سانحہ مری: لوگوں کی ریسکیو1122کو کی گئی کالزکی آڈیو سامنے آ گئی

Corrupt Mafia

MPA (400+ posts)
murree-calls-help.jpg


سانحہ مری میں ایمرجنسی سروس ریسکیو کی جانب سے مرجمانہ غفلت کا کردار بھی سامنے آگیا ہے۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق مری میں شدید برفانی طوفان اور سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاروں میں پھنسے سیاحوں میں سے تقریبا 100 لوگوں نے ریسکیو 1122 سے رابطہ کیا مگر ریسکیو کنٹرول روم نے مدد مانگنے کو ایک سے دوسرے محکمہ کے درمیان شٹل کاک بناڈالا۔


رپورٹ کے مطابق سانحہ مری کی تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ پوری رات سڑک پر گزارنے والے سیاحوں نے جب ریسکیو حکام سے مدد کیلئے فون کیے تو کنٹرول روم نے انہیں دوسرے محکموں کے نمبرز فراہم کرنا شروع کردیئے دوسری جانب برف میں پھنسے سیاح ریسکیو سے مدد کیلئے منتیں کرتے رہے۔

تاہم کنٹرول روم میں موجود حکام نے سیاحوں کی ایک نہ سنی اور نفری کی کمی، ایمبولینسز کی ٹریفک میں پھنسے ہونے جیسے بہانوں سے انہیں بہلانے کی کوشش کی، واقعہ کے روز ریسکیو حکام ایک بھی سیاح کی مدد کیلئے نہیں پہنچ سکے۔

اس حوالےسے سانحہ میں بچ جانے والے سیاح محمد اعجاز نے بیان دیا کہ وہ واقعہ کے روز کلہڈانہ میں اپنے اہلخانہ کے ہمراہ تقریبا20 گھنٹے تک پھنسے رہے

انہوں نے ریسکیو 1122 کو تقریبا 80 سے زائد فون کیے مگر جواب میں انہیں دوسرے سرکاری محکموں کے رابطہ نمبرز فراہم کیے جاتے رہے، مری میں تین ایمرجنسی اسٹیشنز ہونے کے باوجود ریسکیو1122 کی ٹیمیں اگلے روز جائے حادثہ پر پہنچیں۔
 
Advertisement
Last edited by a moderator:
Sponsored Link