یونان کشتی حادثہ: 14 سالہ ابوذرکے ماں باپ کسی معجزے کے منتظر

naveed

Chief Minister (5k+ posts)
211346286c93f61.webp


یونان کشتی حادثہ کے مسافروں میں گجرات کا چودہ سالہ بچہ ابوذر بھی شامل ہے جو ماں باپ کی غربت ختم کرنےاور چھوٹے معذور بھائی کا علاج کرانے کے لیے گھرسے نکلا۔


گجرات کے نواحی گاؤں ٹاہلی صاحب کا چودہ سالہ ابوذر نویں جماعت کا طالب علم تھا جس کا باپ اسکول وین چلاتا ہے۔ غربت سے تنگ ماں باپ نے ایجنٹ کی باتوں میں آکر کم عمر بیٹے کو اٹلی بھجوانے کے لیے اپنا مکان فروخت کیا۔

بیٹے کے لاپتہ ہونے پرغمزدہ والد محمد پرویز نے بتایا، ’میرا بیٹا کہتا تھا میں تمہاری غربت ختم کروں گا اور اپنے معذور بھائی کا علاج کراؤں گا۔‘

21135130ebebc82.jpg


روتی بلکتی ماں نے کہا کہ کہتا تھا، ”روٹی کھائیں کہ بچوں کا علاج کروائیں، میں وہاں جاکرکوئی کاروبار کرلوں گا ، دیہاڑی لگاؤں گا اور پیسے بھیجوں گا تو میرے بھائی کا علاج کروالینا۔ کہتا تھا ماں یہاں علاج کروائیں یا پیٹ بھریں۔ اس نے نویں جماعت سے اسکول چھوڑ کر کہا تھا کہ میں اپنے والد کا ہاتھ بٹاؤں گا تا کہ ہمارے دن پِھرجائیں“۔

والد کا پاکستانی مسافروں سے ناروا سلوک اور انہیں کشتی کے نچلے ڈیک میں رکھنے کے حوالے سے کہنا ہے کہ ہمارا معصوم بچہ ظالموں نے بھوکا رکھ کر مار ڈالا ، ہمارے ساتھ دھوکا ہوا ہے اور یہ حادثہ نہیں قتل ہے۔ ابو ذرکی عمر 14 سال 2 ماہ ہے ، ہم نے ایجنٹ کو 26 لاکھ دینے تھے جس میں سے 20 لاکھ کی ادائیگی کرچکے ہیں اور 6 لاکھ باقی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ ایسا جان بوجھ کرکیا گیا، یہ کشتی ڈبوئی گئی ہے ، پاکستانیوں کو 6 روز تک بھوکا رکھا گیا اور انہیں پانی تک نہیں دیا گیا، ہم جب زندہ بچ جانے والوں کے انٹرویو سنتے ہیں تو ہم سے بھی کھایا پیا نہیں جاتا۔

ابوذر کی خالہ نے نمائندہ آج نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ایجنٹس نے ان کے گاؤں کے کئی افراد سے 10، 10 لاکھ ایڈوانس لیا ہوا ہے ، کئی لوگ اس وقت بھی لیبیا میں پھنسے ہوئے ہیں ۔

خالہ کے مطابق ایجنٹ نے کہا تھا آپکو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، لیکن انہیں کھانا تک نہ دیا اور تیسرے دن کشتی ہی ڈبو دی۔ اس (ابوذر) نے فون پر کہا تھا مجھے واپس بلوا لومیں مر جاؤں گا یہاں، ہم نے کہا کہ واپس بلوا لیتے ہیں۔ ہمارا چھوٹا سا بیٹا چلا گیا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت وہاں موجود بےیارومددگار افراد کی سلامتی سے متعلق اقدامات اٹھائے۔

علاقے کے رہائشی نےآج نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایجنٹ سبز باغ دکھاتے ہیں اور لوگ اپنے مکانات تک فروخت کے بچوں کو بھجوا دیتے ہیں، کئی جان سے جاتے ہیں اورکئی لیبیا میں موجود ہیں جو نہ اب آگے جا پا رہے ہیں اور نہ ہی وطن واپسی کے قابل ہیں۔

بچوں کے اچھے مستقبل کی خاطر مکان بیچ کر بے گھر ہونے والے غریب ماں باپ اب اپنے چودہ سالہ بیٹے کے زندہ ہونے کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔


Source
 

Conservative liberal

Senator (1k+ posts)
feel sorry to the core of my heart. even the word sorry is too little for their loss.
But on the other hand, they sold their house to send him abroad (with all the risks). Wasn't a case to have something in Pakistan for this money? maybe a small business?

Sometimes I am completely lost on how to see it.
 
  • Like
Reactions: Kam

Kam

Minister (2k+ posts)
feel sorry to the core of my heart. even the word sorry is too little for their loss.
But on the other hand, they sold their house to send him abroad (with all the risks). Wasn't a case to have something in Pakistan for this money? maybe a small business?

Sometimes I am completely lost on how to see it.
This is same here. I did not find strength to write on this topic.
2.6 million is a big amount to start any small business.
I am not sure about Europe, but have seen workers in middle East.
Sacrifice is too much than the money earned.
 

kayawish

Chief Minister (5k+ posts)
agar is bachay ki family itni hi ghareeb hai tu 10 lakh kaha se agent ko pay kayea ? is 10 lakh se Gujrat main hi koi chota buisness kar leta.
 

Conservative liberal

Senator (1k+ posts)
This is same here. I did not find strength to write on this topic.
2.6 million is a big amount to start any small business.
I am not sure about Europe, but have seen workers in middle East.
Sacrifice is too much than the money earned.
Exactly, mostly people see europe as a paradise to solve all their social/economical problems. Ones they are there, a magic wand can fix all.

But again it is too insensitive to write it here and for this family. But better to learn from our mistakes.
 
Sponsored Link