آئی بی افسران کا بہیمانہ تشدد،اقرار الحسن وزیراعظم کے شکرگزار

14iqrarulhasan.jpg

انٹیلیجنس بیورو کے افسران و اہلکاروں کی جانب سے بدترین تشدد کا نشانہ بننے والے اینکر پرسن اقرار الحسن نے وزیراعظم عمران خان سمیت چار لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

اقرار الحسن کا کہنا تھا کہ کل اگر چار لوگ نہ ہوتے تو شاید میں یا ٹیم سرِعام کا کوئی رکن آئی بی کے ہاتھوں قتل ہو چکا ہوتا۔


مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے ان چار لوگوں میں سب سے پہلے اے آروائی نیوز کے مالک سلمان اقبال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سلمان اقبال کہ جو ہمیشہ آہنی دیوار بن کر ہمارا دفاع کرتے ہیں، عماد یوسف جو باس سے زیادہ بڑے بھائی ہیں اور شہباز گل صاحب جو کل ہر لمحہ ہمارے ساتھ تھے۔


اقرار الحسن نے آخر میں وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے احساس ہے کہ میں حالیہ دنوں میں حکومت پر بہت تنقید کرتا رہا ہوں، لیکن یہ معمولی بات نہیں کہ وزیر اعظم ایک صحافی پر تشدد کے بعد اپنی حکومت میں، اپنے ماتحت ادارے انٹیلیجنس بیورو کے اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی کریں۔ اور وزیراعظم کے مشیران اور وزراء بھی اپنے ادارے کی بجائے صحافی کا ساتھ دیں۔


اقرار الحسن نے مزید کہا کہ گذشتہ روز کے تشدد کے بعد سیاسی اور نظریاتی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر پورے پاکستان نے مجھ سے ہمدردی اور محبت کا اظہار کیا ہے۔


انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن اراکین نے ڈھارس بندھائی ہے۔ غلطیاں ہو سکتی ہیں لیکن میں یقین دلاتا ہوں کہ پوری دیانتداری سے سچ کے سفر کو جاری رکھوں گا۔ شکریہ پاکستان۔

اقرارالحسن کی اہلیہ فرح یوسف نے شوہر پرہونے والے بدترین تشدد کے حوالے سے ایک جذباتی بیان بھی شیئر کیا جس میں انہوں نے اقرار کی ہسپتال کے بستر پر لی گئی ایک تصویر شیئر کی اور کہا کہ " اپنے عزیز ترین انسان کو شدید اذیت میں دیکھنا ناقابل بیان تکلیف ہے لیکن وہ بڑی ہمت والے ہیں اتنی جسمانی اور ذہنی تکلیف میں بھی سب کا حوصلہ بندھا رہے ہیں۔اللہ اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین ثم آمین"۔

 
Last edited by a moderator:

Bubber Shair

Chief Minister (5k+ posts)
ان مردودوں کے خلاف قتل کی ایف آی آر کٹنی چاہئے معطلی سے کام نہیں بنے گا، جو ویڈیو میں انکے کالے کرتوت ہیں اس کی بنا پر مزید کیسز ہونگے تو ساری عمر جیل میں ہی کٹے گی
یہ کیسی ریاست مدینہ ہے کہ ایک تو چور اوپر سے بدمعاشی حرامخوروں کی ہمت اتنی بڑھ گئی ہے کہ اب تمام جرائم ان کی سرپرستی میں ہورہے ہیں اگر کوی مجرم تائب ہو کر نارمل زندگی گزارنا چاہے تو یہ اس کو اٹھا لاتے ہیں ایک ہی رات میں اس کی کایا دوبارہ کلپ ہوجاتی ہے
 

yaar 20

MPA (400+ posts)
اس کتے کے بچے عمران خان کو چاہئے کہ اس افسرکی بنڈ پھاڑ کر رکھ دے۔۔۔۔ی
 

Sar phra Dewanah

Senator (1k+ posts)

فضل الرحمن ! چوروں کی دلالی اور وکالت کا انجام ، رسوائی + رسوائی +رسوائی . اگر 11 چور اسلام آباد کے 22 نمبر بنگلے میں پچھلے 33 سال تک سالانہ 44 لاکھ کا دہی کا شربت اپنے ڈاکو امام کے ساتھ با جماعت پئیں تواگلے 55 سال تک دماغ صرف کرسی کرسی کرتا ہے . ابھی اگلے 11 سال مزید نشہ نہیں اترے گا ..اگر یہی حالت رہی تو 2023 میں کیا ہو گا =پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں - اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی​

 

monkk

Senator (1k+ posts)

آئی بی افسران کا بہیمانہ تشدد​

،اقرار الحسن وزیراعظم کے شکرگزار​


sounds funny.
 
Sponsored Link