عمران خان کی ماضی کی نامکمل ویڈیوشیئرکرنے پرکلاسرااوراظہر مشوانی آمنے سامنے

14klasramaswani.jpg

وزیراعظم عمران خان کی ماضی کی ایک ویڈیو کے معاملے پر سینئر صحافی رؤف کلاسرا اور اظہر مشہوانی کے درمیان ٹویٹر پر نوک جھوک جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی و تجزیہ کار روف کلاسرا نے ٹویٹر پر عمران خان کے بھارت میں دیئے گئے ایک انٹرویو کا ویڈیو کلپ شیئر کیا جس میں وہ سیاست کو بطور پیشہ اختیار کرنے کی مخالفت کرتے دکھائی دے رہے تھے۔

رؤف کلاسرا نے جو ویڈیو کلپ شیئر کیا اس میں عمران خان کہتے ہیں "اگر کوئی مجھے سیاست کو بطور پیشہ اختیار کرنے کا کہے تو میں اپنے آپ کو گولی مارلوں گا، کیونکہ اس سے مشکل کیریئر دنیا میں کوئی نہیں ہوسکتا"۔


تاہم رؤف کلاسرا کی جانب سے ویڈیو کلپ شیئرہونے کے تھوڑی دیر بعد وزیراعلی پنجاب کے فوکل پرسن اظہر مشہوانی نے وزیراعظم عمران خان کے اسی انٹرویو کا تھوڑا بڑا ویڈیو کلپ شیئر کیا جس میں وزیراعظم عمران خان کی بات کا پس منظر واضح ہورہا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے کرکٹ کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت ملی، لوگوں کیلئے میں نے اپنی ماں کی وجہ سے ایک ہسپتال بنادیا، ایک یونیورسٹی بنائی ، مگر سوال اگر سیاست کو بطور پیشہ اختیار کرکے کیریئر بنانے کا ہے تو میں خود کو گولی مار لوں گا۔


عمران خان نے کہا کہ میں نے سیاست میں قدم کیوں رکھا اس کے پیچھے ارسطو کی ایک کہاوت ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ اگر کسی معاشرے میں ناانصافی ہے تو معاشرےکا ہر فرد سیاست میں جائے گا سوائے 2 کے جن میں ایک خود غرض ہے اور دوسرا بزدل۔

اظہر مشہوانی نے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وزیراعظم عمران خان کی یہ گفتگو 2015 کی ہے جب ان کی جماعت پاکستان کے ایک صوبے میں حکومت کررہی تھی۔

اظہر مشہوانی کی جانب سے عمران خان کی بات کا پس منظر واضح کردینے کے بعد رؤف کلاسرا نے کہا کہ میری اصل پریشانی یہ ہے کہ ہمارے وزیراعظم کو کیوں ہر بار اپنی بات کو ثابت کرنے کیلئے خود کشی کرنے کی دھمکی دینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔


رؤف کلاسرا نے کہا کہ وزیراعظم سادہ سے انداز میں کسی بھی بات کو رد کرتے ہوئے کہہ سکتے ہیں میں یہ نہیں کروں گا، اس میں کیا مسئلہ ہے ؟ آپ سے اس معاملے کو سمجھنے میں رہنمائی چاہیے۔
 
Advertisement

hello

Minister (2k+ posts)
روف کلاسرا خود پسند شخص کبھی اپنے ارد گرد سے باہر نہیں نکل سکتا اس کو ہمیشہ اپنی برادری اپنا علاقہ اپنی اقرباپروری میری سوچ میں کیا چاہتا ہوں ہم نے کیا کہہ دیا ہم تو کمال کے لوگ ہیں کی پڑی رہتی ہے جس میں یہ شخص بڑی طرح مبتلا نظر آتا ہے ویسے بھی اس کو کسی درویش کی بدعا ہے کہ نا تمہیں سیدھی بات سمجھ آئے نہ تم سیدھی بات کر سکو ہمیشہ کسی بھٹکی روح کی طرح بھٹکتے رہو لیکن تم اپنے آ پ کو شاہین سمجھو اقبال کا نہیں لیہ مظفر گڑھ کا ان کی مشہور بات ہم نے بھی تو اپنا منجن بیچنا ہے لہذا بات وکھی سے نکال کر کرنی پڑتی ہے اس میں سمجھدار کے لیے اشارہ کافی ہیں کہ یہ تو منجن فروش گھٹیا سوچ کا مالک ہے شاید کبھی یہ کسی دانشور کی مثال دے زیادہ تو اس کے حوالے یہ انڈیا کی فلم یا کسی تھرے باز کے ہوں گیں اس زیادہ اس کی سوچ نہیں یہ ڈرامے باز کسی مداری کی طرح بات سناتا ہے اورمجمع مٹھی میں لینے کے لیے جو مرضی اول فول بکتا چلا جاتا ہےیہ سب ہم نے کیا اور ادھر اس نے اور ہی داستان گو کی طرح ایک نئی آسمان کی بلندیوں کو چھوتی جہاز بھری کہانی سنا دی اس کی ساری زندگی گیلانیوں کی جوتیوں میں گزری کون نہیں جانتا ایک دفعہ الیکشن کی لائیو ٹرانسمیشن میں عارف نظامی نے اسے کہا کہ تمھارے یوسف رضا گیلانی کے ساتھ تعلقات پر راز کھلوں تو اسے دندل پر گئی این بایں شائیں کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حال ہی میں اس نے پیسے نہ ملنے پر ایک ٹی وی چینل چھوڑا تو سی وی لے کر اور چینلوں کے پاس گیا تو اس میں اس نے لکھا میری ایکسپرٹیز میں کہانی گھڑنا بھی شامل ہے میں ایسی کہانی بناتا ہوں کہ جس کی کہانی ہوتی ہے وہ بھی حیران رہ جاتا ہے کہ مجھ سے زیادہ تو اس کو میرے حالات پتا ہیں ۔ اس کی دانشوری کا اندازا اس بات سے لگا لیں
جس کو مریم کی شکل میں نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نظر آتی ہو سوچیے اس کے دماغ کا علاج ہو نا چاہیے یا آنکھوں کا یا

وگرے تگرو کا پیر چھتر
 

Shan ALi AK 27

Chief Minister (5k+ posts)
ان کرپٹ نظام کے بھوکے ٹوکری والے کتوں کو اب محنت کر کے کمانا پڑ رہا ہے
ورنہ ٣٠-٥٠ لاکھ کون دیتا ہے کسی انکر اور صحافی کو
وہ بھی غریب ملک میں جہاں ڈاکٹر انجنیئر لاکھ تک مشکل سے پہونچتا ہے
 

Husaink

Chief Minister (5k+ posts)
14klasramaswani.jpg

وزیراعظم عمران خان کی ماضی کی ایک ویڈیو کے معاملے پر سینئر صحافی رؤف کلاسرا اور اظہر مشہوانی کے درمیان ٹویٹر پر نوک جھوک جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی و تجزیہ کار روف کلاسرا نے ٹویٹر پر عمران خان کے بھارت میں دیئے گئے ایک انٹرویو کا ویڈیو کلپ شیئر کیا جس میں وہ سیاست کو بطور پیشہ اختیار کرنے کی مخالفت کرتے دکھائی دے رہے تھے۔

رؤف کلاسرا نے جو ویڈیو کلپ شیئر کیا اس میں عمران خان کہتے ہیں "اگر کوئی مجھے سیاست کو بطور پیشہ اختیار کرنے کا کہے تو میں اپنے آپ کو گولی مارلوں گا، کیونکہ اس سے مشکل کیریئر دنیا میں کوئی نہیں ہوسکتا"۔


تاہم رؤف کلاسرا کی جانب سے ویڈیو کلپ شیئرہونے کے تھوڑی دیر بعد وزیراعلی پنجاب کے فوکل پرسن اظہر مشہوانی نے وزیراعظم عمران خان کے اسی انٹرویو کا تھوڑا بڑا ویڈیو کلپ شیئر کیا جس میں وزیراعظم عمران خان کی بات کا پس منظر واضح ہورہا تھا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے کرکٹ کی وجہ سے دنیا بھر میں شہرت ملی، لوگوں کیلئے میں نے اپنی ماں کی وجہ سے ایک ہسپتال بنادیا، ایک یونیورسٹی بنائی ، مگر سوال اگر سیاست کو بطور پیشہ اختیار کرکے کیریئر بنانے کا ہے تو میں خود کو گولی مار لوں گا۔


عمران خان نے کہا کہ میں نے سیاست میں قدم کیوں رکھا اس کے پیچھے ارسطو کی ایک کہاوت ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ اگر کسی معاشرے میں ناانصافی ہے تو معاشرےکا ہر فرد سیاست میں جائے گا سوائے 2 کے جن میں ایک خود غرض ہے اور دوسرا بزدل۔

اظہر مشہوانی نے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ وزیراعظم عمران خان کی یہ گفتگو 2015 کی ہے جب ان کی جماعت پاکستان کے ایک صوبے میں حکومت کررہی تھی۔

اظہر مشہوانی کی جانب سے عمران خان کی بات کا پس منظر واضح کردینے کے بعد رؤف کلاسرا نے کہا کہ میری اصل پریشانی یہ ہے کہ ہمارے وزیراعظم کو کیوں ہر بار اپنی بات کو ثابت کرنے کیلئے خود کشی کرنے کی دھمکی دینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔


رؤف کلاسرا نے کہا کہ وزیراعظم سادہ سے انداز میں کسی بھی بات کو رد کرتے ہوئے کہہ سکتے ہیں میں یہ نہیں کروں گا، اس میں کیا مسئلہ ہے ؟ آپ سے اس معاملے کو سمجھنے میں رہنمائی چاہیے۔
جنرل مشرف نے میڈیا آزاد کرکے لوگوں کے لئے یہ بات سمجھنی آسان کردی کہ لو بھئی اصل کنجروں کی شکلیں پہچان لو
 

[email protected]

Politcal Worker (100+ posts)
عمران خان کے دیگر کارنامے تو ان کے مڈیا پرسنز بتائیں گے مگر ہم عوام کو ان کے جو کارنامے نظر آ رہے ہیں ان میں سر فہرست زرد صحافت اور زرد صحافیوں کو ننگا کرنا اور کرپٹ سیاستدانوں کو زلت کے سمندر میں دھکیل دینا ہے۔ وہ دوسری بات ہے کہ یہ بے شرم اور ٹوکری بردار لوگ پھر بھی ڈھٹای کے ساتھ اپنے پیٹی بندوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔۔۔۔۔
 

Cape Kahloon

Minister (2k+ posts)
Ek waqat tha mujhay Rauf kay calm ka intezar huta tha, ess kay TV program zaror dekta tha. Pher yeh ahessta ahessta mujh per khulta chala geya.
Oor Pher main nay essay dekhna oor pherna chor deya.
 
Sponsored Link