تھانے پرحملہ،مقبوضہ کشمیر میں 3افسروں سمیت 16فوجی اہلکاروں کےخلاف مقدمہ درج

13ioklkskjdjkdjkjjksjdj.png

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں بھارتی پولیس نے فوج کے 3 افسروں سمیت 16 فوجی اہلکاروں کے خلاف ایک پولیس سٹیشن میں زبردستی گھر کر پولیس اہلکاروں پر تشدد کرنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

واقعے کی ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ فوج کے افسروں واہلکاروں نے ایک ہیڈکانسٹیبل کو اغوا کر لیا اور ان کے موبائل فون بھی چھین لیے ہیں۔


سرینگر کے پولیس سٹیشن میں واقعہ 28 مئی کی رات کی پیش آیا تھا، پولیس عہدیداروں کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پیرزاداہ مجاہد الحق کی زیرسربراہی تشکیل دی گئی ایک خصوصی ٹیم کر رہی ہے۔ واقعے میں مبینہ طور پر ملوث اہلکاروں میں سے اب تک کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکا تاہم بتایا گیا ہے کہ بھارتی فوج وپولیس کے اعلیٰ افسران اس حوالے سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

https://twitter.com/x/status/1796122999999136060
پولیس عہدیداروں کا کہنا ہے کہ معاملے کو رفع دفع کرنے کے امکانات کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے، بتایا گیا ہے کہ ضلع کے بٹہ پورہ علاقے میں 160 ٹیری ٹوریل فوج کے ایک اہلکار کے گھر پر کپواڑہ پولیس تھانے کی ایک ٹیم نے ایک کیس کی تحقیقات کے سلسلہ میں چھاپہ مار کر اسے حراست میں لیا تھا۔ پولیس کی یہ کارروائی فوجی اہلکار کے ساتھیوں پر ناگوار گزری اور قانون ہاتھ میں لے کر تھانے پر دھاوا بول دیا۔

کپواڑہ کے ایک تھانے میں فوجی افسران واہلکاروں کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق 28 مئی کو رات 9 بجکر 40 منٹ پر پولیس سٹیشن پر بھارتی فوج کی 160 ٹیری ٹوریل ارمی کے دستے نے دھاوا بولا۔ لیفٹیننٹ کرنلز انکیت سود، نکھل اور راجو چوہان نے دستے کی قیادت کی جن پر الزام ہے کہ تھانے میں زبردستی گھس کر پولیس اہلکاروں لاٹھیوں اور بندوقوں سے تشدد کیا۔


پولیس کے اعلیٰ افسران واقعے کی اطلاع ملنے پر کمک کے ساتھ پولیس تھانے میں پہنچے تو وہاں موجود فوجیوں نے انہیں دیکھ کر اپنے ہتھیار لہرائے ۔ پولیس کے مطابق واقعے میں 5 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جن میں سے 4 کانسٹیبلز ظہور احمد، سلیم مشتاق، سپیشل پولیس آفیسرز رئیس خان، امتیاز احمد ملک کو سرینگر کے شیرِ کشمیر انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں داخل کروانا پڑا۔

پولیس کے مطابق زخمی اہلکاروں اور ایس ایچ او محمد اسحاق کے موبائل فون بھی چھین لیے گئے اور فوجی اہلکار تھانے سے فرار ہوتے وقت ہیڈکانسٹیبل غلام رسول کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے جسے اگلی صبح 3 بجے رہا کیا گیا۔ بھارتی فوج کے ایک ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ایم کے ساہو کی طرف سے فوجیوں کے پولیس تھانے پر دھاوا بولنے کی خبروں کی تردید کی گئی۔

فوجی ترجمان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ فوجی اہلکاروں اور پولیس کے درمیان جھگڑے اور پولیس اہلکاروں کی پر تشدد کرنے کی رپورٹوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ٹیری ٹوریل آرمی کے ایک یونٹ اور پولیس اہلکاروں کے درمیان ایک آپریشنل معاملے پر معمولی اختلافات پیدا ہوئے تھے جسے دوستانہ طور پر دور کیا جا چکا ہے۔

سرینگر میں اعلیٰ بھارتی فوجی افسر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فوج اس واقعہ کے حوالے سے جموں وکشمیر پولیس کے اعلیٰ افسران سے رابطے میں ہے اور کوشش کر رہے ہیں کہ یہ معاملہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے افہام وتفہیم سے حل ہو جائے۔ پولیس اور فوج کے درمیان اس معاملے کو حل کرنے کی کوششوں کے درمیان پولیس تھانے میں ہونے والے اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔