تمام افسران فیلڈ کی بجائے واٹس ایپ پر مصروف رہے،سانحہ مری کی رپورٹ

9%DB%8C%D9%86%D9%82%D8%B1%D8%B9%D9%BE%D9%85%D8%A6%D8%B1%D8%B1%D8%B9%D8%B9.jpg

وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کو سانحہ مری کے حوالے سے پیش کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں افسران کی مجرمانہ غفلت اور غیر سنجیدگی کھل کر سامنے آگئی ہے۔

مری میں برفانی طوفان میں 22 لوگوں کی ہلاکت کے معاملے پر وزیراعلی کی قائم کردہ تحقیقاتی ٹیم نے رپورٹ مرتب کرکے وزیراعلی عثمان بزدار کو پیش کردی ہے جس میں تمام متعلقہ محکموں اور افسران کی غفلت ثابت ہوئی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ تمام متعلقہ محکموں کے افسران واٹس ایپ چیٹس میں لگے رہے اورحالات کی سنگینی کو سمجھنے میں مکمل طور پر ناکام رہے، بہت سے افسران نے نا ہی برفانی طوفان یا لوگوں کے سڑکوں پر پھنسے ہونے کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا نہ ہی کسی قسم کے اقدامات کرنے پر غور کیا۔

رپورٹ کے مطابق اس دوران بہت سے افسران ایسے بھی تھے جنہوں نے واٹس ایپ گروپس میں میسجز کو پڑھا ہی اتنی تاخیر سے کہ طوفان آکر گزر بھی چکا تھا، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر سمیت تمام متعلقہ افسران اس سانحے میں غفلت برتنے کے مرتکب پائے گئے ہیں۔


رپورٹ میں کہا گیا کہ سی پی او، سی ٹی او راولپنڈی بھی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہے، ریسکیو1122 کا مقامی آفس ، محکمہ جنگلات اور محکمہ ہائی وے بھی بروقت لوگوں کی مدد کیلئے اپنے فرائض ادا نہیں کرسکا۔

تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وزیراعلی عثمان بزدار نے سی پی راولپنڈی، سی ٹی او راولپنڈی، ڈی ایس پی ٹریفک، اے ایس پی مری، اسسٹنٹ کمشنر مری، ڈویژنل فاریسٹ آفیسر مری ، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر مری، انچارج مری ریسکیو1122 اور ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے پنجاب کو معطل کرکے انضباطی کارروائی کا حکم دیدیا ہے۔

وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کے مطابق کمشنر راولپنڈی کو عہدے سے ہٹا کر معطل کرنے کی سفارش بھی کردی گئی ہے۔
 
Advertisement
Sponsored Link