خبریں

معاشرتی مسائل

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None

طنز و مزاح

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None
پنجاب کے علاقے کمالیہ میں 80 سالہ خاتون اور اوکاڑہ میں ڈکیتی کے دوران شادی شدہ خاتون کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ نجی خبررساں ادارے اے آر وائی نیوز کی رپورٹ پنجاب کے 2 اضلاع ٹوبہ ٹیک سنگھ اور اوکاڑہ میں 2 جنسی زیادتی کے واقعات پیش آئے ہیں ، ایک طرف ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاقے کمالیہ میں 80 سالہ بوڑھی خاتون کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ اوکاڑہ کےعلاقے محلہ احمد شاہ میں ڈکیتی کے دوران ڈاکوؤں نے شادی شدہ خاتون کو بھی اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا ۔ پولیس کے مطابق اوکاڑہ میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر ڈاکوؤں نے اہل خانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور شادی شدہ خاتون کےساتھ اجتماعی زیادتی کی، متاثرہ خاتون کی مدعیت میں ڈکیتی اور اجتماعی زیادتی کی دفعات شامل کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ دوسری جانب کمالیہ کے نواحی گاؤں میں 80 سالہ خاتون کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے پولیس نے خاتون کی درخواست پر بلال نامی شخص کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ مقدمے کے مطابق کھوکھراں والی میں بلال نے بے سہارا خاتون کو رات کی تاریکی میں درندگی کا نشانہ بنایا ہے، ملزم واقعے کے بعد سے فرار ہے جس کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنا شروع کردیے ہیں، فیصل آباد کے ضلعی پولیس آفیسر نے واقعے کا نوٹس لیتے واقعے ک رپورٹ طلب کرلی ہے۔
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی خبریں گردش کررہی ہیں ، کیا واقعی اوگرا پیٹرول کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ کرنے جارہی ہے؟ خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے آئندہ ماہ پیٹرول کی قیمت میں اضافے کی خبروں کی تردید کردی ہے اور کہا کہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ذرائع اوگرا کے مطابق 6 نومبر کو حکومت نے 85 ڈالر فی بیرل کی عالمی قیمت کے حساب سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا ، تاہم گزشتہ ہفتے عالمی منڈی میں یہ قیمت 76 ڈالر فی بیرل تک رہی۔ ذرائع اوگرا کے مطابق اوگرا نے16 نومبر سے یکم دسمبر تک ملک میں قیمتوں کے تعین کیلئے کام شروع کردیا گیا ہے تاہم عالمی منڈی میں قیمتوں کو دیکھتے ہوئے ملک میں پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ قیمتوں میں اضافے کا تو کوئی جواز ہی نہیں ہے حکومت تمام ٹیکسز کی موجودہ شرح کو بھی برقرار رکھے تو بھی قیمتوں میں استحکام رکھا جاسکتا ہے، اور اگر حکومت عوام کو ریلیف دینے کا سوچے تو پیٹرولیم لیوی کو کم یا ختم کرکے فی لیٹر9 روپے تک کمی بھی کی جاسکتی ہے، کیونکہ حکومت اس وقت فی لیٹر پیٹرول پر 9روپے62 پیسے لیوی کی مد میں وصول کررہی ہے۔۔
کراچی میں ٹریفک پولیس کی لاٹری نکل گئی، شہریوں سے لوٹ مار کا بازار گرم ہے،جی ہاں کراچی ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کو شہر میں چالان کے لیے اہداف ملنے کی تصدیق ہوگئی ہے،اس طرح کراچی ٹریفک پولیس صرف وجوہات کی بنیاد پر یعنی صرف لائسنس اور گاڑی کے کاغذات کی بنیاد پر نہیں ہی چالان کرنا نہیں بلکہ اپنے اہداف کو بھی پایہ تکمیل تک پہنچارہی ہے۔ اگر ٹریفک پولیس کی جانب سے ٹارگٹ پورا کرنے کی شکایات کا ذکر کیا جائے تو ماہانہ اوسطاً 27 ہزار سے زائد چالان کرکے شہریوں سے ساڑھے 6 کروڑ روپے کے قریب وصولی کی جاتہی ہے،کراچی میں ٹریفک پولیس کی نفری بھی کم ہے لیکن اس کے باوجود چالان کی تعداد نفری سے زیادہ ہوتی جارہی ہے۔ شہر میں ٹریفک پولیس عملے کی تعداد 6 ہزار 782 ہے جس میں 89 سیکشن آفیسر ہیں،اعلیٰ افسران کی جانب سے ایک سیکشن آفیسر کو روازانہ کم ازکم 40چالان کا ٹارگٹ پورا کرنا ہوتا ہے،رواں سال اب تک 27 لاکھ 29 ہزار سے زائد چالان کیے گئے، جن کے ذریعے 64 کروڑ 23لاکھ 60 ہزار سے زائد روپے کی وصولی کی گئی۔ ایک ماہ میں 27 ہزار سے زائد چالان کیے جارہے ہیں جن سے 6 کروڑ 42 لاکھ سے زائد رقم وصول ہورہی ہے،یومیہ 9 ہزار سے زائد چالان کئے جارہے،جس سے روز 2 لاکھ 14 ہزار سے زائد رقم بن جاتی ہے،چالان سے 30 فیصد رقم ٹریفک پولیس جب کہ 70 فیصد سرکاری خزانے کو دیئے جاتے ہیں۔
موجودہ حکومت میں قرضوں میں مزید اضافہ ہوتا جارہاہے،وزرات خزانہ نے اعداد وشمار بتادیئے،وزارت خزانہ نے بتایا کہ موجودہ حکومت کے تین سال کے دوران پاکستان کے کل قرضوں میں 16 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا اور حکومت قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں 7 ہزار 460ارب روپے ادا کر چکی ہے۔ سینیٹ میں ملکی و غیرملکی قرض کی تفصیلات پیش کردی گئیں،چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں وقفہ سوالات کے دوران گزشتہ 3 سال میں سود کی ادائیگیوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کی گئیں، وزارت خارجہ کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق مقامی قرض میں تین سال میں دس ہزار ارب کا اضافہ ہوا،اگست دو ہزار اکیس تک مقامی قرض چھبیس ہزار ارب سے بڑھ گیا جبکہ جون دو ہزار اٹھارہ میں مقامی قرض سولا ہزار ارب تھا۔ وزرات خزانہ کے مطابق بیرونی قرض تین سال میں ساڑھے چھ ہزار ارب بڑھ گیا،حکومت قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں 7 ہزار 460ارب روپے ادا کر چکی، تین سال میں سرکاری قرضوں میں 14 ہزار 906 ارب کا اضافہ ہوا اور سود کی مد میں 50 فیصد ادائیگی کی گئی، وزارت خزانہ نے تحریری جواب میں کہا کہ سرکاری قرضوں میں واضح کمی آ رہی ہے، سال 2020-21 میں ڈیٹ ٹو جی ڈی پی کی شرح 4 فیصد کم ہوئی اور رواں مالی سال اس شرح میں 2 سے 3 فیصد کمی کا امکان ہے۔ وزارت خزانہ نے مقامی وبیرونی قرضوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران پاکستان کے کل قرضوں میں 16 ہزار ارب کا اضافہ ہوا ہے،جون 2018 میں ملک پر کل قرض 25 ہزار ارب روپے تھا، جو اگست 2021 تک بڑھ کر 41 ہزار ارب تک پہنچ گیا، تین سال میں پاکستان کے اندرونی قرض میں 10 ہزار ارب کا اضافہ ہوا۔ جون 2018 میں ملک کے اندرونی قرض 16 ہزار ارب تھے، جو اگست 2021 تک 26 ہزار ارب سے بڑھ گئے۔ جون 2018 میں بیرونی قرض ساڑھے 8 ہزار ارب تھا، جو اگست 2021 تک ساڑھے 14 ہزار ارب سے تجاوز کرگیا۔ اس طرح تین سال کے دوران ملک کے بیرونی قرض میں ساڑھے 6 ہزار ارب کا اضافہ ہوا،وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم سودی نظام سے باہر نہیں نکلے،کوشش کررہے ہیں کہ اپنی معیشت مضبوط کریں تاکہ سود سے چھٹکارا ملے۔ وزارت منصوبہ بندی نے تفصیلات ایوان میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2015-16 کے سروے کے مطابق 24.3 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزاررہی تھی۔ 2018-19 کے سروے کے مطابق پاکستان کی 21.9 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی تھی، 2018-19 میں غربت کی شرح میں کمی آئی ہے،2021-22 کے سالانہ پلان میں توقع ظاہر کی ہے کہ احساس کفالت پروگرام کی وجہ سے غربت میں 2 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔
ملک کی پہلی قومی ہیلپ لائن 911 فعال کردی گئی ہے، امکان ہے وزیراعظم عمران خان رواں ماہ ہی اس سہولت کا افتتاح کردیں گے۔ خبررساں ادارے ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقت نے ہیلپ لائن کے فعال ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کالر کو صرف 911 پر کال کرنی ہوگی جو خود کار نظام کے تحت ہی متعلقہ محکمہ کو ٹرانسفر ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل اسلام آباد میں ہر محکمے کی الگ الگ ہیلپ لائن تھی جس کی وجہ سے لوگوں کو کنفیوژن ہوتی تھی، ایمرجنسی ریسکیو سروس کی ہیلپ لائن1122 ہے، فائر بریگیڈ کی ہیلپ لائن16 ہے، پولیس ہیلپ لائن15 ہے جبکہ کووڈ 19 ہیلپ لائن1166 ہے، ایمرجنسی میں کسی شہری کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ کون سی ہیلپ لائن کو ڈائل کرنا ہے۔ واضح رہے کہ رواں ماہ جون میں وفاقی حکومت نے لاہور سیالکوٹ موٹروے پر خاتون کو بچوں کے سامنے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے واقعے کے بعد قومی ایمرجنسی ہیلپ لائن قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر فوری طور پر کام شروع بھی کردیا گیا تھا۔ منصوبے کے فوکل پرسن عادل صافی نے اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اس ہیلپ لائن کو شروع کرنے کیلئے ہمارے ماہرین نے امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک میں دستیاب ہیلپ لائنز کے ماڈلز کا جائزہ لیا۔ پاکستان میں اس ہیلپ لائن کو وزارت داخلہ کے تحت قائم کیا گیا جس کا ہیڈ آفس اسلام آباد میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) میں قائم کیا گیا ہے،ہیلپ لائن کو چلانے کیلئے آپریٹرز بھرتی کیے جائیں گے جو این سی او سی کے سینٹرل کنٹرول روم سے کام کریں گے۔ فوکل پرسن عادل صافی کا کہنا تھا کہ اس ہیلپ لائن کے ساتھ تمام ہنگامی نمبروں کو منسلک کردیا جائے گا،شہریوں کی ایمرجنسی کالز سینٹر کنٹرول روم میں موصول ہوں گی جہاں سے انہیں فوری طور پر متعلقہ محکموں کو منتقل کردیا جائے گا، ابتدائی طور پر قومی ہیلپ لائن 4 قسم کی ہنگامی صورتحال کیلئے دستیاب ہوگی جس میں پولیس ، فائر بریگیڈ، ایمبولینس سروس موٹروے و ہائی وے پولیس شامل ہوں گی۔
ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی کے بعد ہونڈا اٹلس کارز لیمٹڈ نے نے بھی اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کردیا ہے،سرکاری نوٹس کے مطابق کمپنی اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں دو مرحلوں میں اضافہ کرے گی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کے پہلے مرحلے کا نفاذآج سے ہورہاہے،جبکہ دوسرا مرحلہ آئندہ ماہ بائیس جنوری سے شروع ہوگا،مقامی طور پر اسمبل شدہ تمام ہونڈا گاڑیوں کی نئی قیمتیں بھی سامنے آگئی ہیں۔ ہونڈا نے غیر ملکی زرمبادلہ کی شرح میں اضافے، خام مال کی قیمتوں، اور ترسیل کے اخراجات کو اضافے کو گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا باعث قرار دیا ہے، کمپنی نے اپنے سرکاری بیان میں واضح کردیا کہ نومبر 2021 سے پہلے گاڑیوں کی بکنگ کرانے والوں پر نئی قیمتیں کا اطلاق نہیں ہوگا انہیں پرانی قیمتوں پر ہی گاڑیاں فراہم کی جائیں گی۔ کمپنی نے قیمتوں میں اضافے کے لیے شرائط و ضوابط بھی واضح کردیئے ہیں،22جنوری 2022 کی قیمت 10 نومبر 2021 سے پہلے کے تمام نئے بیک آرڈرز پر لاگو ہوگی، زیر التو آرڈرزجن کی ڈیلیوری جنوری 2022 اور اس کے بعد متوقع ہے،ان پر بھی نئی قیمتیں لاگو ہونگی۔ وہ صارفین جن کے پاس نومبر 2021 کی ڈیلیوری کی متوقع تاریخ ہے اور جن کی ادائیگیاں 11 نومبر 2021 سے پہلے کلیئر ہو چکی ہیں، وہ پرانی قیمتوں پر گاڑیاں وصول کریں گے اور وہ صارفین جن کے پاس نومبر 2021 کا EDD ہے لیکن جن کی ادائیگیاں ابھی 26 نومبر 2021 تک پوری نہیں کی گئی ہیں، وہ گاڑیاں پہلے مرحلے کی قیمتوں پر حاصل کریں گے۔ وہ صارفین جن کے پاس دسمبر 2021 کا EDD ہے لیکن جن کی ادائیگیاں ابھی 26 نومبر 2021 تک پوری نہیں کی گئی ہیں، وہ پہلے مرحلے کی قیمتوں پر گاڑیاں وصول کریں گے،دسمبر 2021 کے EDD کے ساتھ 26 نومبر تک غیر کلیئر شدہ بیک آرڈرز دوسرے مرحلے کی قیمتوں پر ڈیلیوری حاصل کریں گے۔ کرنسی کی مسلسل گراوٹ اور سپلائی چین کے مسائل کے درمیان کار ساز اداروں کے لیے آپریشنل چیلنجز تشویش کا باعث بن گئے ہیں،یہی وجہ ہے کہ کمپنیاں اب حکومت کی مداخلت کے بغیر قیمتوں میں اضافہ کررہی ہیں۔
سینیٹ نے 9 نومبر کو یوم اقبالؒ پر عام تعطیل بحال کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ مسلم لیگ ق کے سینیٹر کامل علی آغا نے 9 نومبرکو یوم اقبالؒ پر چھٹی بحال کرنے کی قرار داد پیش کی تھی۔ سینیٹ نے یہ قرارداد منظور کرلی۔ چیئرمین سینیٹ نے حکم دیا کہ قرارداد کی کاپی وزیر اعظم اورکابینہ کو بھجوائی جائے تاکہ یوم اقبالؒ پرچھٹی کو بحال کیا جائے۔ اس خبر پر مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے ردعمل دیتے ہوئے شاعر مشرق کی غزل کا اک شعر ٹوئٹ کیا۔ ؎ میسّر آتی ہے فُرصت فقط غلاموں کو نہیں ہے بندۂ حُر کے لیے جہاں میں فراغ انہوں نے اس کے ساتھ لکھا کہ اقبال عمل کی تعلیم دیتے رہے۔ ان کو خراج تحسین کا بہترین طریقہ کام، کام اور مزید کام ہے۔ چھٹی ان کی تعلیمات کی نفی ہے۔ ان کو جواب دیتے ہوئے رانا عثمان نامی صارف نے کہا کہ ایک دن چھٹی ہونے سے آپ کی کرپشن کم ہوگی؟ اقبالؒ محض ایک شاعر ہی نہ تھے بلکہ عظیم مفکر اور فلسفی بھی تھے۔ کہیں ذکر رہتا ہے اقبال تیرا فسوں تھا کوئی، تیری گفتار کیا تھی؟ ایک صارف نے کہا کہ پنجاب سیکریٹریٹ کے ملازمین ہفتہ اتوار دو دن چھٹی کرتے ہیں جبکہ باقی سارا پنجاب ہفتے میں ایک دن چھٹی کرتا ہے۔ اگر چھٹی کرنے سے ترقی رکتی ہے تو پھر سیکریٹریٹ والوں کی بھی چھٹیاں بند ہونی چاہیں۔ جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ اصل میں جناب 14 اگست 25 دسمبر وغیرہ وغیرہ کو بھی کام کام اور بس کام کا فارمولا کیوں لاگو نہیں ہوتا؟ اس کےجواب میں احسن اقبال نے کہا کہ عقیدت کا طریقہ چھٹی نہیں ہوتا بلکہ تعلیمات پہ عمل ہوتا ہے۔ ورکنگ ڈے پہ تعلیمی اداروں میں مذاکرے اور پروگرام ہوتے ہیں جن سے نوجوانوں کو اقبال کی فکر سے آگہی ہوتی ہے چھٹی کی صورت میں وہ گھروں میں بیٹھ کر دن ضائع کر دیتے ہیں۔ احسن اقبال کی گزشتہ روز کی گئی پریس کانفرنس۔
اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن عدالت میں نورمقدم قتل کیس کی سماعت ہوئی تو مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت گرفتار ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ ان میں ضمانت پر رہا ظاہر جعفر کی والدہ ملزمہ عصمت آدم جی اور تھراپی ورکس کے ملازمین شامل ہیں۔ سماعت شروع ہوئی تو ایڈیشنل سیشن جج عطاربانی نے عدالتی کارروائی کا آغاز کیا، ملزم ظاہر جعفر کمرہ عدالت میں شور مچانے لگا۔ ملزم نے کہا "جج میری صلح کروادے" (جج عطا ربانی میرا راضی نامہ کروادیں)۔ ظاہر جعفر نے کہا کہ میں جج کے قریب آ کر کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ باربار بولنے پر جج عطا ربانی نے ملزمان کے وکلا سے استفسار کیا کہ ملزم کی کمرہ عدالت میں موجودگی ضروری ہے؟ یا اس کی حاضری لگوا کر بھجوا دیں؟ اس کے بعد ملزم ظاہر جعفر کو پولیس اہلکاروں نے بخشی خانے منتقل کر دیا۔ جج نے استفسار کیا کہ مدعی مقدمہ کے وکیل کدھر ہیں؟ جس پر وکیل بابر حیات سمور نے جواب دیا کہ شاہ خاور سپریم کورٹ مصروف ہیں آپ کارروائی شروع کر دیں۔ دوران سماعت سب سے پہلے فرانزک آفیسر محمد عمران کی گواہی کو کیس کا حصہ بنایا گیا۔ نیشنل فرانزک کرائم ایجنسی انچارج محمد عمران کے بیان پر جرح کے بعد کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی۔
مافیا رکاوٹ۔۔ حکومت کو گرانے کی کوششیں ہورہی ہیں،ڈاکٹر اشفاق حسن ملک بھر میں مہنگائی میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے،عوام دہائیاں دے رہے ہیں کہ وزیراعظم مہنگائی کم کریں، جی این این نیوز کے پروگرام خبر ہے میں ماہر معشیت ڈاکٹر اشفاق حسن سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ ایسا ہی ہے مافیہ عمران خان کو کچھ نہیں کرنے دیتے ؟ جواب میں ماہر معاشیات نے کہا کہ اس حوالے سے تین یا چار وجوہات ہیں، ان میں ایک وجہ یہ بھی ہےکہ مافیا رکاوٹ بنی ہوئی ہے،جب دوسال قبل آٹے کا بحران شروع ہوا تھا تو میں نے اسی وقت نشاندہی کردی تھی، کہ مافیا مہنگائی کنٹرول کرنے میں رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں دیکھا گیا ہے جب بھی کسی حکومت کو کمزور کرنا ،گرانا ہو تو چینی اور آٹے کی قیمت بڑھتی ہیں،حکومت کو گرانے کی سازشیں شروع ہو گئیں ہیں، وزیراعظم اب اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں مہنگائی کے پیچھے مافیا کا ہاتھ ہے۔ جی این این نیوز کے پروگرام خبر ہے میں ماہر معشیت ڈاکٹر اشفاق حسن نے واضح طور پر کہا کہ میں حکومت کے ایک سال کے بعد ہی باور کراتا آرہا ہوں کہ حکومت گرانے کی سازشیں شروع ہوگئی ہیں، لیکن کیونکہ غالباً یہ بات میں کررہاں ہوں اسلئے اس پر کان نہیں دھرے گئے۔ ڈاکٹر اشفاق نے کہا کہ وزیراعظم نے طے کرلیا تھا کہ انہوں نے میرا کہا نہیں سننا ہے،اب وزیراعظم بھی یہ ہی بات کرتے نظر آرہے ہیں کہ مافیا نے مہنگائی کا طوفان برپا کیا ہوا ہے، میں نے وزیراعظم کو بتایا تھا کہ اس طرح ہوتا رہتا ہے، میں وزیراعظم کے ساتھ اس معاملے پر ڈیل کرتا رہاہوں کیونکہ مجھے پتا ہے کہ ایسا ہوتا رہتا ہے۔ ماہر معاشیات نے کہا کہ وزیراعظم ملک کے چیف ہوتے ہیں،میں صرف نشاندہی کرسکتا ہوں،میں نے اپنے تجربے سے باور کردیا، گیارہ سالہ تجربے سے سمجھ چکا ہوں،کس طرح ملک میں بیٹھ کر چینی مہنگی کردی جاتی ہے،اس طرح میرے سامنے ہوتا رہا ہے اور ہم ہینڈل کرتے رہے ہیں، میرے پاس ایڈمنسٹریٹو پاور نہیں میں صرف بتاسکتا تھا،اب ہوا یہ کہا اب ریاستی رٹ کمزور ہوتا جارہا ہے۔ ڈاکٹر اشفاق حسن نے کہا کہ شوگر ملز مافیا ہو یا کوئی بھی جب چاہتے ہیں قیمتیں بڑھا دیتے ہیں،کیونکہ جانتے ہیں کہ کچھ نہیں ہونے والا،ماہر معاشیات نے وزیرقانون فروغ نسیم نے مطالبہ کیا کہ وہ اسٹے آرڈر کے قانون پر نظر ثانی کریں،اس قانون نے پاکستان کی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔
مہنگائی کا طوفان۔ننھی عنایہ بھی پریشان۔۔وزیراعظم سے التجا۔۔توبہ کرنے لگی ملک بھر میں مہنگائی کے وار جاری ہیں، چینی آٹا گھی تیل دالیں ہر شے ہی عوام کی دسترس سے باہر ہوتی جارہی ہے،ایسے میں دودھ مہنگا ہونے پر ننھی عنایہ کی پریشانی بھی بڑھ گئی، وزیراعظم سے مخاطب ہوکر مہنگائی پر بس کرنے کا مطالبہ کردیا۔ چنیوٹ کی عنایہ نے کہا کہ چینی بھی بہت مہنگی ہوگئی،میرا پینے والا دودھ بھی بہت مہنگا ہوگیا، دودھ بھی ختم ہوگیا، بس ایک فیڈر دیتی ہیں جو میں ختم کرلیتی ہوں،اللہ توبہ اللہ توبہ۔ عنایہ کی طرح نہ جانے کتنے بچے ایسے ہیں جو مہنگائی کے باعث دودھ سے محروم ہوگئے ہیں، اور والدین بچوں کو روتا بلکتا دیکھ کر مزید اذیت میں مبتلا ہورہے ہیں،والدین کیلئےاولاد کو دو وقت کی روٹی دینا مشکل ہوتا جارہاہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے زندگی مزید مشکل بنادی ہے، عوام کیلئے جہاں سفر کرنا مشکل ہوتا جارہاہے، وہیں مہنگی چینی نے زندگی سے چاشنی چھین لی ہے،آٹے کی قیمت بھی عروج پر جاپہنچی ہے،سبزیاں دالیں گوشت عوام کیلئے خریداری آسان نہیں رہی۔
چین نے اب تک برآمد کیے گئے بحری جہازوں میں سب سے بڑا اور جدید ترین جنگی بحری جہاز پاکستان کے حوالے کر دیا ہے۔ اقدام کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کے مضبوط رشتے کو عالمی سطح پر نمایاں کرنا ہے۔ یہ بحری جہاز چائنیز اسٹیٹ شپ بلڈنگ کارپوریشن لمیٹڈ (سی ایس ایس سی) نے تیار کیا ہے۔ یہ فریگیٹ شنگھائی میں منعقدہ پاک بحریہ کو کمشننگ تقریب میں سپرد کی گئی۔ 054A/P ٹائپ فریگیٹ کا نام PNS Tughril رکھا گیا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کی پہلی فریگیٹ ہے جو پاکستان کیلئے تیار کی گئی ہے، ٹیکنالوجی کے لحاظ سے یہ بحری جہاز جدید ترین ہے جس میں سمندر سے سمندر اور سمندر سے فضا اور زیر آب فائر پاور کی زبردست صلاحیت ہے جبکہ جاسوسی اور نگرانی کیلئے بھی سازگار ہے۔ اس بحری جہاز میں جدید ترین کومبیٹ مینجمنٹ اور برقی وار فیئر سسٹم نصب ہے جبکہ یہ جہاز سیلف ڈیفنس کی صلاحیت کا بھی حامل ہے۔ چائنیز کمپنی کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے یہ اب تک برآمد کردہ تمام جہازوں میں سب سے بڑا اور جدید ترین ہے۔ اس موقع پر چین میں پاکستان کے سفیر معین الحق کا کہنا تھا کہ اس جہاز کی کمیشننگ سے پاک چین دوستی کے ایک نئے باب کی شروعات ہوتی ہے، یہ دوستی وقت کے ساتھ مزید مضبوط اور ہر شعبے میں طاقتور ہوتی رہی ہے۔ پاکستانی سفیر نے یہ بھی کہا کہ اس جہاز کے حصول سے پاک بحریہ کی سمندری چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھ جائے گی۔
بھارت کے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے منصوبے پر پاکستان کا ردعمل سامنے آگیا، پاکستان نے منصوبے کو مذاق قرار دے دیا،اے آر وائی نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کے زیر اہتمام کلائمٹ چینج سربراہی کانفرنس ہوا، جس میں وزیراعظم کے معاون خصوصی امین اسلم نے زبردست اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بھارتی وزیر اعظم مودی کے پلان 2070 پر بھرپور تبصرہ کیا۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ مودی کا2070پلان کلائمیٹ چینج کےساتھ کسی یہودہ مذاق سے کم نہیں، کیونکہ بھارت خطےمیں آلودگی پھیلانےوالابڑاملک ہے،بھارت کوموسمیاتی چیلنجزسے نمٹنےکیلئےذمہ داری پوری کرنی ہوگی،پاکستان موسمیاتی چیلنجزمیں اپنی حیثیت سےزیادہ کرداراداکررہاہے،کلین انرجی، ماحولیات پرسرمایہ کاری وزیراعظم کاکلائمیٹ چینج ویژن ہے۔ ملک امین اسلم نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ پاکستان1فیصدسےبھی کم زہریلی گیس کااخراج کرتاہے،پاکستان کےپاس آئندہ 10سال کامربوط پلان موجودہے،مودی بھارت کا2070تک کامضحکہ خیزپلان پیش کررہےہیں، وقت آگیا،ماحولیاتی تبدیلی کیساتھ مذاق بندکیاجائے،10 سال میں پاکستان کو گرین ڈیولپمنٹ کے لیے 100 ارب درکار ہے،مطلوبہ رقم ملی تو امیشنز 50 فیصد تک کم کرکے دکھائیں گے۔ ملک امین اسلم نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نےگرین لیڈرشپ،ویژن کیساتھ دنیاکوراستہ دکھایا، ماحول کےساتھ جنگ بندکرکےسب کواپناراستہ بدلناہوگا،کانفرنس کے دوران ملک امین اسلم کی امریکی صدر جوبائیڈن سے سائیڈ لائن ملاقات بھی ہوئی تھی۔
کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے وفاقی دارالحکومت کے ایچ نائن میں ہندو برادری کے مندر ودیگر مذہبی رسومات کیلئے مختص پلاٹ کی الاٹمنٹ پہلے کینسل کی اور جب عوامی ردعمل دیکھا تو اس پر اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔ انگریزی اخبار ڈان کے مطابق سی ڈی اے نے کہا ہے کہ کے مندر کے لئے الاٹ کی گئی اراضی پر باونڈری وال کی تعمیر اس نوٹیفکیشن سے پہلے کی جا چکی ہے اس لیے مندر کے لیے مختص پلاٹ کی الاٹمنٹ قانون کے مطابق برقرار رہے گی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہندو مندر کی تعمیر کے لیے مختص جگہ کی الاٹمنٹ منسوخ کر دیئے جانے کی تردید کرتے ہوئے سی ڈی اے حکام کی جانب سے وضاحت کی گئی ہے۔ سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں ایسی تمام زمینیں جو مختلف دفاتر، یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں کو الاٹ کی گئی تھیں جن پر کسی بھی قسم کا تعمیراتی کام شروع نہیں کیا گیا، ان کی الاٹمنٹ منسوخ کردی گئی ہے۔ تاہم اسلام آباد میں مندر کیلئے الاٹ کی گئی اراضی پر چونکہ باونڈری وال کی تعمیر کی منظوری پہلے ہی دی جا چکی ہے، اس لیے مندر کے لیے مختص پلاٹ کی الاٹمنٹ قانون کے مطابق برقرار رہے گی۔ یاد رہے کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایچ 9 ٹو میں ہندو مندر کی تعمیر کے لیے جگہ مختص کی گئی ہے، جہاں ہندو برادری کے لیے مندر، کمیونٹی سینٹر اور شمشان گھاٹ کی تعمیر کی جائے گی۔
وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے شعبے میں پاکستان نے وہ مقام حاصل کیا ہے کہ دنیا کو ایک نئی راہ دکھنے لگی ہے۔ گلاسگو میں جاری کانفرنس میں متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے ساتھ ایک معاہدہ کر لیا ہے، اس معاہدے کے تحت لاکھوں پاکستانی یو اے ای میں پودے لگائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق گلاسگو میں جاری سربراہی کانفرنس میں پاکستان نے ایک اور کامیابی حاصل کر لی ہے متحدہ عرب امارات نے وزیراعظم عمران خان کے گرین وژن کا معترف ہوتے ہوئے معاہدہ کرلیا ، جس کے بعد متحدہ عرب امارات بھی پاکستان کا گرین پارٹنربن گیا ہے۔ یہی نہیں امریکا، جرمنی، برطانیہ اورسعودی عرب بھی پاکستان کے پارٹنربن چکے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے شعبہ میں پاکستان دنیا بھرکیلئے قابل تقلید ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کے ساتھ معاہدہ کیا، ملک امین اسلم اور اماراتی وزیر مریم المحیری نے معاہدے پر دستخط کئے۔ دونوں ممالک جلد موسمیاتی تبدیلی کا مشترکہ ورکنگ گروپ بنائیں گے ، یواےای10 بلین ٹری سونامی طرز کے منصوبے میں پاکستان سے معاونت حاصل کرے گا۔ متبادل توانائی، پروٹیکٹڈ ایریا انیشیٹو میں پاکستان کے ماڈل یو اے ای شروع کرے گا، معاہدے کے تحت لاکھوں پاکستانی متحدہ عرب امارات میں درخت لگائیں گے۔ امارات پاکستان معاہدے کے تحت بڑی سرمایہ کاری کے راستے بھی کھل گئے، اماراتی وزیر نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم نے بلین ٹری منصوبہ شروع کرکے دنیا کو نیا راستہ دکھایا۔ ملک امین اسلم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو موسمیاتی خطرات کا سامنا ہے، وزیراعظم کا ماحولیاتی اثرات سے بچانے کا وژن دنیا کو فائدہ دے گا۔
وزیراعظم کی اجلاسوں میں عدم شرکت اور مصافحے سے گریز،اشاد بھٹی کا تجزیہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اہم اجلاسوں میں شرکت نہ کرنے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس لئے نہیں جاتے کیوں انہیں مصافحہ کرنا پڑے گا،ان لوگوں سے جو کرپٹ ہیں، ان تبصروں میں جیونیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں میزبان نے سینیئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی سے سوال کرڈالا،جس کی تصدیق کرتے ہوئے ارشاد بھٹی نے کہا کہ جی ہاں ایسا ہی ہے،وزیر اعظم اہم اجلاسوں میں اسلئے نہیں جاتے کہ انکے وہاں لوگوں سے ہاتھ ملانے پڑے گے اور وہ ان سے ہاتھ نہیں ملانا چاہتے۔ میزبان نے پوچھا کہ اس سے کیا فرق پڑتا ہے، جس پر ارشاد بھٹی نے کہا کہ ہاں جی یہ بات ٹھیک ہے یہ ہی تو عمران خان ہے یہ ہی انکی کمزوری اور طاقت ہے،وہ روایتی سیاست دان نہیں وہ ایسے جمع تفریق میں نہیں پڑتے،اس بات پر یہ فرد جرم بھی ہے،کہ آپ کشمیر، گلگت بلتسان پر اکٹھے نہیں ہوتے، نہ کورونا نہ ٹڈی دل پر اکٹھے ہوتے۔ ارشاد بھٹی نے کہا کہ عمران خان قومی سلامتی کی میٹنگ میں اسلئے نہیں جاتے کہ وہاں بلاول بھٹو زرداری، نواز شریف سمیت اپوزیشن کےدیگر اراکان ہونگے،اور آپ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کرپٹ ہیں،یہ ہی عمران خان کی طاقت ہے، بائیس سالوں سے انہوں نے یہ ہی کیا،اور یہ ہی انداز ان کی کمزوری بن گیا۔ ارشاد بھٹی نے مشورہ دیا کہ عمران خان کورونا کا بہانہ بناکر،ماسک لگا کر گلوز پہن کر اجلاسوں میں شرکت کرتے اور ہاتھ نہ ملاتے،لیکن انہیں آنا چاہئے تھے، ہاتھ نہ ملائیں رابطے نہ رکھیں، پاکستان سے بڑھ کر نہ عمران خان ہیں نہ ہی نواز شریف، نہ زرداری ملک سے بڑا کوئی نہیں،جب اتنے بڑے ایشوز ہوتے ہیں تو آپ صرف پانچ منٹ آئیں لیکن بیٹھیں بے شک ان پٹ نہ دیں۔ ارشاد بھٹی نے کہا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر مصروفیت کا بہانہ بھی نہیں بنایا جاسکتا ،اگر یہ سب کرپٹ ہیں تو پھر ان کو ختم کردیں، ق لیگ کیوں اتحادی ہے،ایم کیوایم کیوں اتحادی ہے،اب ایم کیوایم نفیس ہوگئی ہے،آزاد امیدوار کو کرپٹ کہا وہ بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ ارشاد بھٹی نے وزیراعظم کے ریاست مدینہ سے یورپ تک کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جو کرپٹ ہوتا تھا اسے نکال دیا جاتا تھا، پنڈورا باکس میں بھی بہت کرپٹ لوگ سامنے آئے،عمران خان ان سے ہاتھ ملاتے ہیں،شوگر کمیشن میں بھی سامنے آئے پھر بھی عمران خان ان کے ساتھ ہیں۔
عمران خان کا محمد زبیر کو جواب دینا توہین ہے،عثمان ڈار کا ٹاکرا جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک کے میزبان منیب فاروق نے اس بار لیگی رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمر اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے نوجوان امور اور سربراہ کامیاب جواب پروگرام عثمان ڈار کا ٹاکرا کروادیا، دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے پر خوب طنر کے نشتر برسائے، لفظی جملے بازی کی۔ زبیر صاحب نے عثمان ڈار سے توشہ خانہ کی تفصیلات مانگیں،جس پر عثمان ڈار نے کہا کہ اپوزیشن اپنا وقت صرف اس بات پر ضائع کررہی ہے کہ شاید وزیراعظم کرپشن کی ہے، لیکن مجھے فخر ہے کہ میرے لیڈر کو جو کچھ تحائف میں بطور کرکٹر بطور سیاستدان بطور وزیراعظم ملا وہ سب انہوں نے شوکت خانم کو دے دیا۔ میزبان نے ماحول گرما گرم بنایا اور عثمان ڈار کو کہا کہ لوگ تو کہہ رہے ہیں بیچ دیئے تحائف،جس پر عثمان ڈار نے کہا کہ اس الزام پر بھی عمران خان کا اپوزیشن کو جواب دینا توہین ہوگی، جو سوال یہ لوگ اٹھارہے ہیں، اس لئے ٹھنڈے ہوجائیں،زبیر صاحب چاہتے ہیں میں بھی ان سے ہاتھ نہ ملاؤں میرے لیڈر کی طرح،جس طرح کی یہ ٹاک شو میں آکر باتیں کرتے ہیں،زبیر صاحب پوار ہوم ورک کرکے آیا کریں۔ عثمان ڈار نے مزید زبیر عمر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ تھوڑا حوصلہ کریں،اگر زبیر صاحب آپ میں اخلاقی جرات ہے تو ایک بھی پیپر دکھادیں،کوئی منی ٹریل دکھائیں،زبیر نے اپنی قیادت کا صرف زبانی دفاع کیا ہے،تحریری کچھ نہیں،عثمان ڈار نے زبیر صاحب کو چیلنج دیا کہ پروگرام کرلیتے ہیں لائیو پروگرام میں اپنی قیادت کی دفاع کیلئے پیپر پیش کردیں، میں کہتا ہوں کہ ن لیگ والوں کو ضرور شرم آتی ہوگی،یہ لوگ اس ملک کے لئے بدنامی کا باعث بنے۔ اس دوران میزبان نے ایک بار پھر عثمان ڈار سے توشہ خانہ کا پوچھ ڈالا، جس پر عثمان ڈار آئیں بائیں شائیں کرتے رہے، محمد زبیر پر تنقید کرتے رہے لیکن جواب نہیں دیا، جس پر میزبان نے محمد زبیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو جواب اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملے گا،جس پر محمد زبیر نے کہا کہ عثمان ڈار صاحب صرف یہ کہہ دیں کہ توشہ خانہ میں انہیں کوئی تحفہ نہیں ملا تھا۔ عثمان ڈار نے کہا کہ ان کو جواب کیوں دوں،میزبان نے کہا زبیر صاحب آپ کو جواب مل گیا ملک کی حکومت ملک کی اپوزیشن کو جواب دہ نہیں ہے،عثمان ڈار بار بار کہتے رہے کہ اس طرح کے سوالات اور الزامات کا جواب دینا توہین ہے،عثمان ڈار نے ن لیگ پر لگے الزامات کا بھی پلندہ کھول ڈالا۔ پروگرام میں شریک سینیئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا کہ ان کا جواب دینا ہے تو توہین ہوگیا، وزیراعظم کو جواب دینا چاہئے کیونکہ انہوں نے نواز شریف سے جواب مانگا تھا، یہ بدقسمتی ہے عمران خان حکومت نے جواب نہ دینے کیلئے نواز شریف کے پیش کئے گئے اس وقت کے قطری خط کا استعمال کیا،میں نہیں مانتا کے عمران خان صاحب نے کوئی گھڑی یا تحفہ لے کر بیچی ہوگی،لیکن حکومت کو جواب دینا چاہئے،کیونکہ یہ ہی تبدیلی تھی جس کے خواب دکھائے گئے تھے۔
نجی ٹی وی سے منسلک اینکر پرسن منصور علی خان نے اپنے پروگرام میں حکومت کو درپیش چیلنجز سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت 3 سال مکمل کر چکی ہے اب چوتھے سال میں بھی حکومت کو کچھ مسائل کا سامنا ہے جن میں مہنگائی سب سے اہم ہے۔ حکومت نے جب بھی کوئی نوٹس لیا تو وہ عوام کو مہنگا ہی پڑا ہے۔ منصور علی خان نے اس مہنگائی کو جان لیوا کہتے ہوئے بتایا کہ پچھلے 3 سال میں اشیائے خورونوش ہوں یا جان بچانے کی ادویات، بجلی ،گیس ہو یا پٹرول عام استعمال کی ہر چیز کئی گنا مہنگی ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے خلاف وزیر اعظم نے جب بھی نوٹس لیا وہ عوام کو مہنگا ہی پڑا ہے۔ اب حکومت مہنگائی کو عالمی مسئلہ قرار دے رہی ہے۔ منصور علی خان نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ داروں کے سامنے حکومت بے بس ہے اور قیمتوں پر حکومت کو کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کو ایک اور بڑا مسئلہ جو درپیش ہے وہ ہے ایسی جماعتیں جو حکومت کو بار بار چیلنج کرتی رہی ہیں۔ ان جماعتوں کو وفاقی وزراء نے عسکریت پسند اور دہشتگرد گروہ کہا پابندی لگائی اور بھارت سے فنڈنگ کے الزامات لگائے گئے اور القاعدہ جیسا سبق سکھانے کی دھ۔مکی دی پھر اسی گروہ سے خفیہ معاہدہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو درپیش تیسرا مسئلہ انتخابات میں شفافیت کا فقدان ہے۔ یہ خود وہ جماعت ہیں جو ماضی میں دھاندلی کا شور کرتی رہی اور دھاندلی کے خلاف 126 دن کا دھرنا دیا۔ اس جماعت پر اقتدار میں آنے کے بعد "دھند زدہ" انتخابات کرانے جیسے الزامات لگ رہے ہیں۔ انہوں نے این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن کو حکومت کے خلاف چارج شیٹ قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ویڈیوز کا ذمہ دار ریمبو ہے،ٹک ٹاکر عائشہ اکرم گریٹر اقبال پارک میں ٹک ٹاکر عائشہ اکرم ہراسگی کیس کی تحقیقات جاری ہیں، متاثرہ خاتون نے ایف آئی کو اپنا بیان ریکارڈ کرادیا ہے، جس کے مطابق عائشہ نے ایک بار پھر پورے واقعے کا ذمہ دار ساتھی ریمبو کو قرار دے دیا ہے،عائشہ اکرم کا کہنا ہے کہ ریمبو نے خان بابا کے ساتھ مل کر بلیک میل کیا، خان بابا واہ کینٹ ٹیکسلا کا رہائشی اورانایہ کے نام سے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنا رکھا ہے۔ ایف آئی اے کو دیئے گئے بیان میں عائشہ نے انکشاف کیا کہ ریمبو نے منگیتر کے ساتھ بنائی گئی ویڈیو پر بلیک میل کیا،ملزم ریمبو 10 لاکھ روپے بلیک میل کرکے لے چکا ہے،سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہونے والی ویڈیوز کا ذمہ دار ریمبو ہے، ریمبو اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر بلیک میل کرتا ہے۔ اپنے بیان میں عائشہ اکرم کی جانب سے ایف آئی اے کو بلیک میلنگ کے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے گیے جبکہ ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل نے ٹک ٹاکر کے بیان کی روشنی میں تحقیقات کا آغاز کر دیا،عائشہ 10 لاکھ سے متعلق بھی کوئی ثبوت تاحال نہیں دیا گیا۔ عائشہ نے ایک ماہ قبل ریمبو کیخلاف درخواست دی تھی،جس میں اس نے واقعے کا ذمہ دار ریمبو کو ٹھراتے ہوئے بتایا کہ گریٹر اقبال پارک جانے کا پلان ریمبو نے ہی بنایا تھا،ریمبو نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میری نازیبا ویڈیوز بنا رکھی ہیں، ویڈیوز کی وجہ سے ریمبو مجھے بلیک میل کرتا رہا۔ درخواست میں عامر سہیل عرف ریمبو اور علی شاہ عرف خان بابا سمیت 13 افراد کو نامزد کیا گیا،ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ میرٹ پر انکوائری کرکے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی،عائشہ نے بتایا تھا کہ وہ اپنی تنخواہ میں سے آدھے پیسے ریمبو کو دیتی تھی،ریمبو ساتھی بادشاہ کے ساتھ مل کر ٹک ٹاک گینگ چلاتا ہے،چودہ اگست کے روز مینار پاکستان پر عائشہ اکرم کو وہاں موجود 400 افراد کی جانب سے تشدد اور جنسی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
نجی ٹی چینل چینل ہم نیوز کے ایک پروگرام میں تجزیہ کار ثنابُچہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہاپوزیشن سچ میں حکومت گرانا چاہتی ہے تو استعفے دیں، لانگ مارچ سے قوم کا وقت برباد نہ کریں۔ پروگرام "پاکستان ٹونائٹ" میں میزبان نے ثنا بُچہ سے سوال کیا کہ وہ کیا سمجھتی ہیں کہ اب اپوزیشن کی جانب سے پھر لانگ مارچ کا اعلان کیا جا رہا ہے تو کیا حکمت عملی اپنائی گئی ہو گی۔ اس پر تجزیہ کرتے ہوئے تجزیہ کار ثنا بُچہ نے کہا کہ میرا اپوزیشن کو یہ مشورہ ہے کہ اگر وہ سچ میں حکومت کو گرانا ہی چاہتے ہیں تو استعفے دے دیں اس سے حکومت گر جائے گی ورنہ ایسے لانگ مارچ کر کے پاکستانی قوم کا وقت برباد نہ کریں۔ میزبان نے وزیراعظم کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا کہ ان کا ماننا ہے کہ پاکستان میں دیگر ممالک کی نسبت مہنگائی سب سے کم ہے تو اس پر تحریک انصاف کے اوورسیز سپورٹرز ویڈیوز بنا رہے ہیں کہ امریکا، انگلینڈ، سپین و دیگر ممالک میں پٹرول پاکستان کے مقابلے زیادہ مہنگا ہے۔ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو وہ سب لوگ جن کو لگتا ہے کہ پاکستان اب بھی ان ممالک سے سستا ہے تو وہ سب کچھ چھوڑ کر واپس آ جائیں یہاں آکر سستی زندگی جی لیں اور بتائیں کہ وہ پہلے جتنے پیسے اپنے گھر بھیجتے تھے کیا اب بھی اتنے ہی بھیج رہے یا پھر پہلے سے کم بھیجتے ہیں۔ ثنابُچہ نے کہا کہ وہ پاکستانی جن کو لگتا ہے کہ ان کی من پسند حکومت یہاں سب اچھا چلا رہی ہے تو ان کو چاہیے کہ وہ یہاں آئیں اور ملک کی خدمت یہاں رہ کر کریں اپنے پسندیدہ لیڈر کو ووٹ ڈالیں تاکہ ان کا ووٹ ڈالنے کا دیرینہ مسئلہ بھی حل ہو جائے۔
وفاقی وزیر حماد اظہر نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے ماس ٹرانزٹ کو بجلی پر منتقل کرنے کیلئے گزشتہ سال دسمبر میں ایک الیکٹریکل وہیکل پالیسی پر کام شروع ہوا تھا جس کے تحت ایک چینی کمپنی کے ساتھ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں بنانے کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔ وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں کہا کہ "BYD" نامی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی گلوبل کمپنی ہے جس کا پاکستان میں سفائر گروپ کے ساتھ معاہدہ ہو گیا ہے یہ کمپنی اب پاکستان میں ہی الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی۔ یاد رہے کہ وفاقی کابینہ نے گزشتہ برس 22 دسمبر کو ملک کی پہلی الیکٹرک موٹر وہیکل پالیسی منظور کی تھی۔ جس میں ملک کے اندر ایسی کمپنیز کو لانے سے متعلق ارادہ ظاہر کیا گیا تھا جو کمپنیاں بجلی سے چلنے والی گاڑیاں بناتی ہیں۔