عمران خان کی جیل سے باہر آئے بغیر پریس کانفرنس،مارکیٹ میں نیاشوشہ

shei1h11i1.jpg

تحریک انصاف کی چئیرمین شپ چھوڑنے کی خبروں پر مارکیٹ میں نیا بیانیہ لانچ کردیا گیا۔۔ عمران خان نے جیل سے باہر آئے بغیر ہی پریس کانفرنس کردی

گزشتہ روز تحریک انصاف کے شیر افضل مروت نے کہا کہ عمران خان پارٹی الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے اور وہ چئیرمین شپ سے دستبردار ہوگئے ہیں جس پر سوشل میڈیا پر خوب شور شرابا ہوا اور طوفان مچ گیا جس پر تحریک انصاف آفیشل کو اسکی تردید کرنا پڑی۔

وقاص اعوان نے تبصرہ کیا کہ اگر عمران خان کے پارٹی چئیرمین شپ سے علحیدہ ہونے سے متعلق خبریں درست ثابت ہوئیں تو یہ جیل کے اندر سے ہی پریس کانفرس سمجھی جائے گی مطالبہ۔ ہی مائنس عمران تھا
https://twitter.com/x/status/1729719214657733032
بشیر چوہدری نے کہا کہ عمران خان نے چیئرمین پی ٹی آئی کے عہدے سے سبکدوشی اختیار کرکے جیل سے باہر آئے بغیر ہی "پریس کانفرنس" کر دی ہے۔
https://twitter.com/x/status/1729711429861732652
فہیم اختر نے اس صورتحال پر کہا کہ عمران خان قانونی طور پر پی ٹی آئی چیرمین کا عہدہ رکھ سکتے ہیں،،الیکشنز ایکٹ 2017 اور رولز میں ایسی کوئی شق نہیں کہ نااہل شخص پارٹی کا عہدہ نہیں رکھ سکتا

انہون نے مزید کہا کہ پہلے پولیٹکل پارٹیز آرڈر 2002 میں تھا کہ پارٹی عہدہ رکھنے کےلیے رکن پارلیمنٹ بننے کی اہلیت ضروری ہے جس کے تحت نواز شریف،مریم نواز اور جہانگیر ترین کو سزا دی گئی تھی،لیکن بعد میں الیکشن کمیشن نے مریم نواز کو پارٹی کا سینئر نائب صدر کا عہدہ رکھنے کی اجازت دی تھی، اسی لئے توشہ خانہ کیس میں نااہلی کے باوجود الیکشن کمیشن نے عمران خان کو پارٹی چیرمین شپ کے عہدے سے نہیں ہٹایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب اگر عمران خان پارٹی چیرمین کا الیکشن نہیں لڑنا چاہتے تو اس کے پیچھے دو وجوہات ہیں، ایک اخلاقی وجہ کہ کیسے جیسی بھی نااہلی ہوئی ہو وہ بندہ پارٹی چلائے ؟ دوسری وجہ الیکشن کمیشن کی جانبداری ہے کیونکہ اگر الیکشن کمیشن نے نواز شریف نااہلی کیس کو وجہ بنا کر عمران خان کے چیرمین بننے پر اعتراض کر دیا تو تحریک انصاف انتخابات سے باہر ہوسکتی ہے۔۔۔۔ ان حالات میں یہ فیصلہ کسی حد تک درست اور قابل فہم ہے
https://twitter.com/x/status/1729531121660985524