
مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا ہے کہ اتحادی تو ابھی تک حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں مگر ان کی اپنی پارٹی کے لوگ منحرف ہو رہے ہیں انہیں دیکھنا چاہیے کہ وہ لوگ کیوں منحرف ہو رہے ہیں۔
طارق بشیر چیمہ نے کہا ہے کہ اب حالات آسان نہیں بہت ہی سنجیدہ ہیں۔ عدم اعتماد کی تحریک جمع ہوچکی ہے، ہر جماعت کو اپنا فیصلہ کرنا ہے۔ پرویز الہٰی اسلام آباد آ رہے ہیں، جو فیصلہ کریں گے پارٹی کو قبول ہوگا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ چوہدری برادران کی شریف برادران سے بھی ملاقات ہوسکتی ہے، اگلے تین چار دن میں واضح ہوجائے گا کہ کون کدھر کھڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری سے ملے وہ بھی مطمئن تھے، عدم اعتماد میں نمبرز گیم بہت اہم ہے۔
طارق بشیر چیمہ نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم نے ملاقات میں کہا کہ 7،8 لوگ ہیں، باقی چسکے لے رہے ہیں، حالات بہت سنجیدہ ہیں، ایسے حالات نہیں جنہیں آسان لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا وزیراعظم یا وزیراعلیٰ بزدار صاحب کے ساتھ کوئی ایشو نہیں، ساتھیوں کو دھوکے میں نہیں رکھنا چاہئے، ہر جماعت بہتر فیصلہ کرے گی۔
اس سوال پر کہ آپ کے ساتھی منحرف ہورہے ہیں؟ لیگی رہنما نے کہا کہ آپ میرے کندھے پر بندوق رکھ کر چلارہے ہیں۔ طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ پرویز الہی کی بطور وزیراعلیٰ پنجاب خدمات سب کے سامنے ہیں، اگر ہم انہیں وزیراعلیٰ دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کے پیچھے ان کی ماضی کی گورننس ہے، وزیراعظم اگر عثمان بزدار سے خوش ہیں تو اچھی بات ہے۔