یہ حکومت کیا ایسٹ انڈیا کمپنی چلا رہی ہے، مفتاح اسماعیل

battery low

Minister (2k+ posts)
1367434_3719190_20_updates.jpg


سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ یہ حکومت کیا ایسٹ انڈیا کمپنی چلا رہی ہے۔

عوام پاکستان پارٹی کے قیام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آج پاکستان کا بچہ بھوکا سو رہا ہے، اگر یہ ملک غریب رہے کیا آگے بڑھ سکتا ہے۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ 40 فیصد بچے ذہنی اور جسمانی کمزور ہیں، تیسری دنیا کے بہت سے ممالک ہم سے آگے ہیں، ہم سوڈان سے بھی پیچھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے علاوہ ہم خطے کے ہر ملک سے پیچھے رہ گئے ہیں، 95-1994ء میں ہم اپنے پڑوسی ممالک میں سب سے آگے تھے۔

سابق وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ مڈل کلاس پاکستانی کو مارا جا رہا ہے،یہاں پچاس ہزار تنخواہ پر بھی ٹیکس مانگا جاتا ہے، دو ہزار ایکڑ اراضی ہو تو کوئی بات نہیں، بجٹ میں آپ نے نوکری پیشہ لوگوں کے ٹیکس ڈبل کر دیے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آپ نے ایک لاکھ اور 75 ہزار کمانے والے کے ٹیکس ڈبل کر دیے، آپ نے ایم این ایز کے لیے 75 ارب رکھ دیے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ نظام نہیں چل سکتا اسے بدلنا ہو گا، یہ شکاری اور شکار کا نظام اب نہیں چل سکتا، آج ہم ایک اور آپریشن عزم استحکام کرنے جا رہے ہیں، ان آپریشن کی بار بار ضرورت کیوں پڑتی ہے کیونکہ آپ غربت ختم نہیں کر سکتے۔

Source

سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ یاد رکھیں فارم 47 والے ملک نہیں بنا سکتے۔

عوام پاکستان پارٹی کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عام آدمی کی یہ سوچ بن چکی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے بغیر سیاست نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا کہ ہم سے اشاروں کنایوں میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ آپ کے ساتھ ہے؟ حکمرانوں کو ملک کی نہیں صرف اپنی کرسی کی فکر ہے، انہیں ہر صورت میں اقتدار چاہیے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ عوام پاکستان پارٹی ہر الیکٹیبل کو قبول نہیں کرے گی، جس الیکٹیبل کی شہرت اچھی نہیں عوام پاکستان کا حصہ نہیں بن سکے گا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ سب کو اس ملک کے آئین کے تابع ہونا پڑے گا، یہ ممکن نہیں ہے کہ آئین توڑا جاتا رہے اور ملک چلتا رہے، آئینی عہدے رکھنے والا ہر شخص روز آئین توڑتا ہے، ان لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے جو دوسروں پر ٹیکس لگا کر خود ٹیکس نہیں دیتے۔

ان کا کہنا ہے کہ معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام اور انصاف ضروری ہے، 95 فیصد قانون سازی عوام کے بجائے حکومت کے لیے کی جاتی ہے، اس تاریکی میں عوام پاکستان کا پلیٹ فارم عوام کی بات کریں گے، چند ہفتے بعد آکر پاکستان کے مسائل کا حل پیش کریں گے، ہم کسی شخص یا خاندان کی سیاست کو آگے بڑھانا نہیں چاہتے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عوام پاکستان کی صدارت 2 مدت سے زیادہ کسی کے پاس نہیں رہے گی، گورنس، ریونیو کلیکشن اور پولیس سمیت ملک کا ہر نظام ناکام ہوچکا، 500 ارب روپے ایم این اے ایم پی ایز میں بانٹنے کی بات کرنے پر اعتراض کیا گیا، پاکستان میں نومولود بچوں کی اموات کی شرح افغانستان سے بھی زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جماعتیں مخصوص مقاصد کے لیے بنتی رہی ہیں، ہم نے ابھی کسی کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت نہیں دی، ہم ہر اچھے برے وقت میں ایک جماعت کا حصہ رہے۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ دنیا کی معیشت انٹرنیٹ پرچلتی ہے ہم اسے بندکردیتے ہیں، ہر شہری کی بنیادی ذمے داری ٹیکس دینا ہے لیکن 50فیصد ٹیکس دیناذمے داری نہیں، اشرافیہ کی حکومت ایک فیصد کی حکومت ہے وہ نظام کی تبدیلی نہیں چاہتے، عوام پاکستان پکی پکائی جماعت نہیں یہ ایک سوچ ہے، ہم لوگوں کے پاس جائیں گے ان سے بات کریں گے۔


Source
https://twitter.com/x/status/1809527327233307110
 
Last edited by a moderator:

Siberite

Chief Minister (5k+ posts)
1367434_3719190_20_updates.jpg


سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ یہ حکومت کیا ایسٹ انڈیا کمپنی چلا رہی ہے۔

عوام پاکستان پارٹی کے قیام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آج پاکستان کا بچہ بھوکا سو رہا ہے، اگر یہ ملک غریب رہے کیا آگے بڑھ سکتا ہے۔

مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ 40 فیصد بچے ذہنی اور جسمانی کمزور ہیں، تیسری دنیا کے بہت سے ممالک ہم سے آگے ہیں، ہم سوڈان سے بھی پیچھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے علاوہ ہم خطے کے ہر ملک سے پیچھے رہ گئے ہیں، 95-1994ء میں ہم اپنے پڑوسی ممالک میں سب سے آگے تھے۔

سابق وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ مڈل کلاس پاکستانی کو مارا جا رہا ہے،یہاں پچاس ہزار تنخواہ پر بھی ٹیکس مانگا جاتا ہے، دو ہزار ایکڑ اراضی ہو تو کوئی بات نہیں، بجٹ میں آپ نے نوکری پیشہ لوگوں کے ٹیکس ڈبل کر دیے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ آپ نے ایک لاکھ اور 75 ہزار کمانے والے کے ٹیکس ڈبل کر دیے، آپ نے ایم این ایز کے لیے 75 ارب رکھ دیے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ نظام نہیں چل سکتا اسے بدلنا ہو گا، یہ شکاری اور شکار کا نظام اب نہیں چل سکتا، آج ہم ایک اور آپریشن عزم استحکام کرنے جا رہے ہیں، ان آپریشن کی بار بار ضرورت کیوں پڑتی ہے کیونکہ آپ غربت ختم نہیں کر سکتے۔

Source

سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ یاد رکھیں فارم 47 والے ملک نہیں بنا سکتے۔

عوام پاکستان پارٹی کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عام آدمی کی یہ سوچ بن چکی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے بغیر سیاست نہیں ہوسکتی۔

انہوں نے کہا کہ ہم سے اشاروں کنایوں میں پوچھا جاتا ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ آپ کے ساتھ ہے؟ حکمرانوں کو ملک کی نہیں صرف اپنی کرسی کی فکر ہے، انہیں ہر صورت میں اقتدار چاہیے۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ عوام پاکستان پارٹی ہر الیکٹیبل کو قبول نہیں کرے گی، جس الیکٹیبل کی شہرت اچھی نہیں عوام پاکستان کا حصہ نہیں بن سکے گا۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ سب کو اس ملک کے آئین کے تابع ہونا پڑے گا، یہ ممکن نہیں ہے کہ آئین توڑا جاتا رہے اور ملک چلتا رہے، آئینی عہدے رکھنے والا ہر شخص روز آئین توڑتا ہے، ان لوگوں کا احتساب ہونا چاہیے جو دوسروں پر ٹیکس لگا کر خود ٹیکس نہیں دیتے۔

ان کا کہنا ہے کہ معاشی استحکام کے لیے سیاسی استحکام اور انصاف ضروری ہے، 95 فیصد قانون سازی عوام کے بجائے حکومت کے لیے کی جاتی ہے، اس تاریکی میں عوام پاکستان کا پلیٹ فارم عوام کی بات کریں گے، چند ہفتے بعد آکر پاکستان کے مسائل کا حل پیش کریں گے، ہم کسی شخص یا خاندان کی سیاست کو آگے بڑھانا نہیں چاہتے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عوام پاکستان کی صدارت 2 مدت سے زیادہ کسی کے پاس نہیں رہے گی، گورنس، ریونیو کلیکشن اور پولیس سمیت ملک کا ہر نظام ناکام ہوچکا، 500 ارب روپے ایم این اے ایم پی ایز میں بانٹنے کی بات کرنے پر اعتراض کیا گیا، پاکستان میں نومولود بچوں کی اموات کی شرح افغانستان سے بھی زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جماعتیں مخصوص مقاصد کے لیے بنتی رہی ہیں، ہم نے ابھی کسی کو پارٹی میں شمولیت کی دعوت نہیں دی، ہم ہر اچھے برے وقت میں ایک جماعت کا حصہ رہے۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ دنیا کی معیشت انٹرنیٹ پرچلتی ہے ہم اسے بندکردیتے ہیں، ہر شہری کی بنیادی ذمے داری ٹیکس دینا ہے لیکن 50فیصد ٹیکس دیناذمے داری نہیں، اشرافیہ کی حکومت ایک فیصد کی حکومت ہے وہ نظام کی تبدیلی نہیں چاہتے، عوام پاکستان پکی پکائی جماعت نہیں یہ ایک سوچ ہے، ہم لوگوں کے پاس جائیں گے ان سے بات کریں گے۔


Source




شریک جرم نہ ھوتے تو مخبری کرتے ۔