Report: Covid-19 patients recovering quickly after getting experimental drug remdesivir


Chief Minister (5k+ posts)

(CNN) Covid-19 patients who are getting an experimental drug called remdesivir have been recovering quickly, with most going home in days, STAT News reported Thursday after it obtained a video of a conversation about the trial.

The patients taking part in a clinical trial of the drug have all had severe respiratory symptoms and fever, but were able to leave the hospital after less than a week of treatment, STAT quoted the doctor leading the trial as saying.

"The best news is that most of our patients have already been discharged, which is great. We've only had two patients perish," Dr. Kathleen Mullane, an infectious disease specialist at the University of Chicago who is leading the clinical trial, said in the video.
Mullane did not immediately respond to a request for comment from CNN.

The University of Chicago said Mullane's comments constituted partial information.

"Partial data from an ongoing clinical trial is by definition incomplete and should never be used to draw conclusions about the safety or efficacy of a potential treatment that is under investigation," it said in a statement.

"In this case, information from an internal forum for research colleagues concerning work in progress was released without authorization. Drawing any conclusions at this point is premature and scientifically unsound."

There is no approved therapy for the Covid-19, which can cause severe pneumonia and acute respiratory distress syndrome in some patients. But the National Institutes of Health is organizing trials of several drugs and other treatments, among them remdesivir.

The drug, made by Gilead Sciences, was tested against Ebola with little success, but multiple studies in animals showed the drug could both prevent and treat coronaviruses related to Covid-19, including SARS (Severe Acute Respiratory Syndrome) and MERS (Middle East Respiratory Syndrome)
Back in February, the World Health Organization said remdesivir showed potential against Covid-19.

STAT said it obtained and viewed a copy of the video discussion Mullane had last week with colleagues about the trial.

"Most of our patients are severe and most of them are leaving at six days, so that tells us duration of therapy doesn't have to be 10 days," she was quoted as saying.

However, the trial does not include what's known as a control group, so it will be difficult to say whether the drug is truly helping patients recover better. With a control arm, some patients do not receive the drug being tested so that doctors can determine whether it's the drug that is really affecting their condition.

Trials of the drug are ongoing at dozens of other clinical centers, as well. Gilead is sponsoring tests of the drug in 2,400 patients with severe Covid-19 symptoms in 152 trial sites around the world. It's also testing the drug in 1,600 patients with moderate symptoms at 169 hospitals and clinics around the world.

Gilead said it expected results from the trial by the end of the month.

"We understand the urgent need for a COVID-19 treatment and the resulting interest in data on our investigational antiviral drug remdesivir," the company said in a statement to CNN. But it said a few stories about patients are just that -- stories.

"The totality of the data need to be analyzed in order to draw any conclusions from the trial. Anecdotal reports, while encouraging, do not provide the statistical power necessary to determine the safety and efficacy profile of remdesivir as a treatment for Covid-19," Gilead said.

حالیہ دنوں میں امریکا اور کینیڈا میں مختلف تحقیقی رپورٹس میں نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے شکار افراد کے لیے تجرباتی دوا ریمیڈیسیور (Remdesivir) کے استعمال کے نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیا تھا۔

اب اس تجرباتی دوا کے حوالے سے توقعات میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب یہ امریکا کی معتبر ہیلتھ ویب سائٹ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ریمیڈیسیور کے استعمال کرنے والے مریض توقعات سے جلد صحتیاب ہوگئے اور چند دنوں میں گھر بھی واپس چلے گئے۔

شکاگو کے ایک ہسپتال میں ہونے والے ٹرائل کے دوران گیلاڈ سائنز کی تیار کردہ اس اینٹی وائرل دوا کے اثرات کا مریضوں پر باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ اس دوا کے استعمال سے مریضوں کے بخار اور نظام تنفس کی علامات بہت جلد ختم ہوگئیں اور ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں تمام مریضوں کو صحتیاب قرار دے کر ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔

یونیورسٹی آف شکاگو میڈیسین میں کووڈ 19 کے 125 مریضوں کو دوا ساز کمپنی کی کلینیکل ٹرائلز کے تیسرے مرحلے میں شامل کیا گیا تھا۔

125 میں سے 113 افراد میں بیماری کی شدت زیادہ تھی اور ان سب مریضوں کے علاج کے لیے ریمیڈیسیور سیال کو انجیکشن کے ذریعے روزانہ جسم میں انجیکٹ کیا گیا۔

شکاگو یونیورسٹی کی وبائی امراض کی ماہر اور اس تجرباتی دوا کی تحقیق کی نگرانی کرنے والی ڈاکٹر کیتھلین مولین نے بتایا 'بہترین خبر یہ ہے کہ ہمارے بیشتر مریض اب ڈسچارج ہوچکے ہیں، اب صرف 2 مریض باقی رہ گئے ہیں'۔

اس تجرباتی دوا کے حوالے سے مختلف ممالک میں کلینیکل ٹرائلز جاری ہیں جن میں کووڈ 19 کے خلاف اس کی افادیت کا جائزہ لیا جارہا ہے خصوصاً چین میں ایک بڑی تحقیق کے نتائج رواں ماہ کسی وقت سامنے آسکتتے ہیں۔

شکاگو یونیورسٹی کی تحقیق کے حوالے سے گیلاڈ نے اپنے بیان میں کہا 'اس مرحلے پر ہم بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہم دنیا بھر میں جاری اسٹڈیز کے نتائج کی دستیابی کے منتظر ہیں'۔

کمپنی نے بتایا کہ اس کے کووڈ 19 کے سنگین کیسز پر جاری کلینیکل ٹرائلز کے نتائج بھی اپریل میں سامنے آسکتے ہیں اور شکاگو یونیورسٹی کی ڈاکٹر کیتھلین مولین کے مطابق 400 مریضوں پر ہونے والی ایک الگ تحقیق کا ڈیٹا گیلاڈ نے لاک کرلیا ہے، یعنی وہ کسی بھی وقت جاری ہوسکتے ہیں۔

ڈاکٹر کیتھلین نے کوئی واضح نتیجہ بیان کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا 'یہ بہت مشکل ہے، کیونکہ اس تحقیق میں دیگر ادویات کا استعمال کرنے والے گروپ کا موازنہ نہیں کیا گیا، مگر جب ہم نے دوا کا استعمال شروع کیا، تو ہم نے دیکھا کہ بخار کی شدت میں کمی آنے لگی، ہم نے دیکھا جب مریض شدید بخار کے ساتھ آتے تو اس دوا سے اس میں فوری کمی آتی، ہم نے لوگوں کو علاج کے ایک دن بعد ہی وینٹی لیٹرز سے باہر آتے دیکھا، تو مجموعی طور پر ہمارے مریضوں پر اس دوا نے بہت اچھا کام کیا'۔

ان کا کہنا تھا 'ہمارے بیشتر مریضوں میں بیماری کی شدت بہت زیادہ تھی اور ان میں سے بیشتر 6 دن میں ڈسچارج بھی ہوگئے، تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ علاج کا دورانیہ 10 دن نہیں تھا، بہت کم مریض یعنی شاید 3 افراد ایسے تھے جن کو 10 دن میں ڈسچارج کیا گیا'۔

درحقیقت مریض کی شدت میں اضافے سے کووڈ 19 کے مریضوں میں اموات کا خطرہ بھی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے، تو 113 ایسے مریضوں کا اتنی جلد صحتیاب ہوکر ڈسچارج ہونا واقعی حیران کن ہے۔

گیلاڈ کی سنگین کیسز پر دنیا بھر میں 152 مختلف کلینکل ٹرائلز میں 24 سو مریضوں کو شامل کیا گیا ہے جبکہ 169 مختلف مراکز میں 16 سو معتدل مریضوں پر الگ ٹرائلز پر کام ہورہا ہے۔

ان ٹرائلز میں دوا سے 5 اور 10 روزہ علاج کے کورسز پر تحقیقات کی جارہی ہے اور بنیادی مقصد یہ دیکھنا ہے کہ مریضوں کے لیے دونوں کورسز میں سے زیادہ موثر کونسا ہے۔

رپورٹ میں شکاگو یونیورسٹی کی اس تحقیق کا حصہ بننے والے ایک مریض کا احوال بھی بیان کیا گیا۔

57 سالہ سلوامیر مائیکلک شکاگو کے ایک معمولی فیکٹری ورکر ہیں اور ان کی ایک بیٹی مارچ کے آخر میں بیمار ہوئی اور بعد میں اس میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی۔

جس کے بعد سوالمیر کو بھی تیز بخار، سانس لینے میں مشکل اور کمر میں شدید درد کی شکایت ہوئی اور ان کا کہنا تھا 'مجھے ایسا لگتا تھا جیسے کوئی میرے پھیپھڑوں پر مکے مار رہا ہے'۔

بیوی کے زور دینے پر وہ 3 اپریل کو شکاگو یونیورسٹی کے میڈیسین ہاسپٹل گئے، اس وقت بخار 104 تک پہنچ چکا تھا اور سانس لینے مٰں مشکل ہوورہی تھی۔

وہاں انہیں آکسیجن دی گئی اور ان کی اجازت پر انہیں تجرباتی دوا کے ٹرائل میں شامل کرلیا گیا۔

4 اپریل کو پہلی بار انہیں ریمیڈیسیور کا استعمال کرایا گیا 'میرا بخار لگ بھگ فوری طور پر ختم ہوگیا اور میں خود کو بہتر محسوس کرنے لگا'۔

اتوار کو دوسری ڈوز کے بعد انہیں آکسیجن سے نکال لیا گیا اور مزید 2 دن دوا کا استعمال کرنے کے بعد حالت اتنی بہتر ہوگئی کہ انہیں 7 اپریل کو ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔

ان کے اپنے الفاظ میں 'ریمیڈیسیور تو ایک کرشمہ ہے'۔

اور دنیا بھی یہ جاننے کے لیے بے تاب ہے کہ کیا واقعی یہ دوا اس وبائی مرض کے خاتمے کے لیے کرشماتی اثر رکھتی ہے یا نہیں۔



Prime Minister (20k+ posts)
Allah karay..C virus ki jald medicine Nikal aya...But these medicines are not new..They already used in others chloroquine..Anti Malaria also mentioned for C virus..But I think best news will be when Vaccine announce for C virus...
Sponsored Link