غیر مسلم سنی اتحاد کونسل کا رکن نہیں بن سکتا،مخصوص نشستوں کی اہل نہیں

8ecpinksjjdjdkjdkj.png

سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ میں جمع کروادیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں جواب جمع کروادیا گیا ہے، جواب میں کہا گیا ہے کہ مخصوص نشستوں کیلئے فہرست جمع کروانے کی آخری تاریخ 24 جنوری تھی مگر سنی اتحاد کونسل نے اس وقت تک کوئی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروائی۔

الیکشن سے قبل امیدواروں سے پی ٹی آئی نظریاتی کے انتخابی نشان کا سرٹیفکیٹ مانگا گیا مگر امیدوار خود اس انتخابی نشان سے دستبردار ہوگئے، اس طرح یہ امیدوار آزاد قرارپائے۔


الیکشن کمیشن کے مطابق الیکشن جیتنے کے بعد آزاد امیدواروں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی، الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نا دینے کا چار ایک سے فیصلہ دیا اور پشاورہائی کورٹ نے اس فیصلے کے خلاف سنی اتحاد کونسل کی اپیل پر فیصلہ برقرار رکھا، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں دی جاسکتیں۔

https://twitter.com/x/status/1804483365909020776
الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستیں حاصل کرنے کی اہل نہیں ہے، اس جماعت کے آئین کے مطابق کوئی بھی غیر مسلم اس جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا، سنی اتحاد کونسل کی یہ شرط غیر آئینی ہے، لہذا سنی اتحاد کونسل کو اقلیتوں اور خواتین کی مخصوص نشستیں الاٹ نہیں کی جاسکتی۔

https://twitter.com/x/status/1804528857875108195
 

ranaji

(50k+ posts) بابائے فورم
اس حرام زادے اور گشتی کے بچے سے پوچھنا تھا یدی دیا اگر پی ٹی آئی یا سنی اتحاد کونسل کو سیٹیں نہیں دی جاسکتئ تو انکی سیٹیں دوسری جماعتوں کو کونسے قانون اور کونسے آئین کے تحت کوئی گشتی کا بچہ حرام کا نطفہ کیسے دے سکتا ہے پھر تو کسی کو اور کو بھی نہیں دی جا سکتیں
 

chandaa

Prime Minister (20k+ posts)
Athar Minullah will ask Cheap Election commissioner to shove this argument in his own filthy ass 😆 Phir tou JUI-F aur kisi aur Mazahbi jamat ko bi seats nahin thi milni chahiyae thi harami 😆
 

Nice2MU

President (40k+ posts)
8ecpinksjjdjdkjdkj.png

سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سپریم کورٹ میں جمع کروادیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں جواب جمع کروادیا گیا ہے، جواب میں کہا گیا ہے کہ مخصوص نشستوں کیلئے فہرست جمع کروانے کی آخری تاریخ 24 جنوری تھی مگر سنی اتحاد کونسل نے اس وقت تک کوئی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع نہیں کروائی۔

الیکشن سے قبل امیدواروں سے پی ٹی آئی نظریاتی کے انتخابی نشان کا سرٹیفکیٹ مانگا گیا مگر امیدوار خود اس انتخابی نشان سے دستبردار ہوگئے، اس طرح یہ امیدوار آزاد قرارپائے۔


الیکشن کمیشن کے مطابق الیکشن جیتنے کے بعد آزاد امیدواروں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی، الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نا دینے کا چار ایک سے فیصلہ دیا اور پشاورہائی کورٹ نے اس فیصلے کے خلاف سنی اتحاد کونسل کی اپیل پر فیصلہ برقرار رکھا، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہیں دی جاسکتیں۔

https://twitter.com/x/status/1804483365909020776
الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستیں حاصل کرنے کی اہل نہیں ہے، اس جماعت کے آئین کے مطابق کوئی بھی غیر مسلم اس جماعت میں شامل نہیں ہوسکتا، سنی اتحاد کونسل کی یہ شرط غیر آئینی ہے، لہذا سنی اتحاد کونسل کو اقلیتوں اور خواتین کی مخصوص نشستیں الاٹ نہیں کی جاسکتی۔

https://twitter.com/x/status/1804528857875108195

اگر سنی اتحاد کا آئین پاکستانی آئین سے متصادم ہے تو پھر اس پارٹی کو رجسٹریشن کیوں دی گئی تھی؟ اور یہ اعتراض پہلے کیوں نہیں لگایا گیا تھا,؟