ملکی مالیاتی خسارہ 809 ارب روپے تک پہنچ گیا

shehbazhi.jpg

ملک کا مالیاتی خسارہ بڑھ کر 809 ارب روپے ہو گیا۔ وزارت خزانہ نے ماہانہ اقتصادی آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی۔


رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح 25.5 فیصدریکارڈ کی گئی ہے۔ برآمدات، ایف بی آر ریونیو اور زرعی قرضوں کی فراہمی میں اضافہ ہوا۔ حکومتی اقدامات کی بدولت مہنگائی میں کمی متوقع ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ، ترسیلات زر ،درآمدات ، غیر ملکی سرمایہ کاری اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ریکارڈ ہوئی۔ گزشتہ برس کے جولائی تاستمبر کے مہینوں میں مالیاتی خسارہ 438 ارب روپے تھا۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چار ماہ میں کمی ہوئی اور گزشتہ برس کے5 ارب 30 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2ارب 80 کروڑ ڈالر پر آ گیا ہے جب کہ بیرون ملک سے ترسیلات زر میں8.6 فیصد کمی ہوئی ہے۔ چار ماہ میں بیرون ملک سے9 ارب90 کروڑ ڈالر کی ترسیلات آئیں جو گزشتہ برس 10 ارب80 کروڑ ڈالر تھیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت کو بھنور سے نکالنے کیلئے دعاؤں اور دواؤں کی ضرورت ہے۔

کراچی میں منعقدہ ‘حرمت سود سیمینار’ سےخطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ملک کا مالیاتی نظام معاشی ترقی کےلئےاہم ہوتا ہے، موجودہ دورہ میں بینکاری خدمات کا استعمال جدید دورکی ضرورت بن چکا ہے۔

تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی معیشت کو بھنور سے نکالنے کیلئے دعاؤں،دواؤں کی ضرورت ہے، مجھے مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ حکومت اپنا پیسہ اسلامی بینکوں میں رکھے، انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ حکومت کے پاس تو پیسہ ہی نہیں تو بینکوں میں کیسے رکھےگی؟ ہم اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرنے کے عادی ہوچکے ہیں، ہمیں آمدنی سے زیادہ اخراجات پر کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔
 
Last edited by a moderator:
Sponsored Link