سائفر کیس فیصلے کے خلاف اپیل میں ایف آئی اے نے کیا موقف اپنایا؟

cyph1i11h21.jpg

سائفر کیس میں اسلام ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں وزارتِ داخلہ کے توسط سے اپیل دائر۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ ہائیکورٹ کو سائفر کیس میں اپیل سننے کا اختیار ہی نہیں

یہ اصول طے شدہ ہے کہ جب پارلیمنٹ قانون میں کوئی بات نہ لکھے تو عدالتی فیصلے کے ذریعے اس میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا، بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کا سائفر ٹرائل کے دوران عدم تعاون کا رویہ رہا،

ریکارڈ سے ثابت ہے کہ دونوں ملزمان نے ٹرائل کے دوران 65 متفرق درخواستیں دائر کیں،متعدد بار ملزمان کی استدعا پر سماعتیں ملتوی ہوتی رہیں،سائفر کیس میں گواہان پیش ہوئے لیکن ملزمان کے وکلاء نے ان پر جرح نہیں کی،

ملزمان کے وکلاء کو سرکاری خرچ پر وکیل مہیا کیا گیا ، یہ اصول طے شدہ ہے کہ کسی ٹرائل میں قانونی تقاضے پورے نا ہوں تو معاملہ دوبارہ ٹرائل کے لیے بھیجا جاتا ہے، سائفر کیس میں استغاثہ نے ٹھوس شواہد پیش کیے،

استغاثہ نے سائفر کیس میں دستاویزی اور فارنزک ثبوت پیش کیے،جنہیں ٹرائل کے جھٹلایا نہیں گیا، اسلام ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں پیش کیے گئے ٹھوس شواہد کو مدنظر نہیں رکھا ،

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 جون کے سائفر کیس میں بریت کے فیصلے کے خلاف اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کی جائیں،درخواست میں استدعا
 

chandaa

Prime Minister (20k+ posts)
Muneerey kanjar tere Sarkari wakeel tou Khan ne maangey he nahin thei. Fraud essaa shouldn't listen this case and should ask another judge to hear this case.
 

zaheer2003

Chief Minister (5k+ posts)
استغاثہ نے سائفر کیس میں دستاویزی اور فارنزک ثبوت پیش کیے،جنہیں ٹرائل کے جھٹلایا نہیں گیا، اسلام ہائیکورٹ نے سائفر کیس میں پیش کیے گئے ٹھوس شواہد کو مدنظر نہیں رکھا ،
ٹھوس شواہد

سائفر کیس : " اظہر نامی شخص کا ویریفائیڈ ٹویٹر اکاؤنٹ ہے جس پر آڈیو اپلوڈ کی گئی،" پراسیکیوٹر دلائل"کیا اس اظہر کو بلا کر پوچھا گیا؟ اس اظہر سے پوچھیں تو سہی کہ اس نے وزیراعظم آفس کی آڈیو کیسے Bug کر لی؟اگر بَگ کر لی تو کیا وہ اسے عدالت میں پیش کرنے کی جرآت بھی کرے گا؟ یہ اظہر تو بہت کام کا آدمی ہے یہ تو اثاثہ ہے اور ہو سکتا ہے،اظہر نے وزیراعظم کے گھر سے وزیر خارجہ کے ساتھ گفتگو بَگ کر کے انٹرنیٹ پر لگا دی، آپ کہتے ہیں اظہر کو چھوڑ دیں لیکن جو اس نے کہا وہ بالکل درست ہے، آپ انٹرنیٹ والی آڈیو کو درست مان کر 10،10 سال سزا بھی دے دیتے ہیں،" جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے ریمارکس۔۔​