حکومت کیلئے اچھی خبر،ترین گروپ کے اہم رکن کی مائنس بزدار کی مخالفت

10kurramlgaribuzdar.jpg

لاہور: خرم لغاری کا کہنا ہے کہ مائنس بزدار کا فیصلہ کسی ایک فرد کا تو ہوسکتا ہے سب کا نہیں۔

تفصیلات کے مطابق جہانگیر ترین گروپ کے رکن سردار خرم لغاری نے مائنس عثمان بزدار کا اپنے گروپ کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔خرم لغاری کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ کھڑے ہیں، عثمان بزدار کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے،انہوں نے کہا کہ مائنس بزدار کا فیصلہ کسی ایک فرد کا تو ہوسکتا ہے سب کا نہیں۔

دوسری جانب ترین گروپ کی اکثریت نے وزارت اعلیٰ کے لئے علیم خان کا نام تجویز کرنے کی مخالفت کر دی ہے، ترین گروپ کی اکثریت علیم خان کانام تجویزکرنے کی حامی نہیں ہے۔


ترین گروپ کے ارکان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ علیم خان تو ایک روز قبل گروپ میں آئے ہیں ،وزیراعلی کے لئے کیسے نامزد کردیں ، مسلم لیگ ق کی قیادت بھی علیم خان کا نام مسترد کرچکی ہے ،وزیراعلی کے بھی علیم خان بارے تحفظات سامنے آچکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ترین گروپ کے ارکان نے پہلے دن سے گروپ کے ساتھ چلنے والے کسی ممبر کانام تجویز کرنے کامشورہ دیا، ترین گروپ انیس ارکان پنجاب اسمبلی پر مشتمل ہے ۔ترین گروپ کے ارکا ن کی رائے ہے کہ گروپ کے پرانے ممبرز سے کسی کانام تجویز کیاجائے ۔


واضح رہے کہ خرم لغاری 2018 میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے، بعد ازاں پارٹی سے اختلافات کے باعث جہانگیر ترین گروپ میں شامل ہوگئے تھے۔

چند روز قبل علیم خان نے بنی اپنے ہم خیال ممبر اسمبلی کے ساتھ ترین گروپ میں شمولیت کی تھی، ترین گروپ کا مطالبہ ہے کہ عثمان بزدار کو وزارت عظمیٰ سے ہٹایا جائے۔
 

Rajarawal111

Prime Minister (20k+ posts)
10kurramlgaribuzdar.jpg

لاہور: خرم لغاری کا کہنا ہے کہ مائنس بزدار کا فیصلہ کسی ایک فرد کا تو ہوسکتا ہے سب کا نہیں۔

تفصیلات کے مطابق جہانگیر ترین گروپ کے رکن سردار خرم لغاری نے مائنس عثمان بزدار کا اپنے گروپ کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔خرم لغاری کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ کھڑے ہیں، عثمان بزدار کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے،انہوں نے کہا کہ مائنس بزدار کا فیصلہ کسی ایک فرد کا تو ہوسکتا ہے سب کا نہیں۔

دوسری جانب ترین گروپ کی اکثریت نے وزارت اعلیٰ کے لئے علیم خان کا نام تجویز کرنے کی مخالفت کر دی ہے، ترین گروپ کی اکثریت علیم خان کانام تجویزکرنے کی حامی نہیں ہے۔


ترین گروپ کے ارکان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ علیم خان تو ایک روز قبل گروپ میں آئے ہیں ،وزیراعلی کے لئے کیسے نامزد کردیں ، مسلم لیگ ق کی قیادت بھی علیم خان کا نام مسترد کرچکی ہے ،وزیراعلی کے بھی علیم خان بارے تحفظات سامنے آچکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ترین گروپ کے ارکان نے پہلے دن سے گروپ کے ساتھ چلنے والے کسی ممبر کانام تجویز کرنے کامشورہ دیا، ترین گروپ انیس ارکان پنجاب اسمبلی پر مشتمل ہے ۔ترین گروپ کے ارکا ن کی رائے ہے کہ گروپ کے پرانے ممبرز سے کسی کانام تجویز کیاجائے ۔


واضح رہے کہ خرم لغاری 2018 میں تحریک انصاف کے ٹکٹ پر رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے، بعد ازاں پارٹی سے اختلافات کے باعث جہانگیر ترین گروپ میں شامل ہوگئے تھے۔

چند روز قبل علیم خان نے بنی اپنے ہم خیال ممبر اسمبلی کے ساتھ ترین گروپ میں شمولیت کی تھی، ترین گروپ کا مطالبہ ہے کہ عثمان بزدار کو وزارت عظمیٰ سے ہٹایا جائے۔
چلو شکر ہے جی -- یہ تو بہت اچھی خبر ہے
 
Sponsored Link