبکہ اس کو قتل کر نے والوں کو نام نہاد عاشقان مصطفیٰ قرار دے رہا ہے۔ یاد رہے کہ ملزم کی ویڈیو وائرل ہونے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے یہ مطالبہ زور پکڑ گیا تھا کہ اس شخص کو بھی گرفتار کیا جائے کیونکہ ایسی باتیں کر کے ملزم لوگوں کو اشتعال دلا رہا ہے۔
سیالکوٹ میں غیر ملکی فیکٹری مینجر کو توہین مذہب کا الزام لگاکر قتل کرنے کے معاملے پر سوشل میڈیا صارفین پھٹ پڑے ہیں۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر "سیالکوٹ" ابھی بھی ٹرینڈ کررہا ہے، واقعے کے بعد سیاستدانوں، صحافی برادری اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار ضرار کھوڑو نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ سیالکوٹ کے واقعہ پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے، مذہب کے نام پر ایسے واقعات کو جائز قرار دینے کا یہ فطر ی اور منطقی نتیجہ ہے، ریاست کی جانب سے بار بار جھکنے کا شکریہ۔ صدیق جان نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ راتوں کو بھی عدالتیں لگانی پڑیں تو لگائیں اور سیالکوٹ واقعے کے ذمہ داران کو جلد از جلد پھانسی پر لٹکائیں۔ امبرین نامی صارف نے سوال کیا کہ کسی بھی ایک مذہبی جماعت کے سربراہ کی جانب سے اس واقعے کی مذمت نہیں کی گئی ہوگی، جب ٹی ایل پی کی جانب سے 8 پولیس والے مارے گئے تب تمام مذہبی جماعتیں ان کے ساتھ کھڑی تھیں۔ نائمہ نے کہا کہ مسلمان ہونے کیلئے کلمہ گو ہونے کے ساتھ دو جہاں کے رحمت العالمین والے اخلاقِ حسنہ، غیر مسلموں کیساتھ سلوک، رواداری جیسی صفات بھی خود میں پیدا کرنی ہوتی ہیں۔ ایک اور صارف نے کہا کہ اگر آج کے واقعہ درست ہے تو تمام اخبارات کے مالکان بھی واجب القتل ہیں کیونکہ وہ اخبارات میں قرآنی آیات اور احادیث شائع کرتے ہیں اور بعد میں یہی اخبارات استغراللہ کوڑے کے ڈھیر میں پڑے ہوتے ہیں۔ اکبر نامی صارف نے کہا کہجو قوم اپنے اندر موجود کمزوروں اور اقلیتوں پر ظلم کرتی ہے وہ کبھی سکون میں نہیں رہ سکتی اللہ اس پر کبھی رحم نہیں کرسکتا وہ عذاب میں ہی رہے گی، ایسے جرائم ملک سے غداری کے مترادف ہیں۔ ایک اور صارف نے کہا کہ کسی ملازم کی غلطی پر سرزنش نہ کریں ورنہ اس کے اندر کا عاشق جاگ جائے گا اور آپ پر لگا گستاخ کا لیبل آپ کی نسلیں بھگتیں گی۔ راؤ زاہد نے کہا کہ سری لنکا کی ٹیم پر پاکستان میں حملہ ہوا مگر سری لنکا کی ہی پہلی ٹیم تھی جس نے پاکستان میں دوبارہ کرکٹ کھیلی، آج جو سری لنکن باشندے کے ساتھ ہوا اس پر ہر پاکستانی کو شرمندہ ہونا چاہیے۔ تقویم احسن نے لکھا کہ جاہل لکھا ۔مٹا دیا،جانور لکھا مٹا دیا ۔حیوان لکھا مٹا دیا۔درندے لکھا مٹا دیا۔جہنمی لکھا مٹا دیا۔تمہیں کیا لکھوں ۔تم یہ سب کچھ اور بہت کچھ ہی تو ہو۔نہیں ہوتو انسان نہیں ہو۔ سید عامر علی نے دعا کی اور کہا کہ اللّٰہ پاک پاکستان کو شدت پسندوں سے محفوظ رکھے،اور پاکستان کو دنیا میں بدنام ہونےسے بچائے، عقیل شیخ نامی ایک صارف نے مقتول سری لنکن باشندے کی تصویر شیئر کی اور کہا کہ یہ شخص میرے گاؤں کی چار بہنوں کو چھوڑنے آتا تھا کہ کوئی انہیں نقصان نہ پہنچا دے مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ جن سے بچا رہا ہے یہی ایک دن اس کی جان لے لیں گے۔
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم ) کے اجلاس کے دوران اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن نے اسمبلیوں سے استعفوں کی مخالفت کردی ہے۔ خبررساں ادارے اے آروائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ایک بار پھر حکومت مخالف تحریک اور دیگر آپشنز پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران لانگ مارچ اور اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملےپر غور ہوا تو مسلم لیگ نے ایک بار پھر قومی و صوبائی اسمبلیوں سے استعفوں کی مخالفت کردی۔ اس موقع پر لیگی رہنماؤں نے موقف اپنایا کہ پارٹی میں اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملےپر 2 آراء پائی جاتی ہیں ، کچھ لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں تو کچھ لوگ مناسب وقت پر استعفوں کے حامی ہیں۔ مسلم لیگ ن نے پی ڈی ایم اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں کہا کہ اگر پاکستان پیپلزپارٹی کے بغیر باقی جماعتوں نے اسمبلیوں سے استعفے دیئے تو حکومت اہم قوانین اور بل اسمبلیوں سے پاس کروالے گی، استعفو ں کے بجائے اپوزیشن کو اسمبلیوں کا بائیکاٹ کرنا چاہئے اور مسلسل بائیکاٹ کیلئے پیپلزپارٹی کو بھی ساتھ ملا لینا چاہیے۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن کی 2 چھوٹی جماعتوں نے تجویز دی کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو دوبارہ اتحاد میں شامل کرلینا چاہیے، آئندہ سال مارچ میں حکومت مخالف لانگ مارچ کی تجویز پر پی ڈی ایم میں شریک تمام جماعتوں نے اتفاق کیا ہے۔
توہین رسالت کے ملزمان کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی، تو ایسے واقعات ہونگے،فضل الرحمان سیالکوٹ واقعے کے خلاف مذمتوں کا سلسلہ جاری ہے، سربراہ پی ڈی ایم اور جمیعت علما اسلام کے صدرمولانا فضل الرحمان نے بھی واقعے پر شدید الفاظ میں مذمت کردی، انہوں نے ٹویٹ کیا کہ سیالکوٹ میں پیش آنے والا واقعہ قابل مذمت اور شرمناک ہے،جامع تحقیقات ہونی چاہئے۔ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ ریاست اگر توہین رسالت اور توہین ختم نبوت کے ملزمان کے خلاف کاروائی نہیں کرے گی تو اس قسم کے واقعات تو ہونگے،ماضی میں توہین رسالت کے ملزموں کو حکومتی سرپرستی میں بیرون ملک فرار کروانے پرایسا رد عمل آتا ہے۔ انہوں ںے کہا کہ مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فدائیت کی حد تک محبت کرتے ہیں،یورپ کبھی خاکوں اور کبھی اظہار رائے کی آزادی کے نام پر مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتا رہتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے ٹویٹ میں مزید کہا کہ ایسے واقعات کی آڑ میں عالمی اسٹیبلشمنٹ مذہبی طبقے کے خلاف اور آئین کی اسلامی دفعات کو متنازعہ بنانے کی سازش کرتی ہے۔ جامع تحقیقات کی جائیں کہ اس کے پیچھے کون لوگ کن مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے ملوث ہیں۔ امیرجماعت اسلامی سراج الحق، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور نائب صدر مریم نواز نے بھی واقعے کو افسوسناک قراردیا، مریم نواز نے سوال کیا کہ حکومت نام کی کوئی چیز موجود نہیں؟سوال کریں بھی تو کس سے کریں؟دل خراش واقعہ نے دل چیر کے رکھ دیا کیا یہ درندگی ہماری پہچان اور آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے؟
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام رپورٹ کارڈ میں تجزیہ سہیل وڑائچ نے کہا کہ اوور سیز پاکستانیوں کے ذریعے وزیر اعظم منتخب ہوئے تو یہ 22کروڑ عوام اور اس ملک کے ساتھ بہت بڑا مذاق ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اوورسیز پاکستانی ہمیں بہت عزیز ہیں کیونکہ وہ ہمارے ہی بھائی ہیں مگر ان کے مفادات، حالات اور ترجیحات مختلف ہیں۔ جن لوگوں نے یہاں رہنا ہی نہیں ان کو یہاں سے مسائل سے کیا لینا دینا۔ ان لوگوں کی سوچ ہی اور ان کو یہاں کے اسپتالوں سے کوئی واسطہ نہیں تو آپ 80حلقوں کا فیصلہ ان سے کروانے جا رہے ہیں۔ سہیل وڑائچ نے مزید کہا کہ اگر ان حلقوں میں جیت کا دعویٰ موجودہ حکومت کا رہے تو پھر منتخب وزیراعظم اس ملک کے نہیں بلکہ اوورسیز پاکستانیوں کے وزیراعظم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس خیال کو ابھی رد کر دینا چاہیے اور پاکستانیوں کے ووٹ کے ساتھ وزیراعظم منتخب ہو کر پارلیمان میں جانا چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فی الحال یہ حتمی فیصلہ نہیں ہوا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ ڈائریکٹ ووٹ ہوں گے یا منتخب حلقوں میں ہی وہ ووٹ ڈال سکیں گے اس طرح اگر کوئی دعویٰ کرے کہ وہ اگلا الیکشن جیتے گا تو اس کا خیال شیخ چلی کا خیال ہی کہا جا سکتا ہے۔ پروگرام میں شامل ایک اور تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے سہیل وڑائچ کے خیال سے اتفاق نہ کیا جس پر انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو یہاں کے اسپتال، سڑک، گیس، بجلی کے بل اور بنیادی ضروریات زندگی کی یہاں ضرورت نہیں ہے اس لیے یہاں رہنے والے پاکستانیوں کی رائے سے حکومت کو منتخب ہو کر اقتدار میں آنا چاہیے۔
وزیراعظم عمران خان نے سری لنکا کے صدر گوتابایا راجا پاکسا کو سیالکوٹ میں قتل ہونے والے سری لنکن شہری کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔ مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر وزیراعظم عمران خا ن نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ آج متحدہ عرب امارات میں سری لنکا کے صدر گوتابایا راجا پاکسا سے گفتگو ہوئی، اور اس گھناؤنے قتل پر ہماری پوری قوم کے غم و غصے اور ندامت کا اظہار کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سری لنکن صدر کو آگاہ کیا کہ واقعے میں ملوث 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے میں سری لنکن عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے تحت انتہائی سختی سے نمٹا جائے گا۔ دوسری جانب پنجاب پولیس نے سیالکوٹ میں سری لنکن فیکٹری مینجر پر تشدداور بہیمانہ قتل میں ملوث دیگر افراد کے علاوہ مرکزی ملزمان کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔ پنجاب پولیس کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 200 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے گئے اور 118 افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ واقعے میں ملوث 13 مرکزی ملزمان کو بھی گرفتار کیا جاچکا ہے، گرفتار افراد میں ویڈیو ، سیلفیز بنانے والےاور پتھر لاکر دینے والے افراد بھی شامل ہیں۔
سری لنکن شہری کا قتل شرمناک ہے،آرمی چیف کی مذمت سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں سری لنکن شہری کے بیہمانہ تشدد اور قتل کیخلاف ملک بھر سے مذمتوں کا سلسلہ جاری ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی شدید الفاظ میں مذمت کردی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کا سری لنکن شہری کو قتل کرنا شرمناک ‏ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ‏مشتعل ہجوم کا سری لنکن شہری انتھاکمارا کا قتل قابل مذمت ہے،ایسے ماورائے عدالت اقدام ناقابل قبول ہے مرتکب افراد کو کیفرکردار تک پہنچانے ‏کیلئے سول انتظامیہ کو مدد فراہم کی جائے۔ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھی سیالکوٹ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے، وزیراعظم کا کہنا تھا کہ واقعے سے متعلق تحقیقات کی خود نگرانی کررہا ہوں، کوئی غلطی نہیں ہوگی، ذمہ داروں کو قانون ‏کے مطابق سزا ہوگی،واقعے سے متعلق گرفتاریاں جاری ہیں۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے ‏سیالکوٹ واقعے کا نوٹس لے کر پنجاب حکومت سے رابطہ کیا اور تمام تفصیلات طلب کیں ہیں،ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ میں ‏تقریباً صبح 11 بجے واقعہ پیش آیا، پولیس کو بیس منٹ بعد ہی اطلاع موصول ہوگئی تھی۔ دوسری جانب سیالکوٹ میں انسانیت سوز واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،سری لنکن فیکٹری منیجر کے قتل کا مقدمہ تھانہ اگوکی میں درج کیا گیا،مقدمے میں نو سو نامعلوم افراد نامزد کئے گئے ہیں، مقدمے میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئیں،پولیس نے مرکزی ملزم فرحان ادریس کو بھی گرفتارکرلیا،واقعے میں ملوث سو سے زائد مشتبہ ملزمان زیر حراست ہیں، ویڈیو کی مدد سے شناخت کی جارہی ہے۔
ای وی ایم پر انتخاب ہوا تو مشینوں کو ہی آگ لگادینگے،رانا ثنا کی دھمکی ملک بھر میں ای وی ایم کے استعمال پر اپوزیش کی نارضی بدستور جاری ہے، ایسے میں ن لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے بڑا دعویٰ کردیا کہا اگر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے الیکشن کروائے گئے تو پولنگ اسٹیشن سے باہر نکال کر مشینوں کو آگ لگا دیں گے۔ مسلم لیگ ن کے تنظیمی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے خلاف ہر حربہ استعمال کریں گے، الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے الیکشن کروائے گئے تو پولنگ اسٹیشن سے باہر نکال کر مشینوں کو آگ لگا دیں گے۔ لاہور کے ضمنی الیکشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نےدعویٰ کیا کہ این اے 133 میں آسانی سے جیت جائیں گے، جس ویڈیو کو ن لیگ سے جوڑا جا رہا ہے وہ ہماری نہیں ہے،مریم نواز کی آڈیو کو کاؤنٹر کرنے کے لیے اشتہارات والی آڈیو کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری ہونے پر ان ہاؤس تبدیلی میں دلچسپی لیں گے لیکن گورنر پنجاب کی باتوں سے لگتا ہے کہ حکومت کے جانے کا وقت آ چکا ہے، ملک کا دیوالیہ نکل چکا ہے، اسٹیٹ بینک سمیت پوری معیشت آئی ایم ایف کے حوالے کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ حکومت نے زبردستی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے الیکشن کرانے کی کوشش کی تو اپوزیشن ٹی ایل پی ماڈل اپنائے گی،ہمارا دو ٹوک فیصلہ ہے کہ ہم ای وی ایم کے تحت کسی صورت الیکشن نہیں ہونے دیں گے۔ پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر کرانے کا فیصلہ کیا ہے،صوبائی الیکشن حکام کا کہنا ہے کہ ای وی ایم پر الیکشن کرانے کا معاملہ پالیسی امور میں آتا ہے جو الیکشن کمیشن آف پاکستان طے کرتا ہے۔
سیالکوٹ میں مشتعل افراد کی جانب سے تشدد کے دوران ایک شخص مسلسل سری لنکن مینیجر کو بچانے کی کوشش کرتا رہا، جس کی ویڈیو بھی منظر عام پرآگئی ہے۔ نجی خبررساں ادارے ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق سیالکوٹ کی گارمنٹس فیکٹری میں سری لنکن مینیجر پریانتھا کمارا کو بچانے کیلئے ان کے ساتھ پروڈکشن مینیجر اپنی جان پر کھیل گئے مگر ان کی کوششیں کارآمد نہ ہوسکیں۔ رپورٹ کے مطابق ان مناظر کی فوٹیج بھی سامنے آچکی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پروڈکشن مینیجر نے سری لنکن مینجر کو بچانے کیلئے انہیں فیکٹری کی چھت پر چڑھاکر دروازہ بند کردیااور مشتعل افراد کو روکنے کی کوشش کی۔ مگر20 سے 25افراد کے سامنے وہ اکیلے زیادہ دیر تک ٹھہر نہ سکے ، لوگوں نے انہیں زدوکوب کرتے ہوئے چھت کا دروازہ توڑا اور پریانتھا کمارا کو پکڑ کر تشدد کرتے ہوئے لے گئے۔ ویڈیو میں پروڈکشن مینیجر کی مشتعل ملازمین سے درخواست کی آوازیں بھی سنی جاسکتی ہیں، پروڈکشن مینجر نے کہا اگر غیر ملکی نے کچھ کیا ہے تو ہم انہیں پولیس کے حوالے کردیتے ہیں مگر مشتعل ہجوم نعرے بازی کرتے ہوئے" مینجر آج نہیں بچے گا" کہتے تشدد کرتے رہے یہاں تک کے سری لنکن باشندہ جان کی بازی ہار گیا۔ سوشل میڈیا پر پروڈکشن مینیجر کے ساتھ ساتھ ایک اور شخص کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں جو ہجوم کے سامنے ہاتھ جوڑ کر سرلنکن شہری کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ترجمان وزارت خزانہ مزمل اسلم نے بری خبرسنادی،اے آر وائی نیوز کے پروگرام اعتراض ہے میں بتایا کہ درآمدہ چیزوں موبائل فون، امپورٹڈشوز کپڑوں پر ٹیکس لگے گا،مزمل اسلم نے کہا کہ کچھ چیزوں پر ٹیکس چھوٹ کوختم کرنےکا فیصلہ کیا گیا، درآمدچیزوں موبائل فون، ‏امپورٹڈشوز کپڑوں پر ٹیکس لگےگا اشرافیہ کو تحفظ دینےکا الزام بالکل غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ منی بجٹ پاکستان میں کوئی ‏نئی چیزنہیں، موجودہ حکومت پہلے سال منی بجٹ لائی لیکن دوسرے اور تیسرے سال منی بجٹ نہیں لائی،اہداف سے اوپر جا رہے ہیں، آئی ایم ایف سے کچھ معاہدے ہوئے اس ‏لیے منی بجٹ لایاجا رہا ہے، 300ارب روپےٹیکس لگانےکی آئی ایم ایف کی شرط نہیں مانی آئی ایم ایف نے450ارب ‏روپے ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی شرط رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہرآنے والےسال میں ڈالرکی قیمت میں اضافہ ہوا، ایسی کوئی حکومت نہیں گزری جس ‏نے ڈالر کی قدرکم کی ہو جاپان کی کرنسی بھی 14 فیصد گری یورپ میں اس وقت تاریخ کی بلندترین بجلی اور گیس ‏کی قیمت ہے،اس سے قبل گونرپنجاب کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے 60 لاکھ ڈالرقرض کےبدلے ہماراسب کچھ لکھوالیا۔ آئی ایم ایف شرائط کے تحت 350 ارب روپے کی سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کی جائے گی جس کے لیے حکومت فنانس بل میں ترمیم پارلیمنٹ سے منظور کروائے گی، پاکستان میں درآمد شدہ فونز کے ساتھ مقامی سطح پر بھی موبائل فونز کی تیاری ہوتی ہے اور حال ہی میں معروف کمپنی سام سنگ کی جانب سے پاکستان میں کاروباری ادارے لکی گروپ کے اشتراک سے مقامی سطح پر موبائل فونز کی پیداوار بھی شروع ہو چکی ہے۔
سیالکوٹ میں فیکٹری ملازمین کی جانب سے سری لنکن منیجر کے قتل کی تفتیش کے دوران مزید اہم انکشافات سامنے آگئے ہیں۔ خبررساں ادارے جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز سیالکوٹ کی ایک فیکٹری میں سری لنکن مینجر کو مشتعل افراد کی جانب سے تشدد کرکے قتل کرنے کے بعد لاش کو آگ لگائے جانے کے افسوسناک واقعے کی تفتیش کے دوران مزید اہم انکشافات سامنے آگئے ہیں۔ پولیس تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ روز صبح 10 بج کر28 منٹ پر گارمنٹس فیکٹری کے سری لنکن مینجر نے فیکٹری میں رنگ و روغن کے دوران مذہبی جماعت کے پوسٹرز اتارے جس کے بعد فیکٹری ملازمین برہم ہوگئے۔ سری لنکن مینجر چونکہ مقامی زبان سے آشنا نہیں تھے اس لیے انہیں مشکلات پیش آئیں اور تنازع شدت اختیار کرنے لگا، اس دورا ن فیکٹری مالکان کی جانب سے مداخلت کی گئی اور معاملے کو رفع دفع کروایا گیا، تنازعے کو ختم کرنے کیلئے مینجر نے غلط فہمی کا اظہار کرکے ملازمین سے معذرت بھی کی۔ پولیس تفتیش کے مطابق تھوڑی ہی دیر بعد کچھ ملازمین کو دیگر افراد نے اشتعال دلایا تو چند ملازمین غصے میں آگئے اور انہوں نے منیجر کو پکڑ کر مارنا شروع کردیا، دیکھتے ہی دیکھتے تشدد کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کے مطابق10 بج کر40 منٹ پر مینجر کو فیکٹری کی عمارت سے نیچے پھینک دیا گیا۔ پولیس کے مطابق منیجر کی موت فیکٹری کے اندر ہی ہوگئی تھی کیونکہ جب انہیں عمارت سے نیچے پھینکا گیا تو وہ بے سدھ ہوچکے تھے امکان ہے کہ اسی وقت ان کی موت واقع ہوگئی ہو، ملازمین نے یہیں بس نہیں کی بلکہ مینجر کی لاش پر بھی تشدد کرتے رہے اور اسے گھسیٹ کر باہر لانے کے بعد نذر آتش کردیا۔ واقعے کے وقت فیکٹری میں 13 سیکیورٹی گارڈ تعینات تھے مگر کسی نے بھی آگے بڑھ کر مینجر کو بچانے کی کوشش نہیں کی بلکہ الٹا جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے،11 بج کر 28 منٹ پر پولیس ہیلپ لائن 15 پر کال گئی اور واقع کی اطلاع دی گئی، 12 منٹ بعد علاقے کے ایس ایچ او جائے وقوعہ پر پہنچے مگر مشتعل ہجوم کی بڑی تعداد کو دیکھ کر انہوں نے ڈی پی او کو اطلاع دی جنہوں نے27 انسپکٹرز اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر بھیجی۔ لوگوں کے ہجوم اور گاڑیوں کے رش کے باعث پولیس کو جائے وقوعہ پر پہنچنے میں وقت لگا اور ان کے پہنچنے تک مشتعل افراد نےسری لنکن باشندے کو جلادیا تھا۔
سیالکوٹ واقعے نے ہردل دہلادیا ہے،جیو نیوزکے پروگرام رپورٹ کارڈر میں تجزیہ کار ارشاد بھٹی سے جب اس حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے قوم سے اور مسلمانوں سوال کیا کہ کیا حضورﷺ کے دور میں ایسا کچھ ہوتا تو ایسا سلوک کیاجاتا؟ ارشاد بھٹی نے کہا کہ اگر کوئی غیرمسلم حضورﷺ کے دور میں توہین مذہب کرتا تو کیا اسے اسی طرح تشدد کا نشانہ بنایا جاتا؟ اتنی ہی بے دردی سے قتل کیاجاتا؟ اس پر تشدد کیا جاتا لاش گھسیٹی جاتی، آگ لگائی جاتی؟ ارشاد بھٹی نے مزید کہا کہ یا اس غیرمسلم سے پوچھا جاتا اور اس سے تحقیق کی جاتی، اس سے پوچھا جاتا؟اسے صفائی کا موقع دیا جاتا اور جرم ثابت ہونے پر سزا دی جاتی؟میرے نبی ﷺ کی یہ سنت نہیں کہ کسی پر تشدد کیا جائے۔ تجزیہ کار نے بتایا کہ ملک میں حکومت کا نہ ہونا،حکومتی رٹ کا ختم ہوجانا، سزا جزا کا نظام نہ ہونہ اس طرح کے واقعات کی بڑی وجہ ہیں،حکومت مضبوط ہو،یہ سب ہو تو ریاستی پالیسی حرف آخر ہوتی ہے،قانون کی پاسداری ہوتی ہے،عوام کو جرات نہیں ہوتی کہ قانون ہاتھ میں لیا جائے۔ ارشاد بھٹی نے پی ٹی آئی حکومت کے سوا تین سالوں میں امن و امان کی صورتحال پر بھی سوال اٹھایا، کہا پنجاب میں اکیاون فیصد جرائم بڑھ گئے،صرف لاہور میں چھیالیس فیصد جرائم بڑھے ہیں۔ ارشاد بھٹی نے کہا کہ اسلام آباد کو محفوط بنانے کے لئے ستائیس ارب لگائے گئے ہیں،پھر بھی ڈکیتیاں بڑھ گئیں،دوہزار اکیس میں پرس چھیننے کے بارہ فیصد واقعات ہوئے،نقدی چھیننے کےسولہ فیصد واقعات بڑھے،اسلام آباد مختلف گینگ کے نرغے میں رہا۔ تجزیہ کار نے کہا کہ کہیں ملک میں وکلا جج کو مارہے ہیں، کہیں دفتروں کے گھیراؤ ہورہے ہیں،کہیں ہائیکورٹ برانچ کےشیشیے توڑے جارہے ہیں،کہیں ہائیکورٹ چیف جسٹس کے چیمبر میں توڑ پھوڑ ہورہی ہے،کہیں لوگ پولیس کو کہیں پولیس لوگوں کو قتل کررہی ہے،حکومت کہیں نظر نہیں آتی،حکومتی رٹ کہیں نظر نہیں آتی،جس کو پکڑا جاتا اسے جزا سزا نہیں ہوتی۔
سیالکوٹ واقعہ،ابتدائی رپورٹ وزیراعظم،وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش سیالکوٹ میں غیر ملکی فیکٹری منیجر کے قتل کے واقعےکی ابتدائی رپورٹ وزیراعظم اور اور وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کردی گئی ہے، رپورٹ کے مطابق غیرملکی فیکٹری مینجر نے مشینوں پرلگے اسٹیکرزہٹانے کا کہا جن پرمذہبی عبارات درج تھیں،بادی النظرمیں اسٹیکرکوبہانہ بناکر ورکر ز نے منیجرپرحملہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مینجر کے ڈسپلین کی وجہ سے ورکرز غصے میں بھی رہتے تھے،واقعےسےقبل کچھ ورکرزکوکام چوری اورڈسپلن توڑنےپرفارغ بھی کیاگیا۔تشدد کا واقعہ صبح گیارہ بجئ شروع ہوا، فیکٹری مینجر نے غیر ملکی مہمانوں کے دورے کے لئےصفائی کےانتظامات بہترکرنےاورمشینوں پر لگے اسٹکرز اتار بھی اتارنے کی ہدایت کی جن پر مذہبی عبارات درج تھیں۔ مذہبی سٹیکر اتارنے پر ورکرزنے فیکٹری مینجر پرحملہ کر دیا،رپورٹ میں کہا گیا کہ فیکٹری مینجرکے ڈسپلن اورکام لینے کی وجہ سے کچھ ملازمین ان سے نالاں تھے،واقعے کے وقت فیکٹری مالکان بھی غائب ہوگئے تھے،پولیس نے مرکزی ملزمان سمیت اب تک 112ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ سری لنکن شہری کی لاش کا لاہور میں پوسٹ مارٹم مکمل بھی کرلیا گیا ہے، جس کے مطابق پریانتھا کمارا کی لاش کا زیادہ تر حصہ جلا ہوا پایا گیا ہے،جب کہ پاؤٕں اور ٹانگوں کا نچلا حصہ آگ سے محفوظ رہا۔ آگ لگنے سے بچ جانے والے حصے کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی پائی گئیں، ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ مکمل ہونے پر وزرات داخلہ پنجاب نے سری لنکن سفارتخانے سے رابطہ کرلیاہے، پریانتھا کمارا کی لاش آج اسلام آباد روانہ کر دی جائے گی جہاں سے سری لنکن سفارت خانے کے اہلکار لاش کو سری لنکا لے کرجائیں گے۔
سیالکوٹ واقعے پر سیاسی،سماجی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے بھی مذمت جاری ہے،علمائے کرام نے بھی واقعے کی شدید مذمت کردی، مفتی تقی عثمانی نےکہا کسی پرتوہین رسالت کا سنگین الزام لگاکرسزا دینے کا کوئی جوازنہیں ہے۔ واقعے نے مسلمانوں کی بھونڈی تصویر دکھا کرملک وملت کو بدنام کیا۔ مولانا تقی عثمانی نے کہا کہ ملک میں بدامنی کی فضا بہت تشویشناک ہے،حکومت طاقت کے استعمال کے بجائے تدبر سے کام لیتے ہوئے معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کرے،احتجاج کرنے والے تشدد اور قومی املاک کو نقصان پہنچانےکے بجائے پرامن راستے اختیار کریں، فریقین پر لازم ہے کہ گستاخوں کے بجائے اپنا گھر تباہ کرنے سے پرہیزکریں۔ مفتی منیب الرحمان نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کا کوئی جواز نہیں، یہ رویہ شرعی اورقانونی اعتبار سے درست نہیں ہے،پاکستان میں ایک آئینی وقانونی نظام موجودہے، اگرچہ اس کی شفافیت اور غیر جانبداری پر سوالات اٹھتے رہتے ہیں، لیکن اس کے ہوتے ہوئے قانون کو ہاتھ میں لینے کا کوئی جواز نہیں، کیونکہ اس سے معاشرے میں انارکی اور لاقانونیت پھیلتی ہے جو ملکی مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ واقعہ ملک وملت کےمفادمیں نہیں اور اس سےعالمی سطح پرپاکستان کاتاثرمنفی گیا، جبکہ پاکستان پر پہلے ہی ایف اے ٹی ایف کی تلوار لٹک رہی ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ حالیہ سیالکوٹ واقعہ دلخراش اور انتہائی افسوس ناک ہے، اس واقعہ سے اسلام کی پرامن تعلیمات اور پاکستان کے تشخص کو نقصان پہنچا،اسلام میں قانون ہاتھ میں لینے اور اس نوع کی حیوانیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے، یہی وقت ہے کہ ریاست پاکستان جنونیت کے انسداد کے لیے اپنا فیصلہ کن کردار ادا کرے۔ نامورمبلغ مولانا طارق جمیل نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ناموسِ رسالت کی آڑ میں غیرملکی و جلا دینے کا واقعہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ علامہ امین شہیدی نےٹویٹ کیا مذہب کےنام پرسری لنکن منیجرکا قتل اورلاش جلا کر قانون ہاتھ میں لینا اسلام اورقرآنی تعلیمات کے منافی ہے۔
سیالکوٹ واقعے کے حوالے سے فیکٹری مالک کا دل دہلادینے والا انکشاف سیالکوٹ میں فیکٹری منیجر کے ہجوم کے ہاتھوں قتل نے خوف کی فضا قائم کردی ہے، اپنے ہی عدالت لگا کر جرم ثابت ہوئے سزا دینے کے عمل نے دل دہلا دیئے ہیں،سری لنکن شہری پرانتھا کمار جس فیکٹری کا منیجر تھا اس کے مالک نے بھی دل دہلادینے والے انکشافات کردیئے ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق فیکٹری مالک کا کہنا ہے کہ انہیں پرانتھا کمار کے حوالے سے کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی،جب تک انہیں توہین مذہب کے معاملے کی اطلاع موصول ہوئی اس وقت تک پرانتھا کمار ہجوم کا نشانہ بن چکا تھا۔ فیکٹری مالک کا کہنا تھا کہ پرانتھا کمارا نے 2013 سے بطور جی ایم پروڈکشن جوائن کیا تھا، وہ محنتی اور ایماندار پروڈکشن مینجر تھے۔ مالک نے بتایا کہ انہوں نے پولیس کو صبح پونے گیارہ بجے اطلاع دی لیکن جب پولیس پہنچی تو نفری بہت کم تھی جس پر مزید نفری کو بلانا پڑا کیونکہ ہجوم بہت تھا، پولیس کی مزید نفری پہنچنے سے پہلے ہی پرانتھا کمار بے دردی سے مارا جاچکا تھا۔ دوسری جانب مشتعل ہجوم کے ہاتھوں سری لنکن منیجر کے قتل کی ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو پیش کردی گئی ہے جس میں میں بتایا گیا اب تک مرکزی ملزمان سمیت ایک سو بارہ ملزمان گرفتار کیے جاچکے ہیں،اشتعال دلانے والوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ فیکٹری منیجر کی لاش کا پوسٹ مارٹم بھی مکمل کرلیا گیا ہے، پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کےمطابق مقتول کے جسم کی ہٹیاں ٹوٹی ہوئی تھیں،لاش مکمل جھلس چکی تھی،گزشتہ روز سیالکوٹ میں ایک لیدر فیکٹری کے ورکرز نے سری لنکن منیجر پر مذہبی پوسٹر اتارنے کا الزام لگاتے ہوئے تشدد کیا اور اسے قتل کردیا تھا، جس کے بعد مشتعلق ہجوم سری لنکن شہری کی لاش کو گھسیٹ کر چوک میں لے گیا اور اسے آگ لگادی تھی۔
یقین ہے عمران خان سری لنکن شہری کے قاتلوں کوسزا دیں گے،سری لنکن وزیراعظم سیالکوٹ واقعے پرسری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجا پاکسے نے مذمت کردی،انہوں ںے ٹویٹ لکھا کہ پاکستان میں انتہاپسندوں کےہجوم کا سری لنکن منیجر پروحشیانہ حملہ دیکھ کرصدمہ ہوا ہے، یقین ہے کہ وزیراعظم عمران خان تمام ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔میری ہمدردی متاثرہ خاندان کےساتھ ہے۔ سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجا پکسے نے کہا ہے کہ یقین ہے وزیراعظم عمران خان سری لنکن شہری کے قتل کے معاملے میں انصاف کریں گے،سری لنکا کے عوام کو اس بات کا یقین ہے کہ وزیر اعظم عمران خان واقعے میں ملوث تمام افراد کو سزا دے کر انصاف قائم کریں گے۔ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سری لنکن منیجر کی ہلاکت کی شدید الفاظ میں مذمت اور تحقیقات کی خود نگرانی کرنے پر سری لنکا نے شکریہ ادا بھی کیا تھا، پاکستان میں سری لنکن ہائی کمیشن کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے عمران خان کا شکریہ ادا کیا گیا تھا۔
ڈیٹا تجزیئے سے ڈکلیئرنہ کی گئیں دو بیویاں بھی سامنے آئیں،ثانیہ نشتر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی تخفیف غربت میں معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ ڈیٹا تجزیئے کے دوران کئی لوگوں کی ڈکلیئر نہ کی گئی دو بیویاں منظر عام پر آئیں،بریفنگ میں ثانیہ نشتر نے بتایا کہ ہم سر پکڑ کر رہ گئے کہ کس کو ریلیف دیں، نام ظاہر نہیں کیے۔ ڈاکٹر ثانیہ نشترنے اس پر وضاحت دی کہ احساس پروگرام کے تحت ایک ہی بیوی کو رقم کی ادائیگی کی جاتی ہے، جس بیوی کو ظاہر نہیں کیا گیا تھا ،اسے ہم نے بھی ظاہر نہیں کیا۔ احساس کے پہلے مرحلے میں 1 کروڑ 48 لاکھ سے زائد مستحقین میں 179 ارب روپے سے زائد تقسیم کئے گئے،احساس کیش پروگرام کے دوسرے مرحلے کیلئے 48 ارب روپے رکھے گئے، 28 لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد میں 34 ارب 55 کروڑ تقسیم کئے گئے ہیں۔ گزشتہ روز ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ جن کی ماہانہ آمدنی 50 ہزار روپے سے کم ہے وہ احساس راشن رعایت پروگرام میں رجسٹرڈ ہوسکیں گے،عالمی سطح پر مہنگائی سے پاکستان بھی متاثر ہے ، جب تک مہنگائی ہے، حکومت متحرک ہے کہ اس کا توڑ لایا جائے، حکومت نے اسی لیے احساس راشن رعایت پروگرام شروع کیا۔ ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ احساس راشن رعایت پروگرام کے تحت مستحق گھرانوں کو آٹا ، دالوں اور تیل یا گھی پر ایک ہزار کی رعایت ملے گی، خوشی ہے کہ قومی بینک کے ساتھ کام کر رہے ہیں، ہم مل کر عوام کی مشکلات کو حل کریں گے،جن کی ماہانہ آمدنی پچاس ہزار سے کم ہے وہ احساس راشن رعایت پروگرام میں رجسٹرڈ ہو سکیں گے۔ ثانیہ نشتر کی کچھ روز قبل کی گئی پریس کانفرنس۔