
وفاقی حکومت نے مالی سال 24-2023 کے بجٹ میں سولر پینل پر عائد ٹیکس اور ڈیوٹی ختم کردی،بجٹ میں سولر پینل کی مینوفیکچرنگ کے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی، سولر پینل کی بیٹریز کی تیاری کے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی، سولر پینل کی مشینری کی درآمد اور سولر پینل کے انورٹر کے خام مال پر بھی ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
سولر پینلز پر ڈیوٹی اور ٹیکس ختم سے کیا قیمتوں میں فرق سے متعلق پشاور کے محمد شفیق نے وضاحت کردی، شفیق نے بتایا بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے لوگوں کو سولر سسٹم پر جانے پر مجبور کیا لیکن گذشتہ سال کی نسبت سولر سسٹم کی قمیتوں میں مسلسل اضافے نے عوام سے یہ ریلیف بھی چھین لیا۔
شیفق نے بتایا لوگ بجٹ پاس ہونے پر سولر سسٹم کی قیمتوں کی کمی کی امیدیں لگا کر بیٹھے ہیں، آج سے چار سال پہلے جو ساڑھے چار ہزار والا سولر پینل تھا جو لوگ ایک پنکھے کیلئے لے کر جاتے تھے، ان کی قیمت 18 سے 19 ہزار تک جا پہنچی، ان پینلز پر 17 سے 18 فیصد ڈیوٹیاں اور ٹیکسز لگے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ پہلے فری سسٹم تھا، پینلز یا انورٹرز پر کوئی ٹیکسز نہیں تھے، پہلے جس انورٹر کی قیمت 65 ہزار تھی وہ اب ہم ایک لاکھ 60 ہزار میں دے رہے ہیں، 5 کلو واٹ کے سسٹم میں جہاں 6 لاکھ خرچہ آتا تھا وہی سسٹم اب 10 لاکھ تک پپہنچ گیا ہے تو لوگ کہاں سے خریدیں گے،ہمارے کاروبار ویران پڑے ہیں،نئے بجٹ سے عوام کو کچھ امید پیدا ہوئی ہے، لیکن آنے والے دنوں میں قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔