کھیلوں کے معاملات اور حکمرانوں کے جذباتی فیصلے

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
کھیلوں کے معاملات اور حکمرانوں کے جذباتی فیصلے

حکمرانوں کے عام فیصلے کتنے جذباتی یا غیرجذباتی ہوتے ہیں؟ اس کا انحصار ان کے مزاج اور حالات پر ہوتا ہے لیکن اگر حکمران کھیلوں کے معاملات میں جذباتی ہوجائیں تو اسے کیا کہا جائے؟ کھیلوں سے ان کی غیرمعمولی دلچسپی یا اپنی بات منوانے کی ضد۔

ہاکی امپائر کی وجہ سے سفارتی تعلقات خطرے میں
سنہ 1972 کے میونخ اولمپکس کو پاکستانی ہاکی کی تاریخ کا سیاہ ترین باب کہا جاتا ہے۔ فائنل میں مغربی جرمنی کے ہاتھوں ایک گول کی شکست کو پاکستانی ٹیم نے سپورٹس مین سپرٹ نہ دکھاتے ہوئے قبول نہ کیا اور شکست کی بڑی وجہ خراب امپائرنگ خصوصاً ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے امپائر سرویٹو کے کھاتے میں ڈال دی۔

فائنل کے بعد جب مغربی جرمنی کا پرچم لہرایا گیا تو پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں نے اپنی پیٹھ اس کی طرف کردی اور اپنے چاندی کے تمغے گلے میں پہننے کے بجائے ہاتھوں میں وصول کیے۔

ٹیم کے ایک کھلاڑی شہناز شیخ اپنا تمغہ اپنی چپل میں لٹکاتے ہوئے نظر آئے جبکہ اس موقع پر انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے صدر رینی فرینک پر پانی کی بالٹی بھی انڈیل دی گئی۔

انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے اس واقعے کے بعد پاکستانی ہاکی ٹیم کے کپتان اسد ملک سمیت گیارہ کھلاڑیوں پر تاحیات پابندی عائد کردی جو بعد میں اٹھالی گئی تھی۔

میونخ اولمپکس کے فائنل کی ریڈیو کمنٹری سننے کے بعد پاکستان میں شدید ردعمل سامنے آیا۔

پاکستان کے اس وقت کے صدر ذوالفقار علی بھٹو نے ساری صورتحال کا ذمہ دار ارجنٹائن کے امپائر سرویٹو کو قرار دیتے ہوئے ارجنٹائن سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دے ڈالی لیکن بیگم نصرت بھٹو نے انھیں ایسا کرنے سے روک دیا۔

بیگم نصرت بھٹو نے صدر بھٹو کو مشورہ دیا کہ وہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اس میچ کی ریکارڈنگ ضرور دیکھ لیں تاکہ اصل صورتحال معلوم ہوسکے۔

جب فائنل کی ریکارڈنگ دیکھی گئی تو صورتحال اس سے بالکل مختلف تھی جو کمنٹیٹرز نے اپنی کمنٹری میں بیان کی تھی۔

صدر بھٹو نے فوری طور پر کمنٹیٹرز ایس ایم نقی اور فاروق مظہر پر پابندی عائد کرنے کا حکم دے ڈالا کیونکہ انھوں نے اپنی کمنٹری میں ایسا منظر پیش کیا تھا جیسے ٹیم صرف اورصرف امپائرنگ کی وجہ سے ہی ہاری ہو۔

صدر بھٹو پاکستانی ہاکی ٹیم سے اس قدر بد ظن ہوگئے تھے کہ انھوں نے وطن واپسی پر تمام کھلاڑیوں کو ایوان صدر طلب کرلیا لیکن پہلا دن ملاقات کے بغیر گزر گیا۔

دوسرے دن ٹیم کو دوبارہ بلایا گیا اور انتظار کرانے کے بعد کھلاڑیوں سے کہا گیا کہ صدر صاحب آپ سے ملنا نہیں چاہتے۔

صدر بھٹو نے کراچی میں جرمن کاروباری شخصیات کی ایک تقریب میں تقریر کرتے ہوئے پاکستانی کھلاڑیوں کی جانب سے جرمن پرچم کا احترام نہ کرنے پر مغربی جرمنی سے بھی باقاعدہ معافی مانگی تھی۔

اندرا گاندھی فائنل چھوڑ کر چلی گئیں

سنہ 1982 میں نئی دہلی میں منعقدہ ایشین گیمز کے فائنل میں سمیع اللہ کی قیادت میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے انڈیا کو ایک کے مقابلے میں سات گول سے آؤٹ کلاس کردیا تھا۔

سمیع اللہ کہتے ہیں کہ یہ فائنل دیکھنے کے لیے انڈین وزیراعظم اندرا گاندھی بھی سٹیڈیم میں موجود تھیں۔ انھیں میچ کے اختتام پر کھلاڑیوں کو میڈلز بھی دینے تھے۔

بھارتی ہاکی فیڈریشن کے حکام انھیں یہ کہہ کر سٹیڈیم میں لائے تھے کہ یہ گولڈمیڈل بھارت کا ہی ہے لیکن ایسا نہ ہوسکا اور جب پاکستانی ٹیم نے پانچواں گول کردیا تو اندرا گاندھی اتنی مایوس ہوئیں کہ میچ ادھورا چھوڑ کر سٹیڈیم سے چلی گئیں۔

سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ اندرا گاندھی کے جانے کے بعد سٹیڈیم بھی تقریباً چالیس فیصد خالی ہوگیا تھا۔

حسینہ واجد بھی اسٹیڈیم سے چلے جانے پر مجبور

اندرا گاندھی کی طرح بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کے ساتھ بھی یہی صورتحال پیش آئی۔

وہ 2012 کے ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کا فائنل دیکھنے کے لیے ڈھاکہ سٹیڈیم میں آئی تھیں اور انھیں بھی اپنے ہموطن تماشائیوں کی طرح اپنی ٹیم کی جیت کا یقین تھا۔

لیکن ان کا موڈ اسوقت یکسر تبدیل ہوگیا جب میچ کے آخری اوور میں بنگلہ دیشی ٹیم جیت کے لیے درکار نو رنز بنانے میں ناکام رہی اور پاکستان فائنل جیت گیا جس کے بعد حسینہ واجد اپنی نشست سے اٹھیں اور چلی گئیں۔

ضیاء الحق کا عمران خان کو فون

سنہ 1986 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کا دورۂ سری لنکا امپائرنگ تنازع سے بری طرح متاثر ہوا تھا۔

جب پاکستانی ٹیم دورہ شروع کرنے والی تھی تو سری لنکا میں پاکستان کے سفیر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو بتا دیا تھا کہ یہاں فضا اس کے لیے سازگار نہیں ہے کیونکہ اس سے قبل جب سری لنکن ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا تھا تو اسے وہاں امپائرنگ کی شکایت رہی تھی اور پاکستانی سفیر کے بقول سری لنکا والے حساب بے باق کرنے کے لیے تیار تھے۔

سیریز کے دوران پاکستانی ٹیم کے کپتان عمران خان مسلسل سری لنکن امپائرز پر جانبداری برتنے کا الزام عائد کرتے رہے۔

انھیں سری لنکا کے میڈیا سے بھی شکایت تھی جو ان کے خیال میں جانبدارانہ رپورٹنگ کررہا تھا۔ پاکستانی حکومت نے اصل صورتحال معلوم کرنے کے لیے سرکاری خبررساں ایجنسی اے پی پی کے سینئیر رپورٹر انیس الدین خان کو دورے کے درمیان سری لنکا روانہ کیا۔

سیریز کے دوران امپائرز اور پاکستانی کرکٹرز کے درمیان طنزیہ بیان بازی زوروں پر تھی۔

یہاں تک کہ میچ کے دوران کسی تماشائی نے جاوید میانداد پر فقرے کسے تو وہ اسے سبق سکھانے کے لیے سٹینڈ میں پہنچ گئےتھے۔

اس سیریز کے دوران ایک موقع ایسا بھی آیا جب عمران خان نے دورہ ختم کرکے ٹیم کو واپس پاکستان لے جانے کے بارے میں فیصلہ کرلیا ۔

بتایا جاتا ہے کہ سری لنکا کے صدر جے وردھنے نے اس صورتحال میں صدر ضیاء الحق سے رابطہ کیا تھا۔صدرضیاء الحق نے عمران خان کو فون کرکے یہ بات واضح کردی کہ یہ دورہ ہر صورت میں جاری رہے گا۔

کیری پیکر کے کھلاڑی ٹیم میں نہ آنے پائیں

صدر ضیاء الحق نے آسٹریلیا میں کیری پیکر ورلڈ سیریز میں جانے والے پاکستانی کرکٹرز کی پاکستانی ٹیم میں واپسی کے بارے میں ایک اجلاس بلایا جس میں سابق کپتان جاوید برکی نے انھیں مشورہ دیا کہ ان کرکٹرز کو انگلینڈ کے دورے کے لیے ٹیم میں شامل کیا جانا چاہئے۔

تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر چوہدری محمد حسین اور عبدالحفیظ کاردار اس کے حق میں نہیں تھے جس کی وجہ سے صدر ضیاء الحق نے بھی کہہ دیا کہ ان کھلاڑیوں کی ہمیں ضرورت نہیں۔

انگلینڈ کے دورے میں پاکستانی ٹیم کو بری طرح شکست سے دوچار ہونا پڑا جس پر صدر ضیاء الحق غصے میں آگئے اور انھوں نے دورے کے درمیان ہی ٹیم میں تبدیلی کرنی چاہی جس پر انھیں بتایا گیا کہ ایسا ممکن نہیں ہے۔

اس دورے کے فوراً بعد انھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ تحلیل کرکے لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) کے ایم اظہر کی سربراہی میں ایڈ ہاک کمیٹی قائم کردی۔

کیری پیکر سیریز میں حصہ لینے والے کرکٹرز عمران خان۔ مشتاق محمد۔ آصف اقبال اور ظہیرعباس کی پاکستانی ٹیم میں واپسی بھارت کے خلاف ہوم سیریز میں ہوئی تھی۔

صدر ضیاء الحق 1987ء میں بھی اس وقت شہ سرخیوں میں آئے تھے جب پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے اور ایسے موقع پر وہ کرکٹ ڈپلومیسی کا سہارا لے کر جے پور ٹیسٹ میچ دیکھنے اچانک انڈیا پہنچ گئےتھے۔
 

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
سیکولر ریاستوں کی لبرل وزرا اعظم بہت ہی کم ظرف اور متعصب ثابت ہوئیں
_111514384_a1c9f6ec-126d-46e3-865c-db8d64a18c05.jpg

_111514386_3d3652d2-40b4-415d-9d2e-089f9e91eaee.jpg
 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
خان صاحب اگر سیاست میں آنے کی بجائے کرکٹ میں جاتے جس کی انہیں بہت سمجھ تھی تو وہ ملک کے لئے بہت زیادہ خدمات انجام دے سکتے تھے - کرکٹ میں وہ کرکٹرز کے ٹیلنٹ کو پہچاننے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے تھے اس سے ملک کو شاندار کھلاڑی مل سکتے تھے - سیاست میں وہ مردم شناس نہیں ہیں بزدار ، محمود خان اور اسد عمر اس کی مثال ہیں - اسد عمر کو وہ خود نکال چکے اور دوسرے دو کے نکالنے کے لئے ان پر بہت دباؤ ہے - اگر کوئی سمجھتا ہے کہ خان صاحب کی وجہ سے سیاست بہتر ہوئی ہے تو وہ دو ہزار تیرہ کا نتیجہ دیکھ لے جب زرداری حکومت پانچ سال ناکام ہوئی تو تین صوبوں نے اسے مکمل دھتکار دیا - خان صاحب کرکٹ کا پورا ڈھانچہ بدل سکتے تھے کیونکے انہیں اس کی سمجھ تھی - سیاست کو مگر انہوں نے دشمنی میں بدل دیا آج نون اور تحریک انصاف والے ایک دوسرے سے اتنی نفرت کرتے ہیں جتنی کسی انڈین سے بھی نہیں کرتے اور گالی گلوچ اور لڑائی کا کلچر خان صاحب نے متعارف کرایا کیونکے کرکٹ میں کپتان ہوتے ہوئے وہ ساتھ کھلاڑیوں کو ایسے ہی گالیاں دیا کرتے تھے - وہ ملک کو کرکٹ کے انداز میں چلا رہے ہیں - کرپشن کی لڑائی شروع کر کے انہوں نے پورے ملک کو جام کر دیا کرپشن ایک وائرس نہیں جو دو چار مہینے یا سال میں ختم ہو جائے یہ پورے سسٹم میں ہے اور جمہوریت کے چلنے ، تعیلم کے عام ہونے اور ایک سسٹم کے بننے سے ختم ہو گا یہ نعروں سے ختم نہیں ہو سکتا نہ بدمحاشی سے جیسے خان صاحب ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں -
 

Okara

Prime Minister (20k+ posts)
خان صاحب اگر سیاست میں آنے کی بجائے کرکٹ میں جاتے جس کی انہیں بہت سمجھ تھی تو وہ ملک کے لئے بہت زیادہ خدمات انجام دے سکتے تھے - کرکٹ میں وہ کرکٹرز کے ٹیلنٹ کو پہچاننے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے تھے اس سے ملک کو شاندار کھلاڑی مل سکتے تھے - سیاست میں وہ مردم شناس نہیں ہیں بزدار ، محمود خان اور اسد عمر اس کی مثال ہیں - اسد عمر کو وہ خود نکال چکے اور دوسرے دو کے نکالنے کے لئے ان پر بہت دباؤ ہے - اگر کوئی سمجھتا ہے کہ خان صاحب کی وجہ سے سیاست بہتر ہوئی ہے تو وہ دو ہزار تیرہ کا نتیجہ دیکھ لے جب زرداری حکومت پانچ سال ناکام ہوئی تو تین صوبوں نے اسے مکمل دھتکار دیا - خان صاحب کرکٹ کا پورا ڈھانچہ بدل سکتے تھے کیونکے انہیں اس کی سمجھ تھی - سیاست کو مگر انہوں نے دشمنی میں بدل دیا آج نون اور تحریک انصاف والے ایک دوسرے سے اتنی نفرت کرتے ہیں جتنی کسی انڈین سے بھی نہیں کرتے اور گالی گلوچ اور لڑائی کا کلچر خان صاحب نے متعارف کرایا کیونکے کرکٹ میں کپتان ہوتے ہوئے وہ ساتھ کھلاڑیوں کو ایسے ہی گالیاں دیا کرتے تھے - وہ ملک کو کرکٹ کے انداز میں چلا رہے ہیں - کرپشن کی لڑائی شروع کر کے انہوں نے پورے ملک کو جام کر دیا کرپشن ایک وائرس نہیں جو دو چار مہینے یا سال میں ختم ہو جائے یہ پورے سسٹم میں ہے اور جمہوریت کے چلنے ، تعیلم کے عام ہونے اور ایک سسٹم کے بننے سے ختم ہو گا یہ نعروں سے ختم نہیں ہو سکتا نہ بدمحاشی سے جیسے خان صاحب ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں -
What kind of talent is possessed by Nawaz Sharif?
 

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
خان صاحب اگر سیاست میں آنے کی بجائے کرکٹ میں جاتے جس کی انہیں بہت سمجھ تھی تو وہ ملک کے لئے بہت زیادہ خدمات انجام دے سکتے تھے - کرکٹ میں وہ کرکٹرز کے ٹیلنٹ کو پہچاننے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتے تھے اس سے ملک کو شاندار کھلاڑی مل سکتے تھے - سیاست میں وہ مردم شناس نہیں ہیں بزدار ، محمود خان اور اسد عمر اس کی مثال ہیں - اسد عمر کو وہ خود نکال چکے اور دوسرے دو کے نکالنے کے لئے ان پر بہت دباؤ ہے - اگر کوئی سمجھتا ہے کہ خان صاحب کی وجہ سے سیاست بہتر ہوئی ہے تو وہ دو ہزار تیرہ کا نتیجہ دیکھ لے جب زرداری حکومت پانچ سال ناکام ہوئی تو تین صوبوں نے اسے مکمل دھتکار دیا - خان صاحب کرکٹ کا پورا ڈھانچہ بدل سکتے تھے کیونکے انہیں اس کی سمجھ تھی - سیاست کو مگر انہوں نے دشمنی میں بدل دیا آج نون اور تحریک انصاف والے ایک دوسرے سے اتنی نفرت کرتے ہیں جتنی کسی انڈین سے بھی نہیں کرتے اور گالی گلوچ اور لڑائی کا کلچر خان صاحب نے متعارف کرایا کیونکے کرکٹ میں کپتان ہوتے ہوئے وہ ساتھ کھلاڑیوں کو ایسے ہی گالیاں دیا کرتے تھے - وہ ملک کو کرکٹ کے انداز میں چلا رہے ہیں - کرپشن کی لڑائی شروع کر کے انہوں نے پورے ملک کو جام کر دیا کرپشن ایک وائرس نہیں جو دو چار مہینے یا سال میں ختم ہو جائے یہ پورے سسٹم میں ہے اور جمہوریت کے چلنے ، تعیلم کے عام ہونے اور ایک سسٹم کے بننے سے ختم ہو گا یہ نعروں سے ختم نہیں ہو سکتا نہ بدمحاشی سے جیسے خان صاحب ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں -
!نواز اور زرداری کے لئے کون سا شعبہ تجویز کریں گے
 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
What kind of talent is possessed by Nawaz Sharif?
You need some talent but you need a lot of experience in politics. Nawaz started his career in very young age in provincial assembly and learn fast to get noticed to be picked as chief minister of Punjab. It is easy to perform in marshal law therefore he got time to grow. He became CM Punjab again and in democratic time he got fame being a very active CM reaching everywhere and giving importance to develop projects. He made a big group to unite Muslim League but his first victory was under IJI. He got fame when he gave Benifits to common man by loans, taxis and tractors end motorways but resolving problems at constituency level. He was lucky that Benazir’s government was faded by Zardari’s corruption. He got two third majority in centre in 1997. This is a brief history of Nawaz career phase-1.
 

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
You need some talent but you need a lot of experience in politics. Nawaz started his career in very young age in provincial assembly and learn fast to get noticed to be picked as chief minister of Punjab. It is easy to perform in marshal law therefore he got time to grow. He became CM Punjab again and in democratic time he got fame being a very active CM reaching everywhere and giving importance to develop projects. He made a big group to unite Muslim League but his first victory was under IJI. He got fame when he gave Benifits to common man by loans, taxis and tractors end motorways but resolving problems at constituency level. He was lucky that Benazir’s government was faded by Zardari’s corruption. He got two third majority in centre in 1997. This is a brief history of Nawaz career phase-1.
میاں شریف نے نواز شریف کو سیٹ کروانے کے لئے بہت تگ ودو کی، پھر ضیا الحق کی مہربانی سے جو کسی جوگا نہیں تھا سیاستدان لگ گیا
 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
!نواز اور زرداری کے لئے کون سا شعبہ تجویز کریں گے
زرداری کا کوئی ووٹ بینک نہیں اس نے بے نظیر کے شوہر ہونے کا فائدہ اٹھایا - زرداری نے بڑے پیمانے پر کرپشن کر کے سیاست کو گندا کیا جس کا فائدہ نواز کو ہوا - نواز پر پانامہ سے پہلے کبھی کرپشن کا الزام بھی نہ لگا - اب بھی آخری دس سال جب پہلے پنجاب اور پھر مرکز میں ہونے والی حکومت میں نواز پر ابھی تک کوئی کیس موجودہ حکومت بھی نہیں بنا سکی - بات نواز کی ابتدائی دور کی ہو رہی تھی وہ ضیاء کی مدد سے پنجاب اسمبلی میں آیا مگر جلد ہی اپنی تیزی کی وجہ سے نوٹس ہو گیا انیس سو پچاسی کی اسسمبلی نے اسے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا ووٹ دیا اور اس نے پنجاب میں حلقے کی لیول پر ترقیاتی کام کر کے اور ترقی کا ایک ماڈل دیا جس میں نوجوانوں کو قرض ، کسانوں کو ٹریکٹر اور بے روزگاروں کو ٹیکسی دی - بحد میں جب ضیاء کے جانے کے بحد مسلم لیگ کے بہت سے ٹکرے ہوئے تو نواز نے بڑا گروپ اپنے ساتھ ملا کر مسلم لیگ نون کی بنیاد رکھی - نواز پہلی بار آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے جیتا - اس نے آتے ہی کارخانہ داروں ، کاروباری افراد اور کسانوں کو مرعا ت دیں جس سے جی ڈی پی سات کو چھو گئی - اس نے اپنے دور میں ہر کاروبار کو بوم دیا اور پیسے کو خوب سرکولیٹ کیا- یہ فرق لوگوں کو بے نظیر دور میں نظر آیا جب محاملات بلکل الٹ تھے اور زرداری مسٹر ٹین پرسینٹ کے نام سے جانا گیا اس بدنامی کا فائدہ نواز کو ہوا اور وہ دوسری بار دو تہائی اکثریت سے منتخب ہوا -
 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
میاں شریف نے نواز شریف کو سیٹ کروانے کے لئے بہت تگ ودو کی، پھر ضیا الحق کی مہربانی سے جو کسی جوگا نہیں تھا سیاستدان لگ گیا
جی بلکل وہ ضیاء کی مہربانی سے اسمبلی میں آیا مگر وہاں ایک سے ایک جاگیر دار ، سرمایہ کار اور مالدار تھے - نواز ہی کیوں اوپر آیا - نواز نے اسمبلی میں لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا ضیاء کا بھی اھتماد جیتا اور وزیر اھلی بنا اگر وہ صرف ضیاء کی مہربانی سے بنا ہوتا تو ضیاء کے مرنے کے بہت وہ دوبارہ وزیر اھلی نہ بنتا مگر وہ سی ایم کے بھد پہلی بار وزیر اعظم بھی بنا - اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ غلام مصطفیٰ جتوئی کو وزیر اعظم بنانا چاہتی تھے مگر الیکشن مہم میں نواز نے بڑے بارے جلسے کئے پنجاب میں جب کہ جتوئی کو پنجاب میں مقبولیت نہ مل سکی -اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نواز کو بھی اپنا بندا سمجھتی تھے مگر نواز نے آتے ہی فوج سے ڈکٹیشن لینے سے انکار کیا اور دو آرمی چیف کو چلتا کیا جس کے بحد اسٹیبلشمنٹ نے اپنے موھرے غلام اسحق خان سے اسسمبلیاں تڑوا دیں نواز کیس عدالت لے گیا اور کیس جیت گیا مگر نواز اور فوج کے اختلافات برقرار رہے تو نواز نے استعفی دے کر نئے الیکشن کرانے کا اعلان کیا مگر ساتھ با بے اسحٰق سے بھی استعفیٰ لیا - جن کا خیال ہے نواز صرف فوج کی مرضی سے آیا تو ابتدا کی بات درست ہے مگر بہت میں تو اس کی فوج سے کبھی بنی ہی نہیں اور وہ دو بار فوج کی مرضی کے خلاف بھی وزیر اعظم بنا - یہ الگ بات ہے اس کی پارٹی کا بہت بڑا حصہ پرو اسٹیبلشمنٹ تھا جو آرمی کو ہمیشہ کہتے تھے ہم ہیں نہ ہم سب ٹھیک کر دینگے -
 

atensari

(50k+ posts) بابائے فورم
جی بلکل وہ ضیاء کی مہربانی سے اسمبلی میں آیا مگر وہاں ایک سے ایک جاگیر دار ، سرمایہ کار اور مالدار تھے - نواز ہی کیوں اوپر آیا - نواز نے اسمبلی میں لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا ضیاء کا بھی اھتماد جیتا اور وزیر اھلی بنا اگر وہ صرف ضیاء کی مہربانی سے بنا ہوتا تو ضیاء کے مرنے کے بہت وہ دوبارہ وزیر اھلی نہ بنتا مگر وہ سی ایم کے بھد پہلی بار وزیر اعظم بھی بنا - اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ غلام مصطفیٰ جتوئی کو وزیر اعظم بنانا چاہتی تھے مگر الیکشن مہم میں نواز نے بڑے بارے جلسے کئے پنجاب میں جب کہ جتوئی کو پنجاب میں مقبولیت نہ مل سکی -اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نواز کو بھی اپنا بندا سمجھتی تھے مگر نواز نے آتے ہی فوج سے ڈکٹیشن لینے سے انکار کیا اور دو آرمی چیف کو چلتا کیا جس کے بحد اسٹیبلشمنٹ نے اپنے موھرے غلام اسحق خان سے اسسمبلیاں تڑوا دیں نواز کیس عدالت لے گیا اور کیس جیت گیا مگر نواز اور فوج کے اختلافات برقرار رہے تو نواز نے استعفی دے کر نئے الیکشن کرانے کا اعلان کیا مگر ساتھ با بے اسحٰق سے بھی استعفیٰ لیا - جن کا خیال ہے نواز صرف فوج کی مرضی سے آیا تو ابتدا کی بات درست ہے مگر بہت میں تو اس کی فوج سے کبھی بنی ہی نہیں اور وہ دو بار فوج کی مرضی کے خلاف بھی وزیر اعظم بنا - یہ الگ بات ہے اس کی پارٹی کا بہت بڑا حصہ پرو اسٹیبلشمنٹ تھا جو آرمی کو ہمیشہ کہتے تھے ہم ہیں نہ ہم سب ٹھیک کر دینگے -
دوسرے پرچی پڑھنے اور لقموں پر بولنے سے زیادہ قابلیت رکھتے ہوں گے اسلئے پیچھے رہ گئے. آئی جے آئی کا قصہ گول ہی کر دیا. این آر اور ہوا، مذاق جمہوریت کے مطابق اک واری تہاڈی اک ساڈی زیادہ پرانی بات نہیں​
 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
دوسرے پرچی پڑھنے اور لقموں پر بولنے سے زیادہ قابلیت رکھتے ہوں گے اسلئے پیچھے رہ گئے. آئی جے آئی کا قصہ گول ہی کر دیا. این آر اور ہوا، مذاق جمہوریت کے مطابق اک واری تہاڈی اک ساڈی زیادہ پرانی بات نہیں​
جی نوجوان نواز پرچی سے نہیں پڑھتا تھا اگر آپ پرانے کلپ دیکھ لیں تو آپ سمجھ جائیںگے باقی پرچی سے پڑھنا یاداشت کا مسلہ ہے آپ نے پرچی سے نہ پڑھنے کا خان صاحب کا انجام دیکھ لیا کتنی بڑی چولیں مارتے ہیں کہ ساری دنیا ہنستی ہے قائد اعظم بھی آخری برسوں میں پرچی سے دیکھ کر پڑھتے تھے - نواز اور خان دونوں عمر کے اس حصے میں ہیں کہ دونوں کو لکھی ہوئی تقریر پڑھنی چاہہے - نواز جلسوں میں آج بھی بغیر زبانی بولتا ہے مگر اہم مواقے پر قائد اعظم کے پاس بھی یو ٹرن کی سہولت میسر نہ تھی -
 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
نواز کی بات آج سچ ثابت ہو رہی ہے کرپشن کے لئے ادارے اور نیب اس وقت بھی تھا اور آج بھی ہے فرق یہ ہے کہ اس وقت دنیا جہاں کا کام چھوڑ کر کرپشن کے پیچھے کوئی نہیں پڑا کیونکے کرپشن سسٹم کے چلنے اور جمھوریت کے چلنے سے آتی ہے اگر سب چھوڑ کر کرپشن کے پیچھے پڑنے سے بہتری آتی تو آج حالات نواز دور سے بھی بہتر ہوتے مگر یہاں مہملا الٹا ہے لوگ آٹے چینی ٹماٹر کو ترس گئے ہیں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین لیول پر جی ڈی پی پست ترین اور بے روزگاری بلند ترین لیول پر ہے اور پھر بھی جن کو آپ نے پکڑ رکھا تھا وہ ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے رہا ہو گئے تو کیا حاصل کیا - نہ کام کیا اور نہ چوروں کو پکڑا اور ملک کو اس حال میں لے گئے کہ بقول چودھری شجاحت کے کوئی اب حکومت لینے کو بھی تیار نہیں -چودھری شجاحت حکومت کے اتحادی ہیں اور ملک کی یہ حالت دے کر ان سے بھی رہا نہیں گیا کیونکے عوامی لوگ ہیں روز لوگوں سے ملتے ہیں - یاد رہے شہباز شریف مقتدر حلقوں کی طرف سے اس پیشکش کو ٹکھرا چکے ہیں کہ وہ قومی حکومت کا حصہ بنیں -
اگر پچھلی حکومت کی طرح آپ کام کرتے رہتے تو جی ڈی پی چھ سے آٹھ ہو سکتی تھی مہنگائی کی شرح چار سے کم نہ ہوتی تو اتنی ہی رہتی ملک میں بڑے بڑے منصوبے بھی لگتے - قرض چاھے اندرونی ہو یا بیرونی اب بھی پہلے سے زیادہ لیا جا رہا ہے مگر سارا پیسہ کہاں جا رہا ہے کچھ محلوم نہیں پھر کہتے ہیں کرپشن تو نہیں ہو رہی تو پیسہ کہاں جا رہا ہے جب ایک اینٹ بھی نہیں لگ رہی -
 

Wake up Pak

President (40k+ posts)
نواز کی بات آج سچ ثابت ہو رہی ہے کرپشن کے لئے ادارے اور نیب اس وقت بھی تھا اور آج بھی ہے فرق یہ ہے کہ اس وقت دنیا جہاں کا کام چھوڑ کر کرپشن کے پیچھے کوئی نہیں پڑا کیونکے کرپشن سسٹم کے چلنے اور جمھوریت کے چلنے سے آتی ہے اگر سب چھوڑ کر کرپشن کے پیچھے پڑنے سے بہتری آتی تو آج حالات نواز دور سے بھی بہتر ہوتے مگر یہاں مہملا الٹا ہے لوگ آٹے چینی ٹماٹر کو ترس گئے ہیں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین لیول پر جی ڈی پی پست ترین اور بے روزگاری بلند ترین لیول پر ہے اور پھر بھی جن کو آپ نے پکڑ رکھا تھا وہ ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے رہا ہو گئے تو کیا حاصل کیا - نہ کام کیا اور نہ چوروں کو پکڑا اور ملک کو اس حال میں لے گئے کہ بقول چودھری شجاحت کے کوئی اب حکومت لینے کو بھی تیار نہیں -چودھری شجاحت حکومت کے اتحادی ہیں اور ملک کی یہ حالت دے کر ان سے بھی رہا نہیں گیا کیونکے عوامی لوگ ہیں روز لوگوں سے ملتے ہیں - یاد رہے شہباز شریف مقتدر حلقوں کی طرف سے اس پیشکش کو ٹکھرا چکے ہیں کہ وہ قومی حکومت کا حصہ بنیں -
Today things are much better and heading towards the right direction.
After what nawaz left the country with almost default snd all the institutions were not working as he didn't reform a single institution in fact during his tenure things got bad to worse.
Pakistanis are glad that this thief is history now.
 

Okara

Prime Minister (20k+ posts)
!نواز اور زرداری کے لئے کون سا شعبہ تجویز کریں گے
He tried in acting, cricket, business, politics but failed in every field except corruption but finally failed in corruption as well.
 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
Today things are much better and heading towards the right direction.
After what nawaz left the country with almost default snd all the institutions were not working as he didn't reform a single institution in fact during his tenure things got bad to worse.
Pakistanis are glad that this thief is history now.
کیا آپ وضاحت کریں گے کیسے بہتر ہو رہا ہے امپورٹ ڈیو ٹی بڑھانے اور ملک میں کوئی کام نہ چلنے اور مہنگائی سے ڈیمانڈ کم ہونے کی وجہ سے اگر امپورٹ کم ہوئی تو کیا تیر مارا - کیا ایکسپورٹ بڑھی تیس فیصد روپے کی قدر گرا کر - ریلوے کی بہتری میں نواز سے پہلے اور بہت کے دور میں زمین آسمان کا فرق ہے ذرا رپورٹیں پڑھ لیں پی آئی اے بھی نواز دور میں پچھلے دور کے مقابلے میں بہتر ہوا لیکن کچھ زیادہ نہیں - سٹیل مل پر سندھ حکومت اور ایم قیو ایم کا کنٹرول ہے وہ کراچی میں ہے نہ وہ نواز کے دور میں بہتر ہوئی نہ اب اگرچے وہ وفاقی ادارہ ہے - بھائی آپ کس دنیا میں رہتے ہو امپورٹ کم ہونے کے علاوہ مہیشت کا کوئی اور اشاریہ بتا دو تو موجودہ حکومت نے بہتر کیا ہو ووہی رٹی ہوئی باتیں ہیں جن کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے بھائی نون لیگ کوئی بہت پرفیکٹ پارٹی نہیں تھی لیکن جب اس کا پیپلز پارٹی سے مقابلہ تھا تو تین بار نون نے خود کو پیپلز پارٹی سے بہتر ثابت کیا اور اب اگر پاکستان میں آپ جا کر کہیں کہ موجودہ حکومت پچھلی حکومت سے بہتر ہے تو لوگ آپ کی ذہنی حالت پر شک کریں گے اور جوتے بھی ماریں گے اتنا فرق ہے دونوں حکومتوں کا -یہ بھوت آپ پاکستان میں تو کم از کم اتر گیا ہے کہ تحریک انصاف نون لیگ سے بہتر حکومت کر سکتی ہے - باہر کے ملکوں میں خان کا کریز ابھی ہے کیونکے وہ اس حکومت کی کارکردگی سے متاثر نہیں ہو رہے -
 

Awan S

Chief Minister (5k+ posts)
He tried in acting, cricket, business, politics but failed in every field except corruption but finally failed in corruption as well.
Who will be more successful than three time prime minister, two time CM Punjab, Opposition leader, provincial minister etc. Is there anyone even close to it? What is criteria to be successful? Failed and came to power after 22 years with the help of army. Khan made the country so down that no one want to take this government in this condition. I am not saying this but government's partner in government Chaudari Shujahat has said that.