آگ کیسے لگی ؟ویڈیو بنانے والی ٹک ٹاکر کی وضاحت، ثبوت بھی دکھا دیا؟

blc-dolly.jpg


معروف ٹک ٹاکر ڈولی مارگلہ کے پہاڑوں میں لگی آگ کے ساتھ ویڈیو بنانے پر تنقید کی زد میں ہیں، ان کیخلاف مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے، ڈولی لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری لے چکی ہیں،ڈولی نے اس پورے معاملے پر وضاحتی بیان جاری کردیا۔

انہوں نے کہا کہ کافی سال ہوچکے ہیں نیشنل پارک کوہسار گئے ہوئے،ڈولی نے بتایا کہ وہ ہری پور سے میک اپ کی کلاس لے کر موٹروے سے جار رہی تھیں جب انہوں نے راستے میں ایک جگہ دیکھا کہ آگ لگی ہوئی،انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے ایک اور ویڈیو اپ لوڈ کریں گی جس میں اس شخص کو بھی دیکھا جاسکے گا جس نے مبینہ طور پر آگ لگائی۔

ڈولی کو اسی مقام پر ان ہی کپڑوں میں دیکھا جاسکتا ہے جبکہ عقب میں آگ لگی ہوئی ہے،ویڈیو میں ڈولی کہہ رہی ہیں کہ وہ جب یہاں آئیں تو آگ لگی ہوئی تھی جس پر انہوں نے وہاں موجود شخص سے آگ کی وجہ پوچھی۔ اس کے بعد ڈولی نے اس شخص سے کہا کہ آپ خود بتائیں آگ کی وجہ۔



وہ شخص کہتا ہے کہ ہم نے یہاں اس لیے آگ لگائی کہ یہاں بہت بڑے بڑے سانپ نکلتے ہیں، دو تین مرغی کے بچے بھی ہمارے کھا گئے ہیں، ہمارے بچوں کو خطرہ ہوتا ہے اس لیے ہم نے یہاں آگ لگائی،اس کے بعد ٹک ٹاکر ڈولی اپنے کیمرہ مین سے کہتی ہیں کہ سانپ نکلتے ہیں یہاں سے۔

ویڈیو بیان میں خاتون ٹک ٹاکر نے مشہور شخصیت کی ساکھ کو داغدار کرنے اور شہرت کو نقصان پہنچانے میں سوشل میڈیا کے کردار پر مایوسی کا اظہار کیا،اپنے بیان میں صارفین سے پرزور اپیل اور درخواست کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح سے اس جعلی ویڈیو کو بغیر کسی تحقیق اور تفتیش کے وائرل کیا گیا ہے، اسی طرح سے صارفین میرے مؤقف اور اس وضاحتی بیان کی ویڈیو کی بھی تشہیر کریں۔



اپنے وضاحتی بیان کے آغاز پر ٹک ٹاکر کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ردعمل کے بعد مجھے بہت مایوسی ہوئی اور میں یہ ویڈیو بنانے پر مجبور ہوگئی، افسوس ہے کہ واقعے کی حقیقت جانے بغیر اتنا بڑا قدم اٹھانا، ایک ویڈیو کو اس طرح سے وائرل کرنا اور کسی بھی مشہور شخصیت کے لیے مسئلہ پیدا کرنا مایوس کن ہے، کیونکہ سوشل میڈیا مشہور شخصیات کے لیے مسائل پیدا کرتا ہے اور میں اس معاملے کی وجہ سے سخت پریشان ہوں۔

خاتون ٹکرٹاکر نے چند روز قبل ’پسوڑی‘ گانے پر آگ کے سامنے سے گزرتے ہوئے ایک ویڈیو بنائی تھی،ڈولی آفیشل کے ٹک ٹاک پر سوا کروڑ فالوورز ہیں اور ان کی ویڈیوز کو کافی پسند کیا جاتا ہے، وہ بولڈ ویڈیوز بنانے کے حوالے سے بھی شہرت رکھتی ہیں۔

ٹک ٹاک پر الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے اپنی ویڈیو پر ویوز اور صارفین کا فیڈ بیک حاصل کرنے کے لیے آگ لگائی،اس عمل پر مختلف حلقوں کی جانب سے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ماحول پر اس طرح کی آگ کے اثرات سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
 
Advertisement
Last edited by a moderator:

pkpatriot

Minister (2k+ posts)
Let the police do what they do when the criminals don't admit their crime even after evidence.

The kid who set the jungle on fire for TIKTOK also gave this FAKE justification, then the police updated his software and he was SORRY for what he did.

First they clearly promotes setting the jungles on fire and then these brilliant minds come up with excuses of Grade-3 students.
 

Bubber Shair

Chief Minister (5k+ posts)
مقدمہ نہ بنتا تو ماڈل کی ٹک ٹاک ہی رہتی مگر مقدمہ بنتے ہی پوری ویڈیول وائرل کردی گئی
جب اسے معلوم تھا تو کیوں ٹک ٹاک بنای کیا اسے معلوم نہیں کہ درختوں اور جنگل کو آگ لگانا غیر قانونی ہے۔ سانپ تو ایسی جگہوں پر ہوتے ہی ہیں لمبی جنگلی گھاس میں دیگر مخلوقات بھی ہوتی ہیں ان سب کو جلا دینا کتنا ظلم ہے۔ سانپ انسان پر حملہ نہیں کرتا بلکہ بھاگ جاتا ہے قدموں کی آواز سن کر ہی چھپ جاتا ہے سواے اس کے کہ آپ اس کو پکڑنا چاہیں وہ حملہ نہیں کرتا بلکہ یہ کہا جاے کہ دفاع کرتا ہے زیادہ درست ہوگا ۔ سانپ میدانی علاقوں اور بھربھری مٹی میں زیادہ ہوتے ہیں بلکہ یہاں پر سانپ والی بات بھی غلط ہے اس شخص نے اپنے مقاصد کیلئے آگ لگای ہوگی
 
Sponsored Link