بجٹ بحث کے دوران ’اکنامک ہٹ مین‘ کی بازگشت، یہ کیا ہوتا ہے؟

aurnaha1i123.jpg


ملک میں ایک ایسا بجٹ تیار کیا گیا ہے، جو عوام کو مبینہ طور پر خودکشی پر مجبور کردے گا,قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف اور پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ ’اکنامک ہٹ مین نے تیار کیا ہے۔

”اکنامک ہٹ مین؟“ آج کی قومی اسمبلی کی تقریر میں یہ اصطلاح سنتے ہی دماغ کے کسی کونے میں ایک چنگاری سی جلی اور جان پرکنز کا چہرہ لمحہ بھر میں آنکھوں کے سامنے آکر گزر گیا۔

جان پرکنز ایک امریکی مصنف ہیں، جنہوں نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب
”Confessions of an Economic Hit Man“

(معاشی قاتل کے اعتراف) میں تیسری دنیا کے ممالک کی اقتصادی نوآبادیات کے عمل میں ظالمانہ امریکی کردار کو بیان کیا ہے۔

جان نے کتاب میں بتایا کہ امریکہ اور سی آئی اے کس طرح کارپوریشنوں، بینکوں کے ذریعے غریب ممالک کو اپنے قبضے میں کرتا ہے۔


ٹیڈ ٹاک میں جان پرکنز نے کئی اہم انکشافات کئے، جن سے ملتے جلتے کئی واقعات ہم بھی دیکھ چکے ہیں، جان پرکنز بتاتے ہیں کہ انہوں نے امریکی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) کی اپنی ویب سائٹ پر جاری کی گئی کچھ معلومات پڑھیں، جن میں اعتراف کیا گیا کہ امریکی حکومت اور سی آئی اے ایران کے سابق وزیراعظم محمد مصدق، چلی کے صدر آلیانڈے، گواٹے مالا کے آربینز، ویتنام کے دیام اور کانگو کے لومومبا سمیت کئی حکمرانوں کی حکومتوں کا تختہ اُلٹنے یا ان کے سربراہان کے قتل میں ملوث رہی ہے,پرکنز کہتے ہیں، ”چلی کے صدر آلیانڈے کی بات کروں تو، ان کی جگہ ایک انتہائی ظالم آمر جنرل پنوشے کو بٹھایا گیا جو آپریشن کونڈور کا بڑا حامی تھا۔

آپریشن کونڈور کیا تھا؟ وہ آپ کو آگے بتاتے ہیں۔
”پنوشے کی نگرانی میں ہزاروں لوگوں کا قتلِ عام کیا گیا اور سابق امریکی سیکریٹری خارجہ ہینری کیسینجر نے سرمایہ دارانہ نظام کے مضبوط محافظ ہونے پر پونشے کو کافی سراہا,جان پرکنز اپنے ماضی کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ میں ایران کے شاہ، انڈونیشیا، ایکواڈور، پانامہ کے صدور اور سعودی عرب کے شاہی خاندان کے ممبران کے سامنے کھڑا رہا ہوں۔

پرکنز کہتے ہیں میں نے ان سے کہا، اگر آپ ہمارے مطابق کھیل کو کھیلتے ہیں تو میرے اس ہاتھ میں آپ اور آپ کے دوستوں کیلئے کئی ملین ڈالرز ہیں، بصورت انکار میرے دوسرے ہاتھ میں یہ بندوق ہے۔“
”میرے الفاظ کافی سفارتی تھے، لیکن ان الفاظ کا پیغام یہی تھا,میں ایک اکنامک ہٹ مین تھا,یہ کہتے ہوئے انہوں نے اشارہ کیا جیسے ان کے ہاتھ میں بندوق ہو۔”میں کبھی بندوق ساتھ نہیں رکھتا تھا، لیکن جیکلز رکھتے تھے۔“آمریتوں نے نافذ کیا تھا۔

پرکنز نے بتایا کہ ایکواڈور کے صدر ہائمی رولڈوس جمہوری طور پر منتخب ہوئے اور پانامہ ریاست کے سربراہ عمر توری ہوز نے آپریشن کونڈور کی سخت مخالفت کی۔جان بتاتے ہیں کہ ”مجھے ان کے خیالات بدلنے کیلئے بھیجا گیا لیکن انہوں نے انکار کیا۔“”رولڈوس کا پرائیویٹ جہاز کریش ہوا اور وہ مارا گیا، کئی لوگوں کو آج بھی لگتا ہے کہ وہ کوئی حادثہ نہیں تھا۔

پرکنز نے پانامہ کے سربراہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا توری ہوز نے کہا اگر سی آئی اے نے میرے دوست ہائمی کو قتل کر دیا تو ممکنہ طور پر میں اس کا اگلا نشانہ ہوں۔”اور اس کے بعد تین مہینے سے بھی کم عرصے میں اس کا پرائیویٹ جہاز بھی ملتے جلتے حالات میں کریش کرگیا اور وہ بھی مارا گیا۔