Effects of overeating you ignore

Night_Hawk

Siasat.pk - Blogger
Effects of overeating you ignore



11781678_485455801613603_1627027604805344291_n.jpg






We’re aware of the obvious negative effects of overeating – extra weight. But most people aren’t well versed with how eating too much can affect other aspects of your life, too. So don’ As compiled from livestrong.com and fitday.com, take a look at these surprising negative effects of overeating and avoid doing so on Eid.

You still feel hungry

Emotional eating is when your hunger for emotional fulfillment gets turned into physical hunger for food. The only problem with eating for comfort is that while your stomach is getting filled, your heart still remains empty. Eating might make you forget about your emotional needs for a few minutes, or even an hour, but no matter how much food you eat your real needs never get met. The more you eat, the more your emotional hunger grows. As time passes, using food this way leads to feelings of defeat and depression. Looking for the real source of your hunger and addressing it directly will help restore your hope.

Your psychological growth gets stunted

When food gets installed as a coping mechanism it becomes a quick fix instead of finding a real solution. Once you get relief from food, you turn to it to deal with more and more problems. Suddenly, you’re eating when you’re overwhelmed, tired, bored, lonely, frustrated, irritated, or to deal with just about any uncomfortable feeling that arises. As time passes you no longer believe that you can handle life without food and even simple tasks suddenly feel too difficult to take on. The more you turn to food the more insecure you become. Psychological skills are like muscles. If you don’t use them, you lose them. Thinking things through and developing new skills will help you feel confident and efficient.

Your relationships remain unfulfilling

When food becomes a substitute friend or lover, it can become easier to eat than to deal with fostering intimacy in your relationships. Human relationships can be hard work but all people crave connection and food never replaces love. Perhaps you’ve found yourself eating when you’re lonely or to compensate for an unsatisfying relationship. As time passes you turn to food more and more to fill your relationship needs. The more you use food in this way the less motivated you are to develop new social skills, or to heal an ailing relationship. Doing the work to make your relationships more fulfilling will help you feel close and connected.

You undergo poor blood sugar control

Eating carbohydrates in excess, particularly refined carbohydrates can create a series of blood sugar highs and lows. Eat a large slice of cake with frosting, and your insulin levels are likely to rise significantly, paving the way for fat storage. Insulin rises because your body is working to decrease your blood sugar, which requires this hormone. Once the insulin triggered by carbohydrates takes the sugar out of your blood stream, you risk experiencing hypoglycemia, or low blood sugar. These swings in blood sugar wreak havoc on the bodies systems, including the cardiovascular system. A pattern of overeating carbohydrates results in a diagnosis of Type 2 diabetes for many people.

You experience brain fog

Another problem associated with over-consumption of carbohydrates is a decrease in cognitive functioning — often experienced as “brain fog.” This phenomenon is related to falling blood sugar levels, which is an almost inevitable consequence of overeating carbohydrates after the initial insulin spike. According to the Franklin Institute, neurons are unable to store glucose, thus a bout of low blood sugar results. The effects can be confusion, nervousness and a general feeling of being “spaced out.”

You suffer from low self-esteem

People who suddenly put on weight tend to lose their confidence on their appearance and worry excessively about their social image. This causes them to lose self confidence and self esteem. They try to deprive themselves of the food items they love and in turn increase the urge to eat more.
Published in The Express Tribune, July 18[SUP]th[/SUP], 2015.
 
Last edited by a moderator:

zeshaan

Chief Minister (5k+ posts)
یہ سارا سیاق اور سباق اردو میں بھی لکھ دیا کریں ,
تاکہ مدرسہ کے پڑھے لکھے ہوے بھی آسانی سے سمجھ سکیں ......
 

tahirmajid

Chief Minister (5k+ posts)
یہ سارا سیاق اور سباق اردو میں بھی لکھ دیا کریں ,
تاکہ مدرسہ کے پڑھے لکھے ہوے بھی آسانی سے سمجھ سکیں ......

matlab roti kum khaya karo nahi susti charh jay gi dimagh kaam nahi karey ga bivi bhi achi na lagey ge us kaam mein bhi dil nahi lagey, waghera waghera or kha kha kay akhir kaar Noorey bun jao ge
 

Night_Hawk

Siasat.pk - Blogger
[h=1]عید پر بسیارخوری سے معدہ خراب ہوسکتا ہے، ماہرین طب
[/h] اسٹاف رپورٹر جمعـء 17 جولائ 2015
تبصرے صفحہ شیئر کریں صفحہ پرنٹ کریں دوستوں کو بھیجئے




376274-overeating-1437077352-715-640x480.jpg

عیدخوشی کا دن ہوتاہے شہری کھانے ضرورکھائیں لیکن عید کے پہلے دن احتیاط سے کھانے کھائیں۔ فوٹو: فائل

کراچی: ماہرین طب کا کہنا ہے کہ ماہ رمضان میں روزے رکھنے سے دن بھر معدہ خالی رہتا ہے جس کی وجہ سے معدے کے افعال سست ہوجاتے ہیں لیکن عیدپر بسیارخوری سے معدے پراضافی بوجھ ڈال دیاجاتا ہے جس سے معدہ خراب ہوسکتاہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک میں روزے رکھنے سے معدے، گردے سمیت پیٹ کو آرام کا موقع ملتا ہے لیکن عید پربسیار خوری سے ایک دن ہی میں پیٹ کے افعال متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ عیدخوشی کا دن ہوتاہے شہری کھانے ضرورکھائیں لیکن عید کے پہلے دن احتیاط سے کھانے کھائیں، مرغن، تیز مصالحے دار کھانے اور بازار کے غیر معیاری کیک اور مٹھائیاں کھانے سے گریزکیاجائے۔
ماہرین طب کاکہنا تھا عیدکے موقع پر ہلکی اور زودہضم غذاکی ضرورت ہوتی ہے، مرغن غذاؤں سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ عیدکے موقع ناشتے میں سویاں کھانی چاہئیں، دوپہرکے کھانے میں سبزی گوشت، چپاتی کے ساتھ اور رات کے کھانے میں ہلکی زود ہضم غذاکھائی جائے جب کہ پھلوں کا استعمال بھی انتہائی مفید ہے، موسمی پھل کواستعمال کرنے سے جسم کو بھرپورتوانائی حاصل ہوتی ہے، پھلوں سے نشاستہ داراجزا،قدرتی نمکیات مثلاً سوڈیم، کیلشیم،پوٹاشیم، فولاد،فاسفورس حاصل ہوتا ہے، یہ پھل قبض نہیں ہونے دیتے اور انسان تندرست و توانارہتاہے۔

 

Night_Hawk

Siasat.pk - Blogger
[h=1]کھانے میں زیادتی اور بے اعتدالی امراض کو دعوت
[/h] خرم منصور قاضی اتوار 12 جولائ 2015
تبصرے صفحہ شیئر کریں صفحہ پرنٹ کریں دوستوں کو بھیجئے




374991-healthdiet-1436661713-427-640x480.jpg

صحتمند اور طویل عمر کیلئے غذا کے انتخاب میں محتاط رویہ اختیار کریں ۔ فوٹو : فائل

ہرانسان میں ہمیشہ تندرست ،توانا،صحت مند اور چاق و چوبند رہنے کی خواہش موجود ہوتی ہے ۔ وہ نہیں چاہتا کہ زندگی کے کسی بھی حصے میں اسے بیماریوں کاسامنا کرنا پڑے تاہم اس کے ساتھ ساتھ اس میں کچھ کمزوریاں بھی پائی جاتی ہیں جیسے کسی ایک پسندیدہ غذا کو کثرت سے استعمال کرنا اور یہی کمزوریاں اسے مختلف بیماریوں میں مبتلا کرنے کا باعث بنتی ہیں ۔ان امراض میں مبتلا ہونے کی دوسری بڑی وجہ کم علمی بھی ہے۔
تمام لوگ اس بات کا صحیح شعورو ادراک نہیں رکھتے کہ کون سی چیز یا شے ان کے لئے فائدہ مند ہے اور کون سی غذائیں انہیں نقصان پہنچاسکتی ہیں، لہٰذا وہ ایسی اشیاء کااس وقت تک بے دریغ استعمال کرتے رہتے ہیں جب تک کہ اس کے مضراثرات ان کی صحت پر اثر انداز نہیں ہو جاتے۔
حکیم بقراط کا قول ہے کہ بیماری کوئی بجلی نہیں جو کسی پرآسمان سے اچانک ٹوٹ پڑتی ہو بلکہ یہ آپ کی ان چھوٹی چھوٹی زیادتیوں اور بے اعتدالیوں کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے جو آپ روزمرہ کی زندگی میں کرتے رہتے ہیں۔ کیا یہ اچھی بات نہیں کہ بیماری کی نوبت ہی نہ آئے، لیکن اس کے لئے آپ کو اپنی ان عادات پر قابو پانا ہوگا جن کے باعث آپ کو مختلف تکالیف اور امراض کا سامنا کرناپڑتا ہے۔
لہٰذا اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایسی خوراک سے حتی الامکان دریغ کیا جائے جو آپ کے جسم کو راس نہیں آتی یا جنہیں کھانے کے بعد آپ کا معدہ مشکل کاشکار ہو جاتا ہے۔ خوراک کے ماہرین نے اس ضمن میں تحقیق کرنے کے بعد چند ایسے اصول متعارف کرائے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر آپ تاحیات صحت مند رہ سکتے ہیں بلکہ اس سے طبی عمر میں بھی اضافہ ہوگا۔
آپ کی کوشش ہونی چاہئے کہ کھانا سادہ اور زود ہضم ہو ۔ بہت زیادہ مرغن غذا نہ صرف جسم میں فاضل چربی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں بلکہ اس سے دیگر امراض بھی لاحق ہوسکتے ہیں، چونکہ یہ مصالحوں سے بھری ہوتی ہیں اس لئے نظام انہضام کو متاثر کرتی ہیں اور طبیعت پر بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ بھوک خواہ کتنی ہی تیز اور شدید کیوں نہ ہو، کھانا ہمیشہ چبا چبا کر کھاناچاہئے تاکہ ہر لقمے میں لعاب دہن بقدر ضرورت شامل ہو سکے۔
آہستہ کھانے سے کھانا نہ صرف طبیعت اور جسم کو فرحت بخشتا ہے بلکہ آسانی کے ساتھ جزوبدن بھی بن جاتا ہے ۔آپ اگر آہستہ کھانے کی وجہ سے سب لوگوں کے بعد دسترخوان سے اٹھتے ہیں تو یہ آپ کے لئے نہایت ہی اچھا ہے۔ اسی طرح کھانے کے اختتام پر ذرا سی بھوک رکھنابھی ضروری ہے اور کھانے کے دوران دو تین گھونٹ سے زیادہ پانی نہیں پیناچاہئے۔پھلوں میں امرود، تربوز، کھجور، گرم میوہ جات ہمیشہ تھوڑی مقدارمیں کھائیں۔
بیشک یہ چیزیں اپنے اندرافادیت و غذائیت کے خزانے رکھتی ہیں لیکن ان کا ایک ہی وقت میں زیادہ استعمال اکثر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
اسی طرح مچھلی،گوشت کے کباب ، میوئوں کا بنا ہوا حلوہ، زیادہ گھی والے پکوان، مٹھائیاں اور گھی میں تلی ہوئی ہر قسم کی غذائیں ہمیشہ کم مقدارمیں کھائیں۔ ویسے بھی ان اشیاء کا کثرت سے استعمال ان کے مخصوص ذائقے کی انفرادیت اور افادیت کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ انڈہ، مچھلی، گوشت ، سالن کی صورت میں بھی کم کھائیں۔ان چیزوں کا کثرت سے استعمال جسم میں غیر معمولی حرارت اور خون میں حدت پیدا کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ دل، جگر ، مثانے کی سوزش وحدت تنفس میں عدم توازن اور طبیعت میں اشتعال و ہیجان کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔
بعض لوگ بازار کے کھانے کھانے کی عادت بنالیتے ہیں جو کسی بھی لحاظ سے بھی درست نہیں کیونکہ بازاری کھانے خالصتاً کاروباری نقطہ نظر کو سامنے رکھ کر تیار کئے گئے ہوتے ہیں جس میں کوالٹی اور معیار کو سامنے نہیں رکھاجاتا اور دوسرا یہ کہ اس میں مصالحوں کا بے دریغ استعمال ہوتا ہے جو انسانی صحت کے لئے مضر ہوتے ہیں۔ غرضیکہ حتی الامکان طورپر آپ بازاری کھانوں سے پرہیز کریں اور مجبوری کی صور ت میں محض دال یا سبزی کاانتخاب کریں ۔آپ کھانا گھرپر کھا رہے ہوں یا ہوٹل میں، ہمیشہ صاف برتن میں کھائیں۔ بہتر ہوگا کہ کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں برتنوں کو صاف اور گرم پانی سے دھویاجائے۔
ہوٹلوںمیں برتنوں کو گندے پانی میں ہی دھو دیا جاتا ہے جس سے برتنوں میں جراثیم موجود رہتے ہیں جو ہیضہ، دستوں،الٹیوں اور دیگر معدے کی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جسمانی توانائی قائم رکھنے کے لئے ہر وقت کچھ نہ کچھ کھانا ضروری ہے۔ یہ خیال سرے سے غلط ہے کیونکہ جب تک آپ کو بھوک نہیں لگتی آپ خواہ کھانے کا وقت ہوگیا ہو، مت کھائیں ۔ایسی صورت میں کھانا کبھی صحت کے لئے فائدہ مند ثابت نہیں ہوسکتا۔ بھوک نہ لگنے کا مطلب یہ ہے کہ آ پ کے معدے میں موجود پہلی غذا ہضم نہیں ہوئی۔ اگر آپ اور کھائیں گے تو معدے پر بوجھ مزید بڑھ جائے گا، نتیجتاً آپ کو کٹھی ڈکاریں آئیں گے ، معدے میں تیزابیت بڑھ جائے گی۔
ہاضمے کی خرابی کی شکایت لاحق ہو جائے گی ،سینہ جلنے لگے گا ، غیر منطقی اور عجیب و غریب خواب آنے لگیں گے، لہٰذا کھانا ہمیشہ اس وقت کھائیں جب آپ کو واقعی بھوک محسوس ہو۔ غذا کے انتخاب میں ہمیشہ محتاط رویہ اختیار کریں ۔ ایسی غذائیں جو آپ کو متعدد بار نقصان پہنچا چکی ہوں ان سے گریز کریں یا ان کے استعمال سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ ہلکی پھلکی ورزش کو اپنا معمول بنائیے۔ خصوصا ایسے افراد جو سارا دن کرسی پر بیٹھ کر کام کرتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ صبح سویرے ڈیڑھ دو میل تک چہل قدمی کریں یا دن میں کسی بھی وقت ہلکی پھلکی ورزش ضرور کریں۔

 

zeshaan

Chief Minister (5k+ posts)
matlab roti kum khaya karo nahi susti charh jay gi dimagh kaam nahi karey ga bivi bhi achi na lagey ge us kaam mein bhi dil nahi lagey, waghera waghera or kha kha kay akhir kaar Noorey bun jao ge

آپکی معلومات سے بھرپور پوسٹ کا بہت بہت شکریہ .