سونے سے قبل موبائل فون کااستعمال ذیابیطس کا سبب؟آسٹریلین یونیورسٹی کی تحقیق

son1h1h11ih1.jpg


دنیا بھر میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی بہت سی وجوہات ہیں تاہم تحقیق میں ایک نئی وجہ سامنے آئی ہے جس نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی کے محققین کی طرف سے کی گئی تحقیق کے نتائج سامنے آنے پر پتا چلا ہے کہ رات کو سونے سے قبل سمارٹ فون استعمال کرنے والے افراد کو ذیابیطس ٹائپ ٹو کی بیماری لاحق ہونے کے خطرے میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

موناش یونیورسٹی کے محققین نے اس حوالے سے تحقیق کے لیے پچھلے 9 سالوں کے دوران 85ہزار شہریوں کا ڈیٹا مرتب کیا جس میں ایسے افراد کو شامل کیا گیا تھا جو رات کے وقت سونے سے پہلے موبائل فون کو استعمال کرنے کے عادی تھے۔ تحقیق کے نتائج میں سامنے آیا کہ سونے سے پہلے روشنی کے استعمال سے ٹائپ 2 ذیابیطس کی بیماری لاحق ہونے کے خطرے میں اہم تعلق ہے۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کے رات کے اوقات میں روشنی کے استعمال سے نیند میں خلل آتا ہے اور نیند کے دورانیہ میں کمی سے موبائل صارفین میں ذیابیطس لاحق ہونے کے خطرے میں اضافہ ہوتا ہے۔ رات کے اوقات میں مصنوعی روشنی کے استعمال خصوصاً آدھی رات سے صبح 6 بجے کے درمیان بیماری لاحق ہونے کے خطرے میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

یونیورسٹی نے اپنی تحقیق میں 40 برس سے 69 برس کی عمر کے 85 ہزار کے قریب افراد کا 9 سال تک ڈیٹا حاصل کیا جس کے لیے رضاکار شہریوں کی کلائی پر ایک بینڈ لگایا گیا تھا جو ان کے موبائل فون کی روشنی استعمال کے دورانیے کو جانچتا تھا۔ نتائج سے پتہ چلا کہ رات کے اوقات میں موبائل کی روشنی کا سامنا کرنے والے شہریوں میں ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ 10 فیصد تک بڑھا تھا۔

محققین کا کہنا ہے کہ نیند کا دورانیہ کم ہونے اور خلل کے نتیجے میں شوگر کے علاوہ دیگر بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں، سونے سے پہلے موبائل کا استعمال محدود کرنا اور گہری نیند لینا مجموعی طور پر انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ موناش یونیورسٹی کے محققین کے مطابق ذیابیطس ٹائپ 2 اور سونے سے پہلے روشنی کے استعمال کے درمیان تعلق کی مضبوطی ثابت کرنے کیلئے مستقبل میں مزید تحقیق کرنی پڑے گی۔