سیلاب یا عذاب

shaukat72

Citizen
سیلاب یا عذاب



پاکستان میں یہ سیلاب عذاب ہے یا نہیں یہ آج کا زبان زد عام موضوع گفتگو ہے- ہمیں اس سیلاب کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے- پہلے انسان حضرت بابا آدم علیھ السلام کی اس زمین پہ آمد سے پہلے بھی سیلاب آتے رہے تھے اور صرف اس صدی میں سینکڑوں سیلاب آ چکے ہیں- سیلاب قدرتی امر ہیں اور ہر قدرتی امر اپنے وجود میں ان گنت وجوہات سموۓ ہوتا ہے- یہ ہماری عقل، فہم، سوچ یا حالت وقت ہے جو وجہ امر اخذ کرتی ہے-



قرآن پاک میں پروردگار عالم نے حضرت نوح علیھ السلام کی قوم پہ سیلاب کے عذاب اور موسیٰ علیھ السلام کے دور میں فرعون اور اس کی فوج کو پانی میں غرق کرنے کا ذکر کیا ہے- اگر ہم صرف انہی دو واقعات کا ہی آج کے پاکستان، پاکستانی قوم اور پاکستانی حکمرانوں کے ساتھہ موازنہ کریں تو یہ گتھی سلجھہ جاۓ گی کہ یہ سیلاب عذاب ہے یا پروردگار کی کچھہ اور مصلحت کیونکہ قرآن میں پروردگار نے عذاب کے ساتھہ ساتھہ آزمائش اور سرزنش کا بھی ذکر کیا ہے-



آزمائش، نیک لوگوں کے ایمان کا اور پختہ کرنے کا عمل ہے جبکہ سرزنش، نیکی اور برائی کی سرحدوں پہ انسان کو روکنے کا عمل کہ انسان الله کی مقرر کردہ حدوں کو عبور کر کے کہیں گمراہی کی تاریکیوں میں نہ ڈوب جاۓ- آزمائش اور سرزنش انفرادی بھی ہو سکتی ہے اور اجتماعی بھی لیکن عذاب اجتماعی ہوتا ہے- عذاب الله کی کسی انسانی گروہ سے ناراضگی کا اظہار ہوتا ہے اور عذاب کے بعد اس گروہ انسانی کے وجود کا کرۂ ارض سے صفایا ہو جاتا ہے اور اس خطہ زمین کو نۓ انسانوں اور نسل سے آباد کر دیا جاتا ہے جیسے اندلس (اسپین) میں عرب مسلمانوں کی کئی سو سالہ حکومت ایسے ختم ہوئی کہ ایک مسلمان بھی اس خطہ زمین پہ نہ رہا- یہ سلسلۂ واقعات قرآن میں بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے-



اگر ہر پاکستانی اپنے اعمال کا منصف بن جاۓ تو سیلاب کا عذاب، آزمائش اور سرزنش سے رشتہ سمجھہ آ جاۓ گا- کیا ہم بحثیت قوم عذاب کے حقدار ہیں جو ہمیں زلزلے، شمال میں جنگ، گھر سے بے گھری اور سیلاب کا سامنا کرنا پڑا؟ میری ناقص راۓ میں ابھی نہیں لیکن بہت قریب ہیں اس لیے یہ عذاب نہیں اور نہ ہی آزمائش لیکن سرزنش ضرور ہو سکتی ہے-



ایک اور اصول جو قرآن میں پروردگار نے بیشمار واقعات کے زریعے واضع کیا ہے کہ کسی بھی قوم کے حکمران اس قوم کی اجتماعی اعمال کا مظہر ہوتے ہیں- اچھے حکمران قوم کے اچھے اعمال کا نتیجہ اور الله کی رحمت اور برے حکمران قوم کے برے اعمال اور الله کے عذاب کی نشانی ہوتے ہیں جو قوم کو اس کی آخری منزل یعنی اس کے وجود کے خاتمے تک لے جاتے ہیں- جابر حکمران بیشک الله کا عذاب ہوتے ہیں- آج کے پاکستانی حکمران اچھے ہیں یا برے یہ آپ خود فیصلہ کرلیں-



اچھے حکمران کی سب سے نمایاں صفت اس کا انصاف ہوتا ہے اور انصاف ایسا کہ سبحان الله "اگر میری بیٹی فاطمہ رضی الله عنہ بھی چوری کرتی تو اس کا بھی ہاتھہ کٹ دیا جاتا-" اور ایسے آقا علیھ السلام کے امتی حضرت عمر رضی الله عنہ کا انصاف ایسا کہ اپنے ہاتھوں سے اپنے لخت جگر کو کوڑوں کی سزا جو اس کی موت پہ ختم ہوئی-



دوسری صفت حکمران کا اپنی ذات کی نفی اور اپنی قوم کی ترجیح ہر قدم پہ ہے- سرکار دوعالم صلی الله علیھ وسلم کا اپنی امت کا ایسا غم کہ جو آخری سانس تک اسی کے لیۓ دعاوؤں پہ ختم ہوا اور امتئی خاص حضرت امام حسین علیھ السلام کا اپنا آپ اور اپنی اولاد کی قربانی صرف قوم کی فلاح کی خاطر-



حضرت عمر رضی الله عنہ کے یہ سبق آموز الفاظ کہ "اگر دریاۓ فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر جاۓ تو میں ذمہ دار ہوں گا" اس صفت کے عکاس ہیں کہ ایک اچھا حکمران کسی کو تو معاف کر سکتا ہے مگر اپنے آپ کو نہیں، خود احتسابی ایک اچھے حکمران کی تیسری بڑی خوبی ہوتی ہے-



دو اور خوبیوں کے بغیر اچھا حکمران تو دور کی بات ایک اچھا انسان اور اچھا مسلمان بھی بننا ناممکن ہے اور وہ ہیں دیانت اور امانت- انسان عظیم صلی الله علیھ وسلم کی اس دو خوبیوں کی گواہی کفارمکہ نے اعلان نبوت سے پہلے ہی دے دی کہ "آپ صلی الله علیھ وسلم صادق اور امین ہیں اس لیۓ انہیں آپ صلی الله علیھ وسلم کی ہر بات اور ہر عمل پہ یقین ہے"-



مذکورہ بالا پانچ خصوصیات میں کوئی ایک بھی ہے جس پہ آج کے پاکستانی حکمران پورے اترتے ہیں؟ ہاں کچھہ غیر پاکستانی اور غیر مسلم ضرور پورے اترتے ہوں گے- ہماری تو جھوٹ ہی زندگی ہے اور خیانت پہ گزربسر- یہ سیلاب سرزنش ہے ہمارے اعمال کی اور دعوت خود احتسابی ہر فرد واحد کے لیۓ جو اس مدینۂ ثانی پاکستان کے سبز ہلالی پرچم تلے رہتا ہے-



خاتمہ احمد ندیم قاسمی مرحوم کی اس خوبصورت دعا کے ساتھہ کہ

خدا کرے میری عرض پاک پہ اترے

وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو



یہاں جو پھول کھلے وہ کھلا رہے صدیوں

یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو



یہاں جو سبزہ آگے وہ ہمیشہ سرسبز رہے

اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو



خدا کرے نہ خم ہو سر وقار وطن

اس کے حسن کو تشویش مہہ وسال نہ ہو



ہرایک فرد ہو تہذیب فن کا اوج کمال

کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو



خدا کرے میرے ایک بھی ہم وطن کے لیۓ

حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو



(شوکت علی، اگست ١٩ ، ٢٠١٠)[/color]
 

adnan78692

MPA (400+ posts)
excellent post.... really nice... but iss tamam situation main meri naqis raey mein Azzab ka b kch pehlu nazar ata hai.... coz hamari ijtemaai bad aamalian, burayan iss nehj pe phnch chuki hain k in mein khair ka aik unsar aik zara b nazar nahi ata hai.... Allah Pakistan ko Mehfooz rakhe aur hamein taoba astaghfar kane ki taofeeq ata farmaey... ameen