آج کے چند علماء کے بارے میں۔

xshadow

Minister (2k+ posts)
50232_154456981243948_8762_n.jpg


اپنا موقف بیان کرنے سے پہلے ایک واقع بیان کرنا چاہوں گا۔ پورا واقع تو بہت طویل ہے اس لیے آخر سے بیان کرنا چاہوں گا۔ قصہ یوں ہے کہ شیطان اپنے چیلوں کو دینی عالموں کا تعرف کروانے کی غرض سے ایک عالم کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ ہاتھی سوئی کے سوراخ میں سے گزر جائے۔ عالم نے جواب دیا کہ ایسا اس وقت تک ممکن نہیں جبتکہ سوئی کا سوراخ ہاتھی جتنا نہ ہوجائے یا ہاتھی سکڑ کر سوراخ جتنا نہ رہ جائے۔ شیطان اپنے چیلوں کو لے کر کسی دوسرے عالم کے پاس آیا اور پھر یہی سوال پوچھا کہ کیا ہاتھی سوئی کے سوراخ میں سے گزر سکتا ہے تو اس عالم نے ساتھ ہی جواب دیا کہ کیوں نہیں' اگر اللہ چاہے تو۔ شیطان نے اس جواب پر اپنے چیلوں سے کہا کہ پہلا عالم یقیناً ایک عالم تھا مگر یہ دوسرا عالم ' عالمِ کامل ہے۔

تو دوستو' میری مراد اس واقع سے یہ ہے کہ آج کے اس بے ہنگم دور میں علماء کی کمی نہیں مگر عالمِ کامل دستیاب نہیں۔ میری اس تحریک کی وجہ یہ ہے کہ ایک دوست جاوید احمد غامدی کی تقریباً ہر پوسٹ میں مجھے مینشین کر رہے ہیں اور یقیناً مقصد میری رائے لینا ہوگا مگر ہر پوسٹ پر اپنا تبصرا کرنا یقیناً ایک جوئے شیر لانا ہے اسی لیے میں ایک ہی بار اپنی رائے غامدی صاحب کے بارے میں دے دینا چاہتا ہوں۔

غامدی صاحب کے یقیناً بہت سننے والے ہوں گے مگر یہ تعداد صرف نام نہاد روشن خیال لوگوں مشتمل ہے۔ وہ نام نہاد روشن خیال جو کہ موسیقی کو جمالیتی تسکین و روح کی غزا اور سود کو انشورنس و منافع کا نام دے کر جائز کروانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

http://www.youtube.com/watch?v=gwx9Fl01phI

آپ pbuh نے فرمایا کہ میری امت میں ایک گروہ ایسا ہوگا جو شراب نوشی، زنا، ریشم پہننا اور موسیقی کو جائز کرار دے گا۔ (بخاری جلد ۷ کتاب ۶۹ حدیث نمبر ۴۹۴)۔

یاد رہے کہ میرا مقصد صرف غامدی صاحب کو حدف بنانا نہیں ہے اس لیے اس ضمن میں میں ایک اور عالم کا نام بھی لینا چاہوں گا جو موسیقی کو نہ صرف جائز کرار دیتے ہیں بلکہ اس پر باقاعدہ عمل کرتے ہوئے بھی نظر آئیں گے۔ اور یہ ہیں طاہر القادری صاحب۔


http://www.youtube.com/watch?v=Fqn-V4GRQzM

یہ تو میں کچھ مروت سے کام لے رہا ہوں ورنہ اگر میں ان علماء اور ان جیسے میڈیا پر آنے والے دوسرے علماء کے تمام بیانات پر بات کروں تو مجھے تو یہ عالمِ کامل تو دور 'عالم بھی نہیں لگتے۔

اسلیے' بات ضرور سنیے مگر تقلید میں اتنا آگے نہ نکل جائیے کہ آپ ان باتوں کو بھی مان لیں جو حقیقت میں ممنوع کرار دی گئی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں عالم اور عالمِ کامل میں فرق کیجیے۔

اگر ان دونوں حضرات کی دلیلوں کی روشنی میں مان بھی لیا جائے کہ موسیقی حرام نہیں ہے تو یہ بھی تو قرآن یا حدیث میں نہیں فرمایا گیا ہے کہ اگر موسیقی نہ سنی تو کوئی بہت بڑا گناہ ہوجائے گا۔ اسلیے کیوں نہ اسے متفقہ طور پر حرام تسلیم کیا جائے جبکہ اس کا استعمال ہوتا ہی فہاشی کو پھیلانے میں ہے اور دوسرا یہ کہ اسکے بارے میں واضح احادیث بھی موجود ہیں جن میں سے ایک میں نے بمہ حوالے کے پیش کر دی ہے۔
دو احادیث اور بھی پیش کرنا چاہوں گا جو میں نے سن رکھی ہیں اور میں چاہوں گا کہ اگر کوئی دوست ان احادیث کا حوالہ بھی بتا دے۔
پہلی حدیث کے مطابق آپ pbuh کا فرمان ہے کہ آخری دور میں قرآنی آیات کو موسیقی اور ساز کے ساتھ پڑھا جائے گا۔

ایک اور حدیث کے مطابق' ایک دفعہ آپ pbuh کسی صحابی کے ساتھ بازار سے گزر رہے تھے کہ موسیقی کی آواز سنائی دی۔ آپ pbuh نے اپنی دونوں چھوٹی انگلیاں کانوں میں ڈالیں اور صحابی سے فرمایا کہ بھاگو۔ کچھ دور جانے کے بعد پھر آپ pbuh نے صحابی سے پوچھا کہ کیا ابھی بھی موسیقی کی آواز آرہی ہے تو صحابی نے جواب دیا کہ جی ہاں۔ ایک بار پھر آپ pbuh نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالیں اور بھاگنے کو کہا۔ کچھ دور جاکر جب آواز آنا بند ہوگئی تو آپ pbuh نے صحابی سے فرمایا کہ راستے سے گزرتے ہوئے بھی کسی کے کانوں میں موسیقی کی آواز پڑ گئی اور وہ اس میں مشغول ہو گیا تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگلا کر ڈالا جائے گا۔


دعا ہے کہ اللہ تعالہ ہمیں حقیقی عالم یا عالمِ کامل کی راہنمائی عطا فرمائے۔ آمین۔
 
Last edited by a moderator:

ambroxo

Minister (2k+ posts)
ہر جگہ ، ہر طبقے میں اچھے برے لوگ موجود ہیں
لیکن
یہ ساری تحریر صرف یوسف کذاب کے نام نہاد صحابی زید زمان حامد کو سچا ثابت کرنے کے لئے ہے




 
Last edited:

Bombaybuz

Minister (2k+ posts)
Kya ya bahter na hoga ka specfic ulama ka naam ley k baat na kee jaye balkey ... kesi bhe akeday pay apni daleel paish ki jayee ... mukhtalif ulama ki apni apni following hai aur kesi bhe akeday pay iktelaaf last main ilme bahes nahi balkey aana ka masla ban jata hai aur phir kufar ka fawtey shuru ho jatey hain ... meri na-kis rai main Asal maqsaad hidayat aur hidayat ka nateejay main falah pa jana hai ... In short baat torey ya alag karney ki nahi balkey jorney aur sab ko mila ka agey barhney ki honi chaheya ...Allah hum sab ki rahnumai farmayee aur Akhirat ki ruswai sai mahfooz rakhey ... Aamen..
 

AbuOkasha

MPA (400+ posts)
عالم تو وہ ہوتا ہے جسکی صحبت اللہ کے قریب کردے ، جسکے بیان کو سن کر ایمان تازہ ہوجائے ، جو حق بات کو بیان کرنے سے نا ڈرے، جو امام احمد بن حنبل کی طرح کوڑے تو کھالے لیکن قرآن کو مخلوق کہنے سے انکار کردے ، جو سچ بولے تو شیخ عبدالقارد گیلانی کی طرح چاہے جو اپنی آستین مییں چھپی ہوئی اشرفیاں نکال کر ڈاکووں کو دے کر انکی زندگی بدل دے،
جو امت کو قران وحدیث و صحابہ کرام کی طرف لوٹا دے ، اللہ کا شکر ہے اس ملک میں اتنے اللہ والے موجود ہیں جنکی صحبت واقعی دلوں پر اثر کرتی ہے، جنہوں نے کتنوں کو اللہ سے جوڑ دیا،۔۔۔ ایک لمبی فہرست ہے۔۔۔
لیکن نہایت ہی گنے چنے کچھ وہ عالم ہیں ، ں، جو دجالی قوتوں کے مکر اور فریب کا پردے چاک کر رہے ہییں،
جو امت کو خواب غفلت سے جگا رہےہیں کہ امام مہدی کا ظھہور قریب ہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اور کچھ وہ اسکالر ہیں جنکا مقصد شکوک و شبہات پیدا کرنا ہوتا ہے، ایمان پر عقیدے پر، یہ وہ علما سو ہیں جنکے بارے میں آپ نے فرمایا او کما قالا ، آخری وقت میں میری امت کا بد ترین طبقہ علما سو ہوں گے ، فتنے انہی میں سے نکلیں گے اور انہیں میں لوٹ جائی گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

xshadow

Minister (2k+ posts)
ہر جگہ ، ہر طبقے میں اچھے برے لوگ موجود ہیں
لیکن
یہ ساری تحریر صرف یوسف کذاب کے نام نہاد صحابی زید زمان حامد کو سچا ثابت کرنے کے لئے ہے



پہلے تمہاری تربیت اور نیت پر شک تھا مگر اب تمہارے دماغ پر بھی شک ہونے لگا ہے۔ دور دور تک میری پوسٹ میں زید حامد کا نام تک نہیں ہے مگر تم نے قسم اٹھا رکھی ہے مجھ سے پنگا لینے کی۔
تمہارا مسئلہ بتاتا ہوں کہ ہے کیا۔ تمہارا بس نہیں چل رہا کہ اپنے منہ کی بات تم دوسروں کے منہ میں ڈال دو۔ حالانکہ زید حامد کے بدترین مخالف بھی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ یوسف علی کی حیثیت کا زید حامد کی زات پر کوئی اثر نہیں پڑتا ورنہ جو اینکرز امریکہ کے پیسے لے کر بھوکے کتوں کی طرح پاکستان کو نوچ رہے ہیں انہیں اس مسئلے کو تم سے زیادہ اچھالنا چاہیے تھا۔
اسلیے اپنی بک بک سے موضوع کو خراب کرنے کی کوشش مت کرو۔ ایسا نہ ہو کہ اس بار تمہارے ساتھ اس سے زیادہ ہوجائے جو اس سے پہلے میں تمہارے ساتھ کر چکا ہوں۔
 

xshadow

Minister (2k+ posts)
Kya ya bahter na hoga ka specfic ulama ka naam ley k baat na kee jaye balkey ... kesi bhe akeday pay apni daleel paish ki jayee ... mukhtalif ulama ki apni apni following hai aur kesi bhe akeday pay iktelaaf last main ilme bahes nahi balkey aana ka masla ban jata hai aur phir kufar ka fawtey shuru ho jatey hain ... meri na-kis rai main Asal maqsaad hidayat aur hidayat ka nateejay main falah pa jana hai ... In short baat torey ya alag karney ki nahi balkey jorney aur sab ko mila ka agey barhney ki honi chaheya ...Allah hum sab ki rahnumai farmayee aur Akhirat ki ruswai sai mahfooz rakhey ... Aamen..

کسی حد تک آپ کی بات میں وزن ہے۔ مگر یاد رہے کہ جس اندیشے کا زکر آپ نے کیا ہے میں اس کے بارے میں محتاط ہوں کیونکہ میں نے کسی پر کافر ہونے کا فتوا نہیں لگایا۔ اور ویسے بھی کفر کا فتوا لگنے کا اندیشہ تو وہاں بھی ہے جہاں پر نام نہ لیا جائے کیونکہ اگر میں نام نہ لوں تو کیا لوگوں کو علم نہیں ہے کہ فلاں عالم کی اس موضوع پر کیا رائے ہے۔ اسکے علاوہ میں نے ان علماء کو قطعاً نہ سننے پر زور نہیں دیا بلکہ سن کر اور تحقیق کے بعد سطحی اور حقیقی عالم میں فرق کرنے کو کہا ہے۔
 

BuTurabi

Chief Minister (5k+ posts)

ایک اور حدیث کے مطابق' ایک دفعہ آپ pbuh کسی صحابی کے ساتھ بازار سے گزر رہے تھے کہ موسیقی کی آواز سنائی دی۔ [HI]آپ pbuh نے اپنی دونوں چھوٹی انگلیاں کانوں میں ڈالیں اور صحابی سے فرمایا کہ بھاگو۔ کچھ دور جانے کے بعد پھر آپ pbuh نے صحابی سے پوچھا کہ کیا ابھی بھی موسیقی کی آواز آرہی ہے تو صحابی نے جواب دیا کہ جی ہاں۔[/HI] ایک بار پھر آپ pbuh نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈالیں اور بھاگنے کو کہا۔ کچھ دور جاکر جب آواز آنا بند ہوگئی تو آپ pbuh نے صحابی سے فرمایا کہ راستے سے گزرتے ہوئے بھی کسی کے کانوں میں موسیقی کی آواز پڑ گئی اور وہ اس میں مشغول ہو گیا تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگلا کر ڈالا جائے گا۔


میں سمجھ نہیں سکا کہ آقا pbuh نے اپنے کانوں میں تو اُنگلیاں دے دیں لیکن صحابی کو ایسا کرنے کی نصیحت/تبلیغ نہیں کی اور اُس صحابی نے بھی آپ کی سُنت پر عمل کرتے ہوئے فوراً ایسا نہیں کیا بلکہ سُنتا رہا، یہ دیکھ کر آپ pbuh نے اُس سے پوچھا کہ ’’کیا ابھی بھی موسیقی کی آواز آرہی ہے‘‘۔

کیا یہ واقعہ (اگر سچا ہے) مملکتِ مدینہ کے قیام کے بعد کا ہے یا پہلے کا
؟

اگر
بعد کا ہے تو آپ pbuh نے بزورِ قوت اُس موسیقی کو بند کیوں نہیں کروا دیا جیسا کہ آجکل چند اِسلامی ممالک میں امر و نہی کے عُنوان سے اکثر ایسا ہوتا ہے؟
یا
اِس سے یہ تاثر بھی لیا جا سکتا ہے کہ باوجود منصبِ رسالت پر فائز ہونے اور کارِ رِسالت بجا لانے کے آپ pbuh نے بھی لوگوں کے ذاتی معاملات میں زیادہ دخل اندازی نہیں فرمائی اور اپنی ناپسندیدگی کو غضب میں بدلنے نہیں دیا جیسا کہ آجکل وارثانِ پیمبر کے ہاں رائج ہے؟

رہنُمائی فرمائیں۔ شُکریہ
 
Last edited:

xshadow

Minister (2k+ posts)

میں سمجھ نہیں سکا کہ آقا pbuh نے اپنے کانوں میں تو اُنگلیاں دے دیں لیکن صحابی کو ایسا کرنے کی نصیحت/تبلیغ نہیں کی اور اُس صحابی نے بھی آپ کی سُنت پر عمل کرتے ہوئے فوراً ایسا نہیں کیا بلکہ سُنتا رہا، یہ دیکھ کر آپ pbuh نے اُس سے پوچھا کہ ’’کیا ابھی بھی موسیقی کی آواز آرہی ہے‘‘۔

کیا یہ واقعہ (اگر سچا ہے) مملکتِ مدینہ کے قیام کے بعد کا ہے یا پہلے کا
؟

اگر
بعد کا ہے تو آپ pbuh نے بزورِ قوت اُس موسیقی کو بند کیوں نہیں کروا دیا جیسا کہ آجکل چند اِسلامی ممالک میں امر و نہی کے عُنوان سے اکثر ایسا ہوتا ہے؟
یا
اِس سے یہ تاثر بھی لیا جا سکتا ہے کہ باوجود منصبِ رسالت پر فائز ہونے اور کارِ رِسالت بجا لانے کہ آپ pbuh نے بھی لوگوں کے ذاتی معاملات میں زیادہ دخل اندازی نہیں فرمائی اور اپنی ناپسندیدگی کو غضب میں بدلنے نہیں دیا جیسا کہ آجکل وارثانِ پیمبر کے ہاں رائج ہے؟
رہنُمائی فرمائیں۔ شُکریہ


پہلی بات تو یہ ہے کہ میں اعتراف کرتا ہوں کہ یہ حدیث میں نے سنی ضرور ہے مگر اس کا حوالہ میں نہیں جانتا۔ اور اس حدیث کو بیان کرنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ اگر کوئی دوست اس حدیث کا حوالہ بتا سکے تو بہت اچھا ہوگا۔
اب آپ کے سوال کی جانب آتے ہیں۔
کوئی بھی واقع بیان کرتے وقت اکثر باتیں یہ فرض کر کے بیان نہیں کی جاتیں کہ انہیں پڑھنے والا خود سمجھ لے گا۔ اگر میں نے یہ نہیں لکھ کہ آپ pbuh نے صحابی کو بھی کان میں انگلیاں ڈال کر بھاگنے کا حکم دیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ
pbuh نے ایسا نہیں کیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب آپ pbuh خود ایک کام کررہے ہیں تو ساتھ موجود صحابی کو بھی حکم کریں گے ایسا کرو اور بھاگو۔ اسی طرح جب آپ pbuh نے صحابی سے دریافت کیا ہوگا کہ ابھی بھی آواز آرہی ہے یا نہیں تو ظاہر ہے صحابی نے کان سے انگلیاں نکال کر ہی بتایا ہوگا کہ آواز آرہی ہے یا نہیں۔

آپ کے باقی سوالات کا جواب مختلف فرائض کی روشنی میں دینے کی بجائے میں کوشش کروں گا کہ حدیث کا حوالہ مل جائے جس سے ایک ایک بات کا صحیع جواب جاننے میں آسانی ہوگی۔ آپ بھی کوشش کیجیے اور میں بھی کوشش کرتا ہوں۔ انشاء اللہ اس حدیث کا حوالہ مل جائے گا دوسری صورت میں مجھے معازرت کرنے میں کوئی آر نہیں۔
 

Hadith

Minister (2k+ posts)
Or sunni sunnee bat begaer tehqiq kay mut agay phallow< you heard that right? Lol
پہلی بات تو یہ ہے کہ میں اعتراف کرتا ہوں کہ یہ حدیث میں نے سنی ضرور ہے مگر اس کا حوالہ میں نہیں جانتا۔ اور اس حدیث کو بیان کرنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ اگر کوئی دوست اس حدیث کا حوالہ بتا سکے تو بہت اچھا ہوگا۔
اب آپ کے سوال کی جانب آتے ہیں۔
کوئی بھی واقع بیان کرتے وقت اکثر باتیں یہ فرض کر کے بیان نہیں کی جاتیں کہ انہیں پڑھنے والا خود سمجھ لے گا۔ اگر میں نے یہ نہیں لکھ کہ آپ pbuh نے صحابی کو بھی کان میں انگلیاں ڈال کر بھاگنے کا حکم دیا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ
pbuh نے ایسا نہیں کیا۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب آپ pbuh خود ایک کام کررہے ہیں تو ساتھ موجود صحابی کو بھی حکم کریں گے ایسا کرو اور بھاگو۔ اسی طرح جب آپ pbuh نے صحابی سے دریافت کیا ہوگا کہ ابھی بھی آواز آرہی ہے یا نہیں تو ظاہر ہے صحابی نے کان سے انگلیاں نکال کر ہی بتایا ہوگا کہ آواز آرہی ہے یا نہیں۔

آپ کے باقی سوالات کا جواب مختلف فرائض کی روشنی میں دینے کی بجائے میں کوشش کروں گا کہ حدیث کا حوالہ مل جائے جس سے ایک ایک بات کا صحیع جواب جاننے میں آسانی ہوگی۔ آپ بھی کوشش کیجیے اور میں بھی کوشش کرتا ہوں۔ انشاء اللہ اس حدیث کا حوالہ مل جائے گا دوسری صورت میں مجھے معازرت کرنے میں کوئی آر نہیں۔
 

Hadith

Minister (2k+ posts)
Books were written 300 years after death of Prophet PBUH, and are not Wahee, so we have all the right to object on every document written by humans. And all these references end at Tafseer ibn Kaseer, why?
My question is still there, we have all the proof(which I do not believe) to make all these books true, we get paper trail and all that stupid saying which are he said she said.. but we cannot bring any documentry proof about the time when Madina was a capital and all the govt was running in documented form... where are all those record books from court decisions and management about which we claim to have sayings in books.
I think Deen was same from first to last prophet, its same for christian and jews and all in between, only reason for successive prophets looks like ulema of the times changed the scripts and orignal was not saved, when it reached to quran, Allah actually thought enough is enough, and took care of the text to be saved in quran.Now as usual when when ulema cannot change the script the came with idea of creating seperate books in parallel to quran, and created Rawaat, and very successfully once again changed the course of thinking for regular humans, and we started accepting only those ulema defination whoes explanation suits us... and we are divided in firqas....
 

ambroxo

Minister (2k+ posts)

پاگل ہیشہ دوسروں کے دماغ پر شک کرتا رہتا ہے
لالو زید تو کذاب ہی کا پرکار تھا ، اب ہے یا نہیں
یہ بات تو ثبوت کے ساتھ موجود ہے


پہلے تمہاری تربیت اور نیت پر شک تھا مگر اب تمہارے دماغ پر بھی شک ہونے لگا ہے۔ دور دور تک میری پوسٹ میں زید حامد کا نام تک نہیں ہے مگر تم نے قسم اٹھا رکھی ہے مجھ سے پنگا لینے کی۔
تمہارا مسئلہ بتاتا ہوں کہ ہے کیا۔ تمہارا بس نہیں چل رہا کہ اپنے منہ کی بات تم دوسروں کے منہ میں ڈال دو۔ حالانکہ زید حامد کے بدترین مخالف بھی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ یوسف علی کی حیثیت کا زید حامد کی زات پر کوئی اثر نہیں پڑتا ورنہ جو اینکرز امریکہ کے پیسے لے کر بھوکے کتوں کی طرح پاکستان کو نوچ رہے ہیں انہیں اس مسئلے کو تم سے زیادہ اچھالنا چاہیے تھا۔
اسلیے اپنی بک بک سے موضوع کو خراب کرنے کی کوشش مت کرو۔ ایسا نہ ہو کہ اس بار تمہارے ساتھ اس سے زیادہ ہوجائے جو اس سے پہلے میں تمہارے ساتھ کر چکا ہوں۔
 

xshadow

Minister (2k+ posts)
Or sunni sunnee bat begaer tehqiq kay mut agay phallow< you heard that right? Lol

یہ حدیث اس وقت صادق آتی جبکہ میں پورے وثوق سے یہ لکھتا کہ یہ واقع اس طرح ہے۔ حدیث بیان کرنے سے پہلے میں عرض کرچکا تھا کہ مجھے اس حدیث کا حوالہ معلوم نہیں ہے اور کسی کو معلوم ہے یا معلوم کر سکتا ہے تو اچھی بات ہے۔ اور یہ بات بتانے کا مقصد بھی یہی تھا کہ آپ جیسے حضرات جو مثبت نہیں سوچ سکتے تو کم از کم منفی بھی مت سوچیں۔ اگر ابھی بھی سمجھ نہیں آئی تو دوبارہ پرھ لو۔
 

ambroxo

Minister (2k+ posts)

shah5ap

Senator (1k+ posts)
Apay kaam say kaam rakna chayee. Shakhsiat pasnadi darasl shaksiat perasaty k motaradib ban jati hay. Aap pbuh per aur Aap pbuh k Aal e motaharat o ashab e karam per lakhon daroud o Salam ho.
 

tariisb

Chief Minister (5k+ posts)
مذھبی مسائل اور معاملات میں ، نکتہ نظر کا فرق ہوسکتا ہے ، اور رہے گا ، لیکن ، کسی کی اجتہادی سوچ یا کسی بھی مسلے میں ، تحقیق پر فتویٰ صدر کر دینا ، بلکل جذباتیت اور شر انگیزی ہے ،
کسی زمانے میں ، تصویر کے معاملے پر بھی ، بہت سخت فتوے موجود تھے ، مگر فتوے وہیں ہیں ، مگر مولوی بدل گیا ہے ، جمہوریت کفر ہے ، مگر مولوی جمہوریت سے اپنے فوائد مسلسل حاصل کرتا جا رہا ہے ، کس کس چیز پر فتویٰ نہیں لگایا گیا ؟ ، مگر یہی کام ، کوئی عالم کرتا ہے تو سب جائز ہوجاتا ہے ، اسی وجہ سے ، آج کل کے زمانے میں ، مولوی اور علماہ، معاشرے میں ، نہ تو کوئی مثالی حیثیت رکھتے ہیں ، اور نہ ہی کوئی قبل احترام ، مقام ،

معاشرے کی اصلاح کا دعوی کرنے والے ، بذات خود ابھی قبل اصلاح ہیں ، علم و تحقیق چھوڑ کر ، کاروباری سیاست ، خونی لشکر سازی ، اور شر انگیز فتوی بازی اور ناجائز چندہ خوری ، سے نکلنا ہوگا ،
 

TruPakistani

Minister (2k+ posts)
الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ ۖ وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلًا ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
سورة البَقَرَة:268
شیطان تمہیں تنگدستی کا خوف دلاتا اور بےحیائی کے کام کرنے کو کہتا ہے اور خدا تم سے اپنی بخشش اور رحمت کا وعدہ کرتا ہے اور خدا بڑی کشائش والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

اگر کوئی گانے اور ناچنے کو بے حیائی سمجھتہ ہے تو وہ اس کو حرام سمجھتہ ہے اور
جو گانے اور ناچنے کو بے حیائی نہیں سمجھتے وہ اپنے اعمال کے خود جوابدہ ہیں۔

 

ramay67

MPA (400+ posts)



میں سمجھ نہیں سکا کہ آقا pbuh نے اپنے کانوں میں تو اُنگلیاں دے دیں لیکن صحابی کو ایسا کرنے کی نصیحت/تبلیغ نہیں کی اور اُس صحابی نے بھی آپ کی سُنت پر عمل کرتے ہوئے فوراً ایسا نہیں کیا بلکہ سُنتا رہا، یہ دیکھ کر آپ pbuh نے اُس سے پوچھا کہ ’’کیا ابھی بھی موسیقی کی آواز آرہی ہے‘‘۔

کیا یہ واقعہ (اگر سچا ہے) مملکتِ مدینہ کے قیام کے بعد کا ہے یا پہلے کا
؟

اگر
بعد کا ہے تو آپ pbuh نے بزورِ قوت اُس موسیقی کو بند کیوں نہیں کروا دیا جیسا کہ آجکل چند اِسلامی ممالک میں امر و نہی کے عُنوان سے اکثر ایسا ہوتا ہے؟
یا
اِس سے یہ تاثر بھی لیا جا سکتا ہے کہ باوجود منصبِ رسالت پر فائز ہونے اور کارِ رِسالت بجا لانے کے آپ pbuh نے بھی لوگوں کے ذاتی معاملات میں زیادہ دخل اندازی نہیں فرمائی اور اپنی ناپسندیدگی کو غضب میں بدلنے نہیں دیا جیسا کہ آجکل وارثانِ پیمبر کے ہاں رائج ہے؟

رہنُمائی فرمائیں۔ شُکریہ