پی ٹی آئی حمایت یافتہ رکنِ اسمبلی کی ن لیگ میں شمولیت پر تنازع کھڑا ہوگیا

adil-bazi1h1.jpg


الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے بعد بلوچستان سے پاکستان تحریک انصاف کے واحد حمایت یافتہ آزاد رکن قومی اسمبلی عادل بازئی کی ن لیگ میں شمولیت سے متعلق خبروں پر تنازع کھڑا ہو گیا۔

8 فروری کے عام انتخابات میں بلوچستان سے صرف دو ہی آزاد امیدوار منتخب ہوئے ہیں جن میں سے ایک عادل خان بازئی اور دوسرے میاں خان بگٹی ہیں,الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے دونوں آزاد امیدواروں نے ن لیگ میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور اس بنیاد پر خواتین کی نشستوں کی تقسیم کر دی گئی ہے۔‘

عادل بازئی نے ن لیگ میں شمولیت کی تردید کر دی ہے۔ اب سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ عادل بازئی اور الیکشن کمیشن میں سے غلط بیانی کون کر رہا ہے؟بلوچستان سے قومی اسمبلی کی 16 جنرل اور 4 خواتین کی مخصوص نشستیں ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جمعے کو خواتین کی مخصوص نشستوں کی تقسیم کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

نوٹیفکیشن میں نام لیے بغیر بتایا گیا تھا کہ بلوچستان سے دو آزاد ارکان قومی اسمبلی نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی ہے جس کی بنیاد پر خواتین کی مخصوص نشستوں کا کوٹہ تقسیم ہوا اور اب بلوچستان سے مزید کوئی آزاد رکن باقی نہیں بچا, بلوچستان سے دو ہی افراد آزاد حیثیت سے قومی اسمبلی کے اراکین منتخب ہوئے ہیں۔

ان میں سے ایک میاں خان بگٹی ہیں جو این اے 253 ڈیرہ بگٹی کم کوہلو کم سبی کم ہرنائی کم زیارت سے آزاد حیثیت سے کامیاب ہوئے۔ انہوں نے اپنی کامیابی کے فوری بعد ن لیگ میں شمولیت کا اعلان کر دیا تھا۔

دوسرے آزاد رکن قومی اسمبلی ملک عادل خان بازئی ہیں جو این اے 262 کوئٹہ ون سے پاکستان تحریک انصاف کے نامزد کردہ امیدوار تھے,باقی 14 جنرل نشستوں میں سے چار پر مسلم لگ ن، چار پر جمعیت علماء اسلام، دو پر پاکستان پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی تھی,بلوچستان عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، نیشنل پارٹی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا ایک ایک رکن کامیاب ہوا تھا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق دونوں آزاد ارکان نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی ہے جس کے بعد بلوچستان سے ن لیگ کے ارکان کی تعداد چھ ہو گئی,اس بنیاد پر بلوچستان سے خواتین کی چار مخصوص نشستوں کے کوٹے میں سے دو مسلم لیگ ن کو مل گئی۔ اس طرح بلوچستان سے مسلم لیگ ن کے ارکان قومی اسمبلی کی تعداد 8 تک پہنچ گئی ہے۔

ملک عادل خان بازئی کی شمولیت کی خبر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر تنازع کھڑا ہوگیا ہے اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پی ٹی آئی کے حامی اس خبر کو غلط قرار دے رہے ہیں,پی ٹی آئی بلوچستان کے میڈیا کوآرڈینیٹر آصف ترین نے اردو نیوز کو بتایا کہ عادل بازئی سے گذشتہ تین دنوں سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا اور ان کے سارے موبائل فون نمبر بند جا رہے ہیں۔


منظرعام سے غائب رہنے والے ملک عادل بازئی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر وضاحتی بیان جاری کیا اور کہا کہ انہوں نے مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار نہیں کی,ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پارٹی پالیسی کے مطابق سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا حلف نامہ الیکشن کمیشن میں 20 فروری کو جمع کرا دیا ہے, ملک عادل بازئی کی کامیابی کا نوٹیفکیشن 15 فروری کو جاری ہوا تھا جس کے بعد ان کے پاس کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت کے لیے تین دن کی مہلت تھی اور یہ مہلت 18 فروری کو ختم ہوگئی تھی۔

سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کے حلف نامے کی قانونی حیثیت کے بارے میں بھی سوالات پیدا ہوگئے ہیں,سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور انتخابی قوانین کے ماہر سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ ’نوٹیفکیشن کے تین دن کے بعد کسی جماعت میں شمولیت کے حلف نامے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن نے اگر آزاد امیدواروں کو مسلم لیگ ن میں شامل بتایا ہے تو ان کے پاس ضرور آزاد امیدواروں نے حلف نامہ جمع کرایا ہوگا۔ الیکشن کمیشن خود سے کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا کامران مرتضیٰ کے مطابق ’اگر عادل بازئی تردید کرتے ہیں تو پھر سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس عادل بازئی کی ن لیگ میں شمولیت کا حلف نامہ کس نے جمع کرایا ہے؟‘

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ترجمان حامد وٹو سے اردو نیوز نے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ’اس سلسلے میں صوبائی الیکشن کمیشن سے پوچھا جائے۔ صوبائی الیکشن کمیشن سے بھی اس سلسلے میں کوشش کے باوجود رابطہ نہیں ہوسکا,مسلم لیگ ن بلوچستان کے سیکریٹری جنرل اور کوئٹہ سے نومنتخب رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑ نے تصدیق کی ہے کہ ’بلوچستان سے دو آزاد ارکان قومی اسمبلی نے ن لیگ میں شمولیت اختیار کی ہے تاہم انہوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔‘

ملک عادل بازئی کوئٹہ کے رہائشی اور پشتونوں کے بازئی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ اس سے پہلے وزیر اعلٰی بلوچستان کے کوآرڈینیٹر رہ چکے ہیں۔عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن بلوچستان اسمبلی سابق صوبائی وزیر ملک نعیم بازئی ان کے قریبی رشتہ دار ہیں۔


اس سے پہلے بھی ملک عادل بازئی کی ن لیگ میں شمولیت کی خبریں سامنے آئی تھیں جس پر انہیں کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اس کے بعد وہ منظرعام سے غائب ہو گئے تھے اس وقت پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اعظم سواتی نے انکشاف کیا تھا کہ ’ملک عادل بازئی کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور ان سے کوئی رابطہ نہیں ہو رہا, عادل بازئی نے اپنا ویڈیو بیان جاری کر کے کہا تھا کہ ’انہیں کسی نے گرفتار نہیں کیا، ان کی والدہ بیمار ہیں اس لیے انہوں نے اپنا فون بند رکھا ہوا تھا,ویڈیو بیان میں انہوں نے وضاحت کی تھی کہ وہ پی ٹی آئی کے کارکن ہیں اور رہیں گے۔