الطاف حسین کے خلاف مقدمات کی تعداد122ہوگئ

صحرائی

Chief Minister (5k+ posts)
کراچی: ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف ملک بھر میں درج کیے گئے مقدمات کی تعداد 122 ہوگئی ہے۔

متنازع تقریرکرنے پر الطاف حسین کیخلاف اسلام آباد میں 4، لاہور 4، ملتان، چنیوٹ، سرگودھا، اوکاڑہ، گجرات، سمیت صوبہ پنجاب میں اب تک 54 مقدمات درج کرائے جا چکے ہیں، سندھ میں 30 مقدمات درج کیے گئے ہیں، تھرپارکر، شکار پور، کشمور، کندھ کوٹ، سکھر، جیکب آباد، بدین، لاڑکانہ، خیرپور،دادو، حیدرآباد، مٹیاری، میرپور خاص، گھوٹکی اور میرپور ماتھیلو میں درج مقدمات میں دفعہ 153اے اور مختلف دفعات لگائی گئی ہیں۔

کوئٹہ میں 2 مقدمات سمیت بلوچستان بھر میں الطاف حسین کے خلاف 11مقدمات درج کرائے گئے، خیبر
پختونخوا میں 8، کشمیر میں 2 ، گلگت بلتستان میں الطاف حسین کے خلاف 2 مقدمات درج کیے گئے۔ نیو ٹاؤن پولیس نے بھی متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین اور دیگر اہم رہنماؤں سمیت 21 نامزد افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ۔


تفصیلات کے مطابق نیو ٹاؤن پولیس نے بھی متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین اور دیگر اہم رہنماؤں سمیت 21 نامزد افراد کے خلاف مدعی فضل حسین کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 222/15 درج کرلیا،کراچی میں مجموعی طور پر17 مقدمات درج کیے گئے ہیں جس میں سے 16 مقدمات ضلع ملیر جبکہ پہلا مقدمہ ضلع ایسٹ میں درج کیا گیا ہے
۔
 
Last edited by a moderator:

صحرائی

Chief Minister (5k+ posts)
Re: لطاف حسین کے خلاف درج مقدمات کی تعداد122ہوگ&#157

اگر مجھے کچھ ہو گیا تو بقایا جات مت چهوڑنا ، الطاف حسین
 

عام آدمی

MPA (400+ posts)
ٹھیک ہے الطاف حسین فضول لیڈروں میں سے ایک ہے مگر یہ دھڑا دھڑ ایف آئی آرز بھی ٹوپی ڈرامہ ہیں، کن کا آپ خوب جانتے ہیں
 

Spartacus

Chief Minister (5k+ posts)
Opponents of MQM are the back bone of MQM , when it comes to popularity of MQM/AH.
Such huge numbers of FIRS against Altaf Hussain made him popular in the whole world .
Now every one is thinking there is something fishy in Pakistani politics .
Let us discuss the gain of MQM because of those FIRS .

1) very easy to proof to the world politicians that FIRS against AH is nothing but a joke.Even some of the FIRS against AH may be on the base of truth.But he will get a clean chit in all of the FIRS.
2) Mohajirs will unite under the umbrella of MQM - ( Just see the result of NA-246 , just before the election MQM was losing the popularity among Mohajir but raid in Nine Zero and insulting behavior against their leaders unite Mohajirs )
3 ) Till now we are seeing only action but no reaction from MQM -( we do not know about their cards )

In my view MQM is facing a win win situation in South Sindh.
 

Bawa

Chief Minister (5k+ posts)
ٹھیک ہے الطاف حسین فضول لیڈروں میں سے ایک ہے مگر یہ دھڑا دھڑ ایف آئی آرز بھی ٹوپی ڈرامہ ہیں، کن کا آپ خوب جانتے ہیں





بھائی جی


اسٹبلشمنٹ کے یہ ڈرامے سیاسی اور ذہنی نابالغوں کے لیے نئے ہو سکتے ہیں لیکن ہمارے لیے نہیں


میں نے تو اس سال کے شروع میں اسٹبلشمنٹ کا یہ سارا ڈرامہ بے نقاب کر دیا تھا




کراچی کے حالات بہت نازک ہیں اور کوئی ہلکی سی چنگاری یا غلط فہمی کراچی کو آتش فشاں میں تبدیل کر سکتی ہے. کچھ اندرونی اور بہت ساری بیرونی طاقتوں کا مفاد کراچی کو ملک سے کاٹ کر اسے دوبئی، ہانگ کانگ اور سنگاپور کی طرز کی فری پورٹ یا ریاست بنانے میں ہے. کراچی کے حالات خراب کرنے میں فوج کی دوغلی پالیسی کا اہم ترین کردار ہے. فوج اور خصوصا فوجی آمروں نے الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو بخشی اور بے دریغ اسلحہ فراہم کیا. نیٹو فوج کا بھاری اور بھاری مقدار میں اسلحہ کراچی میں فوج کی رضا مندی کے بغیر غائب نہیں ہوا ہے. موجودہ آئی ایس آئی ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے بطور ڈائریکٹر جنرل رینجرز سپریم کورٹ میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ سابقہ دور حکومت (جنرل پرویز مشرف دور) میں اسلحہ سے بھرے انیس ہزار کنٹینرز کراچی آئے تھے جو کراچی سے افغانستان جانے تھے لیکن یہ کنٹینرز سابقہ وفاقی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ بابر غوری کی ملی بھگت سے کراچی میں ہی غائب کر دیے گئے تھے. صاف ظاہر ہے کہ انیس ہزار کنٹینروں میں نیٹو فوج کے لیے افغانستان بھیجا جانے والا اسلحہ صرف بندوقوں اور پستولوں پر مشتمل نہیں تھا بلکہ اس میں بم، میزائل اور راکٹ بھی ہونگے. اس سے آپ کراچی میں اسلحہ اور بارود کے انبار کا اندازہ لگا سکتے ہیں. طالبان کے کراچی میں قدم جمانے سے صورتحال مزید خوفناک بنا دی ہے



فوج اگر خلوص نیت سے کراچی کے حالات ٹھیک کرنا چاہے تو کر سکتی ہے لیکن پرابلم یہ ہو رہی ہے کہ فوج کی ایک ایجنسی (آئی ایس آئی) الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو طالبان کی طرح اپنا اثاثہ سمجھتی ہے اور اسکی پشت پناہی کرتی ہے جبکہ فوج کی دوسری ایجنسی رینجرز الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو ختم کرنا چاہتی ہے. جب فوج کی ایجنسیاں اور فوج کے جرنیل ہی ایک پیج پر نہ ہوں تو کراچی کے حالات کیونکر ٹھیک ہو سکتے ہیں. اب ڈی جی رینجرز رضوان اختر کے ڈی جی آئی ایس آئی بننے سے کوئی تبدیلی کی توقع کی جا سکتی ہے لیکن کراچی کے مسئلے کو طاقت کے بل بوتے پر قابو پانے کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں. بہت سمجھداری سے اور افہام و تفہیم کے ساتھ پھونک پھونک کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے. ذرا سی بے احتیاطی خدا نخواستہ کراچی کو جلا کر راکھ کر سکتی ہے. ہمارے دشمن کراچی میں خانہ جنگی شروع ہونے کے منتظر بیٹھے ہیں


کراچی کی پیچیدہ اور سنگین صورتحال کا سوچ کر رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں. جو لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ایم کیو ایم کو طاقت کے بل بوتے پر ختم کر دیں گے وہ بہت بڑی غلطی پر ہیں. اگر الطاف حسین کو ختم کرنا آسان ہوتا تو فوج ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتل برطانیہ کے حوالے کر چکی ہوتی. کراچی کو ایم کیو ایم کے پنجے سے آزاد کرنا کسی معجزے سے کم نہیں ہوگا


میں کبھی بھی الطاف حسین اور اسکے اور اسکی پارٹی کے کالے کرتوتوں کا کبھی دفاع نہیں کیا ہے لیکن اسوقت جو ہںگانہ برپا ہے اور بلدیہ ٹاؤن سانحہ اور بارہ مئی دو ہزار سات کے مجرموں کو پکڑنے والا کھیل کھیلا جا رہا ہے، اس کے پس پردہ جو مقاصد ہیں ان کو سمجھنے کیلیے پچھلے تین چار ماہ سے ہونے والی تبدیلیوں اور بیانات کو دیکھنا بہت ضروری ہے. یہ تبدیلیاں اور بیانات کیا ہیں؟


پہلی تبدیلی یہ ہے کہ الطاف حسین کو آئی ایس آئی کی حمایت سے محروم کرنے کی غرض سے اسکی مخالف ایجنسی یعنی رینجرز کے ڈی جی کو آئی ایس آئی کا ڈی جی بنایا گیا ہے


دوسری تبدیلی یہ ہے کہ ایم کیو ایم کو دباو میں لانے کے لیے بلدیہ ٹاؤن سانحہ اور بارہ مئی دو ہزار سات کے مجرموں (اصلی یا نقلی) کو پبلک کے سامنے لایا گیا ہے


تیسری تبدیلی یہ ہے کہ فوج نے براہ راست کوئی مطالبے کرنے کی بجائے عمران خان سے یہ مطالبہ کروایا ہے کہ الطاف حسین کو ایم کیو ایم کی قیادت سے الگ کیا جائے اور ایم کیو ایم اپنا کوئی نیا قائد چنے. عمران خان ہی کی زبانی ہی الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو مزید دباو میں لانے کے لیے ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتلوں کو برطانیہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کروایا گیا ہے. عمران خان کے علاوہ جماعت اسلامی بھی آجکل کھل کر فوج کی ترجمان بنی ہوئی ہے


چوتھی تبدیلی یہ ہے کہ عمران خان اور قادری کے دھرنوں کے ذریعے نواز شریف کی حکومت کو کمزور کرکے اسے فوج کے قدموں میں جھکا دیا گیا ہے تاکہ وہ الطاف حسین یا ایم کیو ایم میں قیادت کی تبدیلی کیلیے فوج کے راستے کی رکاوٹ نہ بن سکے. پچھلے چند دنوں سے حکومتی بیانات اس بات کی دلیل ہیں کہ حکومت نے فوج کے راستے کی رکاوٹ نہ بننے کا فیصلہ کر لیا ہے


پانچویں تبدیلی یہ ہے کہ فوج کے ترجمان نے پہلی بار کھل کر کسی جی آئی ٹی کی انویسٹیگیشن رپورٹ پر اپنی مہر لگانے کی زحمت کی ہے اور کہا ہے کہ بلدیہ ٹاون کی رپورٹ پر غلط شور نہ مچایا جائے. ڈی جی آئی ایس پی آر مجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے مزید کہا ہے کہ فوج جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سب اعتراضات کو مسترد کرتی ہے


چھٹی تبدیلی یہ آئی ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے بیان دیا ہے کہ فوج میری عزت و وقار بچانے اور اسے بحال کرنے کے لیے جو کچھ کر رہی ہے مجھے اس پر فخر ہے


اسوقت لگتا ہے کہ فوج اور اسکی تمام ایجنسیاں بشمول آئی ایس آئی الطاف حسین کے خلاف ایک پیج پر آ چکی ہیں اور انکا منصوبہ الطاف حسین کو ایم کیو ایم کی قیادت سے ہٹا کر جنرل پرویز مشرف کو ایم کیو ایم کا قائد بنانا ہے. الطاف حسین فوج کے سامنے کتنی مزاحمت کر سکتے ہیں؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا


جو لوگ سوچ رہے تھے کہ فوج سیاست سے دور ہو چکی ہے. انہیں اپنی آنکھیں کھول لینی چاہئیے اور یقین کر لینا چاہئیے کہ پاکستان کی فوج کبھی سیاست سے الگ نہیں ہو سکتی ہے اور جمہوری حکومتوں اور سیاستدانوں پر فوج کا کنٹرول کبھی ختم نہیں ہوگا


http://www.siasat.pk/forum/showthread.php?319881-mother/page21


 

فالتو

MPA (400+ posts)
پاکستان میں سواۓ جٹوں ، راجپوتوں ، ارایوں اور کشمیریوں کے سب را کے ایجنٹ ہیں - دفاعی زراۓ