Upper class Drug and sex parties in Karachi, Lahore !!

canadian

Chief Minister (5k+ posts)
نہیں میں نہیں پیوں گی۔۔۔۔’ارے پھرتم یہاں آئی کیوں ہو؟ چلوڈ انسنگ فلور پر چلتےہیں’۔پہلی بار سیٹرڈے نائٹ پارٹی میں آنے والی صنوبر کے منع کرنے کے باوجود اس کی کلاس فیلو اسے گھسیٹ کرساتھ لے ہی آئی۔

ڈانسنگ فلورپرمصروف صنوبراسکول کی ڈانس کلاسزمیں لی ہوئی تربیت اوراپنے شوق کی وجہ سےجلد ہی پوری پارٹی کی نظروں کامرکزبن گئی۔لڑکے اورلڑکیوں کی توجہ کامرکزبن کراسےکواچھالگ رہاتھاوہ اس طرح کاماحول اپنے گھرمیں بھی دیکھتی رہی تھی لہذایہ اس کےلئےاجنبی نہ تھا۔ڈانس فلورپرآئے ہوئے خاصی دیرہوچکی تھی اس کے سامنے4مختلف افرادڈانس کرنےآئے لیکن جلد ہی تھک کرسائیڈپرہو لئے لیکن وہ ابھی تک وہیں تھی۔قریب سے گزرتے ایک ویٹرنےاس کےطلب کرنےپرمشروب کاگلاس صنوبرکوتھمایاجسے وہ ایک ہی سانس میں پی گئی تاکہ ٹوٹ جانےوالے ردھم کوحاصل کرسکے۔

کسیلےسےمشروب کے حلق سے اترتےہی صنوبرکویوں لگاگویااس کےجسم میں نئی تونائی آگئی ہو۔وہ آج اپنےسیمسٹرریزلٹ ڈےکویادگاربنانےکی غرض سےپہلی بارکسی ایسی پارٹی کاحصہ بنی تھی جہاں ہرطرف نوجوان لڑکے اورلڑکیاں اپناسٹریس کم کرنےکی کوشش کررہے تھے۔

خاصی دیربعداپنی دوست ماہین کی آوازپرصنوبرڈانس فلورسے اتری اورلڑکھڑاتے قدموں ایک کونےمیں رکھےصوفے پرجابیٹھی۔یہاں شیشہ پینےکےچرس بھرےحقے رکھے تھےاس نے بھی باقی دوستوں کی دیکھادیکھی خودکوخفت سے بچانےکےلئےشیشہ پیناشروع کردیا۔اسے محسوس ہورہاتھاکہ مشروب اپنااثردکھارہاہےاوراس پرغنودگی طاری ہورہی ہے۔کراچی کی پوش آبادی ڈیفنس کے فیز5میں ہونےوالی یہ تقریب رات کے3بجے اپنےعروج پرپہنچ چکی تھی ۔بڑی تعدادمیں جوڑے ڈانسنگ فلورسے اترکرکونوں کھدروں میں چھپ چکے تھے۔اس کے سامنےمخصوص کاغذسے بنی ہوئی باراورپلیٹ لائی گئی جسے وہ ماہین کے کہنےپرنیم غنودگی کے عالم میں سگریٹ کی طرح پی گئی اورپھراسے ہوش نہ رہا۔

کراچی میں ہونےوالی ہفتہ وارپارٹی میں پہلی بارکوکین کامزاچکھنےوالی صنوبراکیلی نہیں بلکہ ان سرگرمیوں کے ایک آرگنائزر’سنی’کےمطابق ایسے لڑکےاورلڑکیاں ہرہفتے ان کی پارٹیزمیں آتے ہیں۔پہلی بارٹرینڈفالوکرنے،دوستی نبھانے،تنہائی دورکرنے،کسی خوشی سےمحظوظ ہونےکےلئےیہاں آنےوالوں کے ساتھ کچھ ناکچھ ایساہوجاتاہےکہ وہ پھراس کیفیت سے نکل نہیں سکتے۔

صنوبرکواس کے والد 50ہزارروپے ماہانہ جیب خرچ دیتے ہیں اسی لئے وہ ان پارٹیزمیں2برسوں سےآنےکےباوجوداپنی’ضرورت’پوری کرنےکےلئےکسی کےآگے ہاتھ پھیلانےسے بچی ہوئی ہے۔ہاں کبھی کبھاریہ ضرورہوتاہےکہ اس کاکوئی دوست نشہ آوردوا،کوکین،چرس یاشراب خریدلیتاہے اوراس کی بچت ہو جاتی ہے۔لیکن سنی کاکہناہےکہ والدین کی جانب سےملنےوالی پاکٹ منی تک تومعاملہ چلتاہے لیکن جب وہ رقم ناکافی ہوجائے توپھرعادت پوری کرنےکونئے نوجوان ہوئے لڑکے،لڑکیاں ‘بہت کچھ ‘کرجاتے ہیں۔

“پوش علاقوں میں ہونےوالی متعددچوریوں،ڈاکوں اوراغواء کی وارداتوں کے پس پردہ انہی لڑکیوں اورلڑکوں کی فراہم کردہ اطلاعات ہوتی ہیں ۔یہ معلومات وہ دشمنی میں نہیں بلکہ اپنے نشے کی ضرورت پوری کرنےکےلئےرقم حاصل کرنےکی غرض سے جرائم پیشہ افراداورگروہوں کو فراہم کرتے ہیں۔حتی کہ خود اپنے ہی والدین،گھریاعزیزرشتہ داروں کے متعلق بھی بتادیتےہیں لیکن ایساکرتےوقت وہ یہ نہیں سوچ پاتے کہ نتیجہ کیا نکلنا ہے”کراچی ہی کی ایک اورآبادی گلشن اقبال سےخیابان راحت میں ہونےوالی پارٹی میں شریک فرازنے رقم حاصل کرنےکے طریقوں کےمتعلق نئے انکشافات کئے۔

ڈانس پارٹیزاورڈرگزاستعمال کرنےکےلئےمنعقد کی جانےوالی گیدرنگزکے ایک آرگنائزرنےاپنی شناخت خفیہ رکھنےکی شرط پردی نیوزٹرائب کوبتایا”XTC،تریاق،وہسکی،کوکین چونکہ امپورٹ کئے جاتے ہیں اسلئے یہ مہنگے پڑتے ہیں۔لہذاچرس تیزی سےایک کم قیمت نشے کے طورپرمقبول ہوئی ہے۔اسے حقے،سگریٹ سمیت متعددطریقوں سےاستعمال کیاجاسکنابھی نوجوانوں میں اس کےمقبول ہونےکی اصل وجہ ہے۔

مذکورہ آرگنائزرکاکہناہےکہ فضائی،سمندری اورزمینی راستوں سےآنےوالی منشیات میں جنسی میلان پیداکرنےوالی دوائیوں کے شامل ہونےنےان کی پارٹیزکے شرکاء بڑھادئے ہیں۔فیس بک اورٹویٹرکومخصوص کی ورڈزکےذریعے ایونٹس کے اعلان اورتشہیرکےلئےاستعمال کرنےوالے آرگنائزر نے دی نیوزٹرائب کوبتایاکہ سیاسی وابستگیاں رکھنےوالے مخصوص درآمدکنندگان کی فیلڈفورس بدلتی رہتی ہے۔تاہم اصل چہروں کے پیچھے موجود رہنے کے سبب پولیس اپناحصہ لینے سے آگے آنے پرتیارنہیں ہوتی جس سے ‘کاروبار’ تیزی سے ترقی کررہاہے۔انٹرنیٹ کےعام ہونےکےبعدفری کلاسیفائڈ ویب سائٹس بھی استعمال کی جاتی ہیں تاہم یہ عمومی پارٹیزکےبجائے ساحلی مقامات یافارم ہائوسزپرہونےوالی تقریبات کی تشہیرکابڑاذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔

ڈانس پارٹیزکوعام قراردیتےہوئےکراچی ولاہورکی پوش آبادیوں کے70فیصدگھروں میں ہفتہ وارپارٹیزمنعقد ہونےکادعوی کرتے ہوئے آرگنائزر نے بتایا”منشیات استعمال کی جانےوالی پارٹیزمیں نئے لڑکوں اورلڑکیوں کواس کاشکارکرنےکےلئےکال گرلزکواستعمال کیاجاتاہے۔جواپنی ادائوں سے لڑکوں کوجنسی طورپربھڑکاکرنشے کاعادی بنادیتی ہیں۔ان کال گرلزکوباقاعدہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ خود چرس یاہیروئن بھری سگریٹ کاکش لگاکراس دھویں کو نوآموزلڑکوں کے منہ میں اگل دیں۔لڑکیوں کے ساتھ یہی کام ان کے بوائے فرینڈزیاکلاس فیلوزکرتےہیں”۔شرکاء کی 70فیصدسے زائد تعدادمالی وتعلیمی اعتبارسے بہترین سمجھے جانےوالے گھروں کے بچوں پرمشتمل ہوتی ہے۔

28جولائی کوکراچی میں واقع عبداللہ شاہ غازی کے مزارکےقریب سے گرفتارہونےوالی روسی خاتون کاحوالہ دیتے ہوئے مذکورہ آرگنائزرنےانکشاف کیاکہ متعدد’موبائل پارٹیز’بھی منعقد کی جاتی ہیں جو عموماغیرملکی ڈانسرزکے تحت منعقد ہوتی ہیں۔کراچی میں شمیم میمن،تبسم،گڈو،سنی،غلام محی الدین عرف ننھاکےکارندے،ماموں نامی فرد،قاسم اورسنی اپنے گھروں اوراڈوں پرباقاعدہ ایسی پارٹیزکاانعقادکرتےہیں۔ان افرادسمیت کراچی اورلاہورمیں اس کاروبارسے وابستہ افرادکے ایک اڈے پرکم ازکم 10لاکھ روپے کی منشیات فروخت ہوتی ہے۔جب کہ ایسے اڈوں کی درست تعدادسینکڑوں میں ہے۔اپنےخریداروں میں اضافے کےلئےیہ لوگ سرکاری ونجی یونیورسٹیوں اورکالجزکوخاص طورپرہدف بناتے ہیں۔کراچی یونیورسٹی میں چند برس

قبل ننھے دلال کی جانب سےکال گرلزکوسرگرم کرنےکاحوالہ دیتےہوئےذریعے نے بتایاکہ اس وقت بھی کراچی کی 4نجی جب کہ لاہورکی3نجی یونیورسٹیوں میں منشیات کے ریکٹس کام کررہے ہیں۔جب کہ متوسط گھرانوں کی ایسی لڑکیاں بھی کال گرلز بنالی جاتی ہیں جو اہل خانہ کی کفالت کے لئے ملازمت کرنےگھرسے نکلتی ہیں اورپھردن بھر ان مخصوص مراکزپرخدمات فراہم کرتی ہیں۔

کالجزاورجامعات کی جوطالبات یاطلبہ پارٹیزکے شرکاء کی جنسی ضروریات پوراکرنےکےلئے’ایونٹ آرگنائزرز’کےآلہ کاربنتے ہیں وہ عمومااپنی ضروریات پورا کرنے کے لئے غربت کی وجہ سے ایساکرتےہیں تاہم ان میں 10تا15فیصدلڑکے اورلڑکیاں جنسی ہیجان مٹانےکوبھی اس کاروبارکاحصہ بن جاتے ہیں۔شوقیہ اس عمل کاحصہ بننےوالوں کاتعلق کھاتے پیتے گھرانوں سے ہوتاہے۔

رمضان کامہینہ شروع ہونےسے ایک ہفتہ قبل ہونےوالے ایسی ہی ایک پارٹی میں شریک شازمہ کاکہناتھا”وہ یہاں تفریح کرنےآئی تھی لیکن دوستوں کی وجہ سےایسی عادی ہوئی ہےکہ اپنی نشے اورجسمانی وجنسی ضروریات پوراکرنےکےلئےیہاں آنااس کی ضرورت بن گیاہے۔پاکستان کے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل میں شوقیہ کام کرنےوالی شازمہ کوپہلی باراس کے دوست نے ‘کس’کرتےہوئےکوکین کے دھویں سےروشناس کروایاتھا۔

شازمہ کاکہناتھاکہ وہ اگرکسی دوست کویہاں لاناچاہے تواپنی ذمہ داری پراسے لےکرآئے گی۔والدین کوعلم ہونےسےبچانےسمیت پولیس و دیگر اداروں کودوررکھنےکےلئےاجنبیوں کویہاں آنےکی اجازت نہیں ہوتی۔لیکن اس کے باوجودسیکورٹی کویقینی بنانےکےلئےپارٹیزآرگنائزرزنے بائونسرزرکھےہوتے ہیں۔ہٹے کٹے ریسلرزٹائپ یہ لوگ ‘ٹیڑھوں’ یا ‘آئوٹ’ ہو جانے والوں کوسیدھاکرنے کاکام کرتے ہیں۔

شازمہ سے سرگوشیوں میں ہونےوالی گفتگوسن کرقریب آنےوالے لڑکے نے اپنانام بتائے بغیرگفتگوکاحصہ بنتےہوئے کہاکہ نشے کے عادی افرادنےجنسی ضروریات پوراکرنےکواب لیسبئنزاورگیزکی باقاعدہ ایسوسی ایشنزبنالی ہیں جن میں کراچی کے علاوہ،لاہور،اسلام آبادسمیت متعددشہروں سےلوگ شامل ہوئے ہیں۔اگرچہ ان کی تعدادانتہائی محدود ہے لیکن اداکاروں،اداکارائوں خصوصا الیکٹرانک میڈیاسے وابستہ چند اہم ناموں کے اس گیدرنگ کاحصہ بن جانےکےبعدان میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔

ماہرتعلیم اوراسلام آبادکانونٹ اسکول سےوابستہ رہنےوالی عاتکہ سلطان کاکہناہےکہ نوجوانوں خصوصاٹینزمیں منشیات کے بڑھتےہوئےاستعمال کی بنیادی وجہ والدین ہیں۔گھروں میں ہونےوالی کاروباری اورسماجی تقریبات میں نشہ آوراشیاء کابڑھتاہوااستعمال بچوں کواسے ایک معمول کاکام سمجھنےکاموقع دیتاہے۔چونکہ والدین کی اکثریت بچوں کو وقت نہیں دیتی اس لئےتنہائی دورکرنےکویہ بچے انٹرنیٹ سمیت الیکٹرانک میڈیاپرذیادہ وقت گزارتےہیں جہاں سےمنشیات کےاستعمال کوبطورفیشن اختیارکرنےکی متعددترغیبیں دی جارہی ہوتی ہیں۔تعلیمی اداروں یا دوستوں کی گیدرنگزمیں بھی مختلف قسم کی منشیات بآسانی دستیاب ہوتی ہے اس لئےیہ جلد ہی ان کاشکارہوجاتے ہیں۔ٹینزاوریوتھ کی پارٹیزمیں نشےکے بڑھتےہوئے استعمال سے ان افرادکی تعدادبڑھ رہی ہےجودوسروں کی دیکھادیکھی اسےاختیارکررہےہیں۔

نتائج کے متعلق ایک بین الاقوامی این جی اوسے وابستہ ماہر تعلیم کاکہناتھاکہ “اخلاقیات سے دوری،طبیعت میں جارحیت آجانا،جرائم کی جانب مائل ہوجانا نسبتاخوفناک نتائج ہیں جو مستقبل پربری طرح اثراندازہوں گے”۔نشے کے عادی ہوجانےکےبعداپنی ضرورت پوراکرنےکےلئےایسے لڑکے اور لڑکیاں بآسانی جرائم پیشہ گروہوں کاآلہ کار بن جاتے ہیں۔

نیوزفیچرمیں درج کئے گئے لڑکوں اورلڑکیوں کےنام اورمقامات کوتبدیل کرکے فرضی نام بیان کئےگئےہیں۔

Via,TheNewsTribe
 
Advertisement
Last edited by a moderator:

canadian

Chief Minister (5k+ posts)
[h=3]Upper class Drug and sex parties in Karachi, Lahore [/h]Posted by Usman 3 August, 2011

ancwe-Party.jpg
She refused to drink. “Why have you come here, then? Let’s go to the dance floor,” said her friend and dragged her to the dance floor. It was the first time Sanobar (*) had come to a Saturday night party. She became the centre of attention very soon as she was very good at dancing thanks to the dance classes she took at school. She liked this attention. Feeling tired after sometime, she took a drink from a waiter to keep up her dance. As soon as she finished the drink, she felt as if she had been filled with new energy. She had come to this party to celebrate her semester results on the insistence of a friend. She got down from the dance floor when her friend Maheen (*) called. She went to a sofa at a corner where young girls and boys were enjoying the sheesha (a modern type of hookah).She joined them. Many a couple were getting down from the dance floor and going into rooms. Sometime later, something covered with paper was brought on a plate. Cajoled by Maheen, she smoked it like a cigarette and then she almost lost her consciousness.Sunny (*), an organizer of such parties in posh areas, told The News Tribe that many girls and boys like Sanobar are introduced to such parties every week. “These guys come here to follow the trend or just to accompany friends or to make new friends. The environment here then entraps them. They become addicted to such parties.”Since Sanobar belongs to a well off families and gets a huge amount as pocket money, she has had no problem in paying for the drugs supplied here. But others, who exhaust their pocket money sooner, have to do a lot of things to meet their expenses.These guys ‘sell information’ to criminals involved in thefts and dacoities and kidnappings to meet their expenses, said Faraz (*) who regularly attends such parties. “They even supply information about their own friends who attend these parties.”Organizers said the number of participants has been increasing over the years because the imported drugs supplied here have contents that increase urge for sex.Another organizer of these parties said on the condition of anonymity that charas has gained popularity in these parties because whisky, cocaine and XTC are expensive. “It is popular also because it can be used in various ways such as smoking through cigarettes and hookahs.”Some organizers announce these parties through codes at social networks such as Facebook and Twitter.Organizers said that the sellers of these drugs are well connected with political parties.s Police are well paid to keep away from such parties.Call girls are trained to get boys to such parties. School and college guys are also used to attract more and more youngsters to these parties.Around 70 percent of the participants of these parties belong to families that are well educated.An organizer said that there is another type of parties called ‘mobile parties’, which involved foreign dancers. He said the Russian woman recently arrested from near the Adbullah Shah Ghazi shrine was also part of a ring organizing ‘mobile parties’.At each of these parties, drugs worth Rs 1 million are sold. And hundreds of these parties are organized in Karachi and Lahore at every week. Private colleges and universities are the main targets of these groups.These groups are active at at least four private universities in Karachi and three in Lahore.Call girls belonging to middle class work full time for these groups. Most of the students that work for these groups to get them new customers do so for money. But around 15 percent become part of these groups only to enjoy sex. These are mostly the ones that belong to rich families.Shazma (*), who now regularly attends such parties, said that she came at a party just for entertainment but she became addicted to these parties very soon. She works for a private television channel and was introduced to cocaine through a kiss by a boyfriend.If somebody brings a friend here, they do it on their own risk. Organizers do not allow strangers in order to keep police and other law enforcement agencies away.These organizers employ ‘bouncers’—well trained fighters—to tackle those who make trouble.Another participant said, requesting anonymity, that many of the participants of these parties have now formed associations of gays and lesbians. “These groups are fast gaining popularity owing to some celebrities being part of them.”Atika Sultan, who teaches at a convent school in Islamabad, said the responsibility for this increasing use of drugs among students lies on parents. “The use of drugs at parties organized at home makes children think it a part of normal life.”Since most of the parents don’t give enough time to their children, they spend much time at internet and watching television which constantly induce them to use drugs, she said. Many students start using drugs, following their friends, she added.An educationist working for a foreign NGO said this rising use of drugs is resulting in lack of ethics among youngsters of the rich class, increasing aggression and proclivity towards crime. “These things are disastrous for our future.”* Names have been changed.
 

Saboo

Prime Minister (20k+ posts)
Drug and sex parties in Islamic Republic of Pakistan? Nahin nahin, mein nahin manta.
Zara kuch utta putta dein. mein khud jaker inn gunahgar ankhon say dekhna chahta hoon.
What the heck, aik gunah aur sahe!
 

famamdani

Minister (2k+ posts)
نہیں میں نہیں پیوں گی۔۔۔۔’ارے پھرتم یہاں آئی کیوں ہو؟ چلوڈ انسنگ فلور پر چلتےہیں’۔پہلی بار سیٹرڈے نائٹ پارٹی میں آنے والی صنوبر کے منع کرنے کے باوجود اس کی کلاس فیلو اسے گھسیٹ کرساتھ لے ہی آئی۔

ڈانسنگ فلورپرمصروف صنوبراسکول کی ڈانس کلاسزمیں لی ہوئی تربیت اوراپنے شوق کی وجہ سےجلد ہی پوری پارٹی کی نظروں کامرکزبن گئی۔لڑکے اورلڑکیوں کی توجہ کامرکزبن کراسےکواچھالگ رہاتھاوہ اس طرح کاماحول اپنے گھرمیں بھی دیکھتی رہی تھی لہذایہ اس کےلئےاجنبی نہ تھا۔ڈانس فلورپرآئے ہوئے خاصی دیرہوچکی تھی اس کے سامنے4مختلف افرادڈانس کرنےآئے لیکن جلد ہی تھک کرسائیڈپرہو لئے لیکن وہ ابھی تک وہیں تھی۔قریب سے گزرتے ایک ویٹرنےاس کےطلب کرنےپرمشروب کاگلاس صنوبرکوتھمایاجسے وہ ایک ہی سانس میں پی گئی تاکہ ٹوٹ جانےوالے ردھم کوحاصل کرسکے۔

کسیلےسےمشروب کے حلق سے اترتےہی صنوبرکویوں لگاگویااس کےجسم میں نئی تونائی آگئی ہو۔وہ آج اپنےسیمسٹرریزلٹ ڈےکویادگاربنانےکی غرض سےپہلی بارکسی ایسی پارٹی کاحصہ بنی تھی جہاں ہرطرف نوجوان لڑکے اورلڑکیاں اپناسٹریس کم کرنےکی کوشش کررہے تھے۔

خاصی دیربعداپنی دوست ماہین کی آوازپرصنوبرڈانس فلورسے اتری اورلڑکھڑاتے قدموں ایک کونےمیں رکھےصوفے پرجابیٹھی۔یہاں شیشہ پینےکےچرس بھرےحقے رکھے تھےاس نے بھی باقی دوستوں کی دیکھادیکھی خودکوخفت سے بچانےکےلئےشیشہ پیناشروع کردیا۔اسے محسوس ہورہاتھاکہ مشروب اپنااثردکھارہاہےاوراس پرغنودگی طاری ہورہی ہے۔کراچی کی پوش آبادی ڈیفنس کے فیز5میں ہونےوالی یہ تقریب رات کے3بجے اپنےعروج پرپہنچ چکی تھی ۔بڑی تعدادمیں جوڑے ڈانسنگ فلورسے اترکرکونوں کھدروں میں چھپ چکے تھے۔اس کے سامنےمخصوص کاغذسے بنی ہوئی باراورپلیٹ لائی گئی جسے وہ ماہین کے کہنےپرنیم غنودگی کے عالم میں سگریٹ کی طرح پی گئی اورپھراسے ہوش نہ رہا۔

کراچی میں ہونےوالی ہفتہ وارپارٹی میں پہلی بارکوکین کامزاچکھنےوالی صنوبراکیلی نہیں بلکہ ان سرگرمیوں کے ایک آرگنائزر’سنی’کےمطابق ایسے لڑکےاورلڑکیاں ہرہفتے ان کی پارٹیزمیں آتے ہیں۔پہلی بارٹرینڈفالوکرنے،دوستی نبھانے،تنہائی دورکرنے،کسی خوشی سےمحظوظ ہونےکےلئےیہاں آنےوالوں کے ساتھ کچھ ناکچھ ایساہوجاتاہےکہ وہ پھراس کیفیت سے نکل نہیں سکتے۔

صنوبرکواس کے والد 50ہزارروپے ماہانہ جیب خرچ دیتے ہیں اسی لئے وہ ان پارٹیزمیں2برسوں سےآنےکےباوجوداپنی’ضرورت’پوری کرنےکےلئےکسی کےآگے ہاتھ پھیلانےسے بچی ہوئی ہے۔ہاں کبھی کبھاریہ ضرورہوتاہےکہ اس کاکوئی دوست نشہ آوردوا،کوکین،چرس یاشراب خریدلیتاہے اوراس کی بچت ہو جاتی ہے۔لیکن سنی کاکہناہےکہ والدین کی جانب سےملنےوالی پاکٹ منی تک تومعاملہ چلتاہے لیکن جب وہ رقم ناکافی ہوجائے توپھرعادت پوری کرنےکونئے نوجوان ہوئے لڑکے،لڑکیاں ‘بہت کچھ ‘کرجاتے ہیں۔

“پوش علاقوں میں ہونےوالی متعددچوریوں،ڈاکوں اوراغواء کی وارداتوں کے پس پردہ انہی لڑکیوں اورلڑکوں کی فراہم کردہ اطلاعات ہوتی ہیں ۔یہ معلومات وہ دشمنی میں نہیں بلکہ اپنے نشے کی ضرورت پوری کرنےکےلئےرقم حاصل کرنےکی غرض سے جرائم پیشہ افراداورگروہوں کو فراہم کرتے ہیں۔حتی کہ خود اپنے ہی والدین،گھریاعزیزرشتہ داروں کے متعلق بھی بتادیتےہیں لیکن ایساکرتےوقت وہ یہ نہیں سوچ پاتے کہ نتیجہ کیا نکلنا ہے”کراچی ہی کی ایک اورآبادی گلشن اقبال سےخیابان راحت میں ہونےوالی پارٹی میں شریک فرازنے رقم حاصل کرنےکے طریقوں کےمتعلق نئے انکشافات کئے۔

ڈانس پارٹیزاورڈرگزاستعمال کرنےکےلئےمنعقد کی جانےوالی گیدرنگزکے ایک آرگنائزرنےاپنی شناخت خفیہ رکھنےکی شرط پردی نیوزٹرائب کوبتایا”xtc،تریاق،وہسکی،کوکین چونکہ امپورٹ کئے جاتے ہیں اسلئے یہ مہنگے پڑتے ہیں۔لہذاچرس تیزی سےایک کم قیمت نشے کے طورپرمقبول ہوئی ہے۔اسے حقے،سگریٹ سمیت متعددطریقوں سےاستعمال کیاجاسکنابھی نوجوانوں میں اس کےمقبول ہونےکی اصل وجہ ہے۔

مذکورہ آرگنائزرکاکہناہےکہ فضائی،سمندری اورزمینی راستوں سےآنےوالی منشیات میں جنسی میلان پیداکرنےوالی دوائیوں کے شامل ہونےنےان کی پارٹیزکے شرکاء بڑھادئے ہیں۔فیس بک اورٹویٹرکومخصوص کی ورڈزکےذریعے ایونٹس کے اعلان اورتشہیرکےلئےاستعمال کرنےوالے آرگنائزر نے دی نیوزٹرائب کوبتایاکہ سیاسی وابستگیاں رکھنےوالے مخصوص درآمدکنندگان کی فیلڈفورس بدلتی رہتی ہے۔تاہم اصل چہروں کے پیچھے موجود رہنے کے سبب پولیس اپناحصہ لینے سے آگے آنے پرتیارنہیں ہوتی جس سے ‘کاروبار’ تیزی سے ترقی کررہاہے۔انٹرنیٹ کےعام ہونےکےبعدفری کلاسیفائڈ ویب سائٹس بھی استعمال کی جاتی ہیں تاہم یہ عمومی پارٹیزکےبجائے ساحلی مقامات یافارم ہائوسزپرہونےوالی تقریبات کی تشہیرکابڑاذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔

ڈانس پارٹیزکوعام قراردیتےہوئےکراچی ولاہورکی پوش آبادیوں کے70فیصدگھروں میں ہفتہ وارپارٹیزمنعقد ہونےکادعوی کرتے ہوئے آرگنائزر نے بتایا”منشیات استعمال کی جانےوالی پارٹیزمیں نئے لڑکوں اورلڑکیوں کواس کاشکارکرنےکےلئےکال گرلزکواستعمال کیاجاتاہے۔جواپنی ادائوں سے لڑکوں کوجنسی طورپربھڑکاکرنشے کاعادی بنادیتی ہیں۔ان کال گرلزکوباقاعدہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ خود چرس یاہیروئن بھری سگریٹ کاکش لگاکراس دھویں کو نوآموزلڑکوں کے منہ میں اگل دیں۔لڑکیوں کے ساتھ یہی کام ان کے بوائے فرینڈزیاکلاس فیلوزکرتےہیں”۔شرکاء کی 70فیصدسے زائد تعدادمالی وتعلیمی اعتبارسے بہترین سمجھے جانےوالے گھروں کے بچوں پرمشتمل ہوتی ہے۔

28جولائی کوکراچی میں واقع عبداللہ شاہ غازی کے مزارکےقریب سے گرفتارہونےوالی روسی خاتون کاحوالہ دیتے ہوئے مذکورہ آرگنائزرنےانکشاف کیاکہ متعدد’موبائل پارٹیز’بھی منعقد کی جاتی ہیں جو عموماغیرملکی ڈانسرزکے تحت منعقد ہوتی ہیں۔کراچی میں شمیم میمن،تبسم،گڈو،سنی،غلام محی الدین عرف ننھاکےکارندے،ماموں نامی فرد،قاسم اورسنی اپنے گھروں اوراڈوں پرباقاعدہ ایسی پارٹیزکاانعقادکرتےہیں۔ان افرادسمیت کراچی اورلاہورمیں اس کاروبارسے وابستہ افرادکے ایک اڈے پرکم ازکم 10لاکھ روپے کی منشیات فروخت ہوتی ہے۔جب کہ ایسے اڈوں کی درست تعدادسینکڑوں میں ہے۔اپنےخریداروں میں اضافے کےلئےیہ لوگ سرکاری ونجی یونیورسٹیوں اورکالجزکوخاص طورپرہدف بناتے ہیں۔کراچی یونیورسٹی میں چند برس

قبل ننھے دلال کی جانب سےکال گرلزکوسرگرم کرنےکاحوالہ دیتےہوئےذریعے نے بتایاکہ اس وقت بھی کراچی کی 4نجی جب کہ لاہورکی3نجی یونیورسٹیوں میں منشیات کے ریکٹس کام کررہے ہیں۔جب کہ متوسط گھرانوں کی ایسی لڑکیاں بھی کال گرلز بنالی جاتی ہیں جو اہل خانہ کی کفالت کے لئے ملازمت کرنےگھرسے نکلتی ہیں اورپھردن بھر ان مخصوص مراکزپرخدمات فراہم کرتی ہیں۔

کالجزاورجامعات کی جوطالبات یاطلبہ پارٹیزکے شرکاء کی جنسی ضروریات پوراکرنےکےلئے’ایونٹ آرگنائزرز’کےآلہ کاربنتے ہیں وہ عمومااپنی ضروریات پورا کرنے کے لئے غربت کی وجہ سے ایساکرتےہیں تاہم ان میں 10تا15فیصدلڑکے اورلڑکیاں جنسی ہیجان مٹانےکوبھی اس کاروبارکاحصہ بن جاتے ہیں۔شوقیہ اس عمل کاحصہ بننےوالوں کاتعلق کھاتے پیتے گھرانوں سے ہوتاہے۔

رمضان کامہینہ شروع ہونےسے ایک ہفتہ قبل ہونےوالے ایسی ہی ایک پارٹی میں شریک شازمہ کاکہناتھا”وہ یہاں تفریح کرنےآئی تھی لیکن دوستوں کی وجہ سےایسی عادی ہوئی ہےکہ اپنی نشے اورجسمانی وجنسی ضروریات پوراکرنےکےلئےیہاں آنااس کی ضرورت بن گیاہے۔پاکستان کے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل میں شوقیہ کام کرنےوالی شازمہ کوپہلی باراس کے دوست نے ‘کس’کرتےہوئےکوکین کے دھویں سےروشناس کروایاتھا۔

شازمہ کاکہناتھاکہ وہ اگرکسی دوست کویہاں لاناچاہے تواپنی ذمہ داری پراسے لےکرآئے گی۔والدین کوعلم ہونےسےبچانےسمیت پولیس و دیگر اداروں کودوررکھنےکےلئےاجنبیوں کویہاں آنےکی اجازت نہیں ہوتی۔لیکن اس کے باوجودسیکورٹی کویقینی بنانےکےلئےپارٹیزآرگنائزرزنے بائونسرزرکھےہوتے ہیں۔ہٹے کٹے ریسلرزٹائپ یہ لوگ ‘ٹیڑھوں’ یا ‘آئوٹ’ ہو جانے والوں کوسیدھاکرنے کاکام کرتے ہیں۔

شازمہ سے سرگوشیوں میں ہونےوالی گفتگوسن کرقریب آنےوالے لڑکے نے اپنانام بتائے بغیرگفتگوکاحصہ بنتےہوئے کہاکہ نشے کے عادی افرادنےجنسی ضروریات پوراکرنےکواب لیسبئنزاورگیزکی باقاعدہ ایسوسی ایشنزبنالی ہیں جن میں کراچی کے علاوہ،لاہور،اسلام آبادسمیت متعددشہروں سےلوگ شامل ہوئے ہیں۔اگرچہ ان کی تعدادانتہائی محدود ہے لیکن اداکاروں،اداکارائوں خصوصا الیکٹرانک میڈیاسے وابستہ چند اہم ناموں کے اس گیدرنگ کاحصہ بن جانےکےبعدان میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔

ماہرتعلیم اوراسلام آبادکانونٹ اسکول سےوابستہ رہنےوالی عاتکہ سلطان کاکہناہےکہ نوجوانوں خصوصاٹینزمیں منشیات کے بڑھتےہوئےاستعمال کی بنیادی وجہ والدین ہیں۔گھروں میں ہونےوالی کاروباری اورسماجی تقریبات میں نشہ آوراشیاء کابڑھتاہوااستعمال بچوں کواسے ایک معمول کاکام سمجھنےکاموقع دیتاہے۔چونکہ والدین کی اکثریت بچوں کو وقت نہیں دیتی اس لئےتنہائی دورکرنےکویہ بچے انٹرنیٹ سمیت الیکٹرانک میڈیاپرذیادہ وقت گزارتےہیں جہاں سےمنشیات کےاستعمال کوبطورفیشن اختیارکرنےکی متعددترغیبیں دی جارہی ہوتی ہیں۔تعلیمی اداروں یا دوستوں کی گیدرنگزمیں بھی مختلف قسم کی منشیات بآسانی دستیاب ہوتی ہے اس لئےیہ جلد ہی ان کاشکارہوجاتے ہیں۔ٹینزاوریوتھ کی پارٹیزمیں نشےکے بڑھتےہوئے استعمال سے ان افرادکی تعدادبڑھ رہی ہےجودوسروں کی دیکھادیکھی اسےاختیارکررہےہیں۔

نتائج کے متعلق ایک بین الاقوامی این جی اوسے وابستہ ماہر تعلیم کاکہناتھاکہ “اخلاقیات سے دوری،طبیعت میں جارحیت آجانا،جرائم کی جانب مائل ہوجانا نسبتاخوفناک نتائج ہیں جو مستقبل پربری طرح اثراندازہوں گے”۔نشے کے عادی ہوجانےکےبعداپنی ضرورت پوراکرنےکےلئےایسے لڑکے اور لڑکیاں بآسانی جرائم پیشہ گروہوں کاآلہ کار بن جاتے ہیں۔

نیوزفیچرمیں درج کئے گئے لڑکوں اورلڑکیوں کےنام اورمقامات کوتبدیل کرکے فرضی نام بیان کئےگئےہیں۔
 

QaiserMirza

Chief Minister (5k+ posts)
پھر بھی کہتے ہیں ہم پر یہ عذاب کیوں آ رہا ہے
شہر میں قتل کا بازار کیوں گرم ہے
الله تعالی ہم سے کیوں ناراض ہے


آج سارے ملک کا کاروبار سود پر چل رہا ہے
آج عریانی ، فحاشی عام ہو گئی ہے
آج شراب اور نشہ کی فراوانی ہے
آج اپنے ہی بھائی کو مارنے کے لیے اسلحہ آسانی سے دستیاب ہے
آج جنسی بے راہراوی عام ہے


پھر بھی کہتے ہیں ہم پر یہ عذاب کیوں آ رہا ہے

 

qamar_zaman

Councller (250+ posts)
these facts are unfortunately very true it is comprehensively written in last paragraph the reason was also written which was discussed by some teacher from Islamabad but the point is our youth is spoiling very fast at a very teen age government must check on these parties and also make sure that our youth should be kept away from such parties and localities they should be encouraged to take in healthy activities like games and exercise they are provided with gymnasiums and play grounds where they can workout and release their tentions and develop friendship circle in healthy atmosphere rather than on some dance floor and smoking and drinking and indulging in illegal sex parents must be aware of the whereabouts of their children they check that where their children are spending the pocket money what are their mobile connections and what they use internet for as government alone cannot do if the parents do not cooperate so
 
Last edited:

canadian

Chief Minister (5k+ posts)
Drug and sex parties in Islamic Republic of Pakistan? Nahin nahin, mein nahin manta.
Zara kuch utta putta dein. mein khud jaker inn gunahgar ankhon say dekhna chahta hoon.
What the heck, aik gunah aur sahe!

Malik Sahib Yeh Tou Iss Kaam Main Canada Sey Bhi Aagey Nikal Gey hain.......
 

canadian

Chief Minister (5k+ posts)
these facts are unfortunately very true it is comprehensively written in last paragraph the reason was also written which was discussed by some teacher from Islamabad but the point is our youth is spoiling very fast at a very teen age government must check on these parties and also make sure that our youth should be kept away from such parties and localities they should be encouraged to take in healthy activities like games and exercise they are provided with gymnasiums and play grounds where they can workout and release their


tentions and develop friendship circle in healthy atmosphere rather than on some dance floor and smoking and

drinking and indulging in illegal sex parents must be aware of the whereabouts of their children they check that where their children are spending the pocket money what are their mobile connections and what they use internet for as government alone cannot do if the parents do not cooperate so [/QUOTE


I would entirely blame parents of these kids for this.I cannot believe a father or mother dosen't know what their kids are doing or what sort of company they are keeping.Infact,parents themselves must be involved in all type of " Laachar Panna".
This type of thing happens when bribery and illegal money is coming into a house.It can never happen in a house where " Rizk-e-Halal" is being earned by the family members.
 

Night_Hawk

Chief Minister (5k+ posts)
Premium Member

صنوبرکواس کے والد 50ہزارروپے ماہانہ جیب خرچ دیتے ہیں
اسی لئے وہ ان پارٹیزمیں2برسوں سےآنےکےباوجوداپنی’ضرورت’پوری کرنےکےلئےکسی کےآگے ہاتھ پھیلانےسے بچی ہوئی ہے۔ہاں کبھی کبھاریہ ضرورہوتاہےکہ اس کاکوئی دوست نشہ آوردوا،کوکین،چرس یاشراب خریدلیتاہے اوراس کی بچت ہو جاتی ہے۔لیکن سنی کاکہناہےکہ والدین کی جانب سےملنےوالی پاکٹ منی تک تومعاملہ چلتاہے لیکن جب وہ رقم ناکافی ہوجائے توپھرعادت پوری کرنےکونئے نوجوان ہوئے لڑکے،لڑکیاں ‘بہت کچھ ‘کرجاتے ہیں۔

JUST Pocket money 50 thousand rupees and what about other expenses?
If you have 3 or 4 kids and all of them get the same amount! no wonder there is loot maar and corruption.
I am pretty sure their names could be Muslim name these youngsters have no knowledge of the deen.

 

Saladin A

Siasat.pk - Blogger
If it is true and happening in every affluent home, then the Taliban will soon take over Pakistan because they know very well how to deal with these debauch, corrupt and un-Islamic people.

When you have your leaders and their sons and daughters indulging in open air sex and binge drinking, drug taking, pornography: what kind of an example our leaders are giving to the nation?
 
Sponsored Link