ارشد شریف قتل کیس کی ایف آئی آر کی کوئی حیثیت نہیں،اعتزاز احسن

3aitzazahsanarsahdafir.jpg

ماہر قانون بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ ارشد شریف کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج نہیں کرنا غلط ہے۔

نجی چینل اے آر وائے کے پروگرام ’دی رپورٹرز‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ماہرِ قانون بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے ارشد شریف کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج نہ کرنا غلط ہے کیونکہ جب وارثان موجود ہوں تو پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کے لواحقین کو سپریم کورٹ میں بولنے کا حق دیا جائے تبھی کچھ توقع رکھی جاسکتی ہے۔


واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے شہید صحافی ارشد شریف کے قتل کی ایف آئی آر ان کی والدہ کی مدعیت کے بغیر ہی درج کی جبکہ شہید کی والدہ کا کہنا تھا کہ حکومت میری مدعیت میں بیٹے کے قتل کی ایف آئی آردرج کرے۔


سپریم کورٹ کے احکامات پر درج کی جانے والی ایف آئی آر میں تین افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جن میں خرم، وقار اور وصی شامل ہیں، ارشد شریف قتل کی رپورٹ 26 اکتوبر کو زیردفعہ 174 کے تحت درج کی گئی ہے۔
 

thinking

Prime Minister (20k+ posts)
SC ke judges bhi aj iss baat ko gool kar gey..kisi judge ne police ya Gov ke bando se ye nahi pocha ke qatal honay walay banday ki Maan ur Wife samnay khari ha..tum logo ne apni mudaet mein FIR kesay daraj kar li?
 
Sponsored Link