ہو نگاہ کرم

الرضا

Senator (1k+ posts)
ایک جملہ جو اہل معاشیات سے سننے کو ملتا ہے، مناسب نہیں لگتا کہ، کسی شے کی طلب بڑھے تو اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ اس اصول کی سادہ تشریح یہ ہے کہ رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں۔ خربوزہ جو چالیس روپے کلو تھا، ایک سو بیس روپے کا ہو جاتا ہے۔ ستّر روپے فی درجن کیلوں کی قیمت ایک سو بیس تیس ہو جاتی ہے۔ لیموں چار سو روپے کلو۔ سب سے زیادہ منافع خوری پھلوں اور سبزیوں کے تاجر کرتے ہیں۔ اس منافع خوری کی وجہ سے کم آمدنی والے مسلمان گھرانوں کے دستر خوان سکڑ کر اور مختصر ہو جاتے ہیں۔

میری مخیر حضرات سے درد مندانہ اپیل ہے کہ آپ لوگ ہر رمضان کروڑوں اربوں زکوٰۃ خیرات کی مد میں ہسپتالوں، یتیم خانوں، مدرسوں میں دیتے ہیں، تھوڑی زکوٰۃ خیرات سبزی منڈی کے تاجروں اور منافع خوروں کے لیے بھی نکال لیں، کیوں کہ ان کے حلق سے ظلم اور حرام کا نوالہ بہ آسانی اتر جاتا ہے، زکوٰۃ خیرات بھی اتر جانی چاہیے۔ اگر کم آمدنی والے غیرت مند اور سفید پوش گھرانے زکوٰۃ و خیرات قبول کر سکتے تو میں آپ سے ان کی امداد کی درخواست بھی کر لیتا۔

پیشہ ور بھکاری یا عادی زکوٰۃ خوروں کا کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ رمضان ہو یا محرم یا جمعے کا دن، ان کو جھولی بھر پیسے ملتے ہیں۔ ظلم اور زیادتی کے پاٹوں کے بیچ پستا ہے تو سفید پوش غریب مسلمان، جو اپنی غیرت کے ہاتھوں بھوکا مر جائے گا، دست سوال دراز نہیں کرے گا۔

میرے خیال میں ہماری محبت اور سخاوت و اخوت کے اصل حقدار یہی سفید پوش ہیں جو بھیک نہیں مانگتے، زکوٰۃ نہیں لیتے۔ آپ کا ڈرائیور، مالی، گھریلو ملازمہ (جو لالچی اور بھکاری نہ ہو)، فیکٹری ملازم، سیکیورٹی گارڈز، عام مزدور، سڑک کنارے دھوپ اور گرمی سے پگھلتے ہوئے کام کے انتظار میں محنت کش، بے تحاشہ لوگ وہ سفید پوش ہیں جنہیں ہماری محبت اور توجہ کی اشد ضرورت ہے۔ منافع خوروں اور ظالموں نے ان کے دسترخوان تقریباً لپیٹ دیئے ہیں۔ ان کو اپنے طعام و انعام میں یاد رکھیئے۔
 
Last edited by a moderator:

There is only 1

Chief Minister (5k+ posts)
معملا اتنا آسان نہیں
ہم سب لوگ کسی چیز کی قدر و قیمت کا تعین کرنے کی بجائے دوسرے کو دبا کر قیمت /مزدوری /اجر کم سے کم کروانے کی کوشش کرتے ہیں پھر جب کسی چیز کی ڈیمانڈ بڑھ جائے تو پھر بیچنے والا بھی بدلہ اتارتا ہے
 

Irfan_balouch

Senator (1k+ posts)
ساری دینیات کی کتاب کو میں نظرانداز کر کے صرف کاروبار کی بات پر کمنٹ کر دیتا ہوں مسئلہ طلب و رسد کا نہیں بلکہ مسئلہ دلال کا ہے۔ پاکستان کے معاشی مسائل کا اصلی ذمہ دار یہ دلال ہے۔ جو ہمارے بڑے بڑے عالم و فاضل ماہر معاشیات کو سمجھ میں نہیں آیا اب تک۔