یورپی پارلیمان میں دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے حزب کی تشکیل نو

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
یورپی پارلیمان میں دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے حزب کی تشکیل نو

یورپی پارلیمان کے گزشتہ ماہ ہونے والے انتخابات میں دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتوں کے لیے عوامی حمایت میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا تھا اور اب ان سیاسی جماعتوں نے پارلیمان میں اپنے نئے حزب کی تشکیل نو بھی کر لی ہے۔

یورپی یونین کے رکن 28 ممالک میں مئی میں ہونے والے الیکشن میں جس نئی یورپی پارلیمان کا انتخاب کیا گیا تھا، اس کا اولین اجلاس اب ہونے ہی والا ہے۔ اس اجلاس سے قبل ایوان میں نمائندگی کے حامل اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے دائیں بازو کے انتہا پسند اور عوامیت پسند ارکان نے خود کو ایک نئے حزب کی صورت میں منظم کر لیا ہے۔

ان منتخب ارکان کی تعداد اگرچہ ماضی کے مقابلے میں نئی پارلیمان میں کافی زیادہ ہے تاہم یہ بات بھی طے ہے کہ وہ نئی پانچ سالہ پارلیمانی مدت میں یورپی یونین کی اس مقننہ کی طرف سے کی جانے والی قانون سازی پر صرف محدود حد تک ہی اثر انداز ہو سکیں گے۔

فرانسیسی شہر اسٹراسبرگ میں یورپی پارلیمان کے اس نئے دھڑے نے خود کو اٹلی میں حکمران اور دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت 'لیگا‘ کی قیادت میں منظم کیا ہے اور اس میں مجموعی طور پر یونین کے رکن 28 میں سے نو ممالک سے تعلق رکھنے والی دائیں بازو کی قوم پسند، عوامیت پسند اور سخت گیر سیاسی جماعتوں کے ارکان شامل ہیں۔

یہ نیا یورپی پارلیمانی حزب اطالوی عوامیت پسند جماعت 'لیگا‘ کے ایک منتخب رہنما مارکو زَینی کی قیادت میں قائم کیا گیا ہے، جنہوں نے اس دھڑے کی تشکیل کے بعد کی جانے والی تعارفی پریس کانفرنس میں یورپی یونین اور اس کی پالیسیوں سے متعلق اس دھڑے کے تنقیدی اہداف و مقاصد پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی۔

'یورپی سپر اسٹیٹ‘ کی مخالفت
اس پریس کانفرنس میں مارکو زَینی نے قوم پسندوں کے اس دھڑے کے اغراض و مقاصد کی وضاحت کرتے ہوئے زور دے کر کہا کہ یہ حزب یورپی یونین کو آئندہ ایک 'یورپی سپر اسٹیٹ‘ بننے سے روکنے کی کوشش کرے گا اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں رہے گا کہ مالی وسائل کے استعمال کے حوالے سے رکن ریاستوں کی خود مختاری کا زیادہ سے زیادہ احترام کیا جانا چاہیے اور یونین رکن ممالک کے داخلی معاملات میں بالکل کوئی مداخلت نہ کرے۔

مارکو زَینی ماضی میں اطالوی عوامیت پسند جماعت 'فائیو سٹار موومنٹ‘ کے رکن تھے لیکن پھر انہوں نے اپنی سیاسی ہمدردیاں تبدیل کرتے ہوئے انتہائی دائیں بازو کی پارٹی 'لیگا‘ یا لیگ میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ مارکو زَینی کی پارٹی کے سربراہ ماتیو سالوینی موجودہ مخلوط اطالوی حکومت میں وزیر خارجہ ہیں۔

مارین لے پین اپنی مہاجرین اور یورپی یونین مخالف سوچ کی وجہ سے شہرت رکھتی ہیں۔ وہ فرانس کی عوامیت پسند جماعت نیشنل ریلی (سابقہ نیشنل فرنٹ) کی سن 2011 سے قیادت کر رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی جماعت سے متعلق عوامی تاثر کو زیادہ اعتدال پسند معتدل بنانے کی کوشش کی ہے۔

اس پارلیمانی دھڑے میں شمالی یورپی ملک فن لینڈ کی سیاسی جماعت 'فِنز پارٹی‘ بھی شامل ہے، جس کے سربراہ یُوسی ہالا آہو نے اس موقع پر کہا کہ یورپی مشترکہ کرنسی یورو کو سرے سے ختم کر دیا جانا چاہیے اور یونین کے رکن 19 ممالک پر مشتمل جس کرنسی اتحاد کی رکن ریاستیں یورو کو اپنی مشترکہ کرنسی کے طور پر استعمال کر رہی ہیں، اسے سرے سے ہی تحلیل کر دیا جانا چاہیے۔

اس بارے میں جرمنی میں اسلام اور مہاجرین کی مخالف کرنے والی دائیں بازو کی عوامیت پسند جماعت متبادل برائے جرمنی یا اے ایف ڈی کے ایک رہنما ژورگ موئتھن نے یورو کو مشترکہ کرنسی کے طور پر ختم کر دینے کی بات تو نہ کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ جرمنی یورو کی صورت میں یورپی مالیاتی اتحاد سے اتنا فائدہ نہیں اٹھا رہا، جتنا کہ عام طور پر دعویٰ کیا جاتا ہے۔ اس پارلیمانی دھڑے میں اٹلی، فرانس، جرمنی، فن لینڈ اور آسٹریا سمیت کل نو ممالک سے تعلق رکھنے والے یورپی پارلیمانی ارکان شامل ہیں۔

جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت الٹرنیٹو فار ڈوئچ لینڈ کی لیڈر فراؤکے پیٹری نے تجویز کیا تھا کہ جرمن سرحد کو غیرقانونی طریقے سے عبور کرنے والوں کے خلاف ہتھیار استعمال کیے جائیں۔ یہ جماعت جرمنی میں یورپی اتحاد پر شکوک کی بنیاد پر قائم ہوئی اور پھر یہ یورپی انتظامی قوتوں کے خلاف ہوتی چلی گئی۔ کئی جرمن ریاستوں کے انتخابات میں یہ پارٹی پچیس فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

پانچواں بڑا پارلیمانی دھڑا
یورپی پارلیمان میں دائیں بازو کے قوم پسندوں، انتہا پسندوں اور عوامیت پسندوں پر مشتمل یہ دھڑا ایوان کا پانچواں بڑا حزب ہے۔ اس کے ارکان کی مجموعی تعداد 73 بنتی ہے اور اس دھڑے نے اپنا نام 'شناخت اور جمہوریت‘ رکھا ہے۔ اس دھڑے سے قبل پارلیمان کے باقی چار بڑے حزب یہ ہیں: کرسچین ڈیموکریٹس (179 ارکان)، سوشل ڈیموکریٹس (152 ارکان)، لبرل (110 ارکان) اور گرین (76 ارکان)۔

یونین کے دوست اور ناقد
نو منتخب یورپی پارلیمان یورپی یونین کا نواں جمہوری طور پر منتخب قانون ساز عوامی ادارہ ہے، جس کے ارکان کو سیاسی نظریات اور پارٹی شناخت کی بنیادوں پر دو بڑے اور واضح گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس نئی پارلیمان کے ارکان کی تعداد 751 ہے، جن میں سے 473 یورپی یونین کے 'دوست‘ ہیں جب کہ 251 یونین کے 'ناقد‘ یا 'مخالف‘ ہیں۔ مجموعی طور پر 27 ارکان ایسے بھی ہیں، جن کے بارے میں یہ واضح نہیں کہ وہ یورپی یونین کی حمایت کرتے ہیں یا اس بلاک پر تنقید۔

source
 

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
بھارت میں ہندو انتہا پسندوں دوسری مرتبہ حکومت بنا لی. یورپ میں انتہا پسند روز بہ روز مقبولیت حاصل کر رہے ہیں. آخر یہ انتہا پسند پیدا کی فیکٹریاں لگی کہاں ہیں!؛
 

Liberal 000

Chief Minister (5k+ posts)
بھارت میں ہندو انتہا پسندوں دوسری مرتبہ حکومت بنا لی. یورپ میں انتہا پسند روز بہ روز مقبولیت حاصل کر رہے ہیں. آخر یہ انتہا پسند پیدا کی فیکٹریاں لگی کہاں ہیں!؛

Yeh factory Muslim Countries mein lagi hai.... Hindu aur European Muslamno ko dekh dekh ky Musalmano ky raag mein dhal rahy hain
 

muhammadadeel

Chief Minister (5k+ posts)
Only Muslims are Terrorists. We never heard Hitler is a terrorist even after murdering 6 million jews. If Muslims don't compete, educate themselves with latest technology then we can only complain.

بھارت میں ہندو انتہا پسندوں دوسری مرتبہ حکومت بنا لی. یورپ میں انتہا پسند روز بہ روز مقبولیت حاصل کر رہے ہیں. آخر یہ انتہا پسند پیدا کی فیکٹریاں لگی کہاں ہیں!؛
Pakistan Maay tum jasaay intaha pasanad haay tu wahan kioun nahi ho saktay? Shaitaan har jaga haay
 

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
Yeh factory Muslim Countries mein lagi hai.... Hindu aur European Muslamno ko dekh dekh ky Musalmano ky raag mein dhal rahy hain
آر ایس ایس کی بنیاد تقریبا سو برس قبل رکھی گئی تھی. سفید انتہا پسند دو سال پہلے سے موجود ہیں. افغان جہاد نصف صدی کا قصہ ہے
 

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
Pakistan Maay tum jasaay intaha pasanad haay tu wahan kioun nahi ho saktay? Shaitaan har jaga haay
پاکستان انتہا پسندوں کی حکومت نہیں ہے
اس منطق کے مطابق پاکستان میں بھی انتہا پسندوں کی حکومت ہونی چاہے
 

Liberal 000

Chief Minister (5k+ posts)
پاکستان انتہا پسندوں کی حکومت نہیں ہے
اس منطق کے مطابق پاکستان میں بھی انتہا پسندوں کی حکومت ہونی چاہے
Ye Indian pagal hai Liberal 000 . Zero grasp of history / current affairs etc. Just ignore!


Imran , Bhutto , Zia , Nawaz , Benazir sab intiha pasand hi tu hain/thay . Indian constitution ajj bhi secular hai jabky Pakistani constitution aik Islamic dastazeez hai

Imran Riasat Median ki Baat kary tu secular Modi Ram Raj ki Baat kary tu Intiha Pasand

Wah ji Kya mantak hai kay Insaaf hai
 

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
Imran , Bhutto , Zia , Nawaz , Benazir sab intiha pasand hi tu hain/thay . Indian constitution ajj bhi secular hai jabky Pakistani constitution aik Islamic dastazeez hai

Imran Riasat Median ki Baat kary tu secular Modi Ram Raj ki Baat kary tu Intiha Pasand

Wah ji Kya mantak hai kay Insaaf hai
آئین کی حد ، حقیت میں تک انڈیا اتنا ہی سیکولر ہے جتنا پاکستان مذہبی

حال ہی میں ریاست مدینہ بنانے والوں کی اسمبلی شراب پر پابندی لگانے کی درخواست مسترد کر چکی ہے. ماضی کی حکومت سود کے حق میں عدالت گئی