خبریں

معاشرتی مسائل

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None

طنز و مزاح

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None
اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے ترجمان حافظ حمداللہ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن ایک احسان کریں اور وزرا کو معاف نہ کریں۔ تفصیلات کے مطابق اپنے بیان میں حافظ حمد اللہ نے الیکشن کمیشن کو وزرا کی معافی قبول نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آج وفاقی وزرا کی معافی قبول کرلی گئی تو آئندہ پھر یہ لوگ آئینی ادارے، سربراہ اور معزز اراکین کے خلاف ہرزہ سرائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزرا کا پہلے دھمکی پھرگالی اور پھر معافی مانگنے کا وطیرہ رہا ہے، تحریک انصاف اداروں کی توہین کرنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھتی ہے۔ پی ڈی ایم ترجمان کا کہنا تھاکہ آئین اورقانون پرکسی قسم کی مصلحت نہیں ہونی چاہیے۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) اور چیف الیکشن کمشنر کے بارے میں نازیبا بیانات اور الزامات لگانے پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وفاقی وزیر برائے ریلوے اعظم سواتی پر کیس جاری ہے، دونوں وزرا کی جانب سے الیکزن کمیشن سے تحریری معافی مانگی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے اعظم سواتی کو 22 دسمبر کو ذاتی حیثیت میں کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی ہے جبکہ فواد چوہدری کی معافی پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ 10 ستمبر کو قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں الیکشن (ترمیمی) ایکٹ 2021 میں مجوزہ ترامیم پر تبادلہ خیال کے دوران اعظم سواتی نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن ہمیشہ دھاندلی میں ملوث رہا ہے اور ایسے اداروں کو آگ لگا دینی چاہیے۔ انہوں نے کمیٹی میں مجوزہ ترامیم پر ووٹنگ کے عمل سے قبل الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ کمیشن نے رشوت لے کر انتخابات میں دھاندلی کی۔اعظم سواتی کے ان ریمارکس کے بعد الیکشن کمیشن کے اراکین اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے تھے۔ اسی روز وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے بھی کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اپوزیشن کے آلہ کار کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر انہیں سیاست کرنی ہے تو الیکشن کمیشن چھوڑ کر الیکشن لڑیں۔ 14 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن پر عائد کیے گئے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزرا فواد چوہدری اور اعظم سواتی کو شوکار نوٹس جاری کرنے اور الزامات کے ثبوت طلب کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم 16 نومبر کو ایک سماعت کے دوران فواد چوہدری نےالیکشن کمیشن سے معافی مانگ لی تھی۔
لاکھوں لوگوں کا نوکریوں کیلئے باہر جانا حکومت کی کامیابی ہے؟ کیا یہ تحریک انصاف کے بیانئے کی نفی نہیں ؟ وزیراطلاعات فواد چودری کے بیان پر مظہر عباس سے جیو نیوز کے پروگرام میں سوالات کئے گئے، جس پر مظہر عباس نے پوری تفصیلات بتادیں۔ مظہر عباس نے کہا کہ پاسپورٹ کو سستا کیا جائے ، ویزے کا اجرا آسان بنایا جائے تاکہ لوگ مشرق وسطیٰ میں جا کرنوکریاں کرسکیں، مظہر عباس نے کہا کہ بڑی تعداد میں لوگ باہر گئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حکومت انہیں نوکریاں نہیں دے سکے گی۔ مظہرعباس نے کہا لاکھوں افراد باہر گئے نوکریاں کیں اپنے گھر کے حالات بہتر کئے، لیکن مظہر عباس نے کہا کہ پی ٹی آئی کا موقف الگ تھا،پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ لوگ ملک سے باہر نوکریوں کے لئے جائیں گے نہیں بلکہ ملک میں نوکریاں کرنے آئیں گے۔ تجزیہ کار نے مزید کہا کہ اگر لاکھوں کی تعداد میں لوگ نوکریوں کیلئے بیرون ملک جارہے ہیں، تو پی ٹی آئی اس بات اعتراف کرے کہ وہ ساڑھے تین سال میں لوگوں کو نوکریاں نہیں دے سکے،اتنے سارے لوگوں کاجانا پی ٹی آئی کے بیانیے کی نفی ہے،اسلئے اس بات کی خوشی منانے کے بجائے تھوڑا تشویش کا اظہار بھی کریں۔ پی ٹی آئی حکومت نے آغاز سے لے کر ساڑھے تین سالہ دور اقتدار میں بار بار کہا کہ ملک میں عوام کونوکریاں ملیں گی، بیرون ملک سے بھی لوگ نوکریاں کرنے پاکستان آئیں گے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، ملک کا بڑا طبقہ اب بھی بیروز گار ہے۔ دوسری جانب وزیراطلاعات فواد چوہدری نے بیرون ملک جانے والوں کی فہرست شیئر کردی ہے،جس کے مطابق تین سالوں میں گیارہ لاکھ لوگوں کو بیرون ملک نوکریاں ملی ہیں،جبکہ پانچ لاکھ سے زائد پاکستانی نوکری کیلئے سعودی عرب گئے،دو لاکھ اکہتھر ہزار سات سو پاکستانی متحدہ عرب امارت گئے،اومان اکٹسھ ہزار سے زائد پاکستانی گئے،تریپن ہزار سے زائد قطر گئے،جبکہ فواد چوہدری نے کہا کہ آئندہ دو سالوں میں امید ہے کہ بیس لاکھ لوگ بیرون ملک جائیں گے۔
میرپور یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے طالب علموں نے ثابت کردیا کہ پاکستانی نوجوان بھی دنیا میں کسی سے کم نہیں۔ سماء نیوز کے مطابق میرپور یونیورسٹی کے طلبا نے بغیر ڈرائیور کے چلنے والی گاڑی تیار کرلی جس کی تیاری پر 13 لاکھ روپے لاگت آئی اور اس کی تکمیل 4 سال میں ہوئی۔ پاکستان کی اس پہلی سیلف ڈرائیونگ اسمارٹ وہیکل کی صنعتی نمائش میں عملی مظاہرہ بھی کیا گیا۔ پراجيکٹ ہیڈ فيصل رياض نے بتایا کہ یہ حکومت پاکستان کا ايک پراجيکٹ تھا جو انہیں ديا گيا تھا جس کی لاگت ایک کروڑ 45 لاکھ روپے تھی اور اس کا مقصد انڈسڑی کا سامان بغير ڈرائيور کے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سنسرز سے کنٹرول کی جانے والی یہ سیلف لوڈر گاڑی صرف 13 لاکھ روپے میں مکمل کی گئی ہے۔ پاکستان میں یہ ٹیکنالوجی پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے اور دنیا میں اس پر کام جاری ہے۔ مذکورہ پراجیکٹ کو بہت پذیرائی مل رہی ہے اور دیکھنے والے اس میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے اسپیکر سندھ اسمبلی اور پی پی رہنماآغا سراج درانی کو سپریم کورٹ کے باہر سے گرفتار کرلیا جس کے بعد نیب کی جانب سے آغا سراج درانی کے اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دی گئیں۔ نیب کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق آغا سراج درانی کی بےنامی پراپرٹیزکی مالیت 1ارب 4کروڑ 50لاکھ روپے ہے۔ نیب رپورٹ میں بتایا گیا 2011 میں ڈی ایچ اے فیز 6 میں 500اسکوائریارڈ کا پلاٹ خریدا گیا جو کہ بے نامی جائیداد میں شامل ہیں، پلاٹ نمبر 115 کی ملکیت غلام مرتضیٰ کے نام پر ہے۔ نیب رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ ڈی ایچ اے فیز 6 میں ایک اور ایک ہزار اسکوائر یارڈ کا بے نامی پلاٹ ہے، پلاٹ نمبر 116شکیل احمد سومرو کے نام خریدا گیا جبکہ شکیل احمد سومرو کے نام پر ڈی ایچ اے فیز 8میں بھی ایک ہزار اسکوائر یارڈ کا پلاٹ خریدا گیا ہے۔ ملیرمیں 40ایکٹر اراضی بھی بے نامی جائیداد کا بھی انکشاف ہوا ہے جو 2012 میں منور علی کے نام پر خریدی گئی تھی۔2013 میں ڈی ایچ اے فیز 6 میں گلبہارلوہاربلوچ کےنام پر ایک ہزار اسکوائر یارڈ کا ایک اور پلاٹ 'نمبر 86' خریداگیا۔ نیب کی رپورٹ کے مطابق ڈی ایچ اے فیز 6 میں بنگلو نمبر اے 3بھی بےنامی جائیداد کا حصہ ہے ، جس کی ملکیت محمد عرفان کے نام پر ہے اور یہ بنگلو 2011میں خریدا گیا۔ نیب نے ان تمام جائیدادوں کی قیمت کے حوالے سے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ بےنامی پراپرٹیزکی مالیت 1ارب 4کروڑ 50لاکھ روپے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ آغا سراج کے پاس ایک کروڑ 48لاکھ کے پرائز بانڈ ز اور 6 گاڑیاں بھی ہیں۔ واضح رہے کہ نیب نے آغا سراج درانی، ان کی اہلیہ، بچوں، بھائی اور دیگر پر مبینہ طور پر غیر قانونی طریقوں سے بنائے گئے ایک ارب 61 کروڑ روپے کے اثاثے رکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اسپیکر سندھ اسمبلی کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے مبینہ طور پر معلوم آمدن سے زائد منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے بنانے کی تحقیقات کے سلسلے میں فروری 2019 میں اسلام آباد کی ایک ہوٹل سے گرفتار بھی کیا تھا۔ بعدازاں 21 فروری کو انہیں کراچی کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے ان کا ریمانڈ منظور کیا اور اس میں کئی مرتبہ توسیع ہوئی۔ تاہم 13 دسمبر کو سندھ ہائی کورٹ نے ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض آغا سراج درانی کی ضمانت منظور کرلی تھی تاہم اگلے ہی روز ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔ عدالت نے آغا سراج درانی کی گرفتاری پر نیب کے اقدام پر سوال اٹھایا اور اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری اور ان کے گھر کی تلاشی کو بلاجواز قرار دیا تھا۔ علاوہ ازیں احتساب عدالت میں آغا سراج درانی اور اہلخانہ سمیت دیگر 18 افراد کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق ریفرنس بھی دائر ہے جس میں گزشتہ برس 30 نومبر کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔
ایف بی آر کے مطابق ادارے نے ٹیکس چوری پر مبنی منی لانڈرنگ کے جرم میں پہلی بار دائر شدہ کیس جیت لیا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آئی اینڈ آئی ان لینڈ نے مالک رائے ٹریڈنگ کمپنی باجوڑ خیبرپختونخوا سے ملنے والی مالیاتی معلومات کی چھان بین کے دوران منی لانڈرنگ کا سراغ لگایا تھا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی چھان بین میں ملزم کے کیش اور بینک ٹرانزیکشنز اوراس کی کاروباری پروفائل سے مطابقت نہیں پائی گئی ملزم کے تمام بینک اکاؤنٹس کی کل رقم دو ارب 9 کروڑ روپے تھی جبکہ اس نے 2015 میں صرف 1 لاکھ 92 ہزار 877 روپے ٹیکس ادا کیا تھا۔ ملزم نے اپنی کل آمدن اور بینک اکاؤنٹس کو چھپایا اور ٹیکس اتھارٹی کو غلط معلومات فراہم کیں جس پر اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ عدالت کی اجازت کے بعد بینک اکاؤنٹس کو اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی شق 8 کے تحت ضبط کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ کے ٹرائل کے نتیجہ میں ملزم کو اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی شق 4 کے تحت دو سال کی قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوا۔ ملزم کو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 192 اے کے تحت ایک سال کی قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد ہوا عدالت نے مجرم سے حاصل ہونے والی رقم 2090.4 ملین روپے بھی ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ مقدمہ جیتنے پر مشیر خزانہ شوکت ترین اور چئیرمین ایف بی آر ڈاکٹر اشفاق احمد نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آئی اینڈ آئی کی کارکردگی کی تعریف کی اور اس کامیابی پر مبارک باد دی۔
پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما اور سابق صوبائی وزیر سردار غلام عباس نے مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق سردار غلام عباس نے لیگی رہنما خواجہ آصف اور رانا ثنا اللہ سے ملاقات کے بعد ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا جبکہ سابق ضلع ناظم کی مسلم لیگ ن میں شمولیت کا با ضابطہ اعلان کل کیا جائے گا۔ سردار غلام عباس کی ن لیگ میں شمولیت کے موقع پر کوٹ چوہدریاں میں تقریب کا انعقاد ہوا جس میں مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت سے رانا ثنا اللہ،خواجہ آصف سمیت دیگر رہنماء شریک ہوئے. سردار غلام عباس جنرل الیکشن کے وقت پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نااہل ہوگئے تھے۔ واضح رہے کہ1985میں سردار غلام عباس نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے کیا تھا، وہ 2 مرتبہ رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور صوبائی وزیر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دی تھیں۔ بعدازاں 1997 میں انہوں نے پیپلز پارٹی کو چھوڑ کر پاکستان مسلم لیگ (ق) میں شمولیت اختیار کی جس کے بعد وہ 2 مرتبہ ضلعی ناظم منتخب ہوئے تھے۔سال 2011 میں انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (ق) کو چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور 2013 کے عام انتخابات سے قبل انہوں نے پی ٹی آئی کو بھی خیرباد کہہ دیا تھا۔ سردار غلام عباس سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نااہل ہوگئے تھے۔
جمعرات کے روز پاکستان اسٹاک ایکچینج کے کاروبار میں شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا جب شیئرز گرنے کے باعث سرمایہ کاروں کے 3کھرب 32ارب 26کروڑ 74 لاکھ روپے ڈوب گئے اور 100 انڈیکس کے پوائنٹس میں 2282پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔ اتنے بڑے نقصان کے ساتھ 100انڈیکس 43 ہزار 234 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اس دوران اسٹاک ایکسچینج کی 365 کمپنیز کے شیئرز کا کاروبار ہوا جن میں سے 338 کمپنیوں کے شیئرز گر گئے اور صرف16 ایسی کمپنیاں تھیں جن کے شیئرز میں اضافہ ہوا اور 11کمپنیوں کے شیئرز میں کوئی فرق نہیں آیا۔ بڑی تعداد میں کمپنیوں کے شیئرز گرنے سے ایک ہی کاروباری دن میں 3کھرب 32ارب 26کروڑ 74 لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ نقصان کسی بھی کاروباری دن میں ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا نقصان ہے۔ اس سے پہلے 2020 میں کورونا وائرس کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن سے بھی اسی طرح نقصان ہوا تھا مگر تب 100 انڈیکس کی سطح نیچے تھی۔ ماہرین کے مطابق اس کی وجہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے متوقع شرح سود میں مزید اضافہ ہے، جس کے امکانات جمعرات کو کئی گنا بڑھ گئے کیونکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے یکم دسمبر کو جو ٹریژری بلز جاری ہوئے اس پر کامیاب آکشنز کے نتائج کے مطابق 3 ماہ کے ٹی بلز پر منافع کی شرح 10.39 فیصد اور 6 ماہ کے ٹی بلز پر 11.05 فیصد ہے۔ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ اسٹیٹ بینک 14 دسمبر کو آنیوالی مانیٹری پالیسی میں شرح سود ایک سے ڈیڑھ فیصد تک مزید بڑھا سکتا ہے، گزشتہ ماہ بھی شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ کیا گیا تھا جس کے بعد شرح سود 8.5 فیصد بڑھ گئی تھی۔ شرح سود میں اضافے کے امکانات مہنگائی کی رفتار سے بھی بڑھ رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن پر الزامات کے حوالے سے وفاقی وزیرریلوے اعظم سواتی کے خلاف تین رکنی الیکشن کمیشن کی سماعت ہوئی، کمیشن نے وفاقی وزیر کے وکیل سے سوال کیا کہ اعظم سواتی کہاں ہیں؟ جس پر بیرسٹر علی ظفر نے حاضری سے استثنی کی درخواست دیتے ہوئے کہا کہ وہ آج یہاں نہیں ہیں اس لئے میں پیش ہوا ہوں۔ ممبر سندھ الیکشن کمیشن نثار درانی نے کہا کہ کیا اعظم سواتی الیکشن کمیشن کو نظر انداز کررہے ہیں؟ گزشتہ سماعت پر وہ سینیٹ میں تھے یہاں نہیں آئے۔ جس پر وکیل نے کہا کہ اعظم سواتی دو بار الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، اب انہوں نے اپنا معافی نامہ بھی پیش کیا ہے۔ اعظم سواتی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے تحریری معافی نامہ الیکشن کمیشن کے سامنے پڑھ کرسنایا۔ جس میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیشہ الیکشن کمیشن کو طاقتور بنانے کی کوشش کی، میری کسی بات سے دل آزاری ہوئی تو معذرت خواہ ہوں، کبھی الیکشن کمیشن کو اسکینڈ لائز کرنے کی کوشش نہیں کی، ہمیشہ اداروں کی مضبوطی کیلئے کام کیا ہے۔ ممبر الیکشن کمیشن سندھ نے کہا کہ اعظم سواتی کو پیش ہوکر معافی مانگنی پڑے گی، الیکشن کمیشن اپنا کام ایمانداری سے کر رہا ہے، تمام اداروں کو ایک دوسرے کا احترام کرنا آنا چاہیے۔ جس کے بعد الیکشن کمیشن نے اعظم سواتی کو 22 دسمبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ اس سے پہلے بھی الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ اگر اعظم سواتی پیش نہ ہوئے تو فردجرم عائد کر دیں گے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل فواد چودھری بھی الیکشن کمیشن پر لگائے گئے الزامات پر غیر مشروط معافی مانگ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں کاغذی کارروائی میں نہیں پڑنا چاہتا، میں تو کابینہ اور حکومت کا ماؤتھ پیس ہوں، بہت سے بیان میرے نہیں ہوتے، استدعا ہے کہ نوٹس واپس لیا جائے، میری معذرت قبول کریں۔
لاہور پولیس این اے 133 میں انتخابات میں کسی بھی غیرمعمولی صورتحال سے نمٹنے کیلئے متحرک ہوگئی ہے،پولیس نے کے حساس پولنگ اسٹیشن والے علاقوں کے شرپسند عناصر کی فہرستیں مرتب کرلی ہیں،ان تمام افراد کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے۔ پولیس کے مطابق پنڈی راجپوتاں، لیاقت آباد، سمسانی، گرین ٹاؤن اورٹاؤن شپ میں لڑائی جھگڑے کا خدشہ ہےاس لئے ان علاقوں کے شرپسند عناصر کی فہرست تیار کرلی گئی ہے،تاکہ کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے پولیس الرٹ ہو،حلقہ کے ريکارڈ يافتہ بدمعاشوں کونظربند کرنے پربھی غور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی سینیٹراعجازچوہدری نے پولیس کے اقدامات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کے کارکنوں کا نام ایسی فہرستوں میں شامل کرنا قابل مذمت ہے۔ این اے 133 میں ضمنی الیکشن کے لیے پولنگ 5 دسمبر کو ہوگی،یہ نشست 11 اکتوبر کو ایم این اے پرویز ملک کے انتقال پر خالی ہوئی تھی،وہ لاہور سے 5 مرتبہ منتخب ہوئے تھے، وہ 2018 کے عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی ہوئے تھے۔ ان کی اہلیہ شائستہ پرویز اور صاحبزادے علی پرویز ملک بھی قومی اسمبلی کے اراکین ہیں۔ مسلم لیگ نون کے سینئر رہنما پرویز ملک کی وفات سے خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست این اے 133 کے ضمنی انتخاب میں گیارہ امیدوار میدان میں ہیں تاہم پی ٹی آئی کے جمشید اقبال چیمہ کے نااہل ہونے کے باعث اصل مقابلہ مسلم لیگ نون کی شائستہ پرویز اور پیپلزپارٹی کے اسلم گل کے درمیان ہوگا۔ حلقے میں ووٹرز کی کل تعداد 4 لاکھ 40 ہزار 485 ہے جن میں خواتین ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 6 ہزار 927 اور مرد ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 33 ہزار 558 ہے۔ مجموعی طور پر 254 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے جا رہے ہیں جن میں 100 مردوں اور 100 خواتین کیلئے جبکہ 55 پولنگ اسٹیشنز مشترکہ ہونگے۔ این اے-133 ضمنی انتخاب میں ووٹ خریدنے کی مبینہ ویڈیو بھی سامنے آ چکی ہے ۔
سود کی مد میں‌ ادائیگی کے لیے 3 ہزار ارب روپے کاقرضہ لیا،علی محمد خان وزیرمملکت علی محمد خان نے حکومت کی جانب سے سود کی مد میں‌ ادائیگی کے لیے لئے گئے قرضوں کی تفصیلات بتادیں،تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی و وزیرمملکت علی محمد خان نے کہا ہے کہ مہنگائی کے صرف ہم ذمہ دار نہیں ہیں، موجودہ حکومت نے سود کی مد میں ادائیگی کے لیے 3 ہزار ارب روپے اضافی قرض لیا۔ اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں گفتگو کے دوران علی محمد خان نے بتایا کہ مہنگائی نے عوام کو یقیناً مشکلات میں ڈال دیا، لیکن مہنگائی کےصرف ہم ذمہ دار نہیں،موجودہ حکومت نے سود کی مد میں ادائیگیوں کے لیے 3 ہزار ارب روپے اضافی قرضہ لیا ہے۔ علی محمد خان نے بتایا اسحاق ڈار نے 4 سال ڈالر کی قدرکو مصنوعی سہارے پر رکھا،مفتاح اسماعیل آئے تو انہوں نے ڈالر کو ڈی ویلیو کیا،ہم نےبھی روپےکو اس کی اصل قدرپرچھوڑ دیا، کابینہ میں الیکشن کمیشن کو فنڈنگ روکنےکاکوئی فیصلہ نہیں ہوا کیونکہ الیکشن کمیشن آزاد ادارہ ہے، حکومت کو آئین کےمطابق فنڈز جاری کرنے ہوتے ہیں۔ اس سے لندن میں گفتگو کرتے ہوئے گورنرپنجاب چوہدری سرور نے بھی آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدے کی تفصیل بتائی، انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے ہرچیزلکھوا لی ہے، تین سال میں چھ ارب ڈالرز آئی ایم ایف نے دینا ہیں، یہ خیرات نہیں قرض ہے، جس کے عوض اُس نے پاکستان کی ہر چیز کو گروی رکھ لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہا اوورسیز پاکستانی سالانہ تیس ارب ڈالرز ملک میں بھیجتے ہیں، ہم اوورسیزپاکستانیوں کو مکمل انصاف نہیں دے سکے، آج بھی اوورسیزپاکستانیوں کی زمینوں پر قبضے ہیں۔
چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں مبینہ طور پر خودکشی کرنے والی طالبہ نوشین کاظمی کی موت کےبعد ہاسٹل انتظامیہ کی جانب سے بڑا اقدام سامنے آیا ہے، انتطامیہ نے ہاسٹل کےتمام کمروں سے پنکھے اتارنے کا فیصلہ کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق میڈیکل کے چوتھے سال کی طالبہ نوشین کاظمی کی پراسرموت کا معمہ تاحال حل نہ ہو سکا، ایسے میں کالج کے ہاسٹل انتظامیہ کی جانب سے ہاسٹل کے تمام کمروں سے پنکھے اتارنےاور پیڈسٹل فین فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہاسٹلز کے کمروں سے چھت کے پنکھے اتار کر پیڈسٹل پنکھے فراہم کیے جائیں گے جبکہ یہ فیصلہ کالج انتظامیہ نے ڈاکٹر نمرتا اور ڈاکٹر نوشین کاظمی کی لاشیں ملنے کے بعد کیا۔ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے چانڈکا میڈیکل کالج کی چوتھے سال کی طالبہ کی لاش 24 نومبر کی دوپہر کو گرلز ہاسٹل نمبر دو سے ان کے کمرے سے ملی۔پولیس عہدیدار کے مطابق اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئی پولیس کے مطابق ہاسٹل نمبر دو کے کمرے سے نوشین کاظمی نامی لڑکی کی پھندا لگی لاش ملی طالبہ کا تعلق ضلع دادو سے تھا اور ان کے والدین کو اطلاع کردی گئی جب کہ طالبہ کی لاش کو تین گھنٹے گزر جانے کے باوجود پھندے سے نہیں اتارا گیا۔
وکیل عرفان مہر کی ٹارگٹ کلنگ کیس میں نئی پیش رفت، تفتیشی حکام نے اہم انکشاف کر دیا سیکریٹری سندھ بار کونسل عرفان مہر کے قتل کی تحقیقات میں نئی پیش رفت ہوئی ہے، تفتیشی حکام نے اہم انکشافات کر دیئے۔ تفصیلات کے مطابق تفتیشی حکام نے عرفان مہر کے قتل کے حوالے سے مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرلی ہیں۔ تفتیشی حکام نے انکشاف کیا ہے ٹارگٹ کلرز نے کار سے 10سیکنڈ کا فاصلہ برقراررکھا، ملزمان ممکنہ طور پر جوہر چورنگی کے راستے سے آئے تھے اور واردات کے بعد ملزمان واپس ڈبل روڈ کی جانب گئے اور ڈبل روڈ سے ملزمان راڈو چوک کی جانب فرار ہوئے۔ تفتیشی حکام نے بتایا کہ ٹارگٹ کلرز نے کارسے10سیکنڈ کا فاصلہ برقراررکھا، حاصل کی گئی نئی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزمان عرفان مہر کا پیچھا کررہے ہیں تاہم ملزمان کی موٹرسائیکل کا نمبر تاحال حاصل نہ ہوسکا۔ تفتیشی حکام نے ٹارگٹ کلرز کی مزید تصاویر حاصل کرلی ہیں جن میں ملزمان کو قریب سے دیکھا جاسکتا ہے۔ تفتیشی حکام نے کہا ملزمان آگےکہاں گئےجلدپتہ چلالیں گے، مقتول کےزیراستعمال فون کاڈیٹاحاصل کررہےہیں۔
وزیراعظم عمران خان کی پبلک اکاؤنٹ کمیٹی (پی اے سی) میں شامل حکومتی ممبران سے اہم ملاقات، پی اے سی ممبران نے کرپشن سے متعلق معاملہ بیوروکریسی پر ڈالتے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی کرپشن کے معاملات پر سنجیدہ نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے پی اے سی میں شامل حکومتی ممبران کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے، وزیراعظم عمران خان نے پی اے سی کے حکومتی ارکان کو ہدایت کی ہے کہ کرپشن کو سپورٹ کرنے والے کسی شخص سےکوئی رعایت نہیں برتی جائے،کرپشن کرنے والا جو کوئی بھی ہے اسے قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ ملاقات کے دوران پی اے سی ارکان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی کی جانب سے کرپشن کے معاملات پر سنجیدگی اختیار نہیں کی جا رہی، بیوروکریسی منظرعام پر آنے والے کیسوں کو دبا دیتی ہے، تمام فائلز بیوروکریسی کے پاس سے گزرتی ہیں۔ ارکان نے مزید کہا کہ کرپشن کیس نیب کو بھجوائے جاتے ہیں لیکن کوئی بڑی کارروائی نہیں کی گئی۔ ملاقات میں پی ٹی آئی رہنما ریاض فتیانہ اور نور عالم خان نے پی اے سی کی کارکردگی سے متعلق بتایا ، وزیراعظم کی جانب سے ریاض فتیانہ کی بطور ممبر پی اے سی کارکردگی سے عدم اطمینان کا بھی اظہار کیا گیا۔ واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے ارکان کو آج اپنے پاس بلایا تھا، جس میں کمیٹی کے رکن ریاض فتیانہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا جائزہ لیا گیا جس میں امین اسلم اور زرتاج گل کے درمیان لڑائی کا الزام بھی شامل ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اٹلی کا کروز شپ کوسٹا رومانٹیکا پاکستان میں واقع گڈانی شپ بریکنگ پہنچ گیا۔ کروز شپ کی بہترین صورت حال کو دیکھ کر کروز شپ کو ہوٹل یا سفری اور سیاحت کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے متعلق جلد فیصلہ کر لیا جائے گا۔ اٹلی میں بنائے گئے اس جہاز کا نام کوسٹا رومانٹیکا تھا جو 2012 میں تزئین نو کے وقت تبدیل کرکے Antares Experience رکھا گیا۔ یہ کروزشپ 14 منزلوں پر مشتمل ہے جس میں ہر آسائش سے آراستہ 1411 کمرے ہیں۔ اس شپ میں 7 اسٹار ہوٹل، شاپنگ مالز، کیسینو، ،گیمنگ زون سمیت تین بڑے ہال موجود ہیں۔ کورونا وبا کے بعد دنیا بھر میں کروز شپ کا کام شدید متاثر ہوا ہے جس کے بعد پاکستانی کمپنی نیو چوائس انٹرپرائزز نے اس جہاز کو شپ بریکنگ کے لیے خریدا تھا۔ اسی حالت میں اس طرح کے نئے کروز شپ کی مالیت 500 ملین ڈالر ہے، جب کہ یہ جہاز 2023 تک کروز شپ کے طور پر چلانے کے لیے بھی سرٹائیفائیڈ ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق جہاز کا معائنہ کیا گیا ہے اور یہ کروز شپ آئندہ 10 سے 15 سال کے لیے فٹ ہے۔
روزنامہ جنگ کے مطابق وفاقی حکومت نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کیلئے الیکشن کمیشن کو فنڈز دینے کی تیاری کر لی ہے۔ ابتدائی طور پر مشینوں کی خریداری اور ڈیٹا سنٹر کیلئے 59ارب روپے درکار ہوں گے۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کیلئے حکومتی رابطہ کمیٹی بنائی گئی ہے جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے اور اس کام کیلئے وزارت پارلیمانی امور میں ایک سیکرٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ آئی ووٹنگ سے آگاہی کیلئے چلائی جانے والی مہم وزارت خارجہ کے زیر اہتمام ہو گی۔ جب کہ نجی ٹی وی چینل میں اس متعلق بھی بات کی گئی کہ حکومت تو الیکشن کمیشن کے فنڈز روکنے کی منصوبہ بندی بنا رہی تھی۔ وفاقی وزیر فراز نے اس متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے الیکشن کمیشن کے فنڈز روکنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔ البتہ انہوں نے اعتراف کیا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اس سے متعلق بات ضرور کی گئی تھی لیکن یہ بات تب ہوئی جب وزیراعظم عمران خان نماز پڑھنے گئے تھے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا شمیم کے بیٹے احمد حسن رانا نے کہا کہ رانا شمیم کا بیان حلفی میں نے بھی دیکھا، نوٹرائزر ہوتے وقت کسی نے تصویر لے کر اسے لیک کیا۔ انہوں نے بیانِ حلفی لیک کرنے والے کو سامنے لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اُس شخص کے بارے میں بتایا جائے جس نے یہ سب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بیان حلفی کی نوٹری کس نے کرائی اس کا بھی مجھےعلم نہیں ہے، اس بارے میں والد صاحب سے ہی سوال کیا جاسکتا ہے، آج کی سماعت کے دوران عدالت میں نہیں تھا تو کچھ نہیں بول سکتا۔ نوازشریف کے پاس بیانِ حلفی کی موجودگی سے متعلق والد صاحب ہی کوئی جواب دے سکتے ہیں۔ سماعت سے متعلق ان کا اتنا کہنا تھا کہ ان کے والد نے عدالت میں واٹس ایپ پر چلنے والے بیانِ حلفی کا تذکرہ کیا اور جج کو بتایا کہ انہوں نے اس بیان کو نہیں دیکھا، اب بیانِ حلفی کے بعد آفٹر شاکس سامنے آرہے ہیں، جس کے اثرات وفاقی وزرا کے بیانات سے نظر آرہے ہیں۔ احمد حسن رانا نے کہا میرے والد نے جو بیان حلفی دیا وہ اس پر قائم ہیں، ہماری عدالت سے یہی درخواست ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے اس کی وجہ یہ ہے کہ اب نہ ہم سے اور نہ کسی اور سے صبر ہو رہا ہے۔
روزنامہ جنگ کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزرا بجلی کی قیمتوں اور گیس کی عدم فراہمی پر پھٹ پڑے۔ وزرا نے کہا کہ وزیراعظم صاحب ہم اپنے حلقوں میں کیسے جائیں؟ وزرا نے کہا کہ عمران خان صاحب لوگ ہمیں سکیموں کا پوچھتے ہیں۔ گرمیوں میں بجلی نہیں ملتی اور سردیوں میں گیس کا مسئلہ ہوتا ہے۔ کیسے حلقے کے عوام کا سامنا کریں۔ پرویز خٹک نے گیس لوڈ منیجمنٹ پلان پر خوب دل کی بھڑاس نکالی۔ اجلاس کے دوران شیریں مزاری نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا، کابینہ نے صحافی مدثر نارو کی فیملی کی ہر ممکن مدد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ کابینہ نے صحافی کی بازیابی کیلئے اقدامات کرنے کا کہا۔ شیریں مزاری وفاقی کابینہ کے فیصلے سے متعلق عدالت کو آگاہ کریں گی۔ اجلاس میں وزیر اعظم کے مشیرملک امین اسلم کی تعریفیں کی گئیں۔ وزرا نے کہا کہ ہماری حکومت کے دو ہی کریڈٹ ہیں پہلا کلائمیٹ چینج سے متعلق کام اور دوسرا کورونا پر قابو پانا۔ اجلاس مین اعتراف کیا گیا کہ ملک امین اسلم نے بہترین کام کیا جس کا عالمی دنیا میں اعتراف کیا جا رہا ہے۔ وفاقی کابینہ کے ارکان جب ملک امین اسلم کی تعریف کر رہے تھے تو کسی نے زرتاج گل کا ذکر نہیں کیا جبکہ وزیر موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل وزیر کابینہ کے ملک امین اسلم سے متعلق تعریفی کلمات کو خاموشی سے سنتی رہیں۔
پنجاب کے تمام اسکولز میں اسمبلی میں درود شریف لازم قرار وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اسکولوں کیلئے اہم اعلان کردیا, پنجاب کے تمام اسکولوں میں اسمبلی کے دوران درودشریف پڑھنا لازمی کردیا گیا۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صوبے کے تمام اسکولوں میں اسمبلی کے دوران بچوں کو درود شریف پڑھانے کے احکامات جاری کردیئے۔ اسکولوں میں صبح کے اوقات میں اسمبلی کےدوران درود شریف پڑھنے کے حوالے سے مراسلے میں کہا گیا کہ اسمبلی میں قومی ترانہ سے قبل تلاوت قرآن پاک اور پھر درود شریف پڑھا جائے گا۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ رحمتہ اللعالمین حضرت محمدؐ کی خدمت میں درود شریف پیش کرنا ہر مسلمان کیلئے سعادت ہے۔ عثمان بزدار کا کہناہے کہ اسکولوں کی اسمبلی میں درود شریف پڑھنے سے نئی نسل اس فضیلت اور برکت سے فیضیاب ہوگی، بارگاہ رسالتؐ میں درود شریف پیش کرنے سے برکات نازل ہوتی ہیں۔ اس سے قبل پنجاب حکومت نے ماہ ربیع الاول پر عشرہ رحمت اللعالمین بھی منایا تھا, جس کے تحت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں محفل میلاد کا انعقاد کیا گیا تھا۔
نجی ٹی وی چینل سماء کو انٹرویو کے دوروان چیئرمین شوگر ملز ایسوسی ایشن ذکا اشرف نے اس خدشے کے اظہار کیا کہ پاکستان میں دوبارہ چینی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت کی چینی دبئی کے راستے پاکستان آرہی ہے۔ محض بیگ تبدیل کرکے پاکستانیوں کو ہائی سلفر شوگر کھلائی جا رہی ہے اور اس حوالے سے ہم نے وزیراعظم عمران خان سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ذکا اشر نےشوگر انڈسٹری ختم کرکے کاٹن انڈسٹری کے فروغ کی سوچ کوغلط قرار دیا اور کہا کہ شوکت عزیز بھی شوگر، سیمنٹ اور کھاد انڈسٹری کو ختم کرنے کا ایجنڈا لے کر آئے تھے۔ مسابقتی کمیشن کا سخت رویہ شوگر انڈسٹری کو لے ڈوبے گا۔ ذکا اشرف نے کہا کہ چینی کا بحران دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے تاہم وزیراعظم چینی کا بحران ختم کرنے میں سنجیدہ ہیں لیکن ان کے ماتحت افراد کارکردگی دکھائیں گے تو بحران ختم ہوگا۔ شوگر انڈسٹری سے نرم رویہ رکھا جائے ورنہ انڈسٹری بند ہوجائے گی۔ شوگر انڈسٹری لوہا بیچ کر بھی 44 ارب روپے پورے نہیں کرسکتی۔ سٹے باز ہر انڈسٹری میں سٹہ لگاتے ہیں لیکن شوگر انڈسٹری کا سٹے بازوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور سٹے بازوں کو کھلی چھوٹ جبکہ کاروباری افراد کو پکڑا جاتا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے لاپتہ صحافی و بلاگر مدثر نارو کی بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری عدالت پیش ہوئیں۔ معزز جج نے ریمارکس دیئے کہ لاپتہ افراد کی ذمہ داری وزیراعظم اور کابینہ پر آتی ہے، کیوں نہ ریاست کی بجائے معاوضے کی رقم وزیراعظم اور کابینہ ارکان ادا کریں؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیر انسانی حقوق سے کہا کہ آپ کے اندر احساس ہے، لیکن ریاست میں احساس نظر نہیں آتا، لاپتہ افراد کے اہلخانہ سڑکوں پر رل رہے ہوتے ہیں، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کے بنیادی حقوق کا خیال کرے، ریاست کا ری ایکشن اس کیس میں افسوس ناک ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ریاست ماں کے جیسی ہے ، اس کو اسی طرح نظر آنا چاہیے، ماں کی طرح ان کو لیکر جائیں اس فیملی کو مطمئن کریں، اس کا بچہ بھی پیدا ہوا ہے ، اس کی بیوی بھی دنیا چھوڑ گئی، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ بچے اور اس کے والدین کو مطمئن کرے، وزیراعظم اور وفاقی کابینہ اس متاثرہ فیملی کو سنیں اور مطمئن کریں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیوں نا ایک قانون بنایا جائے کہ جو ذمہ دار ہے اس سے معاوضہ لیا جائے، اگر کوئی 2002 میں لاپتہ ہوا تو کیوں نا اس وقت کے ذمہ داروں کو جرمانے کیے جائیں، اس وقت کے چیف ایگزیکٹو کو ذمہ دار ٹھہرا کر اسے ازالے کی رقم ادا کرنے کا کیوں نا کہا جائے؟ کسی نہ کسی کو تو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا چاہئے، ہماری آدھی زندگی غیر جمہوری حکومتوں میں گزری اور یہ انہی کا کیا کرایا ہے۔ عدالت نے کہا اب تو پولیس، منسٹری یہاں تک سے ہر ایک کو فری ہینڈ ملا ہوا ہے، اس میں صرف اسٹیٹ ایکٹر نہیں نان اسٹیٹ ایکٹر بھی آتے ہیں، تمام ایجنسیاں وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں، الزام درست ہو یا نا ہو ذمہ داری ریاست کی ہے کہ وہ متاثرہ فیملی کو مطمئن کرے، تین سال سے وہ در بدر پھر رہے ہیں، اس سلسلے کو رکنا چاہیے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ وزیراعظم کے پاس لے کر جائیں، کابینہ ارکان سے ملاقات کرائیں، آپ کوشش کریں کہ یہ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد مطمئن ہو کر واپس آئیں، عدالت نے حکومت کو 13 دسمبر تک مدثر نارو کی فیملی کو مطمئن کرنے کا حکم دیا اور سماعت ملتوی کر دی۔