محکمہ تعلیم کا سپرنٹنڈنٹ لکی مروت سے ساتھی سمیت اغوا

12lkymmarwaghhwa.png

مغوی کو جلد بازیاب نہ کروایا گیا تو تو مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے: سعید اختر

ملک بھر میں جرائم کی شرح میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس سے شہری انجانے خوف کا شکار ہو چکے ہیں، صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں نامعلوم مسلح افراد کی طرف سے محکمہ تعلیم کے 17 ویں گریڈ کے افسر کو اس کے ساتھی سمیت اغوا کیے جانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت کے مصروف ترین علاقے لاری اڈہ سے محکمہ تعلیم میں 17 ویں سکیل کے سپرنٹنڈنٹ عارف اللہ کو اس کے ساتھ سمیت اغوا کر لیا گیا ہے ۔

خیبرپختونخوا پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عارف اللہ کو اغوا کرنے والے افرادکا تعلق بظاہر فیڈرل انویسٹی گیشن بیورو سائبر کرائم سے لگتا ہے، واقعے کی تحقیقات جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کر رہے ہیں جلد ہی حقیقت سامنے آ جائے گی۔ محکمہ تعلیم کے سپرنٹنڈنٹ کے اغوا کا واقعہ پیش آنے پر سرکاری ملازمین کی طرف سے شدید برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

آل کوآرڈی نیشن کونسل کے صدر سعید اختر نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مغوی کو جلد بازیاب نہ کروایا گیا تو اس صورت میں سخت لائحہ عمل اختیار کریں گے۔ عارف اللہ کا دن دیہاڑے اغوا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی ناکامی ہے، محکمہ تعلیم کے سپرنٹنڈنٹ کی بازیابی جلد نہ ہوئی تو مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائےگا۔

علاوہ ازیں 2 دن پہلے لکی مروت کے مختلف علاقوں میں پولیس وسکیورٹی اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کالعدم ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے 2 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ دہشت گرد دھماکوں، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلن اور پولیس اہلکاروں پر حملے کے مقدمات میں بنوں اور لکی مروت کے اضلاع میں مطلوب تھے۔