بیٹی ڈاکٹر، بیٹا امریکہ رہائش پذیر، گرفتار ڈاکو کے انکشافات

16karaccgirtadakusaunkakxkjd.png

ملک بھر کے ساتھ ساتھ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں بھی آئے روز ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، کراچی کے علاقے فیروزآباد کی پولیس نے میڈیکل سٹورز اور فوڈ چینز میں ڈکیتی کی وارداتیں کرنے والے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا تھا جس نے حیران کن انکشافات کیے ہیں۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں 18 سے زیادہ ڈکیتی کی وارداتیں کرنے والے ملزم نے بتایا کہ وہ 3 سے 4 وارداتیں کرنے کے بعد لاہور چلا جاتا تھا۔

پولیس کی تفتیش کے دوران مختلف میڈیکل سٹورز اور فوڈ چینز پر ڈکیتی کی وارداتیں کرنے والے ملزم کی شناخت شہریار کے نام سے ہوئی ہے جس کی بیٹی کراچی میں ڈاکٹر اور بیٹا امریکہ میں رہائش پذیر ہے۔ ملزم کے مطابق اس نے ایک پولیس اہلکار کی پینٹ چوری کر کے پشاور سے پستول خریدا اور پولیس ناکوں سے بچنے کیلئے پولیس اہلکاروں کے حلیے میں گھومتا پھرتا تھا۔

شہریار نامی ملزم نے پولیس کو بتایا کہ وہ دن میں صرف ایک واردات کرتا تھا اور لاہور چلا جاتا تھا، پیسے ختم ہونے پر واپس کراچی جاتا اور لوٹ مار کی واردات کرتا، ملزم کو ہوٹل آئی سافٹ ویئر کی مدد سے گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزم شہریار ایک پولیس اہلکار کو شہید کرنے کے واقعے میں بھی ملوث تھا جس کی وہ عمرقید کی سزا بھی کاٹ چکا ہے۔

پولیس نے اس سے پہلے مارچ کے مہینے میں سٹریٹ کرائم کی درجنوں وارداتوں میں ملوث 2 ملزموں کو بھی گرفتار کیا تھا جن کے بارے میں انکشاف ہوا تھا کہ وہ زیادہ تر وارداتیں شام کو بجلی کی لوڈشیڈنگ کے اوقات میں کرتے تھے۔ ملزمان کی شناخت عدنان عرف ڈان اور ذیشان عرف ساغر کے نام سے ہوئی تھی جن سے اسلحہ سمیت 14 موبائل فون برآمد کیے گئے تھے۔

ایس ایس پی امجد حیات نے بتایا کہ ملزموں نے تفتیش کے دوران اہم انکشافات کرتے ہوے بتایا کہ 4 رکنی ڈکیت گینگ شہریوں سے چھینے گئے موبائل فون احمد نیازی نامی شخص کو فروخت کرتے تھے اور لوٹ مار کی وارداتوں میں گولیاں چلانے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے۔

ملزمان نے بتایا کہ کچھ دن پہلے بغدادی کے علاقے میں ڈکیتی مزاحمت پر ایک شہری پر فائرنگ کی، لوٹ مار میں ملنے والے موبائل فون کے آئی ایم ای حسین افغانی نامی شخص 5 سے 8 ہزار روپے میں تبدیل کردیتا تھا۔ ملزمان نے انکشاف کیا کہ ان وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ وہ راشد نامی شخص سے خریدتے تھے۔