خواہش ہے محمود اچکزئی کو ووٹ دوں مگر پارٹی فیصلہ ہے کہ ایسا نا کروں، مولانا

13molanaachzai.png

جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میری خواہش ہے کہ میں محمود اچکزئی کو صدارتی انتخاب میں ووٹ دوں تاہم پارٹی کا فیصلہ واجب ہے کہ ایسا نا کروں۔

تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں حماس کی قیادت سے ملوں گا تو بین الاقوامی قوتیں تو ناراض ہوں گی ہی، یہ پارلیمنٹ دھاندلی کی پیداوار ہے عوامی نمائندہ نہیں ہے، جمہوریت اپنا مقدمہ ہاررہی ہے اور پارلیمنٹ اپنی اہمیت کھورہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا کسی سے ذاتی جھگڑا نہیں ہے کہ کسی کو منالیں گے، ہمارا کسی سے جھگڑا نہیں ہے،جنہیں پتا تھا کہ میں ان کے مقابلے میں صدارتی امیدوار بنوں گا انہوں نے تجوریوں کے منہ کھول دیئے، پیسوں سے سندھ اور بلوچستان اسمبلیاں خریدی گئیں، میری خواہش تو ہے کہ میں محمود اچکزئی کوووٹ دوں مگر پارٹی کا فیصلہ واجب ہے کہ ایسا نا کروں۔


مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو 2018 والا مینڈیٹ ملا تو تب دھاندلی کیوں تھی اب کیوں نہیں ؟ اسٹیبلشمنٹ میں اس الیکشن میں اپنی ہی تقسیم کی ہے، کسی کو ایک جگہ کسی کو دوسری جگہ ایڈجسٹ کیا گیا، ہم نے الیکشن کے نتائج کو مسترد کردیا ہے، وقت کے ساتھ جو شواہد سامنے آرہے ہیں وہ ہمارے موقف کی تصدی کررہے ہیں، 2024 میں دھاندلی کا 2018 کا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔
 
13molanaachzai.png

جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میری خواہش ہے کہ میں محمود اچکزئی کو صدارتی انتخاب میں ووٹ دوں تاہم پارٹی کا فیصلہ واجب ہے کہ ایسا نا کروں۔

تفصیلات کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں حماس کی قیادت سے ملوں گا تو بین الاقوامی قوتیں تو ناراض ہوں گی ہی، یہ پارلیمنٹ دھاندلی کی پیداوار ہے عوامی نمائندہ نہیں ہے، جمہوریت اپنا مقدمہ ہاررہی ہے اور پارلیمنٹ اپنی اہمیت کھورہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا کسی سے ذاتی جھگڑا نہیں ہے کہ کسی کو منالیں گے، ہمارا کسی سے جھگڑا نہیں ہے،جنہیں پتا تھا کہ میں ان کے مقابلے میں صدارتی امیدوار بنوں گا انہوں نے تجوریوں کے منہ کھول دیئے، پیسوں سے سندھ اور بلوچستان اسمبلیاں خریدی گئیں، میری خواہش تو ہے کہ میں محمود اچکزئی کوووٹ دوں مگر پارٹی کا فیصلہ واجب ہے کہ ایسا نا کروں۔


مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو 2018 والا مینڈیٹ ملا تو تب دھاندلی کیوں تھی اب کیوں نہیں ؟ اسٹیبلشمنٹ میں اس الیکشن میں اپنی ہی تقسیم کی ہے، کسی کو ایک جگہ کسی کو دوسری جگہ ایڈجسٹ کیا گیا، ہم نے الیکشن کے نتائج کو مسترد کردیا ہے، وقت کے ساتھ جو شواہد سامنے آرہے ہیں وہ ہمارے موقف کی تصدی کررہے ہیں، 2024 میں دھاندلی کا 2018 کا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔
کمال
 

ranaji

President (40k+ posts)
خواہش ہے کہ کبھی ملک اور قوم سے بھی وفاداری کروں مگر میری ہڈی راتب حرام خوری وزارتوں گورنر شپ اور تقرری تبادلے کرانے والے پارٹی ممبران کی خواہش ہے کہ میں اپنی خواہش صرف زرداری اور شہباز شریف سے پوری کروں اور وہ بھی کنڈوم کے ساتھ ورنہ ایچ آئی وہ کا خطرہ ہے جو کہ ہونے کے بعد ایڈز میں بدل جاتا ہے