کالے قانون کی حمایت نہیں کی جاسکتی، نیب آرڈیننس واپس لیا جائے، سعد رفیق

5saadrafinanamkhallafat.png

خواجہ سعد رفیق نے نیب ترمیمی آرڈیننس کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے اس کو واپس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے نیب ترمیمی آرڈیننس کی مخالفت کردی ہے اور اس کو کالا قانون قرار دیدیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ نیب کا قانون ایک آمر نے تشکیل دیا تھا جسے بعد میں شرمناک سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا، بہت سے بے گناہ اس قانون کا شکار ہوچکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشتبہ قانون سازی ہمیشہ ہی نامناسب رہتی ہے، 14 روز کے جسمانی ریمانڈ کو 40 روز تک بڑھانے کا قانون افسوسناک ہے، اس کالے قانون کی کسی بھی صورت حمایت نہیں کی جاسکتی ، اس آرڈیننس کو واپس لیا جائے۔

https://twitter.com/x/status/1795326986644025666
یادرہے کہ قائم مقام صدر مملکت یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ روز قومی احتساب بیورو(نیب) کا ترمیمی آرڈیننس جاری کیا تھا ، اس آرڈیننس میں نیب ریمانڈ کو 14 دن سے 40 دن تک بڑھادیا گیا ہے جبکہ بدنیتی پر مبنی کیس بنانے والے نیب افسر کی سزا کو کم کرکے 5 سے 2 سال کردیا گیا ہے۔