کورونا وائرس: 'انڈیا بغیر سوچی سمجھی پالیسی کی قیمت ادا کر رہا ہے'

FarooqShad

MPA (400+ posts)


انڈیا میں ڈاکٹروں اور ہیلتھ ورکرز کے تین بڑے اداروں نے کورونا وائرس کی وہا کی روک تھام کے لیے حکومت کے اقدامات کی سخت مزمت کی ہے۔

ان اداروں کا کہنا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے نافذ کی جانے والی پالیسیوں کی وجہ سے ملک انسانی بحران اور وبا کے پھیلاوٴ کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔

اداروں کا کہنا ہے کہ سخت لاک ڈاؤن کے باوجود صرف دو ماہ (24 مئی تک) میں کورونا کے متاثرین 600 سے بڑھ کر ایک لاکھ 38 ہزار سے تجاوز کر گئے۔ اور اب وبا کا پھیلاوٴ 'کمیونٹی ٹرانسمیشن' کے مرحلے میں پہنچ گیا ہے۔

دوسری جانب انڈین حکومت ان دعووں سے انکار کرتی رہی ہے کہ وبا اب کمیونٹی ٹرانسمیشن کے مرحلے میں ہے۔

حکومت کی پالیسی پر مزمتی بیان اتوار کو جاری کیا گیا اور اس پر جن لوگوں کے دستخت ہیں ان میں حکومت کی کووڈ نائنٹین نیشنل ٹاسک فورس میں وبا کے ماہرین کے گروپ کے صدر ڈاکٹر ڈی سی اے ریڈی اور ایک اور رکن ڈاکٹر ششی کانت بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمز)، بنارس ہندو یونیورسٹی اور چنڈیگڑھ کے پی جی آئی ایم آئی آر کے متعدد سابق اور موجودہ پروفیسروں اور صحت کے شعبے کی بڑی ہستیوں نے بھی اس بیان پر دستخت کیے ہیں۔

کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے انڈیا میں نیشنل ٹاسک فورس کی تشکیل کا اعلان اپریل کے دوسرے ہفتے میں کیا گیا تھا۔



حکومت نے جس طرح صرف چار گھنٹے کی مہلت میں لاک ڈاوٴن کے پہلے مرحلے کا اعلان کیا تھا، اس کی مذمت ہوتی رہی ہے۔ اعلان کے بعد جس طرح مائگرینٹ ورکرز اور غریب طبقے کو تکلیف اٹھانی پڑی اس کی بھی بین الاقوامی سطح پر مزمت ہوئی۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’لاک ڈاوٴن نے کم از کم 90 لاکھ دہاڑی مزدوروں کے پیٹ پر لات ماری ہے۔‘

خوراک کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم 'رائٹ ٹو فوڈ' کے مطابق لاک ڈاؤن کے باعث 22 مئی تک ملک بھر میں بھوک، حادثات اور ایسی مختلف وجوہات سے 667 ہلاکتیں ہو چکی ہیں جو کورونا سے ہلاک ہونے والوں کے علاوہ ہیں۔


’لاک ڈاوٴن آخری راستہ ہونا چاہیے تھا‘

انڈین پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن کی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سنگھمترا گھوش نے بی بی سی سے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ڈاکٹروں اور شعبہ صحت کے ماہرین کی ایک ٹیم کو کووڈ 19 کے بارے میں مذاکرات کے لیے 24 مارچ کو بلایا تھا لیکن ان کے مطابق ایسا لگتا ہے جیسے لاک ڈاوٴن کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا تھا۔

ڈاکٹر سنگھمترا گھوش نے کہا کہ ’لاک ڈاوٴن آخری راستہ ہونا چاہیے تھا لیکن حکومت ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہو چکی تھی۔ ‘

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 'لاک ڈاوٴن کا فیصلہ شاید زبردست اثر و رسوخ رکھنے والے اس ادارے کے مشورے پر کیا گیا تھا جس نے دنیا میں 22 لاکھ اموات کا دعویٰ کیا تھا، لیکن آہستہ آہستہ ثابت ہو گیا کہ وہ دعویٰ غلط تھا۔'

بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر حکومت نے وبا کے ماہرین کا مشورہ مانا ہوتا تو شاید اس معاملے کی بہتر منصوبہ بندی کی جا سکتی تھی۔



اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر مائگرینٹ مزدوروں کو ابتدائی دنوں میں گھر چلے جانے دیا گیا ہوتا، جب وائرس کا پھیلاوٴ کم تھا، تو بہتر ہوتا۔ لیکن اب یہ مزدور وائرس کو ایسے علاقوں تک لے جا سکتے ہیں جہاں یہ پہلے موجود نہیں تھا۔

انڈین پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن کے علاوہ انڈین ایسوسی ایشن آف پریوینٹیو اینڈ سوشل میڈیسنز اور انڈین ایسوسی ایشن آف ایپیڈیمیالوجسٹ کے اس بیان کو وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن کے علاوہ تمام ریاستوں کو بھی بھیجا گیا ہے۔

حکومت کو مشورہ

ان اداروں نے جو مشورے دیے ہیں ان میں یہ بھی شامل ہے کہ وفاقی، ریاستی اور ضلعی سطح پر صحت اور سماجیات کے ماہرین کی ٹیمیں تشکیل دی جائیں، کووڈ سے متعلق ڈاٹا تک آسانی سے رسائی ہو، لاک ڈاوٴن ختم ہو اور لوگوں کے ایک جگہ اکٹھا ہونے پر پابندی لگائی جائے اور عام لوگوں کے لیے ہسپتال کھولے جائیں۔

حکومت نے لاک ڈاوٴن کے چوتھے مرحلے کے ساتھ ہی آہستہ آہستہ نرمی شروع کر دی تھی۔ آٹھ جون سے مزید معاشی اور مذہبی رسومات کی اجازت دی جا رہی ہے۔


 
Advertisement

Truth matters

Councller (250+ posts)
India gets an A grade from Bill Gates for complete lockdown and just wait and see the consequences. More deaths and his policy of population control is implemented as planned
 
Sponsored Link

Featured Discussion Latest Blogs اردوخبریں