
پاکستان کو فلاحی ریاست بننے سے پہلے بہت طویل سفر طے کرنا ہے، لیکن کہا جاتا ہے کہ ملک نے پی ٹی آئی کے دور حکومت میں یونیورسل ہیلتھ کیئر کی شکل میں فلاحی ریاست کے قیام کی جانب پہلا قدم اٹھایا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس منصوبے میں اتنی جان ہے کہ یہ حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے۔
ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق اس منصوبے سے جڑے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اگر ہم عالمی سطح پر اس سسٹم کو فعال بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو پاکستان ترقی پذیر ممالک میں سے پہلا ملک ہو گا جو کہ یونیورسل ہیلتھ کیئر حاصل اور اس کے فوائد اپنی عوام تک منتقل کر سکے گا۔
بہت سے منفی پہلوؤں کے درمیان آزاد رائے رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ صحت عامہ کے شعبے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کو پاکستان میں مثبت اور تکنیکی تبدیلی کا عکاس سمجھتے ہیں اور یہی نہیں وہ بھی غریب اور ضرورت مند بیمار شہریوں کیلئے اس سہولت کے جلد فعال ہونے کیلئے دعاگو ہیں۔
ماہرین سمجھتے ہیں کہ اس منصوبے سے کسی کو نقصان نہیں بلکہ حکومت، عوام اور حتیٰ کے نجی شعبے کیلئے بھی ہر لحاظ سے اس میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔
موجودہ اقتصادی سروے کے مطابق پاکستان متوقع عمر اور بچوں کی اموات کے لحاظ سے خطے میں دوسروں سے پیچھے ہے۔ لیکن ملک پولیو وائرس کے شکل میں ایک ایسی بیماری جس کا عالمی سطح پر طویل عرصے سے خاتمہ کیا جا چکا ہے کے خلاف جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے، یہاں صحت عامہ کا بنیادی ڈھانچہ ناکارہ ہے۔ نجی شعبے میں صحت سہولیات مہنگی اور بہت سے لوگوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔
پی ٹی آئی حکومت نے ابتدائی طور پر سب سے زیادہ کمزور لوگوں کو ہیلتھ انشورنس کی پیشکش کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور آہستہ آہستہ ہر ضرورت مند تک اس کو بڑھایا۔
اس منصوبے کو ترتیب دینے والوں کا کہنا ہے کہ ہم چاروں صوبوں کے شعبہ صحت کے حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور انہیں اس پر جلدی اور مؤثر فیصلہ کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے ہیلتھ انشورنس کے اجرا اور اس کے لئے تکنیکی طور پر مدد کی فراہمی کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ مگر ہمارا خیال ہے کہ اس کیلئے مالی معاملات صوبوں کو خود ہی دیکھنے چاہییں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ چاروں صوبوں میں سے ہر ایک اپنے موجودہ صحت کے بجٹ کے اندر کسی بیرونی مدد کے بغیر بالکل ٹھیک طریقے سے یہ سہولت فراہم کر سکتا ہے۔
خیبرپختونخوا نے 2020 میں مائیکرو ہیلتھ انشورنس اسکیم کا آغاز کیا اور 6لاکھ اہل خاندانوں میں صحت سہولت پلس کارڈز کی تقسیم شروع کی۔ وفاقی حکومت نے اسلام آباد، تھر، آزاد کشمیر، کے پی کے قبائلی علاقوں اور گلگت بلتستان کے مستحق افراد کے لیے ہیلتھ کارڈ سکیم بھی شروع کی۔
اس منصوبے کو ڈیزائن کرنے والے ایک سینئر سرکاری شخصیت نے انگیزی اخبار کو بتایا کہ اس کے بعد پنجاب میں بھی تحریک انصاف کی حکومت نے بھی گزشتہ ہفتے ہیلتھ انشورنس سکیم کا آغاز کیا ہے اور توقع ہے کہ اگلے سال کے اوائل میں ہیلتھ کارڈز کی تقسیم شروع کر دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد بلوچستان میں بھی اتحادی جماعتوں کی مدد سے تحریک انصاف کی حکومت اس منصوبے پر کام کرنے کیلئے تیار ہے مگر سندھ مین پیپلزپارٹی کی حکومت اس سلسلے میں ہچکچاہٹ کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کا صحت سہولت کارڈ پر عوامی موقف سیاسی ہے۔ یہ حکمران پی ٹی آئی کے خلاف ان کی مخالفت کی عکاسی کرتا ہے نہ کہ ان خاندانوں کے لیے صحت کی سہولیات تک مفت رسائی کے خیال سے جو اپنے بیمار اراکین کی دیکھ بھال کرنے کے متحمل نہیں ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ کے پی کے لوگ جو سندھ میں مقیم ہیں وہ صوبے کے نامزد اسپتالوں میں مفت طبی نگہداشت کی سہولت حاصل کر رہے ہیں، اس سے سندھ حکومت پر مقامی لوگوں کو اسی طرح کی دیکھ بھال فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کا پابند بنانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔
- Featured Thumbs
- https://www.siasat.pk/data/files/s3/4sehtacardsawc.jpg