خبریں

معاشرتی مسائل

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None

سیاسی

Threads
1.3K
Messages
11.6K
Threads
1.3K
Messages
11.6K

طنز و مزاح

Threads
0
Messages
0
Threads
0
Messages
0
None
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ نے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے حوالے سے بڑا دعویٰ کردیا ہے۔ خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کو ری شیڈولڈ کرنے سے متعلق اگلے ہفتے اچھی خبرآ نے کی توقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کا اجلاس چیئرمین رضا ربانی کی صدارت میں ہوا جس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ،ایتھلیٹ ارشد ندیم، طلحہ حبیب نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران رمیز راجہ نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کی جانب سے نیوزی لینڈ پر دباؤ ڈالے جانے کا فائدہ ہوا ہے اور نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ دورہ کو ری شیڈولڈ کرنے پر غور کررہا ہے، امید ہے کہ اگلے ہفتے اچھی خبر سننے کو ملے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نیوزی لینڈ کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کو وجہ بنا کر دورہ کینسل کیا گیا تاہم ہمیں کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ برطانوی ہائی کمیشن نے 'فائیوآئیز' کے متعلق بتایا، دورہ منسوخی میں ہماری کوئی غلطی نہیں ہے ہم نے دس سال اپنے ملک میں کرکٹ کی بحالی کی جدوجہد کی اس میں کسی ملک نے ہماری مدد نہیں کی۔ رمیز راجہ نے کہا کہ ہم دوسروں کیلئے بھٹکتے رہے ، کورونا بحران کے دوران بھی دوسرے ممالک جاکر کرکٹ کھیلتے رہے مگر جب ہماری باری آئی تو کسی نے ہماری مدد نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم کا دورہ پاکستان مارچ میں متوقع ہے۔
پی آئی اے کے سی ای او ایئرمارشل ارشد ملک نے یورپی یونین کی پاکستان میں موجود سفیر اندرولاکمینارا سے ملاقات کی اور یورپ کیلئے قومی ایئرلائن کی پروازوں کی بحالی کے معاملے کو اٹھایا۔ جس پر یورپی یونین کی سفیر نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے واضح کر دیا کہ یہ پروازیں کس طرح بحال ہو سکتی ہیں۔ اندرولا کمینارا نے کہا کہ پی آئی اے حکام ہر بار یہی تقاضا کرتے ہیں کہ یورپ کیلئے پی آئی اے کی پروازوں کو بحال کیا جائے لیکن اس کیلئے یورپی یونین نے جو اقدامات کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے اس بارے میں کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ یورپی یونین کی سفیر نے کہا کہ سول ایوی ایشی اتھارٹی کو اپنے اسٹینڈرڈز پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔ یہی نہیں سی اے اے کو اپنا آڈٹ بھی کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے یورپی یونین نے جولائی اور اگست میں خط بھی لکھا کہ 9 نومبر کو سی اے اے حکام اور یورپی یونین کے مابین طے ملاقات سے قبل ایک پری میٹنگ 15 اکتوبر کو رکھی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد یہی تھا کہ اس مسئلے کا کوئی دیرپا حل تلاش کیا جا سکے۔ یورپی یونین کی پاکستان میں موجود مندوب کی بات سننے کے بعد سی ای او ایئرمارشل ارشدملک نے یقین دہانی کرائی کے وہ اس معاملے پر ڈی جی سی اے اے سے ذاتی طور پر ملاقات کریں گے تاکہ یورپ میں پی آئی اے کے سفر پر پابندی کیلئے کیے جانے والے اقدامات کیلئے مزید تیز حکمت عملی اپنائی جا سکے۔ دوسری جانب ترجمان پی آئی اے نے بھی اس ملاقات کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ قومی ایئرلائن کو یورپ میں جس پابندی کا سامنا ہے اس کے حل کیلئے جلد ہی اجلاس طلب کیا جائے گا۔ جس میں اس حوالے سے بہتر لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ البتہ ترجمان نے سول ایوی ایشن سے متعلق سامنے آنے والے مطالبے پر کوئی تبصرہ نہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق یورپی یونین کی پاکستان میں مندوب اندرولا کمینارا نے افغانستان سے انخلا کے دوران یورپی یونین کے اہلکاروں کی مدد پر سی ای او پی آئی اے کا شکریہ ادا کیا۔
نواز شریف کو ایک بار پھر کورونا ویکسین لگ گئی ، ویکسینیشن ریکارڈ میں نواز شریف کا نام ایک بار پھر ڈال دیا گیا. لندن میں مقیم سابق وزیراعظم نوازشریف کی سائنو ویک کے بعد کین سائنو کی بھی سنگل ڈوز کی انٹری ہو گئی۔ نواز شریف کے ویکسی نیشن اسٹیٹس کی تصدیق بھی کرلی گئی. نوازشریف کی کین سائنو سنگل ڈوز ویکسی نیشن کی انٹری 3 اکتوبر کو نارووال پبلک اسکول میں ہوئی جبکہ نوازشریف کی سائنوویک کی پہلی ڈوز کی انٹری 22 ستمبر کو لاہور کے اسپتال میں ہوئی تھی. دنیا ٹی وی سے منسلک صحافی حسن رضا نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے موبائل پر این سی او سی کا پیغام اور ویب سائٹ پر تصدیقی سکرین شاٹ شیئر کیا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی کورونا ویکسی نیشن ریکارڈ میں ان کا نام درج ہے، پہلے بھی اس حوالے سے کورونا ویکسی نیشن ریکارڈ میں سابق وزیراعظم کا نام سامنے آیا تھا جس پر حکام کی جانب سے تحقیقات کی گئیں تھیں۔ انکوائری کمیٹی نے سات فراد کو ذمہ دار قرار دیا جبکہ کمیٹی کی فائنڈنگ میں کہا گیا ہے کہ ویکسی نیشن سنٹر پر تعینات عملہ غیر تربیت یافتہ تھا، کوٹ خواجہ سعید اسپتال کے ویکسی نیشن سنٹر سے متعدد اندراج کو کینسل کیے جانے کا بھی انکشاف سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق واقعہ میں سب سے زیادہ غفلت ایم ایس ڈاکٹر احمد ندیم کی تھی، ریکارڈ کی چیکنگ کے دوران بہت سے تضادات پائے گئے. رپورٹ میں ایم ایس ڈاکٹر احمد ندیم، ڈاکٹر منیر احمد، کلرک نوید، نرس صبا ریاض، وارڈ بوائے عادل رفیق، چوکیدار ابوالحسن اور ایم ایس کے پی اے رانا مظفر کےخلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔
برطانیہ کی جانب سے پاکستانیوں پر سفری پابندیاں نرم برطانیہ نے پاکستان کو نئی سفری فہرست میں شامل کر لیا،جس کے بعد پاکستانیوں کیلئے سفری پابندیوں میں نرمی کردی گئی ہے،برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کے مطابق کورونا کی تسلیم شدہ مکمل ویکسینیشن کے ساتھ برطانیہ جانیوالے پاکستانیوں کو اب برطانیہ میں قرنطینہ نہیں کرنا پڑے گا،انہیں نادرا سرٹیفکیٹس دکھا کر صرف دو روز کے اندر ٹیسٹ کرانا ہوگا۔ برطانوی حکام کے جاری بیان کے مطابق اس فیصلے کے بعد ریڈ لسٹ میں شامل ممالک کی تعداد 7 رہ گئی، پاکستان سمیت 47 ممالک کو ریڈ لسٹ سے نکالا گیا ہے،ان ممالک میں برازیل، گھانا، ہانگ کانگ، بھارت، جنوبی افریقا اور ترکی بھی شامل ہیں،اعلان کردہ 47 ممالک پیر سے برطانیہ کی جاری کردہ ریڈ لسٹ سے نکل جائیں گے،برطانوی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق ان ممالک سے آنیوالے مکمل ویکسینیٹڈ اور 18 سال سے کم عمر افراد کو اب صرف برطانیہ پہنچنے کے دوسرے دن ٹیسٹ کرانا ہوگا۔ برطانوی سیکریٹری ٹرانسپورٹ کے مطابق ان ممالک سے آنے والے مسافروں کو پی سی آر ٹیسٹ بھی نہیں کرانا ہوگا،لیکن تمام مسافروں کے لیے لوکیٹر فارم بھرنا لازمی ہوگا،ایسٹرا زینیکا، فائزر، موڈرنا اور جانسن ویکسین لگوانے والوں کو قرنطینہ سے استثنیٰ ہو گا۔ گیارہ اکتوبر سے برطانیہ میں منظور شدہ چار ویکسینز میں سے کسی ایک کی پاکستان میں مکمل طور پر ویکسین لگائے جانے پر آئی سولیشن ہونے یا پری ڈیپارچر ٹیسٹ کی ضرورت نہیں ہو گی۔
پورٹ قاسم حکام کی من مانی، پہلے آنے والے چاول کے جہاز کی بجائے ٹی سی پی کے چینی کے جہاز کو جگہ دے دی، برآمدی کھیپ کی لوڈنگ میں تاخیر کے باعث دو ارب روپے مالیت کا ایکسپورٹ آرڈر خطرے میں پڑ گیا۔ تفصیلات کے مطابق چاولوں کی برآمدی کھیپ کو لوڈ کرنے کے لیے بحری جہاز کو برتھ فراہم نہ کرنے پر پاکستان کا دو ارب روپے مالیت کا ایکسپورٹ آرڈر تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ ایسٹ ونڈ شپنگ کمپنی نے خط کے ذریعے چیئرمین پورٹ قاسم اتھارٹی سمیت پورٹ حکام کو مطلع کیا کہ پورٹ حکام نے پاکستان سے چاول کی برآمدی کھیپ لینے پہلے آنے والے جہاز کے بجائے ٹی سی پی کے لیے چینی لانے والے بحری جہاز کو برتھ فراہم کردی، اس اقدام کی وجہ سے رائس ایکسپورٹرز کو یومیہ 40 ہزار ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت بحری امور نے 5 اکتوبر کو چاول لے جانے والے جہاز کو برتھ سے ہٹا کر ٹی سی پی کی چینی کا جہاز برتھ کرنے کے احکامات جاری کئے، میری ٹائم منسٹری کے اس اقدام کی وجہ سے چاولوں کے خریدار ایل ڈی سی نے مستقبل میں پاکستان کے ساتھ کام کرنے سے انکار کر دیا۔ رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے بھی وزیر برائے ساحلی امور علی زیدی کے نام خط لکھا جس میں بتایا گیا کہ چاول کی برآمدات سمندری کرائے بڑھنے کی وجہ سے پہلے ہی بحرانی کیفیت کا شکار ہیں، ، چاول کی کنسائمنٹ لینے آنے والے جہاز کو برتھ دینے کی اجازت منسوخ کرکے دوسرے چینی لانے والے جہاز کو برتھ دینا ناانصافی ہے، اس سے ایکسپورٹرز کو نقصان ہوگا جن کے لیٹر آف کریڈٹ بھی ایکسپائر ہونے کے قریب ہیں۔ قائم مقام چیئرمین رائس ایکسپورٹ ایسویسی ایشن کا کہنا تھا کہ سیکریٹری میری ٹائم کے احکامات غلط ہیں، رائس ایکسپورٹرز کی محنت سے انڈیا سے چاول خریدنے والے بڑے خریدار کو پاکستان لے کر آئے ہیں لیکن محنت رائیگاں ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ تاخیر کی وجہ سے خریدار نے آئندہ پاکستان سے چاول نہ خریدنے کی دھمکی دی ہے، اس وقت 38 ہزار ٹن اور دو ارب سے زائد کا چاول پورٹ قاسم پر جانے کے لیے موجود ہے، میری ٹائم منسٹری کے اقدامات سے نہ صرف ایکسپورٹرز بلکہ ملکی ایکسپورٹ کو بھی نقصان ہو گا۔ چاول ایکسپورٹ کرنے والی ٹریڈنگ کمپنی نے پورٹ اتھارٹیز کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا عندیہ دے دیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے ناصر محمود ستی نے ڈالر مافیا کی اکثریت کا تعلق خیبر پختون خوا سے ہونے کا انکشاف کر دیا، کہتے ہیں کہ ڈالر مافیا کے 54 میں سے 37 افراد کا تعلق خیبر پختون خوا سے ہے۔ تفصیلات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ میں ہنڈی اور کرنسی کاروبار میں گرفتار ملزمان کے کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے گرفتار ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں سنی، ملزمان کے وکلا قیصر زمان، اظہر یوسف اور شبیر حسین گیگیانی عدلت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ حال ہی میں اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس ہوا، جس میں 54 ایسے افراد کی نشان دہی کی گئی جو ڈالرز کی اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث ہیں، ڈالر مافیا کی جانب سے ڈالر کی ذخیرہ اندوزی کی جاتی ہے، جب مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت بڑھ جانے پر یہ افراد ڈالر کو مارکیٹ میں لے آتے ہیں اور خوب کمائی کرتے ہیں، ان 54 افراد میں سے 37 کا تعلق خیبر پختون خوا سے ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ڈالر کی اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث 20 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، اور ان افراد کو حراست میں لیے جانے کے بعد ڈالر کا ریٹ 178 سے گر کر 173 پر آ گیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے ناصر محمود ستی نے بتایا کہ 13 مزید افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جنھوں نے ذخیرہ اندوزی کر رکھی تھی اور ان کے پاس سے کروڑوں روپے مالیت کی کرنسی برآمد کی گئی ہے۔ ملزمان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ حال ہی میں ایف آئی اے نے ہنڈی اور کرنسی کاروبار کرنے والے متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے، ان افراد کے خلاف موجود قانون کی بجائے 3 ایم پی او کے تحت کارروائی کی گئی جبکہ ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے ان کو ایک ماہ کے لیے پابند سلاسل کرنے کا حکم بھی جاری کیا گیا جو کہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، لہٰذا عدالت ان کی ضمانت منظور کر کے رہائی کا حکم جاری کرے۔ چیف جسٹس قیصر رشید خان نے ریمارکس دیئے کہ یہ سلسلہ تو گزشتہ کئی سالوں سے چل رہا ہے اعلیٰ حکام کو اب پتا چلا کہ ڈالر کا ریٹ کہاں پر جا رہا ہے، ہنڈی اور کرنسی کی اسمگلنگ کرنے والوں کو کھلی چھوٹ نہیں دی جانی چاہیئے، مگر جو قانون موجود ہے اس کے مطابق عمل درآمد کیا جائے۔ جسٹس شکیل احمد نے ریمارکس دیے کہ غیر قانونی کرنسی ڈیلرز کے خلاف بھی سخت ایکشن لیں مگر قانون کے تحت لیں، ہنڈی اور کرنسی کے غیر قانونی کاروبار سے ہماری معیشت تباہ ہو گئی ہے، جس سے لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایف آئی اے کی درخواست پر ان افراد کو ایک ماہ کے لیے جیل میں رکھا جاتا ہے، اور پھر اس میں اضافہ بھی کریں، تو ایک دن انھیں جیل سے باہر آنا ہوگا، کیوں کہ 3 ایم پی او کے تحت ایک مجوزہ وقت دیا جاتا ہے جس کے بعد انھیں جیل میں نہیں رکھا جا سکتا۔ ڈی جی ایف آئی اے ناصر ستی نے عدالت کو بتایا کہ اب بھی ان افراد کے کارندے سرگرم ہیں، بلیک منی اور ڈالر کی ذخیر اندوزی میں ملوث ملزمان کو نہیں چھوڑا جا رہا، تاہم اس میں بعض ملزمان قانون کا سہارا لے کر جلدی رہا ہو جاتے ہیں، اور مجبوراً ڈپٹی کمشنر سے 3 ایم پی او کے تحت آڈر لیا گیا ہے، جس کا ان کے پاس اختیار ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جو کوئی بھی ملوث ہے اس کے خلاف کارروائی کریں، مگر قوانین کو مدنظر رکھیں۔ عدالت نے 3 ایم پی او کے تحت گرفتار ملزمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے 20 لاکھ روپے جمع کروانے کے احکامات جاری کر دیئے۔
پاکستان نے بھارت میں مسلمانوں پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں اقلیتی برادری محفوظ نہیں، عالمی برادری بھارت کی ان حرکتوں کا نوٹس لے۔ تفصیلات کے مطابق ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفترِخارجہ کے ترجمان عاصم افتخار نے بھارتی ریاست آسام میں مسلمانوں پر حملے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ فاشسٹ ہندو توا بلوائی بھارت میں اقلیتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، بھارت میں اقلیتی برادری محفوظ نہیں، 3 اکتوبر کو پانچ سو ہندوؤں نے چرچ پر حملہ کیا، انتہاء پسند ہندووں کی طرف سے مسلمانوں اور دیگر مذاہب پر حملے جاری ہیں۔ ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور قابض بھارتی فورسز کی جانب سے کشمیریوں کی شہادتوں کا سلسلہ جار ی ہے، بھارت کی جانب سےکشمیرمیں یکطرفہ اقدامات قبول نہیں، مقبوضہ کشمیر میں بھارت یکطرفہ اقدامات خطے کے امن کیلئے خطرہ ہیں۔ ترجمان عاصم افتخار نے کشمیر میں بھارتی اقدامات کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کیا کہ اس سے قبل کہ بہت دیر ہو عالمی برادری بھارت کی ان حرکتوں کا نوٹس لے۔ ترجمان عاصم افتخار نے کہا ہے کہ امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمن آج اور کل پاکستان کا دورہ کریں گی، دورے کے دوران پاک امریکا دو طرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان افغانستان میں دیرپا استحکام کا خواہاں ہے، پاکستان اور امریکا کے درمیان دو طرفہ مفادات پر مبنی تعلقات ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے جعلی خط کے حوالے سے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان نیویارک میں ڈپٹی سیکرٹری کے دورہ پاکستان پر بات ہوئی، وزارت خارجہ کے امریکا میں سفیر کے حوالے سے جعلی خط کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
وزارت خزانہ نے پاکستان کے ماہر معاشیات مزمل اسلم کو ترجمان مقرر کردیا ہے، ان کی تقرری کا نوٹی فکیشن جلد جاری ہوگا۔ عالمی تقابل میں پاکستان کی معیشت پر گہری نگاہ رکھنے والے سینئر تجزیہ کار و ماہر معاشیات مزمل اسلم گزشتہ دو دہائیوں سے اہم مقامی اور بین الااقوامی اداروں کے ساتھ منسلک رہے ہیں جن میں وہ ایکویٹی مارکیٹ، بزنس ڈیویلپمنٹ اینڈ فنانشل، کیپیٹل مارکیٹ ریسرچ پر عبور رکھتے ہیں۔ ان کی اس تعیناتی سے متعلق وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ٹویٹ کیا اور انہیں مبارکباد دیتے ہوئے حکومت میں خوش آمدید کہا۔ مزمل اسلم نے جامعہ کراچی سے پبلک ایڈمنسٹریشن، اکنامکس کی اعلی تعلیم کے علاوہ برطانیہ کی یونیورسٹی آف بیتھ سے جدید معیشت میں تعلیم حاصل کی ہے۔ معاشی تجزیہ کار مزمل اسلم ای ایف جی ہرمیس کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر، کسب اور جے ایس گلوبل کے ہیڈ آف بزنس ڈیویلپمنٹ رہے ہیں۔ مزمل اسلم موجودہ وقت ایمرجنگ اکنامک ریسرچ کیلئے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ماہر معیشت مزمل اسلم ملک کے بڑے فورمز کے علاوہ یوٹیوب چینل اور امریکی نیوز پورٹل ورلڈ نیوز آبزرور کے مستقل لکھاری بھی ہیں۔ مزمل اسلم نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا تھا کہ اس وقت عالمی سطح پر پاکستان کو معاشی اور اندرونی نقصان پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی آئی جے کے پینڈورا بکس نے عوام میں ملک کے اداروں پر بد اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان معاشی بحران سے نکلنے کی تگ و دو میں ہے اور اس رفتار کیلئے عالمی حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔ مزمل اسلم نے بتایا کہ پاکستان مستقبل کی عالمی تجارت کا محور ہے اور بعض عالمی قوتوں کو اس کی یہ ترقی کھٹک رہی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کی کاپی برانچ میں توڑ پھوڑ۔۔وکیل گرفتار لاہور ہائی کورٹ کی کاپی برانچ میں وکیل آپے سے باہر ہوگیا،مقدمے کی کاپی نہ ملنے پر توڑ پھوڑ مچا دی،برانچ کے شیشے بھی توڑ دیئے، پولیس نے ایڈووکیٹ ماجد جہانگیر کو گرفتار کرلیا۔ ایڈووکیٹ ماجد جہانگیر مقدمے کی کاپی نہ ملنے پر ڈنڈا تھامے کاپی برانچ پر دھاوابول دیا، لاہور ہائیکورٹ سیکیورٹی نے ایڈووکیٹ ماجد جہانگیر کو گرفتار کیا جس کے بعد ایڈووکیٹ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔ وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل فرحان شہزاد نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ توڑ پھوڑ کرنے والے وکیل کا پہلے مرحلے میں لائسنس معطل کیا جائے گا،پھر منسوخ کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ وکلا کو بدنام اور قانون ہاتھوں میں لینے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
کاپی برانچ میں وکیل کی توڑ پھوڑ۔۔ ایڈووکیٹ ماجد جہانگیر کا موقف مسترد لاہورہائیکورٹ کاپی برانچ میں وکیل نے گزشتہ روز مقدمے کی کاپی تاخیر سے ملنے پر توڑ پھوڑ کی، شیشے بھی توڑ دیئے تھے، جس پر کمالیہ بار ایسوسی ایشن کا موقف بھی سامنے آگیا ہے، بار ایسو سی ایشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں واضح طور پر واقعے کا ذمہ دار ایڈووکیٹ ماجد جہانگیر کو ٹھرایا گیا ہے۔ جنرل سیکریٹری بار ایسوسی ایشن کمالیہ ملک مشکور احمد کھوکھر ایڈووکیٹ ہائیکورٹ کی جانب سے جاری پریس میں کہا گیا کہ بار ایسو سی ایشن کے اراکین کو اس حوالے سے مطلع کیا جاتا ہے کہ اس ناخوشگوار واقعے کی ذمہ داری ماجد جہانگیر ایڈووکیٹ ہائیکورٹ معزز ممبر کمالیہ پر ڈالی جارہی ہے،ماجد جہانگیر کے مؤقف کو یکسر مسترد کردیا گیا ہے۔ جنرل سیکریٹری بار ایسوسی ایشن کمالیہ نے مزید کہا کہ معزز رکن کی جب سے انگلیںڈ سے واپسی ہوئی ہے وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں،بعض اوقات انہیں خود علم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کررہے ہیں،انہوں نےکاپی برانچ میں بھی ایسا ہی کچھ کیا، ان کی دماغی صحت سے ان کے اہلخانہ اور احبات بھی واقف ہیں۔ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ ملک مشکور احمد کھوکھر نے وضاحت دی کہ سوشل میڈیا پر غلط فہمی کی وجہ سے یکطرفہ موقف دہرایاجارہاہے،حقیقت اس کے برعکس ہے، سراسر غلط طور پر دہشت گردی کی دفعات پر مقدمہ درج کیا گیا ہے،جس سے بار ایسو سی ایشن میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے،اس حوالے سے آج بار روم بار ایسوسی ایشن کمالیہ میں جنرل ہاؤس میں ہنگامی اجلاس بھی بلایا گیا۔ گزشتہ روز مقدمہ کی کاپی تاخیر سے ملنے پر وکیل ماجد جہانگیر نے لاہور ہائیکورٹ کاپی برانچ کے کاؤنٹر کے تمام شیشے توڑ دیئے تھے،وکیل کو گرفتار کرلیا گیا تھا،ہائیکورٹ سیکیورٹی نے وکیل کو گرفتار کرکے دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا تھا،پنجاب بار کونسل ڈسپلنری کمیٹی نے وکیل کا لائسنس منسوخ کرنے کے لئے معاملہ ٹربیونل کو بھجوا دیا،بار کونسل نے واقعے کی پر زور مذمت کرتے ہوئے وکیل کا لائسنس بھی معطل کردیا تھا۔
پنجاب پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) کے وائس چیئرپرسن حافظ ذیشان رشید نے جمعرات کو لاہور کے تمام پبلک پارکوں میں طلباء کے داخلے پر 2 بجے تک پابندی عائد کردی۔ پی ایچ اے کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ لاہور کے تمام پارکوں میں دن 2 بجے تک طلبا کو داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد سکولوں میں طلباء کی حاضری کو یقینی بنانا ہے۔ اس حوالے سے پی ایچ اے انتظامیہ نے تمام پارکوں کے پراجیکٹ ڈائریکٹرز کو نوٹیفکیشن جاری کیا۔ جس کے مطابق سکولوں اور کالجوں کے یونیفارم پہننے والے طلباء اور بغیر خاندان کے بچے لاہور کے کسی بھی پبلک پارک میں داخل نہیں ہو سکیں گے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پنجاب انتظامیہ نے مینار پاکستان ہراساں کرنے کے واقعے کے بعد تمام عوامی پارکوں میں ٹک ٹاکرز کے داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ قبل ازیں پی ایچ اے کی جانب سے کہا گیا تھا کہ لاہور کے 5 بڑے پارکوں میں ویڈیو بنانے پر پابندی عائد کی گئی ہے جبکہ وائس چیئرمین پی ایچ نے کہا تھا کہ پارکس میں ٹک ٹاکرز اور سوشل میڈیا چینلز پر کام کرنے والوں کو ویڈیو بنانے نہیں دی جائے گی۔ پبلک پارک میں ویڈیو بنانے والوں سے پیسے لیے جانے کی تجویز بھی زیر غور ہے، پیسے وصول کرنے کے بعد پی ایچ اے مطلوبہ وقت کیلئے سکیورٹی بھی فراہم کرے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ میں فیصلے کیے جائیں گے۔
خیبرپختوا میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا ریجنل آفس کھول دیا گیا خیبر پختونخواہ میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ریجنل آفس کا افتتاح کردیا گیا ہے، افتتاحی تقریب کراچی پی ایس ایکس ٹریڈنگ ہال میں ہوئی،تقریب کے مہمان خصوصی وزیر خزانہ خیبرپختونخوا تیمور جھگڑا تھے۔ تقریب سے خطاب میں وزیر خزانہ خیبرپختونخوا تیمور جھگڑا نے کہا کہ صوبے میں پی ایس ایکس کی موجودگی حقیقت بن گئی،جس سے آگاہی پیدا کرنے صوبے میں سرمایہ کاروں کی کیپٹل مارکیٹس میں شرکت کو یقینی بنانا ممکن ہوسکے گا،ہمارا صوبہ کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے کھلا ہے،سرمایہ کاروں کو اس سے مستفید ہونا چاہئے۔ تقریب میں شریک چیف ایگزیکٹو آفیسر پی ایس ایکس فرخ خان نے خیبرپختونخوا میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ریجنل دفتر کے افتتاح کو نمایاں پیش رفت قرار دیا انہوں نے کہا کہ اس طرح کاروباری اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی کیونکہ صوبے میں کیپٹل مارکیٹس کے ماحولیاتی نظام کی ترقی کے امکانات وسیع ہیں،اس لیے بچت کرنے والے اور سرمایہ کار حضرات وسیع رینج کی حامل سرمایہ کاری کی مصنوعات تک رسائی حاصل کرکے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ فرخ خان نے بتایا کہ پی ایس ایکس کے بہت سے بروکرز کے خیبرپختونخوا میں پہلے سے ہی دفاتر موجود ہیں،تقریب میں پی ایس ایکس کی چیئرپرسن ڈاکٹر شمشاد اختر، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے صنعت و خزانہ عبدالکریم خان، کے پی بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ کے سی ای او حسن داؤد بٹ، مینجمنٹ ٹیم کے ارکان سمیت دیگر افراد نے بھی شرکت کی۔
چینی کمپنیوں کا پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کیلئے مزید معاونت کا اظہار پاک چین دوستی زندہ باد،ایک بار پھر چین نے پاکستان سے مضبوط دوستی کا ثبوت دے دیا،چین نے پاکستان کے سب سے بڑے اسٹیل مینوفیکچرنگ کمپلیکس ، پاکستان اسٹیل ملز کو بحال کرنے میں دلچسپی ظاہر کردی ہے،میٹلرجیکل کارپوریشن آف چائنا سمیت تین چینی کمپنیاں پاکستان آنے اور پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کیلئے مزید معاونت کیلئے تیار ہیں۔ کمپنی ایم سی سی چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون کو بڑھانے میں ایک ماڈل کا کردار ادا کررہی ہے، جس کا مقصد معیشت کو فروغ دینے اور سماجی بہبود کو بہتر بنانا ہے،آئرن اینڈ اسٹیل انڈسٹری میں چین کی یہ کمپنی ایک سرکاری کمپنی کے طور پر پاکستان میں کاروبار اور منصوبے چلانے والی ابتدائی چینی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ 1990 میں ایم سی سی نے انجینئرنگ ، خریداری اور تعمیراتی معاہدے کی بنیاد پر سیندک کاپر گولڈ مائن نے بلوچستان کے ضلع چاغی میں آغاز کیا تھا، سیندک کاپر گولڈ مائن نے مسلسل 18 سالوں سے مستحکم منافع کمایا ہے، جو مقامی معیشت کو بڑھانے کا ذریعہ ہے، دونوں ممالک کی حکومت کی جانب سے اسے چین پاکستان اقتصادی تعاون کا نمونہ قرار دیا گیا ہے۔ سیندک کاپر گولڈ مائن پاکستان بلوچستان کے ضلع چاغی میں سیندک قصبے کے قریب واقع ہے،سیندک میں ذخائر کی دریافت 1970 میں ہوئی، سیندک کاپر گولڈ پروجیکٹ سیندک میٹلز لمیٹڈ پاکستان نے 1995 کے آخر میں 13.5 ارب کی لاگت سے شروع کیا، پاکستان اور چین نے سیندک کاپر گولڈ پراجیکٹ کی ترقی کے لئے 350 ملین ڈالر کے باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت اس کو میٹلرجیکل کارپوریشن آف چائنا لمیٹڈ کو 10 سال کی مدت کے لئے لیز پر دیا گیا،موجودہ لیز معاہدے کی میعاد 31 اکتوبر 2017 کو ختم ہونی تھی لیکن اب یہ مدت 30 اکتوبر 2022 تک جاچکی ہے۔ چیئرمین ایم سی سی گو گو وینکنگ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں میں توانائی ، صنعتی اور دیگر مختلف شعبوں میں تعاون اور مشترکہ منصوبوں کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔ پاکستان کے نجکاری کمیشن کے عہدیداروں نے کہا تھا کہ حکومت پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کے لیے سال کے آخر تک چین اور روس سے کم از کم ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی توقع کر رہی ہے، روس کے سرمایہ کار بھی کنسورشیم کے حصے کے طور پر دلچسپی ظاہر کرچکے ہیں۔ پی ایس ایم سالانہ تین ملین ٹن کولڈ اور ہاٹ رولڈ اسٹیل پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،اس منصوبے میں ایک نیا ذیلی ادارہ ، اسٹیل کارپوریشن لمیٹڈ ، پاکستان اسٹیل ملز کے احاطے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو وسیع صنعتی یونٹ کی پیشکش کرنا شامل ہے۔ گزشتہ سال چھ روسی کمپنیاں، چار یوکرائنی اداروں بشمول یوکرائن نیشنل فارن اکنامک کارپوریشن ،ایک امریکی کپمنی اور تین پاکستانی کمپنیوں نے بھی اسٹیل ملز کی بحالی میں معاونت کی دلچسپی ظاہر کی تھی۔
بیرون ملک اثاثے منجمد ہونے سے افغانستان میں معاشی بحران نے جنم لے لیا، امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ملک کے بیرون ملک اثاثوں کو منجمد کرنے کی وجہ سے افغانستان میں بجلی کے بلوں کی ادائیگی نہیں ہوسکی اور اب افغانستان کے حقیقی اندھیرے میں ڈوبنے کا خدشہ منڈلا رہاہے،اثاثےمنجمد ہونے سے وسط ایشیائی ممالک کو پیسےادا نہیں کیے جاسکے،ریاستی پاور کمپنی نے بل کی ادائیگی کیلیےاقوام متحدہ سے نوے ملین ڈالرامداد کی درخواست کردی۔ نوے ملین ڈالر کی امداد سے وسط ایشیائی ممالک کو بجیلی کے بلوں کی ادائیگی ممکن بنائی جائے گی، کیونکہ ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ایران کی جانب سے بلوں کی ادائیگی کے لیے دی گئی تین ماہ مہلت کی مدت بھی ختم ہوچکی ہے۔ افغانستان کی ریاستی پاور کمپنی دا افغانستان برشنا شرکت کے قائم مقام سی ای او سیف اللہ احمد زئی نے الجزیرہ سے گفتگو میں بتایا کہ افغانستان وسط ایشیائی ممالک ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ایران کو بجلی کی مد میں مجموعی طور پر ماہانہ 20 سے 25 ملین ڈالر کی رقم ادا کرتا ہے، تین ماہ سے بلوں کی ادائیگی نہ کرنے پر یہ رقم 62 ملین ڈالر تک جاپہنچی، بلوں کی عدم ادائیگی پر کسی بھی وقر ؎ افغانستان کو بجلی کی فراہمی معطل ہوسکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے افغانستان میں یونائیٹڈ نیشن اسسسٹینس مشن سے انسانی بنیادوں پر افغان عوام کی مدد کرنے کی درخواست کردی ہے، ملک میں بجلی کی فراہمی کو جاری رکھنے کے لیے اس ہفتے کے آخر تک یہ رقم بڑھ کر 85 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گی،اقوام متحدہ کی جانب سے فی الحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ افغانستان میں بجلی کی سالانہ طلب تقریبا 16 سو میگا واٹ ہے، تاہم ہائیڈرو پاور پلانٹس، سولر پینلز اور رکازی ایندھن سے ملکی ضروریات کاصرف 22 فیصد ہی پورا ہوتا ہے،، افغانستان میں 38 فیصد عوام کو بجلی فراہم کی جا رہی ہے،افغستان میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ معمول ہے۔
مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے ایون فلیڈ ریفرنس کو کالعدم قرار دینے کے لیے متفرق درخواست دائر کردی۔ درخواست مریم نواز کے وکیل عرفان قادر ایڈووکیٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی۔ مریم نواز نے سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے انکشافات پر مبنی درخواست دائر کی ہے، انہوں نے شوکت عزیز صدیقی کے انکشافات کی روشنی میں بریت کی استدعا کی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ شوکت عزیر صدیقی کی تقریر نے ساری کارروائی مشکوک بنا دی۔ نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے اپنی درخواست میں کہا کہ ٹرائل کی ساری کارروئی، ریفرنس فائل کرنے کے احکامات بھی دباؤ کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ جبکہ نیب کے لئے لازم ہوتا ہے کہ وہ شفاف طور پر کارروائی کرے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں پولیٹیکل انجینئرنگ اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کی کلاسک مثال ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں شریف خاندان پر الزام ہے کہ انہوں نےغیر قانونی ذرائع کی آمدن حاصل کی، رقم سے لندن کے مہنگے ترین علاقے مے فیئر اور پارک لین کے نزدیک واقع رہائشی اپارٹمنٹس خریدے۔ انہوں نے سابق مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف، خود انہیں اور ان کے شوہر کیپٹین ریٹائرڈ صفدر کو جیل، قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس نے ستمبر 2018 میں سزاؤں کو معطل کر دیا جس کے بعد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر جیل سے رہا ہو گئے تھے۔
ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا پانے والی پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز نے ریفرنس کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی جبکہ رجسٹرار آفس نے درخواست پر 2 اعتراضات لگائے ہیں۔ انہوں نے اپنے وکیل ایڈووکیٹ عرفان قادر کے ذریعے عدالت میں درخواست جمع کرائی۔ مریم نواز نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ احتساب عدالت نے 6 جولائی 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا سنائی تھی جو پاکستان کی تاریخ میں سیاسی انجینئرنگ اور قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کی پرانی مثال ہے، انہوں نے اپنی درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے بار سے خطاب کا بھی حوالہ دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام شیئر کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بات بھی وضح ہو گئی ہے کہ کس طرح بطور فرد جنرل فیض حمید نے اپنے حلف کی پاسداری سے روگردانی کی۔ جس سے نہ صرف ان کا بلکہ پاک فوج کے ایک معتبر ادارے کا نام خراب ہوا۔ انہوں نے اپنے اختیارات کو اپنے ذاتی عزائم کی تکمیل کیلئے استعمال کیا۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے بھی بار سے کیے گئے خطاب میں ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی مرکزی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) عدالتی امور میں مداخلت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے ہمارے چیف جسٹس تک رسائی حاصل کرکے کہا تھا کہ ہم نے نواز شریف اور ان کی بیٹی کو انتخابات تک باہر نہیں آنے دینا۔ مریم نواز نے اپنی متفرق درخواست میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے اسی بیان کا حوالہ دیا تھا اور اسی الزام کی بنیاد پر انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی جنرل فیض حمید کا نام لیکر ان پر تنقید کی اور اسی کے ساتھ آئی ایس آئی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ لہجہ کسی طور بھی تنقید کرنے والا نہیں بلکہ یہ تو ملک دشمن بیانیہ ہے اور اس کا مقصد صرف پاکستان کے دشمنوں کو خوش کرنا ہے۔ مریم نواز کے ان الزامات کے جواب میں لاتعداد سوشل میڈیا صارفین کا یہی کہنا ہے کہ ان کا یہ دعویٰ حقائق کے بالکل برعکس ہے کیونکہ ان کے خلاف فیصلہ 2018 میں آیا تھا جبکہ جنرل فیض حمید 2019 میں ڈی جی آئی ایس آئی بنے تھے تو اس طرح وہ اس فیصلے پر کیسے اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ صارفین نے کہا کہ مریم نواز صرف اپنے والد کی طرح پاک فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف اس لیے بول رہی ہیں کیونکہ وہ کسی طرح کی ڈیل کرنا چاہتی ہیں مگر اس بار اس کا کوئی چانس نہیں ہے۔
لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران سندھ ہائیکورٹ نے حکومت کو لاپتا افرادکے اہلخانہ کی کفالت کا حکم دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس صلاح الدین پہنور کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی، سماعت کے دوران لاپتا افرادکی عدم بازیابی پر متعلقہ اداروں پر برہمی کا اظہار کیا اور ان کے اہلخانہ کی کفالت کفالت سرکار کے سپرد کرنے کا میکنزم بنانے کے لیے سیکریٹری سوشل ویلفیئر، سیکرٹری زکوة، سیکرٹری وومن ڈیولپمنٹ اور ڈائریکٹر بیت المال کو طلب کرلیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے ایک بار مرنے کا اتنا دکھ نہیں ہوتا، لاپتا افرادکے اہلخانہ روز روز مرتے ہیں۔ ریاست پوری کی پوری فیملیز کو کیوں دشمنی پر اترنے کے لیے مجبور کررہی ہے؟ لاپتا افراد کو بازیاب کرانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ جسٹس صلاح الدین پہنور نے مزید کہا کہ اس گھرانے پر کیا گزرتی ہوگی جس کا سربراہ لاپتا ہے۔ جس گھر کا سربراہ 7، 8 سال سے لاپتا ہے سوچیں اس پر خاندان پر کیا گزرتی ہوگی؟ لاپتا شہری کسی کیس میں مطلوب نہیں تھے تو انکے خاندان کی کفالت کون کرے گا؟ کب تک خواتین کے بھائی بوڑھے ماں باپ دوسروں کی کفالت کرتے رہیں گے۔ رینجرز کے وکیل حبیب احمد ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ لاپتا افرادکے اہلخانہ کی کفالت یا انہیں معاوضہ دینے کے لیے کمیٹی بنا دی جائے۔ لاپتا افراد کا ہر کیس ایک جیسا نہیں ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے اب ہم لاپتا افراد کے اہلخانہ کو کمیٹیوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔ سرکار اپنی چوائسز پر روزانہ سیکڑوں افراد کو ملازمت فراہم کرتی ہے۔ من پسند افراد کو تو ملازمتیں فراہم کرتے ہیں کچھ اللہ کے بندوں کے لیے بھی کریں۔ لاپتا شخص کی بیوی،بیٹی یا بیٹے کو ہی سرکاری ملازمت دے دی جائے۔ عدالت نے لاپتا شہری عادل خان، محمد علی اور محمد نعیم کی بازیابی کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کردی، عدالت نے سیکریٹری سوشل ویلفیئر، سیکرٹری زکوة، سیکرٹری وومن ڈیولپمنٹ اور ڈائریکٹر بیت المال، ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور دیگر کو 7 اکتوبر کو طلب کرلیا۔
خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے شہریوں کیلئے خوشخبری، کچرا کنڈی پر اب ہریالی نظر آئے گی، شہر کے سب سے بڑے پارک کی تعمیر آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے، رنگ روڈ اور جی ٹی روڈ کے سنگم پر 216 کنال پر محیط میگا پارک پشاور ڈیوپلمنٹ اتھارٹی کے ہارٹیکچرل ڈائریکٹریٹ کی زیر نگرانی تیار کیا جارہاہے، پارک کو رواں ماہ کے آخری ہفتے میں گلستان ہزار خوانی پارک کو شہریوں کیلئے کھولا جائے گا، پارک کا افتتاح وزیراعظم عمران خان کرینگے۔ پارک کو رنگ روڈ پر ٹریفک کے شور سے محفوظ رکھنے کیلئے جنگل پلانٹیشن کے تحت 1500 درخت لگائے گئے ہیں گلستان ہزارخوانی پارک میں نایاب پودے ڈریگن بونسائی ، امل تاس اور سات رنگی لگائے جارہے ہیں، 250 گاڑیوں کیلئے پارکنگ ، کلر فاؤنٹین ،وسیع اسٹون پچنگ تالاب اور راہداری میں پتھروں اور سنگ مرمر کا کام مکمل ہوگیا۔ منصوبے کے نگران ڈپٹی ڈائریکٹر فرید اللہ خٹک کا کہنا ہے کہ شہر کی قیمتی اراضی پر 20 سال سے گندگی جمع کی جارہی تھی، جس نے ڈمپنگ سائٹ کی صورت اختیار کی،ہارٹیکچرل ڈائریکٹریٹ کو ٹاسک ملا کہ اراضی کو کارآمد بنایا جائے جس پر پی اے ڈی کے ڈائریکٹر ہارٹیکلچر ریاض علی خان اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر طارق محسود کے ہمراہ کام شروع کیا اور قلیل مدت میں پشاور کی عوام کیلئے وسیع پارک کی صورت میں ایک خوشگوار اضافہ ہوا، انہوں نے کہا کہ مذکورہ پارک کے ساتھ متصل 74کنال اراضی پر برڈز ایوری اور چڑیا گھر بنانے کا منصوبہ بھی پائپ لائن میں ہے.
اسلام آباد میں بے دردی سے قتل کردینے والی سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم کے قاتل کے والدین ضمانت کیلئے پرتولنے لگے،مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین نے ضمانت کے لئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹالیا،انھوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کردیا۔ گرفتار ذاکر جعفر اورعصمت ذاکر نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی،ملزم کے والدین کی جانب سے اپیل ایڈووکیٹ خواجہ حارث نے دائر کی،جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ہائیکورٹ نے ضمانت کے اصولوں کو مد نظر نہیں رکھا، نہ ہی حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا گیا ہے۔ ہائیکورٹ نے ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی تھیں،اسلام آباد ہائی کورٹ نے تفصیلی فیصلے میں کہا تھا کہ بادی النظر میں ظاہر جعفر کے والدین اعانت جرم کے مرتکب ثابت ہوئے،والدین جانتے تھے کہ ان کے بیٹے ظاہر جعفر نے نور مقدم کو یرغمال بنا رکھا ہے،اس لئے ظاہر جعفر کے والدین کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہیں،ہائیکورٹ نے نورمقدم کیس کا ٹرائل 8 ہفتے کے اندر مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے پولیس کو جلد شواہد پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا تھا کہ مرکزی ملزم کے والدین نے بیٹے کی واردات کا جانتے ہوئے بھی پولیس کو اطلاع نہیں دی جبکہ چوکیدارنے ذاکر جعفر کو اطلاع دی تھی، تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ کے فیصلوں کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ اعانت قتل بھی قتل کرنے جیسا ہی سنگین جرم ہے۔ فیصلےمیں واضح کیا گیا کہ جرم میں اعانت کیلئے ڈائریکٹ معاونت کے شواہد ہونا بطور اصول ہر جگہ لاگو نہیں ہو سکتا،بلیک لا ڈکشنری کے مطابق اپنا فرض ادا نہ کرنے بھی اعانت جرم ہے، جبکہ ظاہر جعفر نے بیان میں کہا تھاکہ اس نے والد کو قتل سے پہلے آگاہ کیا تھا۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ظاہر جعفر کا بیان قابل قبول ہے یا نہیں فیصلہ ٹرائل کورٹ کرے گا،قابل ضمانت دفعات پر بھی بعض معاملات کے ہوتے ضمانت مسترد ہوسکتی ہے،ریکارڈ کے مطابق ظاہر جعفر کے والدین نے شواہد چھپانے اور کرائم سین صاف کرنے کی کوشش کی۔ 20 جولائی کی شام اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں سابق سفیر شوکت مقدم کی صاحبزادی نور مقدم کا مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا تھا،ملزم کو موقع سے گرفتار کرلیا گیا تھا،جبکہ ملزم ظاہر جعفر مشہور بزنس مین ذاکر جعفر کے بیٹے ہیں، جو جعفر گروپ آف کمپنیز کے مالک ہیں۔
وزیراعظم عمران خان اور بل گیٹس کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں اور غذائیت و مالی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے فاوٴنڈیشن کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس سال وائلڈ پولیو وائرس کا صرف ایک کیس رپورٹ ہوا، حکومت ملک میں ہر قسم کے پولیو کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ بل گیٹس نے پولیو کی روک تھام کے لیے کوششوں پر وزیراعظم کے اقدامات کی تعریف کی اور انہیں پولیو کے خاتمے کے لیے پروگرام اور تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعظم اور بل گیٹس نے افغانستان میں صحت کے نظام کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا اور دونوں نے افغانستان میں پولیو مہم دوبارہ شروع ہونے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی آدھی سے زیادہ آبادی خط غربت سے نیچے، اسے مالی امداد کی اشد ضرورت ہے۔ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ بل گیٹس افغان عوام کو انسانی امداد فراہم کریں۔ وزیراعظم نے بل گیٹس کا پاکستان کے ساتھ فاوٴنڈیشن کی قیمتی شراکت داری پر شکریہ ادا کیا۔