آج مسلم لیگ ن کو رلانے والے خود باجماعت دھاڑیں مار مار کر رو رہے ہیں، مریم

hello

Chief Minister (5k+ posts)
حالات جس طرف جا رہے ن لیگ والے بڑے پریشان ہے مریم نے تو چپ تان لی ہے کہتے ہے پٹواریوں کے بڑے بڑے رہنماوں نے غور فکر کیا ہے اور وہ انتہائی پریشان ہے پیل پارٹی نے بھی ان سے منہ موڑ لیا ہے کہ اس ڈوبتی کشتی سے بچو بلکہ کئی جگون پر تو وہ انہیں پہچانتے ہی نہیں ان کی پتلونے گیلی ہے خوف ان پر طاری ہے کہ بڑی درگت بننے والی ہے ہمارے پاس کوئی بیانیہ ہی نہیں ہے نہ حکومتی کاکردگی ہے جس پر ہم الیکشن لڑے گے کیا بیچے گے عوام کو کس طرح بیوقوف بنائے گے ان کا الیکشن میں سامنا کرے گے اگر کہیں گے ہم یہ کرے گے تو واپس جواب ملے گا تو تم تیرہ جماعتیں ڈیڑھ سال حکومت میں تھی کوئی اپوزیشن نہیں تھی کیا کیا کیوں نہیں کیا یہ تو یہ بھی نہیں کہہ سکتے پٹرول آٹا سستا کرے گے جن کی قیمتیں انہوں نے خود آسمانوں تک پہنچائی ہے کیا یہ کہے گے اکانومی بہتر کرے گے اس کا بیڑا غرق تو انہوں نے خود کیا ہے کہاں انہیں سولہ سترہ ارب ڈالر خزانہ عمران خان قاسم کے ابا سے ملا تھا اور انہوں نے صر ف ڈیڑھ سال میں تین چار ارب ڈالر پر پہنچا دیا امن و امان کا عالم یہ ہے کہ خود بار بار عدالتوں میں کہتے رہے ہے ملکی حالات انتہائی خراب ہے یہ تو ڈیڑھ سال میں آئی ایم ایف کو نہیں منا سکے اپنی کارکردگی سے انہوں نے انہیں جوتے کی نوک پر رکھا ہوا ہے کوئی پروگرام ان کے ساتھ سائن نہیں کیا ۔۔۔ کوئی ملک ان کی امداد نہیں کر رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب انہوں نے جس چھوٹی سی بات سے امید لگائی ہے کہ تحریک انصاف کے لوگ چھوڑ رہے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پچاس پچاس سال کا تجربہ رکھنے والے سیاسی پنڈٹ کہتے ہے یہ بھی ن لیگ اور اس کی اتحادیوں یعنی پی ڈی ایم کے خلاف جائے گی اس وقت تحریک انصاف چھوڑنے والے وہ سارے زیادہ تر وہی لوگ ہے جو پہلے بھی کئی کئی جماعتیں بدل چکے ہے جیسے ڈبو فواد کو ہی لے لیں وہ پہلے پیپلز پارٹی اور پھر قائد لیگ مشرف لیگ پتا نہیں کہاں کہاں کئی کئی جگہوں پر منہ مار چکا ہے اسی طرح جہانگر ترین علیم خان فیاض چوہان فردوس اعوان وغیرہ وغیرہ بھی پہلے کئی کئی پارٹیاں بدل چکے ہے ان اپنا نہ کوئی نظریہ نہ ووٹ ہے لہذا اب تحریک انصاف میں ان کا نظریاتی کارکن اوپر آ جائے گا جو کہ ہمارے لیے انتہائی سخت حریف ثابت ہو گا جس میں ان بھاگنے والو سے زیادہ ثابت قدمی ہو گی لہذا ہمیں ڈر ہے کہ یہ زیادہ مظبوط ہو کر سامنے آئے گے کیوں کہ الیکٹیبلز لینے کی وجہ سے ان میں اور پرانے ورکر ز میں ایک خلا ہو ا کرتا تھا جس کا ہمیں فائدہ ہوتا تھا اب وہ خلا ختم ہو گیا تو یہ زیادہ سخت جان حریف ہوں گے اپنا ووٹ بنک پہلے سے زیادہ مضبوتی سے منظم کرے گے


اور ویسے بھی عمران خان کی جماعت اپنے حلقوں میں کئی کئی مقابلہ کرنے والے کارکن رکھتی ہے ایک حلقے میں کئی کئی کینڈیٹ ہے لوگ ٹکٹ لینے کے لیے بڑے جزباتی ہوتے ہے اس کی مثال علیم خان کا حلقہ گڑھی شاہو لے لیجیے جس میں ایک عام سے ورکر شبیر گجر نے بائی الیکشن میں حمزہ شہباز کی صوبائی حکومت ہونے کے باوجود شکست دی تھی جبکہ اس کے مقابلے پر نزیر احمد چوہان تھا جسے حکومتی ہر طرح سے حمایت حاصل تھی علیم خان اس پر بے دریغ پیسہ خرچ کر رہا تھا لیکن چالیس ہزار ووٹ لے کر چودہ ہزار کی چوہان کو لیڈ مار کر شبیر گجر چیتے کی طرح جیتا تھا چوہان دوران کمپین ہر حربہ آزمایا تھا پولیس اس کے ساتھ تھی انہیں ملا کر شبیر گجر کو کمپین سے روکا تھا اس کے جلسے تک چوہان نہیں ہونے دیتا تھا کہیں کمپین دفتر نہیں کھلنے دیتا تھا اس پر میڈیا بھی چیخ اٹھا تھا اور پھر جتنے پر کہتا تھا کمال سیٹ لی ہے شبیر گجر نے دوسرے لفظوں دھول چٹا دی اپنے مخالف کو گجر نے شیر کے جبڑے سے سیٹ نکالی تھی جبکہ یہ ایک عام پی ٹی آئی کا کارکن تھا جناب الیکشن میں انتقامی کاروائی بڑی مہنگی پڑتی ہے سارا ہمدردی کا ووٹ ادھر مخالف کو شفٹ ہو جاتا ہے یعنی ہر تدبیر الٹ پڑتی ہے یہ ایک سیٹ کی روداد تھی جب پورے ملک میں جنرل الیکشن ہو گا ماوں نے بچے نہیں سبھال پانا پھر میدان سجے گا انتقامی کاروائی کرنا انتہائی مشکل ہو گا انتظامیہ صرف امن و امان کو برقرا رکھنے پھنسی ہو گی تب لگے گا پتا کیا بھاو بکتی ہے بڑے بڑے ششدر رہ جائے گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کے پی کے تو ذرا فرق نہیں پڑنا بلکہ اب انہوں نے یہ اپنی ناک کا مسئلہ بنا لیا ہے جب سے پنجاب سے پیغام جا رہے کہ یہاں پی ٹی آئی پر پر بڑا ظلم ہو رہا ہے وہاں تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے کہ تیسری مرتبہ پھر عمران خان پی ٹی آئی کو لانا ہے مولانا کے چودہ چبق روشن ہے کیا بنے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی ن لیک اس وقت بھی بڑی قابل رحم حالت سے گزر رہی ہے اس کی ہوم گارونڈ پنجاب مشکل میں ہے اگر بڑا جلسہ کرے اور اپنی مقبولیت کا دعوی کرے تو فورا اسے کہا جاتا ہے تو پھر الیکشن سے کیوں بھا گ رہے ہو کرو اعلان فورا الیکشن میں جاو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر اپنی حکومت کی کامیابی کا دعوی کر بیٹھے تو لوگ کہتے چلو الکیشن کراو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے نواز شریف اتنا حالات سے ڈرے ہوئے کہ قریب پاکستان آکر سعودی عرب عمرہ کرکے پاکستان نہیں آئے وہاں سے ہی پتلی گلی سے واپس بھاگ گئے جبکہ یہاں پاکستان میں ان کے بھائی کی حکومت ہے یعنی سب تدبیرے الٹ پر رہی ہے کوئی چورن نہیں بک رہا کوئی پھکی کام نہیں آ رہی پریس کانفرنسوں میں بھی اداکاری کرنی پڑتی ہے ابھی اردگان سے ملاقات کی تو آم کا شارہ لے بیٹھا شہباز سپیڈ تو بری طرح پٹ گئی حمزہ تو باہر نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہا اس قدر ڈر گیا ہے وام کارکن کا کیا حال ہو گا دوچار دن کی رونقیں رہ گئی ہے پھر عوام کی عدالت میں ہونا ہے
 

Aliimran1

Chief Minister (5k+ posts)

Fun And Games Pain GIF
Gashti Farari on the go​

 
Last edited:

3rd_Umpire

Chief Minister (5k+ posts)
ابے او تپے ہوئے تندور والی مائی، بد بُودار رنڈی
ھک کلّے، زمان پارک میں یر غمال کپتان سے ڈر کا یہ عالم ہے، کہ
ڈیڑھ درجن پارٹیاں،، پھوجی حرامزادوں کو ساتھ ملا بھی کر
الیکشن لڑنے سے بھاگ رہے ہیں
 
Last edited:

Kam

Minister (2k+ posts)
If there was only 5% of terrorism in PTI time as compared today, PMLN would have vanished from the face of earth.

But our nation is a resilient and we will stand to these times IA.

PMLN and PPPP are not only drowning country but to the institutions as well.

Or one institution is also drowning with PMLN and PPPP as well.
 

wasiqjaved

Chief Minister (5k+ posts)
حالات جس طرف جا رہے ن لیگ والے بڑے پریشان ہے مریم نے تو چپ تان لی ہے کہتے ہے پٹواریوں کے بڑے بڑے رہنماوں نے غور فکر کیا ہے اور وہ انتہائی پریشان ہے پیل پارٹی نے بھی ان سے منہ موڑ لیا ہے کہ اس ڈوبتی کشتی سے بچو بلکہ کئی جگون پر تو وہ انہیں پہچانتے ہی نہیں ان کی پتلونے گیلی ہے خوف ان پر طاری ہے کہ بڑی درگت بننے والی ہے ہمارے پاس کوئی بیانیہ ہی نہیں ہے نہ حکومتی کاکردگی ہے جس پر ہم الیکشن لڑے گے کیا بیچے گے عوام کو کس طرح بیوقوف بنائے گے ان کا الیکشن میں سامنا کرے گے اگر کہیں گے ہم یہ کرے گے تو واپس جواب ملے گا تو تم تیرہ جماعتیں ڈیڑھ سال حکومت میں تھی کوئی اپوزیشن نہیں تھی کیا کیا کیوں نہیں کیا یہ تو یہ بھی نہیں کہہ سکتے پٹرول آٹا سستا کرے گے جن کی قیمتیں انہوں نے خود آسمانوں تک پہنچائی ہے کیا یہ کہے گے اکانومی بہتر کرے گے اس کا بیڑا غرق تو انہوں نے خود کیا ہے کہاں انہیں سولہ سترہ ارب ڈالر خزانہ عمران خان قاسم کے ابا سے ملا تھا اور انہوں نے صر ف ڈیڑھ سال میں تین چار ارب ڈالر پر پہنچا دیا امن و امان کا عالم یہ ہے کہ خود بار بار عدالتوں میں کہتے رہے ہے ملکی حالات انتہائی خراب ہے یہ تو ڈیڑھ سال میں آئی ایم ایف کو نہیں منا سکے اپنی کارکردگی سے انہوں نے انہیں جوتے کی نوک پر رکھا ہوا ہے کوئی پروگرام ان کے ساتھ سائن نہیں کیا ۔۔۔ کوئی ملک ان کی امداد نہیں کر رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب انہوں نے جس چھوٹی سی بات سے امید لگائی ہے کہ تحریک انصاف کے لوگ چھوڑ رہے ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پچاس پچاس سال کا تجربہ رکھنے والے سیاسی پنڈٹ کہتے ہے یہ بھی ن لیگ اور اس کی اتحادیوں یعنی پی ڈی ایم کے خلاف جائے گی اس وقت تحریک انصاف چھوڑنے والے وہ سارے زیادہ تر وہی لوگ ہے جو پہلے بھی کئی کئی جماعتیں بدل چکے ہے جیسے ڈبو فواد کو ہی لے لیں وہ پہلے پیپلز پارٹی اور پھر قائد لیگ مشرف لیگ پتا نہیں کہاں کہاں کئی کئی جگہوں پر منہ مار چکا ہے اسی طرح جہانگر ترین علیم خان فیاض چوہان فردوس اعوان وغیرہ وغیرہ بھی پہلے کئی کئی پارٹیاں بدل چکے ہے ان اپنا نہ کوئی نظریہ نہ ووٹ ہے لہذا اب تحریک انصاف میں ان کا نظریاتی کارکن اوپر آ جائے گا جو کہ ہمارے لیے انتہائی سخت حریف ثابت ہو گا جس میں ان بھاگنے والو سے زیادہ ثابت قدمی ہو گی لہذا ہمیں ڈر ہے کہ یہ زیادہ مظبوط ہو کر سامنے آئے گے کیوں کہ الیکٹیبلز لینے کی وجہ سے ان میں اور پرانے ورکر ز میں ایک خلا ہو ا کرتا تھا جس کا ہمیں فائدہ ہوتا تھا اب وہ خلا ختم ہو گیا تو یہ زیادہ سخت جان حریف ہوں گے اپنا ووٹ بنک پہلے سے زیادہ مضبوتی سے منظم کرے گے


اور ویسے بھی عمران خان کی جماعت اپنے حلقوں میں کئی کئی مقابلہ کرنے والے کارکن رکھتی ہے ایک حلقے میں کئی کئی کینڈیٹ ہے لوگ ٹکٹ لینے کے لیے بڑے جزباتی ہوتے ہے اس کی مثال علیم خان کا حلقہ گڑھی شاہو لے لیجیے جس میں ایک عام سے ورکر شبیر گجر نے بائی الیکشن میں حمزہ شہباز کی صوبائی حکومت ہونے کے باوجود شکست دی تھی جبکہ اس کے مقابلے پر نزیر احمد چوہان تھا جسے حکومتی ہر طرح سے حمایت حاصل تھی علیم خان اس پر بے دریغ پیسہ خرچ کر رہا تھا لیکن چالیس ہزار ووٹ لے کر چودہ ہزار کی چوہان کو لیڈ مار کر شبیر گجر چیتے کی طرح جیتا تھا چوہان دوران کمپین ہر حربہ آزمایا تھا پولیس اس کے ساتھ تھی انہیں ملا کر شبیر گجر کو کمپین سے روکا تھا اس کے جلسے تک چوہان نہیں ہونے دیتا تھا کہیں کمپین دفتر نہیں کھلنے دیتا تھا اس پر میڈیا بھی چیخ اٹھا تھا اور پھر جتنے پر کہتا تھا کمال سیٹ لی ہے شبیر گجر نے دوسرے لفظوں دھول چٹا دی اپنے مخالف کو گجر نے شیر کے جبڑے سے سیٹ نکالی تھی جبکہ یہ ایک عام پی ٹی آئی کا کارکن تھا جناب الیکشن میں انتقامی کاروائی بڑی مہنگی پڑتی ہے سارا ہمدردی کا ووٹ ادھر مخالف کو شفٹ ہو جاتا ہے یعنی ہر تدبیر الٹ پڑتی ہے یہ ایک سیٹ کی روداد تھی جب پورے ملک میں جنرل الیکشن ہو گا ماوں نے بچے نہیں سبھال پانا پھر میدان سجے گا انتقامی کاروائی کرنا انتہائی مشکل ہو گا انتظامیہ صرف امن و امان کو برقرا رکھنے پھنسی ہو گی تب لگے گا پتا کیا بھاو بکتی ہے بڑے بڑے ششدر رہ جائے گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ کے پی کے تو ذرا فرق نہیں پڑنا بلکہ اب انہوں نے یہ اپنی ناک کا مسئلہ بنا لیا ہے جب سے پنجاب سے پیغام جا رہے کہ یہاں پی ٹی آئی پر پر بڑا ظلم ہو رہا ہے وہاں تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے کہ تیسری مرتبہ پھر عمران خان پی ٹی آئی کو لانا ہے مولانا کے چودہ چبق روشن ہے کیا بنے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے بھی ن لیک اس وقت بھی بڑی قابل رحم حالت سے گزر رہی ہے اس کی ہوم گارونڈ پنجاب مشکل میں ہے اگر بڑا جلسہ کرے اور اپنی مقبولیت کا دعوی کرے تو فورا اسے کہا جاتا ہے تو پھر الیکشن سے کیوں بھا گ رہے ہو کرو اعلان فورا الیکشن میں جاو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر اپنی حکومت کی کامیابی کا دعوی کر بیٹھے تو لوگ کہتے چلو الکیشن کراو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے نواز شریف اتنا حالات سے ڈرے ہوئے کہ قریب پاکستان آکر سعودی عرب عمرہ کرکے پاکستان نہیں آئے وہاں سے ہی پتلی گلی سے واپس بھاگ گئے جبکہ یہاں پاکستان میں ان کے بھائی کی حکومت ہے یعنی سب تدبیرے الٹ پر رہی ہے کوئی چورن نہیں بک رہا کوئی پھکی کام نہیں آ رہی پریس کانفرنسوں میں بھی اداکاری کرنی پڑتی ہے ابھی اردگان سے ملاقات کی تو آم کا شارہ لے بیٹھا شہباز سپیڈ تو بری طرح پٹ گئی حمزہ تو باہر نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہا اس قدر ڈر گیا ہے وام کارکن کا کیا حال ہو گا دوچار دن کی رونقیں رہ گئی ہے پھر عوام کی عدالت میں ہونا ہے
Iss bhagori ko bhi pata hai ke Imran Khan na naam loon gi to taqreer ban ho jae gi