مالاکنڈ میں دہشتگردی لہر پر میرے خدشات کو پروپیگنڈا قراردیا گیا،مرادسعید

Kashif Rafiq

Prime Minister (20k+ posts)
تحریر : مراد سعید

میری قوم اس بات پر گواہ ہے کہ جب جولائی ۲۰۲۲ میں مالاکنڈ ڈویژن میں دہشتگردی کی نئی لہر کی بساط بچھائی جانے لگی تو میں نے اس سلسلے کے آغاز سے قبل اپنی قوم کو آگاہ کیا اور سوال اٹھائے۔ جواباً آئ ایس پی آر اور آئی ایس آئی کے میڈیا ونگ کی جانب سے میرے خدشات کو پراپگینڈہ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ میں بےجا خوف و ہراس پھیلا رہا ہوں۔

جب یہ عناصر مالاکنڈ میں داخل ہوگئے اور بھتہ خوری اور دھمکی آمیز کالز اور خطوط کا سلسلہ شروع ہوا تو میں نے حکومت اور سیکیوریٹی اداروں دونوں سے درخواست کی کہ ۸۰ ہزار شہدا بشمول ۱۰ ہزار سیکیوریٹی فورسز کے اہلکاروں کی قربانی دے کر ہم نے یہ امن حاصل کیا ہے خدارا اب مزید پاکستانیوں کو کسی اور کی جنگ کا ایندھن نہ بنایا جائے۔

جس پر اس وقت کے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی جانب سے بیان آیا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے اور میں شرپسند ہوں، پراپگینڈہ کر رہا ہوں۔ حکومت اور سیکیوریٹی اداروں کی نیت جان کر میں نے اپنی قوم سے رجوع کیا اور ان کے ساتھ مل کر ایک مسلسل تحریک چلائی اور ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک قطرہ خون بہائے بغیر مالاکنڈ ریجن سے دہشتگردوں کو واپس پلٹنا پڑا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس امن کے نام پر اربوں روپے ڈالر ہڑپے گئے اور ہزاروں جانیں گنوائیں گئیں اس کو صرف قوم کو یکجا کرکے بحال کرنے پر ریاست داد دیتی۔

یہ کاوش ایک کیس سٹڈی کے طور پر دیکھی جاتی الٹا ریاست نے مجھے مطلوب قرار دے دیا۔ مجھ پر مقدمے درج ہوئے، اداروں کی سرپرستی میں میرے گھر پر اسلحہ بردار افراد بھیجے گئے، خاندان کو ھمکیاں دیں گئیں، رستے سے ہٹانے کی کوششیں ہوئیں۔

میرے ہی ایم پی ایز کو بلا کر سمجھایا گیا کہ یہ نادان ہے
ask him to stay out of it
معلومات بہت تھیں۔ ان کے منصوبوں کا بھی علم تھا لیکن الزام تراشی کے بجائے اپنے لوگوں کے امن کو ترجیح رکھا اور بار بار رکھا اگرچہ دھوکے اور چالبازیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا اور دھونس دھمکیاں بھی مگر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر امن کے لیے اپنی قوم کو یکجا ہونے کا پ

یغام دیا۔ ملاکنڈ سے مایوس ہو کر پلان کا رُخ جنوبی اضلاع کی جانب موڑ دیا گیا۔ اب واپسی کا راستہ وہ اپنانا تھا جہاں سے ماضی میں اس گھناؤنے کھیل کی شروعات کی گئیں تھیں۔

لہذا میں نے لکی مروت، وزیرستان، بنوں، اورکزئی، کُرم، ڈی آئی خان، ٹانک، کرک، ہنگو، کوہاٹ کے نوجوانوں کے ساتھ جرگے کیے اور ان کو موبالائیز کیا۔ تفصیل طویل ہے مگر مختصر یہ کہ جس سرحد کو محفوظ بنانے پر قوم کے اربوں روپے لگے، جس امن کو یقینی بنانے کے لیے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، جس جنگ کا ایندھن ہمارے ہزاروں شہری اور فوجی جوان بنے اُس سے قوم کو بچانا اتنا بڑا گناہ عظیم تھا کہ اگست ۲۰۲۲ سے اپریل ۲۰۲۳ تک بارہا مجھے قتل کرنے کے غرض سے پلان ترتیب دیے گئے۔

مجھ پر انگریز کے زمانے کے بغاوت اور غداری کے وہ مقدمے درج کیے گئے جن کی سزا موت ہے اور پھر مئی ۲۰۲۳ سے اس مقصد کے حصول کے لیے مزید نئے بہانے تراشے گئے۔ قانونی اور غیر قانونی ہر راستے کا انجام ایک ہی لکھ دیا؛ موت۔ میں جو پہلے سے ہی روپوش تھا مکمل طور پر رابطے سے باہر ہوگیا۔ اور یوں پوری قوم کو دہشتگرد قرار دے کر اصل دہشتگردوں کو کھل کر کھیلنے کے لیے زمین فراہم کردی گئی۔ نگران حکومت کے دور میں انہیں پوری طرح لکی مروت اور بنوں میں آباد ہونے کا موقع دیا گیا۔

اب سننے میں آرہا ہے کہ آپریشن کا اعلان کردیا گیا ہے تو مجھ پر جو شرپسندی اور پراپگینڈہ کی تہمت لگائی گئی اس کا کیا؟ بس یہی وجہ تھی نہ کہ حالات اس نہج پر لانا ضروری تھا؟ کیونکہ مقاصد کا حصول اس پر موقوف تھو؟ جب خیبر پختونخواہ میں ہماری حکومت بنی تب ہی یارانِ غار کو خبردار کردیا تھا کہ ناصرف اس خطے کے لیے نئے گیم پلان پر عملدرآمد جاری ہے بلکہ اگلے چند ماہ میں اسی عمل کو آپ کے خلاف بطور چارج شیٹ استعمال کیا جائیگا لہذا کھل کر اس مسئلے پر سامنے آئیں اور قوم کو آگاہ کریں۔ اور میں آج بھی اپنی قوم کو بتا رہا ہوں جو آگ ہماری دہلیز پر جلادی گئی ہے آپ جانتے ہیں کہ اُس کے شعلے نہ پہلے میری دیواروں پر رُکے تھے نا آگے اٹک کے پُل پر ٹہرنے ہیں۔ دریاؤں کا کے یا ریگستانوں کی خشکی سے نہیں رُکتی یہ قاتل لہریں۔

مہران بیس سے لے کر واہگہ بارڈر تک آپ اور میں بھی مریں گے اور وہ سیکیوریٹی جوان بھی جو ہمیشہ ریاست کی غلط پالیسیوں کی بھینٹ چڑھتے ہیں۔ پھر وہی کھیل رچایا جائیگا۔ سوال اٹھانا غداری۔ نشاندہی بغاوت۔مگر کل کا پراپگینڈہ آج کی حقیقت میں ڈھل رہا ہے، اب آپریشن ہوں گے، جنازے اٹھیں گے، بے گھری، بے سروسامانی، ذلت ہوگی اور پھر اپنی غلط پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ان مظلوموں کا خون بیچا جائیگا جو اپنے وطن کی محبت میں بلا چوں چراں میدان میں اترتے ہیں۔۔

میں اس ملک کے پالیسی سازوں سے بھی کہتا ہوں وہ جو خود کو ریاست کہلانے پر مصر ہیں؛ ۷۷ سال ہوگئے خدارہ قوم کے بچوں کو لکڑی کے ان ٹکڑوں برابر ہی سمجھ لو جن کو ایندھن بناتے ہیں، انہیں بھی کچھ سوچ سمجھ کر شعلوں میں پھینکا جاتا ہے۔ اتنے تن کٹیں تو جنگل بھی بنجر ہوجاتے ہیں جتنے سر ہم نے کٹا دیے۔ اگر آپ اپنے آقاؤں کے آگے اتنے ہی بے بس ہیں تو کچھ وقت کے لیے پیچھے ہٹ جائیں ہم کل کیطرح آج بھی بنا ایک قطرہ خون بہائے اپنا امن قائم رکھ سکتے ہیں۔ بس یہ اپنوں کے ہاتھ نہ شامل ہوں بربادئ گلشن میں تو دشمن سے نمٹنا تو ہماری تاریخ ہے۔
https://twitter.com/x/status/1804744732418969625